قسط 38
روح کو ہوش آیا تو یارم اس کے قریب بیٹھا تھا روح کو وہ بکھرا بکھرا محسوس ہوا ۔
یارم وہ انسپیکٹر کہہ رہا تھا ۔روح اٹھ کر بیٹھنے لگی جب یارم نے اسے اپنے سینے میں بینچ لیا ۔بکواس کرتا ہے وہ سب جھوٹ ہے ۔تمہیں مجھ پر یقین ہے نہ۔روح تم میری بات سنو یقین کرو سب مجھے پھسانا چاہتے ہیں ۔
میں نہیں جانتا میں نے ان کا کیا بگاڑا ہے ۔بس وہ لوگ میرے پیچھے پڑے ہیں ۔مجھے نہیں پتہ کہ وہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں لیکن تم میرا یقین کرو ۔مجھے لیلیٰ نے بتایا کہ انسپیکٹر صارم تم سے ملا ہے ۔
وہ میرے خلاف جھوٹے ثبوت بنا کر مجھے پھسانا چاہتا ہے ۔وہ بہت چالاک آدمی ہے وہ تمہیں مجھ سے دور کر دے گا ۔وہ تمہارا سہارا لے کر میرے خلاف سازشیں کر رہا ہے ۔لیکن تمہیں مجھ پر یقین کرنا ہوگا ۔یقین ہے نہ مجھ پر تمہیں وہ جھوٹ بول رہا ہے ۔تمہیں یقین ہے نہ اپنے یارم پر وہ اس کا چہرہ تھامیں اس سے پوچھ رہا تھا
یارم وہ کہہ رہا تھا کہ آپ نے اپنے بابا کو ۔۔۔”
بکواس کر رہا تھا وہ جھوٹ بول رہا تھا جھوٹ ہے سب یارم نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا ۔تم بس میرا یقین کرو ۔سب جھوٹ بولتے ہیں ہر کوئی تمہیں مجھ سے دور کرنا چاہتا ہے ۔
وہ ایک بار پھر سے اپنے سینے میں بینچ گیا تھا ۔
تم مجھ پر یقین کرو گی نہ روح ۔تمہارا یارم ایسا نہیں ہے ۔تمہارے یارم نے کبھی کوئی غلط کام نہیں کیا ۔تمہیں مجھ پر یقین ہے نہ روح وہ ایسے ہی بیٹھا اسے اپنے سینے سے لگائے پوچھ رہا تھا ۔
وہ انسپیکٹر آپ سے جلتا ہے ۔آپ کی کامیابیوں سے جلتا ہے ۔جلنے والے لوگ ایسا ہی کرتے ہیں جو خود کچھ نہیں کر سکتے وہ دوسروں پر ایسے الزام لگاتے ہیں مجھے پتا ہے آپ نے کچھ نہیں کیا ۔بلا اپنے باپ کو کوئی مار سکتا ہے ۔وہ اس کی سینے میں منہ چھپائے بولے رہی تھی ۔جبکہ روح کی اس بات نے یارم کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا ۔
پتہ ہے وہ اور کیا کیا بکواس کر رہا تھا وہ کہتا ہے کہ آپ نے اپنی ماں کو پھنسایا اپنے بابا کو قتل کرکے ۔کوئی اپنے ماں باپ کے ساتھ ایسا کر سکتا ہے کیا ۔جھوٹا کہیں کا ۔روح بولے جا رہی تھی ۔اور وہ اسے اپنے سینے سے لگائے سنے جا رہا تھا ۔
میرے یارم ایسا کبھی نہیں کر سکتے ۔مجھے آپ پر پورا یقین ہے ۔آپ اتنے اچھے ہیں ۔آپ بلا کسی کی جان لے سکتے ہیں کیا ۔وہ گھٹیا آدمی آپ کو درندہ کہہ کے بلا رہا تھا ۔مطلب سمجھتا ہے درندے کا ۔مجھے زندگی میں کسی سے نفرت محسوس نہیں ہوئی مگر یہ آدمی بہت بُرا ہے تھوڑی دیر اس کے سینے میں ایسے ہی سر دیے اچانک اسے شونو کا خیال آتا ہے ۔
یارم شونو کہاں ہے۔وہ اس کے سینے سے منہ نکال کر بولی ۔
باہر خضر اور شارف کے پاس ہے۔یارم نے بتایا۔
کیا خضر بھائی اور شارف بھائی آئے ہیں آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا ۔ ہائے آج تو میں نے کچھ بنایا بھی نہیں ان کے کھانے کے لئے اب میرے بھائی کیا میرے گھر سے بھوکے جائیں گے ۔وہ تیزی سے اٹھنے لگی یارم نے اس کا ارادہ جان کر اسے کھینچ کر بیڈ پر بٹھایا ۔
میں باہر سے کچھ آرڈر کر دوں گا تم ریسٹ کرو ۔اسے زبردستی بیڈ پر لٹا کر لیٹا کر باہر نکل آیا
°°°°°°°°
وہ باہر نکلاشارف اور خضر دروازے کے باہر بے تابی سے ٹہل رہے تھے ۔اسے دیکھتے ہی لپک کر اس کے پاس آئے۔
کیا روح بھابھی کو سب کچھ پتہ چل گیا کیا ان کو تمہارے کام کے بارے میں پتہ چل گیا کیا وہ جانتی ہیں کہ ہم کیا کرتے ہیں کیاصارم نے سب کچھ بتا دیا ۔
کبھی خضر تو کبھی شارف سوال پر سوال کئے جا رہے تھے ۔
سکون کا سانس لو اسے کچھ بھی پتا نہیں ہے ہاں صارم نے اسے سب کچھ بتا دیا تھا ہمارے بارے میں ۔لیکن یہ الگ بات ہے کہ اس نے صارم سے زیادہ مجھ پر بھروسہ کیا ہے ۔
میں نے اسے بتا دیا ہے کہ یہ سب جھوٹ اور الزام کے علاوہ کچھ نہیں صارم مجھے پھنسانا چاہتا ہے ۔اور اسے میری ہر بات پر یقین ہے ۔صارم کو تو میں نہیں چھوڑوں گا اس بار اس نے میری زندگی پر حملہ کیا ہے ۔میں نے کہا تھا میں نے اسے وارن کیا تھا کہ میرے گھر کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھے گا ۔یارم کو صارم پر بہت غصہ آرہا تھا ۔۔
اسے ہم سنبھال لیں گے فی الحال تم بھابھی کوسمبھالو ۔انہیں تمہاری ضرورت ہے ۔خضر نے اس کےکندھے پے ہاتھ رکھ کر کہا ۔
میرے خیال میں تمہیں سب کچھ اسے بتا دینا چاہئے ڈیول آج نہیں تو کل سب کچھ جان جائے گی اس سے پہلے کہ اسے کسی اور سے پتہ چلے اور تم اس کے سامنے جھوٹے ثابت ہوجائے تمہیں چاہیے کہ خود ہی اسے سب کچھ بتا دو ۔
اور اس کے بعد اسے ہمیشہ کے لئے کھو دوں ہیں نا یارم نے شارف کی بات کاٹتے ہوئے کہا ۔
یہ میرا معاملہ ہے اور میں سنبھال لوں گا تمہیں اس میں پڑنے کی ضرورت نہیں ۔کچھ آرڈر کرو کھانا کھا کے جانا اس طرح سے بھوکے جاؤ گے تو اسے اچھا نہیں لگے گا ۔یارم نے حکم دیا تھا ۔
شکر ہے ہمیں بھی اس گھر سے کچھ نصیب ہوا ورنہ بھابھی سے پہلے تو تم ہمہیں بھوکا ہی بھیجتے تھے ۔شارف نے اوپر کی طرف ہاتھ اٹھا کر شکر ادا کیا ۔
اور بھی کچھ کھانا ہے ۔۔۔یارم نے اپنے ہاتھ کا موکا بنا کر سامنے کیا ۔
نہیں نہیں ہم صرف کھانا ہی کھا کے جائیں گے سویٹڈش کی ضرورت نہیں ہے ۔شارف نے اس کا ہاتھ اپنے آپ سے دور کرتے ہوئے کہا ۔
°°°°°°°°°°
صبح روح کی آنکھ کھلی تو یارم اس کے ساتھ نہیں تھا ۔ایک نظر پورے کمرے پر ڈال کر اٹھ کر باہر آئی ۔اس کا ارادہ شونو کے پاس جانے کا تھا ۔یہ کیا یارم صبح صبح ہی چلے گئے ۔ناشتہ بھی نہیں کیا ۔ابھی اس نے دروازہ کھول کر باہر قدم رکھا ہی تھا کچن سے آواز آنے لگی ۔
شونو تو کچن میں نہیں جاتا تھا یقیناً یارم ہی ہوگا ۔
وہ اس طرف آئی تو یارم کھڑا ناشتہ بنانے میں مصروف تھا ۔
یارم میں اٹھ تو گئی تھی آپ ہنٹے پیچھے میں بناتی ہوں ۔وہ اس کے ہاتھ سے چائے کپ لیتے ہوئے بولی ۔
تم آرام کرو تمہیں آرام کی ضرورت ہے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ تم بہت کمزور ہو ۔اور میں بھی بالکل ڈاکٹر کی طرح ہی سوچتا ہوں ۔بہت کمزور ہوتی جا رہی ہو کچھ کھایا پیا کرو ۔تمہارے علاوہ کوئی نہیں ہے میرے پاس جو مجھے میرے یارم کہہ کر بلائے گا ۔اور میرے ڈمپلز سے پیار کرے گا ۔یارم نے اس کا گال چومتے ہوئے کہا اور اس کے ہاتھ سے کپ لےلیا۔
آپ کو کام پے جانے کے لئے دیر ہو رہی ہے ۔لائے دیجیے میں بناتی ہوں ۔روح نے ایک بار پھر ناکام سی کوشش کی۔
آرام سے بیٹھ جاؤ میں کہیں نہیں جا رہا ۔جب تک تم بالکل ٹھیک نہیں ہوجاتی میں کام پر نہیں جاؤں گا ۔یارم نے چائے کپ میں انڈیلتے ہوئے کہا۔ اتنے میں اس کا فون بیجنے لگا ۔اس نے روح کو فریش ہونے کے لیے بھیجااور فون کی طرف متوجہ ہوا دیکھا تو خضر اسے کال کر رہا تھا ۔
وہ ایک ہاتھ سے ناشتے کی ٹرے اٹھا کر باہر آیا دوسرے ہاتھ میں فون پرخضر سے بات کرنے میں مصروف ہو چکا تھا ۔
وہ بھی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی روم میں آئی ۔تم کب تک آؤ گے ڈیول ہمیں وکرم دادا کو ریسیو کرنے کے لئے بھی جانا ہے ۔ خضر نے کہا
تم اور شارف چلے جاؤ اور ہاں معصومہ کو بھی ساتھ لے جانا ۔میں آج نہیں آسکتا ۔جب تک روح ٹھیک نہیں ہو جاتی تب تک میں نہیں آؤں گا ۔ڈیول یہ تم کیا کہہ رہے ہو تمہیں پتا ہے وکرم دادا تمہارے بھروسے پر یہاں آئے ہیں اور تم ایئرپورٹ رسیو کرنے بھی نہیں جاؤ گے کتنا برا لگے گا انہیں۔خضر نے پریشانی سے کہا
میری بات سنو خضر روح سے زیادہ مجھے کوئی امپوٹینٹ نہیں ہے ۔اور روح کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے میں نہیں آسکتا تم سنبھال لو سب وہ اتنا کہہ کر فون بند کر چکا تھا ۔
جبکہ روح منہ ہاتھوں دھوکر واپس آئی تھی ۔
بیٹھو اور کھاؤ ۔یارم نے اس کے لیے کرسی گھسیٹ کر اسے بٹھایا ۔ اور اسے اپنے ہاتھ سے ناشتہ کروانے لگا
یارم آپ کے والدین کہاں ہیں ۔ناشتے کے دوران اچانک سوال پر یارم کے ہاتھ رکے تھے ۔
پھر اس کے چہرے پر کھوجتی نظروں سے کچھ دیکھنے لگا لیکن وہاں سوائے بھروسے کے اور کچھ نہ تھا ۔پھر سنبھل کر بولا
میرے بابا کی ڈیتھ ہوچکی ہے ۔اور ماں پاکستان میں رہتی ہیں میں نے بہت کوشش کی انہیں یہاں لے آؤں لیکن وہ یہاں نہیں آنا چاہتی انہیں اپنا وطن بہت عزیز ہے ۔یارم کے لہجے میں اپنی ماں کے لیے پیار ہی پیار تھا ۔
یارم میری ان سے بات کروائیں نا ۔پتا نہیں روح کو کیا سوجھی کے فرمائش کر بیٹھی ۔
وہ مجھ سے بات نہیں کرتی وہ میرے یہاں رہنے پر مجھ سے ناراض تھیں اور میرے یہاں رہنے کی وجہ سے وہ مجھ سے روٹھی ہوئی ہیں ۔مجھ سے بالکل بات نہیں کرتی وہ یارم مسکرایا تھا ۔
آپ مجھے ان سے ملوائیے نہ میں منا لوں گی ۔روح نے یقین سے کہا ۔
منہ کھولو اور کھانا کھاؤ بہت باتیں کرنے لگی ہو۔ کھاتے ہوئے باتیں سوتے ہوئے باتیں ڈرائیونگ میں باتیں تمہاری باتیں کبھی ختم نہیں ہوتی کیا ۔
وہ اسے زبردستی کھانا کھلاتے ادھر ادھر کی باتوں میں لگانے میں کامیاب ہوچکا تھا ۔
آج اپنی ماں کے بارے میں بات کرتے وہ کتنا بےسکون تھا یہ وہی جانتا تھا ۔چاہ کر بھی روح کو نہیں بتا پایا کہ اس کے اس کام کی وجہ سے اس کی ماں اس کے پاس نہیں رہتیں