روح یارم

Areej shah

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط 37

روح اس کے سامنے دروازے سے لگی زمین پر پڑی تھی ۔وہ تیزی سے آگے بڑھا اور اس کا گال تھپتھپانے لگا ۔
روح کیا ہوا ہے تمہیں ۔۔۔؟ بولو کیا ہوا ہے تمہیں
روح میری جان کیا ہوا ہے تمہیں کیا ہوا ہے اسے اب وہ لیلیٰ کی طرف دیکھ کر چلایا تھا ۔
میں۔۔۔۔ نے۔۔۔۔ کچھ ن۔۔۔نہیں۔۔۔۔ کیا ڈیول میرا ۔۔یقین کرو میں۔۔۔۔ نے کچھ نہیں۔۔۔۔ کیا لیلیٰ بوکھلاکر اس کی طرف آئی تھی ۔اور جلدی سے روح کو دیکھنے لگی ۔
لیلی اگر میری روح کو کچھ بھی ہوا تو میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گا ۔اور تمہاری سوچ سے زیادہ خطرناک موت ملے گی تمہیں یہ بات یاد رکھنا ۔
ڈیول خدا کے لئے میرا یقین کرو میں نے کچھ نہیں کیا روح بالکل ٹھیک تھی میرے ساتھ ۔ہم نے تو راستے میں کچھ کھایا بھی نہیں ۔اسنے معصومہ کی طرف دیکھا جو دروازے کے ساتھ کھڑی انہیں دیکھ رہی تھی اس نے جلدی سے ہاں میں گردن ہلائی ۔
روح پلیز آنکھیں کھولو کیا ہوا ہے تمہیں ۔
سر ہم نے روح کو کچھ نہیں کیا ۔روح بالکل ٹھیک تھی ہمارے ساتھ پر پتہ نہیں یہ اچانک اسے کیا ہوگیا ہے ۔معصومہ پریشانی سے بولی تھی معصومہ ڈاکٹر کو فون کرو ۔لیلیٰ نے ڈیول کو روح کے لئے اتنا ٹچی دیکھا تو وہ معصومہ کو کہنے لگی ۔
کھڑی کھڑی میری شکل کیا دیکھ رہی ہو جلدی فون کرو ڈاکٹر کو ۔وہ چلائی تھی ۔
میرے پاس ڈاکٹر کا نمبر کہاں سے آیا ۔معصومہ پریشانی سے بولی
اوگاڑ یہ پکڑو میرا فون اور جلدی سے کال کرو ڈاکٹر کو ۔اسے فون پکڑاتے ایک بار پھر سے روح کی طرف متوجہ ہوگئی تھی۔
ڈیول اسے اٹھاؤ یہاں سے روم میں لے کر چلو میں پانی لاتی ہوں۔
پتا نہیں میری روح کو کیا ہوگیا ۔یارم بہکے بہکے انداز میں بولا تھا ۔
ڈیول اسے کچھ نہیں ہوا ہے وہ بالکل ٹھیک ہے اسے اٹھاؤ یہاں سے تم روم میں لے کے جاؤ ڈاکٹر آرہا ہے ۔اس نے جلدی سے معصومہ کے ہاتھ سے اپنا فون چھینا اور خود نمبر ملانے لگی ۔
اسے روم میں لے کے جاؤ کچھ نہیں ہوگا اسے ٹرسٹ می ۔لیلیٰ فون پر ڈاکٹر سے بات کرتے ہوئے کچن کی طرف بھاگی تھی ۔جبکہ یارم روح کو اٹھائے بیڈروم میں لے آیا ۔
جبکہ معصومہ وہی کھڑی سوچ رہی تھی ۔کہ جو کچھ بھی ہوا ہے اس میں روح کی تو کوئی غلطی نہیں صارم کیسے ایک معصوم انسان کے ساتھ ایسے کرسکتا ہے۔
°°°°°°°°°°
مجھے بس اتنا بتاؤ کہ تم نے روح کو کیا کہا ہے ۔وہ یہاں بےہوش پڑی ہے اور ڈیول بوکھلایا ہوا ہے ۔اگر انہیں پتہ چلا کہ یہ سب کچھ تم نے کیا ہے تو وہ تمہیں جان سے مار ڈالیں گے اور انہیں پتہ چلنے والا ہے یہ بات یاد رکھنا ۔میں تو انہیں کچھ نہیں بتاؤں گی مگر لیلیٰ وہ انہیں سب کچھ بتا دے گی ۔پھر تم اپنے انجام کے لیے تیار رہنا ۔مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ تم نے روح کو کیا بتایا ہے ۔
دیکھو صارم جو کچھ بھی ہوا اس کے بعد اگر روح کو کچھ بھی ہو گیا تو تم نہیں بچو گے ۔تم تو کہتے ہو کہ ڈیول سر تمہارے بچپن کے دوست رہے ہیں پھر تم ان کو مجھ سے بہتر ہی جانتے ہوگے ۔معصومہ غصے سے بولی تھی ۔
کیا ہوا ہے اسے میں نے تو اسے ایسا کچھ نہیں بتایا تھا کہیں ڈیول نے اسے بھی ۔
ایسا نہیں ہوسکتا ڈیول سر اس سے محبت کرتے ہیں ۔وہ اسے تکلیف دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ۔لیکن تمہارے ساتھ وہ کیا کریں گے اس کی گرنٹی میں نہیں دیتی ۔
اس کی بات کاٹتے ہوئے وہ جلدی سے بولی اور بات ختم کرکے فون کاٹ چکی تھی ۔وہ جیسے ہی پلٹی سامنے خضر کھڑا تھا ۔
کس سے بات کر رہی تھی تم ۔۔؟ خضر نے پوچھا ۔
وہ ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔میں۔۔۔دراصل ۔ ۔۔۔میں اپنی امی سے بات کر رہی تھی۔وہ با مشکل مسکرائی تھی
امی سے اس طرح سے بات کی جاتی ہے ۔؟خضر دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اس کے سامنے کھڑا تھا ۔
ہاں وہ میں ۔۔۔شارف آپ دونوں یہاں کب آئے ۔اس نے بات بدلنا چاہی اور ساتھ پیچھے کھڑے شارف کو آواز دی ۔
جو باہر گاڑی روک کر اندر کی طرف بڑھ رہا تھا ۔
تم یہاں باہر کیوں کھڑی ہو چلو اندر لیلیٰ نے ہمہیں کال کی تھی کہ روح بے ہوش ہے۔کیا ہوا ہے اسے ۔وہ اس سے پوچھنے لگا ۔
میں اپنی امی سے بات کر رہی تھی پاکستان میں ۔اس نے خضر کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
پتا نہیں اسے کیا ہوا ہے چلو چل کے دیکھتے ہیں ۔اس نے شارف کو چلنے کا اشارہ کیا تو وہ آگے چل دیا ۔
تمہیں امی سے بات کرنے کی بالکل تمیز نہیں ہے
معصومہ ۔ماں سے اس طرح بدتمیزی سے بات نہیں کی جاتی ۔وہ اسے جتاتے ہوئے بولا اور مسکرا کر آگے چل دیا ۔جبکہ اس کی بات سن کر معصومہ اندازہ لگا چکی تھی کہ وہ اس کی اور صارم مکمل بات سن چکا ہے
°°°°°°°°°
ڈاکٹر آیا اور روح کو چیک کیا ۔انہوں نے کسی بات کی ٹینشن لی ہے ۔ کوئی بات ہے جو ان کے سر پر سوار ہو چکی ہے ایسا کہنا بہتر ہوگا کہ ان کا ذہن اس بات کو قبول نہیں کر پا رہا اور ٹینشن لینے کی وجہ سے یہ بے ہوش ہوئی ہیں ۔آپ کوشش کریں کہ انہیں ہر قسم کی سٹریس سے دور رکھا جائے ۔یہ جتنی ٹینشن لیں گی اتنی ہی بیمار ہوں گی ۔
اور جسمانی طور پر یہ بہت کمزور ہیں آپ ان کی خوراک کا خاص خیال رکھیں ۔میں آپ کو دوائی لکھ کے دے جا رہا ہوں پرایک بار ان کا ہسپتال میں بھی چیک اپ کروا لیجئے گا ۔ڈاکٹر اسے تفصیل بتا کر اپنا بیگ اٹھانے لگا ۔
یہ ان کا کرائم ڈاکٹر تھا جو اکثر ان کے کیس حل کرتا تھا ۔
کس بات کی ٹینشن ہو سکتی ہے روح کو۔۔ شارف ڈاکٹر کو نیچے چھوڑنے گیا تھا جب خضر نے اس سے پوچھا ۔
مجھے نہیں پتا ۔میں تو اسے سرپرائز دینے کیلئے جلدی گھر واپس آیا تھا یہاں دیکھا تو کوئی تھا ہی نہیں ۔وہ لیلیٰ اور معصومہ کے ساتھ باہر گئی تھی واپس آئی تو مجھے الجھی ہوئی لگ رہی تھی لیکن میں نے اپنا غصہ اس پر نکال دیا ۔
لیکن خضر یہ تھپڑ کی وجہ سے نہیں ہوا ۔
لیلیٰ اور معصومہ کہاں ہیں ۔۔؟ اس نے پوچھا ۔
باہر بیٹھی ہیں ۔خضر نے باہر کی طرف اشارہ کیا ۔
جبکہ وہ فوراً ہی باہر نکل آیا تھا
°°°°°°°°°°°°°
میں دوسری دوکان میں تھی معصومہ کے ساتھ انسپکٹر صارم تھا وہاں میں نہیں جانتی انسپکٹر صارم نے اس سے کیا کہا ۔لیکن روح کو دیکھ کر مجھے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ اس سے تمہارے خلاف کچھ بکواس کر رہا تھا ۔میں ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اسے اپنے ساتھ لے آئی یہاں تک کہ گاڑی میں بھی اسے سمجھاتی رہی کہ انسپکٹر صارم صرف تمہیں پھنسانے کی کوشش کر رہا ہے ۔
تم اسے اپنے ساتھ لے کر ہی کیوں گئی تھی۔۔۔۔؟ وہ غصے سے دھاڑا تھا ۔
اسے بتانے کے لئے کہ میں اس سے زیادہ خوبصورت ہوں۔اس پر یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ وہ اتنی خوبصورت نہیں ہے کہ تمہارے ساتھ جچے ۔میں اسے یہ بتانا چاہتی تھی کہ ایک خوبصورت مرد کے ساتھ ایک خوبصورت عورت اچھی لگتی ہے ۔اور خوبصورتی کا معصومیت سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ۔میں اسے بتانا چاہتی تھی کہ وہ تمہارے لائق نہیں ہے ۔میں اسے بتانا چاہتی تھی کہ
چٹاخ۔۔۔””تمہاری ہمت کیسے ہوئی ۔اب تم مجھے بتاؤ گی کہ مجھے کس کے ساتھ رہنا چاہیے اور کس کے ساتھ نہیں۔لیلیٰ دور زمین پر گری تھی ۔ یارم تیزی سے اس کی طرف بڑھا لیکن خضر نے اسے تھام لیا ۔
اگر مجھے تمہارا احساس نہ ہوتا نا خضر تو میں اسے جان سے مار دیتا وہ اس کی طرف دیکھ کر دھاڑا تھا۔
ڈیول میری بات سنو ۔یہ سہی وقت نہیں ہے ہم بعد میں دیکھیں گے ان کو ۔وہ اسے سمجھانے لگا
فی الحال تم روح کے بارے میں سوچو ۔ڈاکٹر نے کہا تھا کہ کچھ ہی دیر میں اسے ہوش آجائے گا اور اگر ہوش میں آنے کے بعد اس نے تمہیں اس طرح سے دیکھا تو اس کا شک یقین میں بدل جائے گا ۔
اور ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ صارم نے اسے کیا کچھ بتایا ہے ۔ابھی صبر سے کام لو اور تم دونوں نکلو یہاں سے ۔وہ معصومہ اور لیلیٰ کی طرف دیکھ کر بولا تھا ۔
جاؤ یہاں سے ۔وہ پھر سے بولا تو لیلیٰ فورا وہاں سے نکلنے لگی اسے جاتا دیکھ کر معصومہ بھی اس کے پیچھے آئی ۔
ایک بات یاد رکھنا اگر روح کو کچھ بھی ہوا ۔ تو میں تمہیں زندہ زمین میں گاڑ دونگا لیلیٰ ۔وہ اسے جاتا دیکھ کر بولا تھا
اسے کچھ نہیں ہوگا ڈیول ۔ کیونکہ آج میں یہ بات سمجھ چکی ہوں کہ میں چاہے مر کر بھی واپس آؤں تب بھی تمہیں حاصل نہیں کر پاؤں گی ۔
اتنے سالوں میں صرف میں نے تم سے محبت کی میں نے کبھی تمہیں کسی سے محبت کرتے نہیں دیکھا ۔آج میں نے تمہاری محبت دیکھی ہے ۔وہ لڑکی تمہیں خود سے عشق کرنے پر مجبور کر گئی ۔تو پھر مجھے بھی تو یہ بات ماننی پڑے گی کہ اس لڑکی میں کچھ تو ایسا تھا جو مجھ میں نہیں ۔تم اس سے بہت محبت کرتے ہو ۔شاید اس محبت سے زیادہ جو محبت تم سے کرتی ہوں
اور یقین کرو اگر تمہاری محبت کے لیے مجھے مرنا بھی پڑا تو میں مر جاؤں گی ۔
تمہاری روح طوہ مسکرائی مگر آنسو اس کی مسکراہٹ کا ساتھ نہیں دے رہے تھے”
تمہاری محبت کو کچھ نہیں ہوگا لیلی اپنے آنسو صاف کرتی وہاں سے باہر نکل گئی ۔

Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial