قسط 42
رات کے بارہ بجنے میں ابھی تقریبا دس منٹ باقی تھے ۔یارم نجانے باہر کیا کر رہا تھا ۔آج شارف اور خضر بھی اپنے اپنے گھر نہ گئے تھے۔
اور اب اسے باہر بھی نہیں آنے دے رہے تھے ۔اور سونے کے لئے بھی منع کر رکھا تھا ۔
ذرا سا جھانک کر دیکھ لیتی ہوں کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔وہ سوچتے ہوئے اٹھی۔ لیکن یارم کی سخت دھمکی یاد آگئی،اگر تم نے ذرا سی بھی چیٹنگ کی تو دیکھنا میں تمہارا کیا حال کروں گا۔
یہ سوچتے ہوئے وہ دوبارہ بیٹھ گئی ۔
یارم سے پنگا لینا اسے ہمیشہ ہی بھاری پڑتا تھا۔
آخر یہ لوگ باہر کر کیا رہے ہیں؟ اب نیند کی دیوی اس پر مہربان ہو رہی تھی۔لیکن یارم کے آرڈر کے مطابق وہ اپنے آپ کو زبردستی جگائے ہوئے تھی۔
اس گھرمیں آکر اسے سب سے زیادہ خوشی اپنے شونو کا چھوٹا سا کمرہ دیکھ کر ہوئی تھی ۔جو کہ کتے کو مدنظر رکھ کر بنوایا گیا تھا ۔
جس کا مطلب تھا کہ یارم نے بھی اس کے شونو کو اپنی زندگی میں قبول کرلیا ہے ۔لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ آخر وہ لوگ باہر کرکیا رہے ہیں ۔
آج اس گھرمیں ان کی پہلی رات تھی۔روم ساؤنڈ پروف ہونے کی وجہ سے باہر سے کوئی بھی آواز نہیں آرہی تھی ۔اور روح کو یہاں اوبال اٹھ رہے تھے کہ آخر یہ لوگ باہر کر کیا رہے ہیں ۔
°°°°°°°°°°
سب کچھ ریڈی ہے نہ کسی چیز کی کمی تو نہیں؟یارم نے سب کچھ اپنے ہاتھ سے کیا تھا لیکن وہ اب بھی بار بار خضر اور شارف سے پوچھ رہا تھا۔
ارے سب کچھ ٹھیک ہے تمہیں اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔فکر مت کرو شادی کے بعد روح کا پہلا برتھ ڈے اس کا بیسٹ برتھ ڈے ہوگا ۔خضر نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
یہی تو میں چاہتا ہوں کہ اس کا یہ برتھ ڈے بیسٹ ہو۔اور اس سے بھی بیسٹ ہوگی کل کی شام ۔میں اس کا یہ برتھ ڈے اس کی زندگی کا بیسٹ برتھ ڈے بنا دوں گا ۔پورے بارہ ہونے والے ہیں۔پہلے میں جاکر اسے وش کروں گا پھراسے یہاں لے کے آؤں گا تم دونوں تیار رہنا ۔
باہو باہو۔ شونو نے بول کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا ۔
ہاں، ہاں تم بھی! یارم نے شونو کو دیکھ کر کہا ۔اور پھر مسکراتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھا
°°°°°°°°
تھک ہار کے اب وہ سونے والی تھی۔ وہ مجبور ہوکر آ کر بیڈ پر لیٹ گئی ۔جب آہستہ سے کمرے کا دروازہ کھلا۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ۔
یارم ہاتھ میں کیک اٹھائے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اس کی طرف بڑھ رہا تھا ۔اور روح حیران وپریشان نظروں سے اسے اپنی طرف آتا دیکھ رہی تھی ۔
ہیپی برتھ ڈے بےبی۔وہ اس کے پاس آکر اس کے ساتھ بیٹھا۔
اور جھک کر اس کے گال کا بوسہ لیااور چھڑی اس کے ہاتھ میں پکڑانے لگا ۔جبکہ روح ابھی تک شوکڈ سی اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
کینڈل بجھاؤ، یارم نے سے اپنے طرف دیکھتے ہوئے کہا اور اس کے پیچھے آ کر بیڈ پر بیٹھ آ کر اس کے ہاتھ میں چھری کو سیدھا کر کے کیک پر چلانے لگا۔ویسے باہر وہ دونوں بھی انتظار کر رہے ہیں تمہیں وش کرنے کے لئے لیکن یہ موومنٹ میرا ہے ۔سب سے پہلے تمہیں میں وش کروں گا بعد میں جو چاہے کر لے ۔اب مجھے گھورنا بند کرو جلدی سے کیک کاٹو باہر خضر اور شارف کے ساتھ ساتھ تمہارا شونو بھی انتظار کر رہا ہے تمہیں وش کرنے کے لئے ۔یارم نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا جبکہ روح کے آنسو دیکھ کر وہ کھٹکا تھا ۔
روح! میری جان کیا ہوا ؟ تم رو کیوں رہی ہو؟ میں تو تمہیں خوش کرنے کے لئے یہ سب کچھ کر رہا تھا ۔ کیا تمہیں اچھا نہیں لگا ۔ اگر ایسی بات ہے تو میں ابھی سب کچھ منع کر دیتا ہوں ۔ وہ اس کے آنسو سے ترچہرا صاف کرتے ہوئے بولا ۔
یارم۔۔۔۔۔۔ آج تک۔۔۔۔۔۔ کسی۔۔نے میرے۔۔۔۔۔۔ لیے یہ نہیں۔۔۔۔۔۔ کیا ۔۔۔میں تو۔۔۔۔ سب کے ۔۔۔۔لئے ایک۔۔۔۔۔ فالتو چیز۔۔۔ تھی ۔۔سب۔۔۔ مجھ سے۔۔۔۔۔۔ نفرت کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔کیا میں نفرت کے ۔۔۔قابل تھی ۔۔۔وہ سوں سوں کرتے بولی ۔
تم کس قابل ہو یہ تم مجھ سے پوچھو ۔ مجھ جیسے سٹون ہارٹ کو محبت کرنا سکھا دی تم نے’ آج تک کسی نے تمہارے لیے یہ اس لیے نہیں کیا۔کیونکہ یہ میرا حق تھا۔اپنے دماغ سے ہر غلط سوچ نکال دو روح ،میں نہیں چاہتا کہ تم ان لوگوں کو سوچ کر رو ۔ اور خبردار جو تم نے اس خوبصورت دن پہ ایک آنسو بھی بہایا ۔ مجھے تمہارے ساتھ ساتھ تمہارے یہ آنسو بھی بہت پسند ہیں لیکن آج کے دن انہیں مت بہاو۔ میں آج اپنے رب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جس نے اس دن پر مجھے میری زندگی دی ہے ۔اب جلدی سے بتاؤ تمہیں کیا کیا پسند ہے آج میں وہ ہر کام کروں گا جو تمہاری خوشی کا باعث بنے اب مجھے گھورنا بند کرو اپنی آنکھیں صاف کرو کیک کاٹو اور بتانا شروع کرو۔
اسے اپنے ساتھ لگائےوہ کیک کاٹتے ہوئے پوچھ رہا تھا ۔کیک کاٹ کر ایک پیس اس کے منہ میں ڈالنا چاہا جب اس سے پہلے روح نے وہ کیک پیس اس کی طرف کیا۔یارم نے مسکراتے ہوئے پیس منہ میں لیا اور پھر وہی ہاتھ اس کی طرف بڑھایا ۔
اب بتاؤ نا کیا کیا پسند ہے تمہیں، تمہارے اس برتھڈے کو اسپیشل بنانے کے لئے آج میں تمہاری پسند کی ہر چیز کروں گا ۔اس نے پیار سے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا ۔تو روح سوچنے لگی ۔
آج سب کچھ بتا دو۔ اسے اس طرح سے سوچتے دیکھ کر یارم کی دلچسپی مزید بڑھی۔
مجھے چھوٹے چھوٹے پودے، سفید رنگ،نئے گھر،صبح کا وقت،آباد جزیرے، بہار کا موسم، میٹھی چائے، نئے گیت، سنہری دھوپ، ہلا گلا اور محفل پسند ہے۔
اور آپ کو۔۔۔۔۔؟ روح کو لگا کہ وہ کچھ زیادہ ہی بول گئی ہے ۔پھر رک کر اس سے پوچھنے لگی
مجھے پرانے درخت, کالا رنگ, قدیم حویلیاں, شام کا وقت, ویران جزیرے, خزاں کا موسم, کڑک چاۓ, پرانے گیت, بارش, خاموشی اور تنہائی پسند ہے لیکن ان سب سے زیادہ تم پسند ہو ۔اس لیے آج سے تمہاری پسند ہی میری پسند ہے ۔
اس کے چہرے پر اداسی دیکھ کر یارم نے جیسے بات ختم کی تھی ۔آج پہلی بار روح کو ایسا لگا جیسے وہ مشرق ہے اور یارم مغرب۔
چلوباہر تمہارے دونوں بھائی انتظار کر رہے ہیں ۔ یارم نے اسے اپنے ساتھ ہاتھ پکڑ کر اٹھاتے ہوئے کہا ۔روح مسکراتے ہوئے اس کے ساتھ باہر آئی۔
°°°°°°°°
باہر خضر شارف اور شونو کھڑے اس کا انتظار کر رہے تھے۔ان کی سر پر لمبی کاغذ کی ٹوپیاں تھی ۔جن پر ہیپی برتھ ڈے کے ساتھ ایک ایک ایموجی بنا ہوا تھا۔ یہ واقعی اس کے لائف کا سب سے بیسٹ برتھ ڈے تھا۔
جس میں اس کے سب عزیز اس کے ساتھ تھے ۔ اسے یاد بھی نہیں تھا کہ اس دن کبھی کسی نے اسے وش کیا ہو لیکن ان سب کو اس کے برتھڈے کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
اس نے سب کی موجودگی میں کیک کاٹا ۔اور سب کو کھلایا ۔
روح بتاؤ تمہیں کیا گفٹ چاہیے ۔خضر نے پوچھا۔
جسے آپ جیسا بھائی مل جائیں اسے کسی گفٹ کی ضرورت ہے بلا روح نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
شکر ہے بچت ہوگئی مجھے تو لگاتھا یہ لڑکی لوٹ لے گی مجھے شارف بولا۔ جس پر یارم اور خضر دونوں مسکرائے ۔
او ہیلو آپ کو نہیں کہا خضر بھائی کو کہا ہے آپ تو کل مجھے شاپنگ کروائیں گے ۔ روح نے فیصلہ سنا کراس کی ساری خوش فہمی دور کی ۔جس پر شارف کا منہ بن گیا ۔
پھر تو میرا بھی حق بنتا ہے اپنی بہن کو کچھ نہ کچھ دینے کا ۔بتاؤ نہ میں تمہارے لئے کیا کرسکتا ہوں روح۔ خضزنے اصرار کیا ۔
کیا کہوں خضر بھائی سچ کہوں تو میری زندگی میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے ۔آج تو میرے پاس آپ سے مانگنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ وہ مسکراتے ہوئے بولی ۔
ٹھیک ہے آج نہیں ہے لیکن کبھی تو ہوگا ۔میں تم سے وعدہ کرتا ہوں۔تم مجھے سے زندگی میں جو کچھ مانگو گی میں تمہیں دوں گا ۔چاہے اس کے لئے مجھے کچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑے ۔تمہارا یہ بھائی اپنی جان پر کھیل کر بھی تمہاری خواہش پوری کرے گا۔خضر نے اس کے سر رکھ کر اسے بھائی کا مان بخشا۔
لیکن مجھے ایک بات بتائیں آپ سب کو میرے برتھ ڈے کے بارے میں پتہ کیسے چلا روح نے کب سے دماغ میں آتا سوال آخر پوچھا۔
ارے یہ چھوٹی چھوٹی باتیں تو ہم پتا لگا ہی لیتے ہیں شارف الگ ہی انداز سے بولا ۔
روح جس دن تمہارا اصلی آئی ڈی کارڈ بنا تھا نہ اس دن پتہ چلا تھا ۔خضر نے دانت دکھاتے ہوئے شارف کی طرف دیکھ کر بتایا ۔
جبکہ شارف نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا ۔
°°°°°°°°
یارم آج سارا دن اس کے ساتھ تھا ۔ہر ممکن طریقے سے اسے خوش رکھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔آج اس نے بہت ٹائم تک فاطمہ بی بی سے بات کی تھی اور یارم نے کچھ نہیں کہا تھا ۔ جبکہ وہ فون نمبر والی فائل یارم اپنے آفس لے گیا تھا۔جس کی وجہ سے وہ اپنی ماں سے بات نہیں کر پائی تھی۔
آج یارم نے اسے شونو کے ساتھ کھیلنے سے بھی نہ روکا تھا۔ وہ باہر شونو کے ساتھ کھیل رہی تھی جبکہ یارم اندر اس کے لیے کچھ بنا رہا تھا
یہ گھر کافی بڑا تھا جس کا ایک کمرہ بند تھا ۔ یارم اس کمرے میں کون ہے؟اس نے بند کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
تمہاری سوتن ملو گی اس سے یارم نے شرارتی انداز میں بولا۔
ملوں گی نہیں سر سے پکڑ کر گھر سے باہر نکالوں گی ۔روح ناک پھولا کر بولی ۔
ہائے میری معصوم بیوی کی معصوم دھمکیاں ۔وہ اس کا گال چومتے ہوئے واپس کچن کی طرف گیا جہاں وہ اس کے لئے اسپیشل کچھ بنا رہا تھا ۔
بےبی تم دروازہ اندر سے بند کر لو میں کچھ سامان لے کر دس منٹ میں واپس آیا۔ پھر آج کی یہ شام میں تمہارے لئے اسپیشل بناؤں گا اور رات تم میری اسپیشل بنا دینا ۔وہ اس کی طرف جھک کر ذومعنی بولا ۔
ِیارم آپ بالکل اچھے نہیں ہیں ۔ وہ پیر پٹختی اس کے پیچھے دروازہ بند کرنے آئی ۔جبکہ یارم اپنے ڈمپل کی نمائش کرتا آگےبڑھا ۔
°°°°°°
اپنے کہے کے مطابق دس منٹ کے بعد وہ گھر پر تھا۔ گھر کا دروازہ پورا کھلا تھا ۔ یارم کچھ گڑبڑ کا احساس ہوتے ہی تیزی سے گھر کے اندر آیا ۔
شونو زمین پر زخمی حالت میں پڑا تھا جبکہ روح کہیں نہیں تھی۔
اس کو جو ڈر تھا وہی ہوا دادا نے اسے نہیں بلکہ روح کو اپنا نشانہ بنایا تھا۔ اس نے اپنے غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے اپنے آپ کو سنبھالا اور جلدی سے خضر کو فون کیا ۔اور اسے سب بتایا۔
یہ تم نے ٹھیک نہیں کیا۔ بہت بڑی غلطی کی ہے تم نے ڈیول کی کمزوری پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی کاش اس سے پہلے تم اپنا انجام سوچ لیتے
تمہیں اتنا تو پتہ ہوگا ڈیول دوسروں کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والے کو کبھی معاف نہیں کرتا اور تمہاری نگاہوں نے ڈیول کی عزت کی طرف دیکھنے کی گستاخی کی ہے۔ پہلا وار تم نے کیا ہے تو زخم سہنے کو بھی تیار رہو۔ خضر اور شارف اس کے گھر پہنچ چکے تھے۔
تم لوگوں کے پاس صرف پندرہ منٹ ہیں مجھے میری روح چاہیے۔