قسط 39
ڈیول کہاں ہے تم لوگ مجھے ٹھیک سے بتا کیوں نہیں رہے ایک تو وہ مجھے لینے ائیرپورٹ نہیں آیا جب کہ وہ جانتا ہے کہ میں اس کے بھروسے یہاں آیا ہوں ۔وہ تو اتنا غیر ذمہ دار کبھی نہ تھا ۔وکرم دادا ابھی آکر ڈیول کے آفس میں اس کی سیٹ پر بیٹھا تھا یہ ہمت صرف دادا میں تھی ۔
دادا آپ آرام کریں۔ڈیول سے آپ کی ان شاءاللہ شام میں ملاقات ہوگی وہ کوئی ضروری کام نپٹانے گیا ہے ۔
مجھ سے بھی ضروری اس کے لیے کوئی کام ہے حیرت ہے ویسے اسے میرا پیغام دے دو کہ مہمانوں سے ضروری اور کچھ نہیں ہوتا دادا مسکرائے تھے ۔
جی دادا جو حکم ۔شارف اتنا کہہ کر چلا گیا ۔
تم لوگوں کی ٹیم میں تو ایک لڑکی بھی تھی نہ جب پچھلے سال میں آیا تھا وہ تم لوگوں کے ساتھ تھی ۔وہ بھی آج یہاں نہیں ہے ۔پسند کرتی ہے نا ڈیول کو ۔دادا نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔
جی دراصل وہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لیے آج چھٹی پر ہے ۔خضر نے بات سنبھالتے ہوئے کہا ۔
اور وہ تیمور کو جو میرے آدمی کے خلاف ثبوت ملے ہیں اس کا کیا دادا نے پوچھا ۔
آپ فکر نہ کریں ہم اس کا حل نکال چکے ہیں ۔خضر مسکرایا تھا ۔
ڈیول کے کہنے پر وہ سارے ثبوت انسپکٹر صارم تک پہنچا چکا تھا اور اس کے بیٹے کے دوست کو سزا بھی ہوچکی تھی ۔لیکن اس کے باوجود بھی ڈیول نے کچھ ایسا ڈھونڈ لیا تھا کہ دادا کا آدمی آسانی سے نکل آئے ۔
ڈیول نے راشد کے بھائی وسیم کو کیوں مارا یہ تو میں جانتا ہوں کوئی بہت بڑی وجہ ہوگی ۔لیکن پھر بھی اتنی بے دردی سے مارا ۔مجھے ڈیول سے بات کرنی ہے اسے بلاؤ یہاں ،۔جو بھی ضروری کام ہے بعد میں کرلے گا فلحال اس سے کہو سب سے ضروری کام اس کا یہاں ہونا ہے اپنے دادا کے پاس ۔خضر ہاں میں گردن ہلا کر چلا گیا ۔
°°°°°°°°°°°
ہزار کہنے کے باوجود یارم نے باہر سے ہی کھانا آرڈر کیا تھا ۔
یارم کیا ہوگیا ہے اب میں اتنی بیمار نہیں ہوں آپ نے تو مجھے صدیوں کو بیمارکر دیا ہے ۔روح روٹھے ہوئے لہجے میں بولی ۔آج اس نے بالکل شونو کے بارے میں بات نہیں کی تھی کیونکہ وہ سمجھ چکی تھی کہ یارم اپنے ہوتے ہوئے شونو کا ذکر برداشت نہیں کرتا ۔
جب تک تم بالکل ٹھیک نہیں ہوجاتی خبردار جو کسی کام کو ہاتھ لگایا حالت دیکھو اپنی اتنی کمزور ہو تم ۔
ہاں پتا ہے ہوا آکر مجھے اپنے ساتھ اڑا لے جائے گی اس نے یارم کی کئی بار کہی ہوئی بات دہرائی ۔
اسی لئے تو کہتا ہوں جب باہر نکلو میرا ہاتھ پکڑ کر کے جایا کرو مجھے ساتھ لے جایا کرو ۔ہوا کا کوئی بھروسہ نہیں ہے وہ مسکرایا تھا ۔
یارم مجھے فاطمہ بی بی سے بات کروائیں اب تک تو انہوں نے امی کا نمبر لے لیا ہوگا ۔وہ جو کہیں دنوں سے بات کرنا چاہتی تھی آج اس کا اچھا موڈ دیکھ کر ہی ڈالی۔
بےبی اس وقت میری اور تمہاری بات ہورہی ہے نہ فلحال چھوڑ دو سب کو میرے بارے میں بات کرو ۔وہ اسے مزید اپنے قریب کھینچتے ہوئے بولا ۔
آپ کے بارے میں نہ۔۔۔تو ٹھیک ہے مجھے اپنی امی سے بات کروائیں۔ وہ ضدی انداز میں بولی ۔یارم نے اپنی جیب سے فون نکالا کوئی نمبر ڈھونڈا اور ڈائل کر کے اس کے ہاتھ میں پکڑا کر خود اٹھ گیا۔
بات کرو تمہاری فاطمہ بی بی کا نمبر ہے تمہارے فون کرنے کے بعد جانے کتنی بار انہوں نے اس نمبر پر فون کیا بزی ہونے کی وجہ سے میں اٹھا نہیں سکا آج تم بات کر لو ۔دس منٹ میں بات ختم ہو جانی چاہیے ۔آج کا دن صرف میرا ہے ۔جلدی کرو وہ کہہ کر باہر چلا گیا ۔
جبکہ روح اب فاطمہ بی بی سے بات کر رہی تھی ۔
°°°°°°°°
روح میری جان میرے بچے کیسی ہے تو ۔کتنی بار تجھے فون کیا مگر کسی نے اٹھایا ہی نہیں ۔فاطمہ بی بی نے اس کا حال و خیریت پوچھنے کے بعد کہا۔
فاطمہ بی بی ہے یہ میرے شوہر کا نمبر ہے وہ بزی تھے نہ اس لیے آپ کا فون نہیں اٹھا پائے ۔
آج بھی میری طبیعت خراب تھی اس لئے وہ گھر پر رک گئے ۔تب آپ سے بات ہو پا رہی ہے ۔
خیال رکھتا ہے وہ تیرا ۔۔۔؟کیسا ہے ۔۔۔غصہ تو نہیں کرتا ہاتھ تو نہیں اٹھاتا تجھ پہ ۔۔۔ان کے لہجے میں ماں والی فکر تھی ۔روح بے اختیار مسکرائی ۔کاش یہ عورت سچ میں میری ماں ہوتی ۔میں بالکل ٹھیک ہوں اور وہ میرا بہت خیال رکھتے ہیں بہت پیار کرتے ہیں مجھ سے ۔پتا ہے ذرا سی بیمار ہو جاؤں تو کسی کام کو ہاتھ نہیں لگانے دیتے ۔۔سر پہ سوار ہوکے زبردستی کھانا کھلاتے ہیں روح شرماتے ہوئے بتا رہی تھی ۔ماشاءاللہ ماشاءاللہ ۔اللہ تم دونوں میں ایسے ہی پیار قائم رکھے۔
مجھے تجھ سے یہی امید تھی مجھے یقین تھا تیری معصوم شکل تیرے شوہر کو کسی دوسرے کے پاس نہیں جانے دے گی۔اسی لیے تو اللہ نے تجھے ان جاھل لوگوں سے نکالا ۔
اللہ تیرے شوہر کے دل میں تیری محبت کی اور برکت ڈالے ۔یہاں کا تو حال بہت برا ہے بیٹی تیری بہنیں پیسوں میں کھیل رہی ہیں نجانے اتنا پیسہ ان کے پاس کہاں سے آیا ۔
تیری ماں تو روز روتی ہے کہتی ہے کوئی بہت بڑی غلطی کردی اس نے ۔تیری بہنیں تو رات گھر واپس ہی نہیں آتی ۔فون نمبر لے لیا تھا میں نے کاپی پینسل اٹھا تو تجھے لکھوا دیتی ہوں ۔ان کے کہنے پر اس نے فوراً ہی یارم کی کوئی پاس پڑی کام والی فائل نکالی اور اس کے پاس پڑی پینسل سے لکھنے لگی ۔
فون بند کرنے کے بعد یارم ایک بار پھر سے دودھ کا گلاس اور میڈیسن لیے اس کے سر پر کھڑا تھا ۔
یارم میں ٹھیک ہو چکی ہوں ۔اس نے جلدی سے کہا ۔
جانتا ہوں لیکن یہ کورس تمہیں پورا کرنا ہوگا تا کہ تم پھر سے بیمار نہ ہو ۔زبردستی خود ہی اپنے ہاتھ سے اس کے منہ میں دوا رکھتا دودھ پلانے لگا ۔
ویسے یہ دودھ کتنے مزے کا ہوتا ہے نہ ۔۔روح کو واقعی دودھ بہت پسند تھا ۔
اچھا ایسی بات ہے تو یہ پورا گلاس ختم کرو ۔اور روز رات سونے سے پہلے پیا کرو یارم نے باقی بچا ہوا دودھ بھی اسے پلایا اب تم آرام کرو۔
وہ اس کا ماتھا چوم کر اٹھنے لگا ۔
رکیں یارم مجھے امی سے بات کرنی ہے یہ میں نے نمبر لے لیا ۔
تم نے اس فائل پر نمبر لکھ دیا یارم نےفائل دیکھتے ہوئے کہا اس کے چہرے سے پریشانی صاف ظاہر تھی ۔
کیا ہوا یارم میں نے کوئی غلطی کر دی ۔سوری مجھے نہیں پتا تھا یہ کوئی ضروری پیپر ہیں مجھے لگا اتنے دنوں سے یہاں پڑے ہیں بہت بڑی غلطی ہوگئی مجھ سے اس سے پہلے کے روح اپنے رونے کا شغل جاری کرتی یارم مسکرا دیا ۔
تم سے زیادہ ضروری نہیں تھا۔اور یہ کام ہر دو منٹ کے بعد شروع مت کر دیا کرو ۔اس نے اس کا چہرہ صاف کرتے ہوئے کہا ۔
امی سے بعد میں بات کر لینا پہلے میں ذرا آفس فون کر لوں۔ اس نے کمبل ٹھیک کیا اور فون اٹھا کر باہر آگیا ۔
°°°°°°°°°°°°
ڈیول پلیز یہاں آجاؤ دادا نے کہا ہے کہ وہ تمہارے بھروسے پر یہاں آئے ہیں انہیں بہت برا لگا ہے تمہارا یہاں نہ ہونا ۔خضر نے پریشانی سے بتایا ۔
خضر تمہیں ایک سمجھ نہیں آئی میں بتا چکا روح کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے آج میں نہیں آ سکتا ۔اتنا سا کام تم سنبھال نہیں سکتے ۔
دادا کی خدمت میں کوئی کمی نہ رہے ڈیول نے آرڈر دیا ۔
میری بات سنو ڈیول سمجھنے کی کوشش کرو تمہارا یہاں ہونا ضروری ہے ۔روح اب ٹھیک ہے خضر نے سمجھانے کی کوشش کی ۔
روح ٹھیک نہیں ہے اگر وہ ٹھیک ہوگی تو میں خود ہی آجاؤں گا اور اب بار بار مجھے ڈسٹرب مت کرنا ۔
ڈیول فون بند کر چکا تھا ۔خضرنے فون دیکھ کر ایک سرد آہ بھری اور لیلی نمبر ملانے لگا ۔
°°°°°°°
اب کیسی طبیعت ہے تمہاری خضر نے پوچھا ۔
محبت میں ہارے ہوئے لوگ کیسے ہوتے ہیں خضر۔لیلیٰ نے سوال کیا ۔
شاید میرے جیسے خضر نے کہا ۔
خضر میں تمہارے بارے میں ایسا نہیں سوچتی ۔لیلیٰ نے سمجھانے کی کوشش کی ۔
میں جانتا ہوں لیلیٰ تم میرے بارے میں ایسا نہیں سوچتی اور میں نے کب تم سے کہا کہ تم مجھ سے محبت کرو ۔میری محبت میں امیدِ محبت نہیں ہے ۔ہاں یہ بات الگ ہے کہ تم نے ڈیول کے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچا ہی نہیں ۔
اگر تم اس کے علاوہ نظر گھما کے کہیں اور دیکھتی تو شاید تمہیں میری محبت نظر آتی۔ اپنا خیال رکھنا ۔خضر فون بند کرنے لگا تھا ۔
تمہارا شکریہ تم نے کل رات میرا بہت خیال رکھا ہے ۔کل رات شاید نشے میں کوئی بھی میرا فائدہ اٹھا سکتا تھا ۔اگر تم وہاں نہ آتے تو ۔۔لیلیٰ نے بات ادھوری چھوڑ دی ۔
محبت کی عزت کی حفاظت کرنا ہر محبت کرنے والے پر فرض ہے ۔خضر نے کہا ایک بات پوچھوں ۔۔۔خضر اس کی بات سن کر مسکرایا تھا
پوچھو ۔۔۔۔۔۔”
یکطرفہ محبت ایسے ہی تکلیف دیتی ہے کیا ۔۔۔؟
لیلیٰ کا لہجہ بکھرا ہوا تھا ۔
اس سے کہیں زیادہ تکلیف دیتی ہے تمہیں یہ تکلیف سہتے ہوئے صرف ایک ماہ ہوا ہے۔ میں یہ تکلیف چھ سالوں سے سہہ رہا ہوں ۔میرے پاس کوئی آپشن نہیں تھا لیکن تمہارے پاس تو آپشن اب بھی موجود ہے۔ جب سب راہ بند ہو جائیں تب بھی خضر کا دروازہ تمہارے لئے کھلا ہوا ہوگا ۔فون بند ہو چکا تھا ۔
اور لیلیٰ اس کے لفظوں میں کھوئی اب یہ سوچ رہی تھی ۔کہ یہ شخص آخر اس سے اتنی محبت کیسے کر سکتا ہے ۔اس نے تو کبھی اس کے بارے میں سوچا تک نہ تھا ۔کبھی اسے مڑ کر دیکھا تک نہ تھا ۔وہ تو صرف ڈیول کے بارے میں سوچتی تھی اسے دیکھتی تھی ۔لیکن کل رات وہ ڈیول کی محبت کا سوگ منا رہی تھی ۔وہ اتنی نشے میں تھی کہ اپنا آپ تک نہیں سنبھال پارہی تھی ۔ایسے میں خضر ساری رات اس کے ساتھ اس کے سر پر کھڑا رہا ۔ایک لمحے کو بھی اس کو تنہانہ چھوڑا ۔اور اب ساری رات کا تھکا آفس میں کام کر رہا تھا ۔
کل رات خضر نے پہلی دفعہ اسے کہا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے اس کے لیے اس لئے پریشان رہتا ہے ۔کیونکہ وہ اس سےمحبت کرتا ہے ۔شاید اتنی ہی جتنی وہ ڈیول سے کرتی ہے ۔
°°°°°°°
ویسے تم نے مجھے بتایا نہیں کہ تم کل شوپنگ سے کیا کیا لے کے آئی تھی ۔۔۔۔یارم اس کے پاس بیٹھا اس سے پوچھ رہا تھا جو کہ ابھی کل کا سامان لے کر روم میں آئی تھی ۔
کیوں بتاؤں کل آپ نے مجھے تھپڑ مارا تھا ۔روح کو اس کا کل والا تھپڑ یاد آگیا تھا ۔اور اٹھ کر آئینے کے سامنے کھڑی ہوگئی
سوری یار ۔بہت زور سے لگا تھا کیا ۔۔؟۔
وہ اس کے پاس اس کے پیچھے آکر کھڑا ہوا ۔
یاد نہیں ۔شاید زور سے لگا تھا ۔اس نے اپنا گال دکھایا ۔جہاں یارم کی دو انگلیوں کے نشان اب بھی موجود تھے ۔یارم نے بے اختیار اپنے ہونٹ اس کے گال پر رکھے ۔
بہت بے شرم ہیں آپ بہت گندے ہیں وہ اپنا آپ اس کی باہوں سے چھڑواتی پیچھے ہٹی ۔
ابھی تم نے دیکھی ہی کہاں ہے میری بے شرمی وہ تو تمہیں میں اب دکھاؤں گا ۔
وہ اسے اپنے قریب کھنچتے ہوئے بولا ۔
یارم ہٹیں نہ میں آپ کو اپنی شاپنگ دکھاتی ہوں ۔روح نے فورا اس کی پناہوں سے نکلتے ہوئے شاپنگ بیگ اٹھائے ۔اور اس میں سے چیزیں ادھر ادھر کرنے لگی ۔یارم اس کی غیر ہوتی حالت دیکھ کر بہت محظوظ ہو رہا تھا ۔وہ ساری چیزیں اس کے سامنے رکھنے لگی ۔
یہ بھی لیلیٰ نے لے کر دیا ہے یہ بھی لیلیٰ نے خریدنے کو بولا تھا آپ اس کو پیسے دے دیجئے گا نہ جانے کتنے پیسے اس نے میری چیزوں لگا دیے ۔روح بولے جا رہی تھی جبکہ لیلیٰ کے نام پر یارم کا موڈ بہت خراب ہوچکا تھا ۔
یہ لپسٹک۔۔۔روح کو اپنی پسندیدہ چیز مل چکی تھی یارم کھل کر مسکرایا ۔
اب وہ پھر سے سے یاد دلانے والی تھی کہ یہ اکلوتی چیز وہ اس کے لئے نہیں لایا تھا اور ایسا ہی ہوا
آپ نہیں لے کے آئے تھے نہ میرے لئے میں خود لے آئی ہوں ۔اچھی ہے نا ۔وہ اسے کھول کر دکھانے لگی ۔
اب تم لگاؤ گی تومیں ٹیسٹ کر کے بتاؤں گا کہ کیسی ہے وہ ذومعنی انداز میں بولا ۔
جس کے بعد روح کے گال لال ہو گئے ۔آپ بالکل بھی اچھے نہیں ہیں یارم بہت گندے ہیں ۔وہ اٹھ کر باہر جانے لگی ۔
ارے یار میں نے کیا کیا ہے وہ اس کے پیچھے جانے لگا جب اس کا فون پھر سے بجا اس کا موڈ پھر سے خراب ہوچکا تھا