قسط 36
وہ اس وقت دوبئی کے بہت بڑے شاپنگ مال میں جارہی تھی جب لیلٰی نے شونو کو وہاں کے ایک بندے کو پکڑانے کے لیے کہا ۔تم اس کتے کو ان کے حوالے کردو ۔ہم جب واپس آئیں گے تو لے لیں گے مال کے اندر کتے لے کے جانے کی اجازت نہیں ہے ۔لیلیٰ نے کہنے کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے رسی تھامی اور اس آدمی کو پکڑائی ۔
کیونکہ وہ ابھی تک اس صدمے میں تھی کہ یارم نے یہ کتا خود اپنے گھر میں رکھا ہے ۔اس لیے اس نے بہت احتیاط سے کتے کی رسی اس آدمی کو دی تھی ۔
چلو آؤ میں تمہیں بتاتی ہوں فیشن کیا ہے ۔تمہیں تو پتہ ہی نہیں ہوگا کہ مردوں کو کونسی چیز متوجہ کرتی ہے ۔
لیلیٰ ایک انداز سے چلتی ہوئی آگے بھری ۔
مجھے کیا ضرورت ہے کسی مرد کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی ۔مجھے بس میرے شوہر سے مطلب ہے ۔اور کسی سے میرا کوئی لینا دینا نہیں اور ماشاءاللہ وہ پہلے سے ہی میری طرف متوجہ ہیں روح نے شرماتے ہوئے لیلیٰ کو آگ لگائی تھی ۔یہ تو ٹھیک ہے مگر تم لڑکی ہو تو تمہیں فیشن کو تھوڑا فالو کرنا چاہیے۔
ٹھیک ہے ڈیول تمہیں گھر سے باہر نہیں نکلنے دیتا کسی سے ملنے نہیں دیتا اپنے علاوہ کسی سے بات نہیں کرنے دیتا ۔ لیکن تمہیں پھر بھی فیشن کو فالو کرنا چاہیے لیلیٰ نے اپنی طرف سے اس پر طنز کیا تھا ۔
وہ مجھے لے کر نہ کچھ زیادہ ہی ٹچی ہو گئے ہیں ان کو اچھا نہیں لگتا کہ میں ان کے علاوہ کسی اور سے پیار کروں اب یہ شونو ہے نہ اسے لے کر مجھے ڈانٹنے لگتے ہیں ۔کہتے ہیں جب سے یہ آیا ہے مجھے ان کی پرواہ ہی نہیں رہی ۔وہ اب بھی شرما رہی تھی ۔اور بے دھیانی میں لیلیٰ کو آگ لگا رہی تھی ۔
ہاں ٹھیک ہے چلو ۔میں تمہیں کچھ خرید کے دیتی ہوں ۔جو تھوڑا فیشن ایبل ہو ۔اور پھر لیلیٰ اسے میک اپ جویلری اور پتہ نہیں کیا کیا خرید کر دینے لگی ۔
جس پر جب روح نے پیسوں کا نام لیا تو لیلیٰ نے کہا کہ وہ اس کے شوہر سے لے لے گی ۔
°°°°°°°°°
صارم کب سے ان پر نظر رکھے ہوئے تھا اور کب سے روح کو اکیلے کرنے کے اشارہ کر رہا تھا ۔جسے سمجھتے ہوئے معصومہ نے لیلیٰ کو اپنے ساتھ آنے کو کہا ۔
لیلیٰ وہ ڈریس دیکھو مجھ پر سوٹ کرے گا کہ نہیں ۔تم بہتر سمجھتی ہو نا اب مجھے کیا پتا مجھ پر کیا سوٹ کرے گا اور کیا نہیں ۔پلیز میری تھوڑی ہیلپ کردو ۔
لیلیٰ جو کب سے روح کو ساتھ لیے چلے جا رہی تھی ایک طرف ہو کر معصومہ کی بات سننے لگی ۔روح تم وہاں جاکے جیولری دیکھو تب تک میں معصومہ کی تھوڑی ہیلپ کردوں ۔اس نے روح کو سامنے والی دوکان کی طرف جانے کا اشارہ کیا ۔اور خود معصومہ کے لئے کپڑوں کی دکان کی طرف آئی ۔
°°°°°°°°°°°
مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے ۔روح اپنے پیچھے صارم کی آواز سن کر فورا پلٹی ۔
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں کہیں آپ میرا پیچھا تو نہیں کر رہے راستہ چھوڑیں میرا ۔وہ جانے لگی تو صارم اس کے راستے میں حائل ہو گیا ۔
دیکھیں بھابھی آپ میرے لئے بہت عزت کی حامل ہیں میں آپ کا بہت احترام کرتا ہوں یقین کیجئے میں دل سے آپ کو بھابھی مانتا ہوں ۔میں آپ کے گھر آنا چاہتا تھا لیکن یارم نے مجھے دھمکی دی ہے ۔
کہ اگر میں نے آپ کے گھر جانے کی کوشش کی تو وہ میری معصوم بچی کو بھی نہیں چھوڑے گا ۔
بھابھی پلیز میری بات پر یقین کریں وہ ایک بہت ہی خطرناک آدمی ہے ۔
آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ وہ کس طرح سے آپ کی زندگی برباد کر سکتا ہے پلیز خدا کے لئے میرا یقین کریں ۔
شاید آپ نے سنا نہیں میں نے کیا کہا میرا راستہ چھوڑیں روح نے اس کی بات کاٹ کر اسے پیچھے کی طرف دھکا دیا ۔
اور آگے پیچھے نظریں دوڑاکر لیلیٰ کو دیکھنے لگی ۔
ٹھیک ہے آپ کو مجھ پر یقین نہیں ہے نا آپ نہ کریں میرا یقین لیکن پھر بھی آپ کو سچائی بتانا میرا فرض ہے ۔وہ شخص دوبئی کاڈان ہے اس لئے لوگ اسے ڈیول کہہ کر پکارتے ہیں ۔میری بات سنیں بھابھی روح اس کی بات پر کان دھرے بغیر آگے بڑھنے لگی۔جب صارم نے نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔
میں اسے بچانا چاہتا ہوں میں اسے ایک نورمل زندگی دینا چاہتا ہوں ۔میں چاہتا ہوں میرا بچپن کا دوست ایک عام انسان کی زندگی گزاری ۔وہ ایک بہت ہی خطرناک شخص ہے ۔یا شاید درندہ کہنا زیادہ بہتر رہے گا۔
اگر آپ کو میری بات پر یقین نہیں ہے تو پوچھیں اپنے شوہر سے کیا اس نے اپنے باپ کا قتل نہیں کیا ۔
وہ خود آپ کو بتائے گا کہ کس طرح سے اپنے باپ کو مار کر اس نے اپنی ماں کو اس کیس میں پھنسایا تھا ۔میں اس سے زیادہ آپ سے کچھ نہیں کہوں گا ۔آپ کو مجھ پر یقین نہیں کرنا نہ کریں ۔
لیکن خدا کے لئے اپنے شوہر سے ایک بار پوچھ کر ان لوگوں کو انصاف ضرور دلائیں جو آپ کے شوہر کے ہاتھوں بے دردی سے قتل ہوچکے ہیں ۔روح چلو یہاں سے نجانے لیلیٰ کب اس کے پیچھے آ کر کھڑی ہوئی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ گھسٹنے لگی۔روح تمہیں اس آدمی کی بات سننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے وہ ڈیول کو پھنسا رہا ہے اور کچھ نہیں ۔چلو ہم واپس چلتے ہیں ۔
°°°°°°°°°
وہ راستے میں کچھ نہیں بولی ۔لیکن لیلیٰ اسے یقین دلاتی رہی کہ یارم کو صرف پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔جبکہ معصومہ پریشان بیٹھی ہوئی تھی اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ صارم کچھ ایسا کرنے والا ہے ۔
روح جب گھر پہنچی تو دروازہ پہلے سے کھلا تھا جبکہ لیلیٰ کا ابھی واپس جانے کا ارادہ نہ تھا وہ یارم کو ساری سے سچویشن بتا کر واپس جانا چاہتی تھی ۔دروازہ کھلا دیکھ کر روح پریشان ہوگئی ۔
لیکن اندر آتے ہی جو تھپڑ اس کے گال پر پڑا تھا ۔اس کے لئے وہ بالکل بھی تیار نہ تھی وہ لڑکھڑا کر دروازے سے جالگی ۔
کس کے ساتھ گئی تھی تم باہر سمجھ میں نہیں آتا کہ اس شہر میں میرے کتنے دشمن ہیں ۔پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے ہر ایک فلیٹ کا دروازہ کھٹکھٹا کر پوچھا میں نے اس بلڈنگ کا کہ میری بیوی کہاں ہے ۔کیوں گئی تھی تم باہر سمجھ میں نہیں آرہا میں کیا پوچھ رہا ہوں ۔روح دروازے کے ساتھ ڈری سہمی کھڑی تھی۔وہ جو بے اختیاری میں آج دوسری بار اس پر ہاتھ اٹھا گیا تھا پریشانی سے آگے بھرا ۔وہ غصے میں تھا لیکن اس کا مقصد ایسا کرنے کا ہرگز نہ تھا ۔
ہاں شاید اسے ابھی تک پتا نہیں تھا کہ محبت کرنے والے لوگوں کے ساتھ کس طرح سے پیش آیا جاتا ہے
جبکہ روح کے کان میں صرف صارم کے الفاظ گونج رہے تھے ۔
آپ کا شوہر دبئی کا ڈان ہے ۔آپ کا شوہر ایک غنڈا ہے ۔معصوم لوگوں کا قاتل ایک درندہ ہے ۔
اپنے ہی باپ کا قاتل اپنی ماں کو پھنسانے والا ۔الفاظ اس کے ذہن میں گونج رہے تھے ۔جبکہ اگلے ہی لمحے وہ زمین بوس ہو چکی تھی۔