قسط 40
یارم آج بھی اپنے کام پر نہیں گیا تھا روح نے بہت کہا کہ اس کی وجہ سے چھٹیاں نہ کرئے لیکن وہ نہیں مانا اس کا کہنا تھا جب تک روح بالکل ٹھیک نہیں ہو جاتی وہ کوئی کام نہیں کر پائے گا۔آج بہت کہنے کے باوجود بھی صبح کا ناشتہ روح نے بنایا تھا ۔
ابھی وہ ناشتہ کرکے فارغ ہوئے تھے کہ دروازہ بجا ۔ارے یہ کون آ گیا۔۔۔۔؟روح سوچتے ہوئے اٹھ کے دروازہ کھولنے لگی جب یارم نے کہا کہ دروازہ وہ کھولے گا ۔روح کندھے اچکا کر واپس بیٹھ گئی ۔تو یارم دروازہ کھولنے آگیا ۔دروازہ کھولتے ہی یارم کھٹکا۔
دادا آپ یہاں آئیں اندر آئیں۔یارم ان کے گلے ملتا ان کو اندر آنے کا راستہ دینے لگا ۔
لیکن ان سے پہلے خضر اندر آیا اور روح کو اندر جانے کا بولا وہ نہیں چاہتا تھا کہ روح کو ان کے کام کے بارے میں کچھ بھی پتہ چلے روح اپنے گھر میں انجان شخص دیکھ کر اٹھ کر کمرے میں چلی گئی ۔
میں نے ان لوگوں کو بہت کہا کہ تمہیں بلائے لیکن یہ نہ تو میری تم سے بات کروا رہے تھے اور نہ ہی تمہیں میرے پاس بلا رہے تھے ۔
تم جانتے ہو میں یہاں صرف تمہارے لئے آیا ہوں ۔کتنی غلط بات ہے کہ تم ہی آکر مجھ سے نہ ملو ۔وہ اسے ساتھ ہی لیے چلتے ہوئے اندر آئے ۔
دادا دراصل میں کچھ بیزی تھا ۔ورنہ میں خود آتا آپ کو رسیو کرنے کے لئے ۔وہ ان کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولا ۔
خیر چھوڑو ان سب باتوں کو میں تم سے کچھ مانگنے آیا ہوں ۔تمہیں یاد ہے تم مجھ سے جو کچھ مانگتے تھے میں تمہیں دے دیتا تھا ۔انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا تو ڈیول بھی مسکرایا ۔
دادا میرے پاس ایسا کیا ہے جو میں آپ کو دوں گا آپ کے پاس سب کچھ ہے آپ جان مانگ لیجئے یہ بھی آپ کی امانت ہے ہنستے ہنستے دے دونگا ۔
یارم آج اپنے مزاج کے خلاف بہت مسکرا کرنرمی سے باتیں کر رہا تھا ۔کیونکہ سامنے بیٹھے اس شخص کے یارم پر بہت احسانات تھے ۔اس کی بات پر وکرم دادا نے قہقہ لگایا ۔اور اپنے ہاتھ میں پکڑے موبائل سے ایک تصویر نکال کر اس کے سامنے رکھی۔
مجھے یہ چاہیے ڈیول ۔ انہوں نے تصویر اس کے سامنے کرتے ہوئے اس کا چہرا دیکھا اس کا چہرہ غصے کی شدت سے سرخ ہو چکا تھا ۔
میں نے کہا جان مانگ لو تو تم نے جان نہیں مانگ لی ۔وہ میری غیرت ہے بیوی ہے بیوی یارم نے فون اٹھا کر زور سے دیوار پہ دے مارا ۔
ڈیول حد میں رہو مت بھولو کے میں کون ہوں ۔
تم مت بھولو کہ میں کون ہوں۔ اس سے پہلے کہ کھڑے کھڑے تمہاری جان لے لوں دفع ہو جاؤ یہاں سے یارم غصے سے دھارتے ہوئے بولا تھا ۔
اگر ایسے نہیں تو ویسے سہی جو چیز مجھے چاہیے وہ تو میں حاصل کر کے رہوں گا ۔مجھے لگا تھا تم شرافت سے مان جاؤ گے ۔لیکن تم تو مجھے ایٹیٹیوڈ دیکھا رہے ہو مت بھولو تمہیں اس مقام پر پہنچانے والا میں ہوں۔ دادا ابھی بھی پرسکون انداز میں صوفے پر بیٹھا ہوا بول رہا تھا
اگر میں تمہیں پیسہ نہیں دیتا تو ۔۔۔۔۔”
یہ مقام مجھے تمہارے پیسے سے نہیں اپنی پاور سے ملا ہے ۔تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہاری عزت اس لئے کرتا ہوں کہ تم نے مجھے پیسہ دیا ۔
غلط فہمی ہے تمہاری میں تمہاری عزت اس لئے کرتا تھا کیونکہ تم دوسروں کی عزت پر نظر نہیں رکھتے تھے ۔میں نے تمہاری آنکھوں میں کبھی ملاوٹ نہیں دیکھی تھی ۔
اگر معلوم ہوتا کہ تم اس طرح میری بیوی کی تصویر لے کے آؤ گے تو تمہارا ہاتھ کاٹ دیتا ۔یہ جانے کے باوجود کے وہ میری بیوی ہے تم میرے گھر میری بیوی کی تصویر لے کر میرے پاس آئے ہو یعنی کہ تم نے جانتے بوجھتے ہوئے میری عزت پر نظر ڈالی ہے ۔شکر کرو کہ اس وقت میں گھر پر ہوں ۔ورنہ میں اپنی غیرت پرآنکھ اٹھانے والے کی آنکھیں نکال دیتا ہوں ۔اپنی یہ شکل دفعہ کرو یہاں سے تم اس قابل نہیں ہو کہ تم ڈیول کے ساتھ بیٹھو تم اس راشد کے ساتھ بیٹھنے کے قابل ہو ۔ میں تمہیں دھکے مار کے نکالوں یا خود یہاں سے جاؤ گے اسے ایسے ہی بیٹھا دیکھتے ہوئے یارم پھر سےدھاڑا تھا ۔
جا رہا ہوں میں لیکن ایک بات یاد رکھنا جو چیز ایک بار وکرم دادا کو پسند آ جاتی ہے وہ اس کی ہو جاتی ہے ۔مجھے وہ لڑکی صرف ایک رات کے لیے چاہےتھی لیکن اب وہ لڑکی مجھے ہمیشہ کے لئے چاہے۔ اس سے پہلے کے دادا کچھ اور کہتا یارم اس کا گریبان پکڑ چکا تھا
گیٹ آؤٹ ۔۔وہ دہاڑا تھا
چلوخضر ۔۔۔۔۔۔وکرم دادا غصے سے بولا۔
اور چلتا ہوا دروازے کے پاس آیا لیکن اس کے پیچھے کوئی نہیں چل رہا تھا ۔اس نے مڑ کر ایک نظر خضر کو دیکھا ۔جو ایسے ہی بازو سینے پر باندھے کھڑا اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔
وفاداری ۔۔۔بہت وفادار ہو تم خضر۔لیکن تمہارے جیسے لوگوں کی قدر نہیں ہے یہاں ۔تم جب چاہے میرےپاس آسکتے ہو ۔ویسے بھی تمہارا یہ باس تو کچھ دنوں میں مر جائے گا ۔وکرم دادا سے پنگا لیا ہے اس نے ۔وکرم دادا مسکراتے ہوئے بولا ۔
خضر سڑکوں پر بھیک مانگ کے کھا لے گا لیکن ڈیول کے ساتھ غداری کبھی نہیں کرے گا ۔خضر اسے سنانے والے انداز میں بولا ۔تو وکرم غصے سے باہر نکل گیا ۔
°°°°°°
میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وکرم کی سوچ ایسی ہو سکتی ہے ۔اگر مجھے پہلے اندازہ ہوتا تو میں انہیں یہاں کبھی نہ لاتا ۔وہ مجھ سے ضد کرنے لگے کہ انہیں تم سے ملنا ہے کسی بھی حالت میں ۔تم نے انہیں اپنے آفس میں بیٹھانے کے لیے کہا تھا اسی لیے میں وہاں لے کے گیا لیکن جب میں وہاں گیا تو وہ روح کی فوٹو اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے تھے ۔
ان کے پوچھنے پر میں نے بتادیا کہ وہ تمہاری بیوی ہے۔
بس پھر کیا تھا وہ مجھے زبردستی ساتھ گھسیٹ لائے ۔خضر اپنی صفائی دیتے ہوئے بولا ۔
جبکہ یہ بات الگ تھی کہ کمرہ بند ہونے کی وجہ سے روح کچھ بھی سن نہیں پائی ۔لیکن پھر بھی خضرنے کنفرم کرنے کے لیے اسے چائے بنانے کا کہا ۔تو وہ مسکراتے ہوئے ان دونوں کے لئے چائے بنانے چلی گئی۔
اور پھر زبردستی خضرکو کھانے پر روکنے لگی ۔جس سے خضر ایک بار پھر سے پرسکون ہو گیا تھا لیکن اب وہ اس بات کو لے کر بھی ٹینشن میں تھا کہ وکرم دادا کو روح پسند آگئی ہے ۔
اور یارم روح کو کسی حال میں نہیں گنوائے گا یہ تو اس کی آنکھیں ہی بتا رہی تھی۔وہ بہت کوشش کے باوجود بھی اپنا غصہ ضبط نہیں کر پا رہا تھا ۔
°°°°°°
اس نے مجھے انکار کیا میں نے اسے یہ مقام دیا ۔ جب لوگوں کو اس نے اپنی طرف لگانا تھا تو میں نے اسے پیسہ دیا ۔کیا مانگا تھا میں نے اس سے صرف وہ لڑکی ۔ایک لڑکی کے لیے اس نے میرا گریبان پکڑامیرا وکرم دادا کا ۔مجھے وہ لڑکی چاہیے راشد۔کسی بھی قیمت پر سب کو لگا دو ۔
ڈیول کو میں اس کی اوقات دکھاؤں گا ۔میں اسے بتاؤں گا کہ وکرم کے ساتھ پنگا لے کر اس نے اچھا نہیں کیا وکرم کو انکار کرکے اس نے وکرم کی توہین کی ہے ۔
دادا آپ ریلیکس ہو جائیں لڑکیاں بہت ہیں بھول جائیں اس لڑکی کو یہاں ایک سے ایک حسین لڑکی آپ کی خدمت میں حاضر ہے ۔راشد اسے ایک سے ایک حسین لڑکی دکھاتے ہوئے بولا ۔
تمہیں سمجھ میں نہیں آیا میں نے کیا کہا مجھے وہ لڑکی چاہیے ۔وہ مجھے اس لیے نہیں چاہیے کیونکہ وہ بہت حسین ہے ۔یا میرا اس پہ دل آگیا ہے میں دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ ڈیول کے اندر کس حد تک بسی ہوئی ہے ۔وہ لڑکی اس کی کمزوری بن چکی ہے ۔اور میرا گریبان پکڑ کر ڈیول نے مجھے اس کی کمزوری پر حملہ کرنے پر مجبور کردیا ہے ۔وکرم دادا دہاڑتے ہوئے بولا تھا ۔تو کیا سوچا ہے آپ نے راشد نے پوچھا ۔
راشد اپنے بھائی وسیم کے بعد بلکل ہی بے مول ہوگیا تھا اب انڈرورلڈ میں اسے کوئی کتے کے باؤ بھی نہیں پوچھتا تھا ۔وہ جو سوچ رہا تھا کہ وکرم یہاں آ کر اس کے بھائی کا بدلہ لے گا ۔اس کے سب کے سب خواب دھرے کے دھرے رہ گئے ۔
دادا ڈیول بہت خطرناک ہے آپ کو پتا ہے اس نے مجھے زندہ کیوں چھوڑ دیا کیونکہ اس کی بیوی کا فون آگیا تھا ۔اس نے میری آنکھوں کے سامنے میرے بھائی کو اتنی بھیانک موت بھی دی کہ میں سوچ کر کانپ اٹھتا ہوں ۔راشد نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی تھی ۔
اب تم دیکھنا کہ میں اسے کتنی بھیانک موت دیتا ہوں ۔وکرم داداقہقہ گا کے ہنسنا تھا ۔
°°°°°°°°°°°
یارم کو پتہ تھا کہ وکرم اس کے خلاف ضرور کوئی نہ کوئی پلاننگ کر رہا ہوگا وہ اسے نیچا دکھانے کے لئے کسی بھی حد تک چلا جائے گا اسے ڈر صرف روح کا تھا ۔ وہ روح کو کھو نہیں سکتا تھا ۔اسے ڈر تھا کہ کسی طرح روح کو اس کی حقیقت نہ پتا چل جائے ۔
اگر ایسا ہوا تو وہ روح کو کیا جواب دے گا کس طرح سے اسے اپنا یقین دلائے گا ۔
یہ تو وہ سمجھ چکا تھا کہ روح خود سے زیادہ اس پر اعتبار کرتی ہے ۔روح جب تک اپنی آنکھوں سے اسے اس طرح کا کوئی کام کرتے نہ دیکھے وہ کسی دوسرے پر یقین نہیں کرے گی ۔اور اس بات پر یارم پرسکون تھا ۔لیکن اب دوسری طرف صارم بھی ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑچکا تھا ۔