روح یارم

Areej shah

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط 41

دادا چھوٹے بڑے سب غنڈوں کو اپنے ساتھ ملا چکا تھا ۔ڈیول کو پل پل کی خبر مل رہی تھی۔وہ سوچ رہا تھا کہ دادا نے ابھی تک کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا آخر اس کا کیا ارادہ ہے ۔یارم کی سوچ کے مطابق اب تک دادا کو کوئی نہ کوئی قدم ضرور اٹھانا تھا لیکن اس کے ذہن میں کیا چل رہا ہے ۔
اتنا تو وہ جانتا تھا کہ وہ ڈیول کو نیچا دکھانے کے لئے کسی بھی حد تک چلا جائے گا ۔
کہیں اس کا ارادہ روح کے ساتھ کچھ الٹا سیدھا کرنے کا تو نہیں۔۔۔؟
دادا کیا سوچ کر چپ ہے ۔کہیں روح کو کوئی نقصان نہیں پہنچا نے والا ۔یا شاید کچھ اور ۔۔۔؟
مجھے روح کو جلد از جلد یہاں سے نکالنا ہوگا۔یارم کچھ سوچتے ہوئے آخر اپنے آخری فیصلے تک پہنچا
°°°°°°
مجھے سمجھ نہیں آرہایارم ہم یہ گھر کیوں چھوڑ رہے ہیں ۔اس کے گھر میں بہت سارے لوگ تھے اس وقت ان کا ضروری سامان پیک کر رہے تھے ۔
بےبی کیونکہ میں نے اپنا گھر لے لیا ہے اور اب ہمہیں اس فلیٹ میں رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ہمارا گھر اس گھر سے بڑا ہے اور بہت آرام دہ ہے تم وہاں آسانی سے گھوم پھر سکتی ہو اب تمہیں اس دو کمروں کے چھوٹے سے فلیٹ میں رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔یارم نے پیار سے سمجھایا۔
کیا سچ میں ہمارا اپنا گھر ۔۔۔” اس سے بڑا ہوا دار روح ایکسائٹمنٹ میں بولی تو پاس کھڑا شارف مسکرایا ۔
ہاں روح وہ اتنا بڑا ہے کہ ہم دونوں آرام سے بیڈمنٹن کھیل سکتے ہیں ۔اور بھی بہت کچھ تمہارا یہ کتا بہت انجوائے کرے گا ۔شارف نے کہا
یہ کتا نہیں ہے اس کا نام شونو ہے روح نے منہ بنا کر بتایا ۔
ہاں نا وہی شونو میں بھی یہی کہہ رہا تھا۔غلطی سے منہ سے کتا نکل گیا وہ کیا ہے نا نام کوئی بھی رکھ لو نسل تو نہیں بدلتی ۔شارف اپنی بات کو کور کرنے کے چکر میں اور الجھ گیا روح نے گھور کر دیکھا ۔یعنی وہ اسے یہ کہنے کی کوشش کر رہا تھا تم چاہے جو بھی نام رکھ لو یہ کتا ہے اور کتا ہی رہے گا ۔
میرا مطلب ہے دنیا کا سب سے پیارا جانور تو کتا ہی ہے اور سب سے پیارے جانور کتے کا سب سے پیارا نام شونو جو دنیا کی سب سے پیاری لڑکی روح نے رکھا ہے ۔
یارم پاس کھڑا ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا ۔
پھر ان دونوں کو ایسے ہی باتوں میں لگے دیکھ کر اس نے خضر کو مخاطب کیا جو ضروری سامان پیک کر رہا تھا۔
لیلیٰ سے بات ہوئی تمہاری ۔۔۔؟وقتی طور پر وہ اس پر بہت غصہ کر گیا تھا لیکن یہ بھی سچ تھا کہ اس دن اس نے یارم کی بہت مدد کی روح کی حالت دیکھ کر یارم بہت پریشان ہو گیا تھا۔ اسے اپنا ہوش بھی نہ رہا تھا اگر ایسے میں لیلیٰ اس کے پاس نہ ہوتی ۔تو شاید وہ اس سچویشن کو ہینڈل نہ کر سکتا۔
اس کی طبیعت ان دنوں کچھ ٹھیک نہیں ہے سو میں نے اسے آرام کرنے کے لیے کہا ہے ۔
اور وہ دوسری لڑکی معصومہ یارم نے پوچھا ۔تو شارف کے کان کھڑے ہوگئے ۔
معصومہ میڈم ضرورت سے زیادہ مصعوم ہے لیکن فکر مت کرو اس کی معصومیت تو میں نکالوں گا ۔فل حال تم دادا والا مسئلہ حل کرو صارم کو ہم بعد سنبھل لیں گے ۔
معصومہ کا صارم سے کیا تعلق ۔۔۔۔؟شارف ان کے پاس کھڑا پوچھ رہا تھا ۔
ہم یہاں کام کرنے آئے ہیں ۔۔ تمہارا معصومہ نامہ سننے کے لئے نہیں ۔بہتر ہوگا کہ کام پر دھیان دو ۔تمہارے چہیتی آئی نہیں تم نے تو کال کرکے اسے یہاں بلایا تھا ۔خضر نے بات بدلنا چاہی۔
اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔شارف بس اتنا بول کر پھر سے روح کے کتے کے ساتھ کھیلنے لگا ۔
روح تمہیں خواب آتے ہیں وہ اس کے پاس کھڑا پوچھنے لگا ۔
یارم اور خضر نے ہمیشہ کی طرح اس کی بےفضول بات پر گردن نفی میں ہلائی۔ اس کا کچھ نہیں ہوسکتا خضربولا ۔
خواب تو سب کو آتے ہیں مجھے بھی آتے ہیں ۔کبھی کبھی تو بہت ڈراؤنے خواب آتے ہیں روح نے لگے ہاتھوں اسے ڈرانا چاہا تو یارم بے اختیار مسکرایا ۔
تم نے خواب میں کبھی مجھے دیکھا ہے ۔میرا مطلب ہے اتنا ہینڈسم ۔شارف کی بات مکمل ہونے سے پہلے روح بول پڑی۔
نہیں ڈراؤنے خواب آتے ہیں اب اتنے بھی ڈراونے نہیں آتے اس سے پہلے کے شارف اس کے بات سمجھتا یارم اورخضر کا بے ساختہ قہقہ بلند ہوا ۔
اس نے ان کی طرف دیکھا اور پھر روح کو گھورنا چاہا لیکن وہاں اب کوئی نہ تھا ۔ پھر وہ خود بھی مسکرا دیا ۔
میری بہن بھی میری طرح ہے حاضر جواب ۔۔۔۔۔۔”
ڈراؤنی۔۔۔؟ شارف کی بات ختم ہونے سے پہلے خضر بولا ۔
اوئے میری بیوی بہت کیوٹ ہے روح کی تعریف یارم برداشت نہ کر پایا۔ جبکہ یارم ے اچانک بولنے پر وہ دونوں مسکرائے اور اپنے کام پر لگ گئے
°°°°°°°
اگر وہ سب کچھ سن چکا ہے تو ابھی تک اسنے تمہارے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا ۔صارم اس وقت معصومہ سے بات کر رہا تھا۔
یہی تو مجھے سمجھ میں نہیں آرہا اگر ڈیول کو خضر نے سب کچھ بتا دیا ہوتا تو اب تک وہ مجھے گولی مار چکا ہوتا معصومہ واقعی بہت ڈری ہوئی تھی۔
تم گھبراؤ نہیں ۔میں خود اس سے بات کروں گا ۔بس اتنا پتا چل جائے کہ خضر کو کتنا پتہ چل چکا ہے ۔تم سارا الزام مجھ پر لگا دینا کہ میں زبردستی تم سے بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔صارم نے پریشانی سے کہا ۔
نہیں صارم میں اپنے لیے تمہیں مصیبت میں نہیں ڈال سکتی۔ معصومہ پریشان تھی۔
تم پریشان مت ہو مجھے کچھ نہیں ہوگا میں سب سنبھال لوں گا ۔بس ایک بار میں اس لڑکی کو سب کچھ بتا دوں یارم کیسے کسی کی زندگی اس طرح سے برباد کر سکتا ہے۔اس نے اس لڑکی کو اپنی بیوی بنا کے رکھا ہے اسے کچھ بتایا تک نہیں ہے۔اسی لئے میں نے اس کی بیوی کو ٹارگٹ کیا ہے مجھے لگ رہا ہے کہ یارم اس کی بات ضرور سنے گا ۔اگر وہ سچ میں اس سے پیار کرتا ہے تو اس کی بات وہ ضرور مانےگا ۔صارم نے کہا ۔
لیکن صارم اگر روح کو سب کچھ پتہ چل گیا تو کیا گارنٹی ہے کہ وہ بیچاری ڈیول کے ساتھ رہنا چاہے گی مجھے تو لگتا ہے کہ وہ انہیں چھوڑ کر چلی جائے گی یا شاید ڈیول سر روح کو مار نہ دیں معصومہ نے پریشانی سے کہا ۔
اگر وہ اس سے سچا پیار کرتا ہے تو اسے مارے گا نہیں اور نہ ہی وہ کسی بے گناہ کو مارتا ہے
۔اور مجھے یقین ہے کہ روح یارم کو مجبور کر دے گی سرینڈر کرنے پر ۔اور اگر ایک بار یارم ہمارے ہاتھ لگ گیا تو دوبئی میں مافیا راج کا نام و نشان ختم ہو جائے گا اس وقت مافیا کا سب سے بڑا ڈان ڈیول ہے ۔مجھے مافیا ورلڈ ختم کرنا ہے مجھے یہ گندگی ختم کرنی ہے معصومہ پلیز میری ہیلپ کرو میں کچھ غلط نہیں کر رہا اور میں اپنے وعدے کے مطابق تمہارے بابا کے قاتلوں کوڈھونڈنے میں تمہاری مدد ضرور کروں گا
یہ میرا وعدہ ہے تم سے ۔اب پریشان مت ہو اور آرام کرو ۔صارم کا فون بند ہونے کے بعد بھی نجانے کتنی دیر وہ سوچتی رہی ۔
کیا وہ صحیح کر رہی ہے ۔جب روح کو یہ سب کچھ پتہ چلے گا تو وہ کیسا ری ایکٹ کرے گی روح کی تو زندگی برباد ہو جائے گی ۔
°°°°°°°°
یارم اور وہ اس وقت اپنے نئے گھر میں تھے جو دوسرے گھر سے کافی بڑا اور ہوا دار تھا ۔
کیسا لگا۔۔؟یارم نے روح کے پاس آکر پوچھا جب کہ شارف اورخضر ان کا سامان اندر لے کے جا رہے تھے ۔
بہت اچھا ہے ۔روح نے خوش ہو کر کہا،
یارم مجھے ایک بات بتائیں آپ نے تو کہا تھا کہ وہ فلیٹ بھی آپ کا اپنا ہے تو اب آپ اس فلیٹ کا کیا کریں گے ہم تو یہاں آ گئے ہیں ۔ روح نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
وہاں اسلحہ سیو رہے گا ۔ اس کی بات کا یارم نے تو کوئی جواب نہ دیا لیکن شارف خضر کے کان کے قریب بولا تھا ۔ خضر بے اختیار مسکرایا ۔
آئیڈیا برا نہیں ہے ۔خضر نے آنکھ دبا کر کہا
جبکہ شونو صاحب اب یارم کے پیر کے ساتھ چپکے ہوئے تھے جس کی وجہ سے یارم بہت زیادہ اریٹیٹ ہو رہا تھا ۔
روح اسے پیچھے کرو ورنہ میں سے کک کر دوں گا۔یارم نے سختی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
اف کتنے بے رحم انسان ہیں آپ ایک چھوٹے سے جانور کو لے کر ایسا کہتے ہیں ۔
روح اسے جانور مت بولو یہ تمہارا شونو ہے شارف نے دہائی دی۔ اور بھاگ کر باہر سے اور سامان لانے لگا ۔
جبکہ روح نے پیچھے سے اس کی پیٹھ کو گھورا تھا ۔
°°°°°°°
جیسا آپ کہیں گے ویسا ہی ہوگا ۔آج جب ڈیول اپنے کام پر جائے گا ہم اس لڑکی کو اٹھا لیں گے ۔اور پھر ہم اس سے اپنے کام نکلوائیں گے ۔
اسے لگتا ہے کہ گھر چینج کرکے وہ لڑکی کو ہم سے بچا لے گا لیکن یہ صرف اس کی غلط فہمی ہے اور کچھ نہیں ۔ہم اس پر 24 گھنٹے نظر رکھے ہوئے ہیں وہ کب کیا کرتا ہے سب کچھ ہمارے علم میں ہے۔
وہ سب کچھ تو ٹھیک ہے لیکن ڈیول نے وہ ثبوت جو میرے آدمی کے خلاف اپنے پاس رکھا تھا وہ آگے پہنچا دیا ہے ۔
کل انڈین گورنمنٹ اسے سنٹرل جیل سینڈ کر دے گی مجھے کسی بھی حالت میں وہ ثبوت واپس چاہیے ۔اور وہ لڑکی بھی، جس کی وجہ سے اس نے میرا گریبان پکڑنے کی ہمت کی ہے ۔
دادا نے اپنے سامنے بیٹھے غنڈوں کو دیکھتے ہوئے کہا ۔جو کسی نہ کسی وجہ سے یارم کے دشمن بنے ہوئے تھے ۔
اور اب اس سے بدلہ لینے کے لیے دادا کا ساتھ دینے سب سے آگے پہنچے تھے ۔

Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial