ست رنگی عشق میرا

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط 11

ایسا کیوں کیا تم نے۔۔۔۔ ۔
مشی کے گلے لگے وہ روتے ہوئے کوئی بچی لگ رہی تھی مشی نے اس سے پوچھا تو وہ اس سے دور ہوئی اور آنسووں کو صاف کیا
مجھے لگا شاید وہ سمجھے گا ۔۔۔۔۔میری ہاں اُسے بری لگے گی ۔۔۔۔وہ مجھ سے بات کریگا۔۔۔کہے گا روحی ایسا مت کرو۔۔۔۔میں تم سے پیار کرتا ہوں ۔۔۔ تم صرف میری ہو۔۔۔۔۔لیکن اُس نے ایسا نہیں کیا۔۔۔۔اجنبی کی طرح چلا گیا وہ مشی۔۔۔۔۔۔۔ایک بار بھی پلٹ کر نہیں دیکھا اُس نے مجھے۔۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ چہرے پر رکھے پھر سے رو دی
چپ ہو جاؤ روحی۔۔۔۔ایسے انسان کے لیے رو رہی ہو جسے تمہارے رونے سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا۔۔۔۔خود کو اتنی بھی عام مت سمجھو روحی ۔۔۔۔اگر وہ تمہیں نہیں سمجھتا تو یہ اُس کی بدقسمتی ہے ۔۔۔۔اگر اب تم نے ہاں کر ہی دی ہے تو اس رشتے کو قبول بھی کرلو۔۔۔۔۔ شاید اچھا ہی ہوا جو تم نے غصے میں آکر ہاں کہہ دی
روحی نے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر مشی کو دیکھا اس نے صرف زار کو دکھانے کے لیے ہاں کہی تھی ورنہ تو وہ زار کے علاؤ کسی کا خیال بھی دل۔میں نہیں لا سکتی تھی
اُس کے لیے رونے سے بہتر ہے تم اپنے بارے میں سوچو۔۔۔اپنے پاپا کی خوشی کے بارے میں سوچو۔۔۔۔۔اُس شخص کو نکال دو دل و دماغ سے اگر وہ تم سے پیار کرتا تو تمہیں اس طرح تکلیف میں اکیلے نہیں چھوڑتا۔۔۔۔۔۔۔۔
مشی نے اس کا ہاتھ پکڑا اور وہ اُسے خالی نظروں سے دیکھتی رہی اب بھی اُس کے دل میں ایک امید باقی تھی اُسے یقین تھا کہ زار اُسے ضرور روکے گا
💜💜💜💜💜💜
ایک ہفتے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے آفس میں بیٹھا تھا سامنے رکھی فائل پر نظریں لیکن دھیان کہیں اور تھا فون بجا تو اٹھا کر کان سے لگا لیا
ACP zaar here
ہم عزیز راجپوت بات کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔
یس سر۔۔۔۔۔۔۔۔کیسے ہیں آپ
وہ حیران ہوا لیکن ظاہر نہیں کی
ہم بلکل ٹھیک ہے آپ کی دعا سے۔۔۔آج رات ہم نے ایک پارٹی رکھی ہے ۔۔۔۔ہماری سالگرہ ہے۔۔۔۔۔۔
بہت بہت مبارک ہو سر۔۔۔۔۔۔
شکریہ ۔۔۔لیکن اگر آپ اس پارٹی میں شرکت کرکے ہمیں روبرو مبارکباد دینگے تو ہمیں زیادہ خوشی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔اسی لیے ہم خود آپ کو انوائٹ کر رہے ہیں ۔۔۔آپ ضرور تشریف لائیں
جی۔۔۔میں کوشش کروں گا۔۔۔۔۔۔
وہ رک کر بولا وہ وہاں جا کر روحی ما ایک بات پھر سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا
ہمیں آپ کا انتظار رہے گا۔۔۔۔۔ خدا حافظ
اس نے فون واپس رکھ دیا اور کرسی سی ٹیک۔لگا دیا صرف وہ جانتا تھا کے اپنے اندر اس تکلیف کو کیسے چھپائے رکھنا ہے تاکہ کوئی اس کا حال سمجھ نہ پائے بھلے ہی وہ روحی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن اُسے اس پارٹی میں جانا تھا تاکہ روحی کو احساس دلا سکے کے اس کی زندگی بلکل نارمل ہے اُسے کسی بات سے فرق نہیں پڑتا
💜💜💜💜💜💜💜
محفل میں خوب رونق تھی شہر کی مشہور اور معروف ہستیاں وہاں موجود تھی سجاوٹ ایسی اعلٰی کے کسی کا بھی دھیان اپنی جانب کھینچ لے
آئیے آئیے اے سی پی صاحب ۔۔۔۔خوش آمدید۔۔۔۔
عزیز صاحب نے اُس کا خوشدلی سے ویلکم کیا اور اُس سے ہاتھ ملایا
سالگرہ مبارک ہو سر۔۔۔۔۔۔
اُس نے اپنے ہاتھ نے تھاما پھولوں کا گلدستہ اُن کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
شکریہ۔۔۔۔شکریہ۔۔۔۔۔۔۔آئیے۔۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے بولے اور اُسے اپنے ساتھ لے آئے جہاں کچھ دیر پہلے کھڑے تھے
ان سے ملو بیٹا۔۔۔یہ ہے اے سی پی زار۔۔۔۔بہت ہی قابل اور بہادر آفیسر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے مہمانوں میں سے ایک لڑکے کو مخاطب کرکے کہا وہ دھیرے سے مسکرایا
اور زار یہ ہے ابرار احمد۔۔۔۔۔۔عباس صاحب کے صاحبزادے ۔۔۔جن کے بارے میں ہم نے آپ سے بات کی تھی
عزیز صاحب کی بات پر زار کی معمولی سی مسکراہٹ سمٹ گئی تھی ابرار نے اُس کی جانب ہاتھ بڑھایا لیکن زار کی نظریں اُس کے دوسرے ہاتھ میں پکڑے شراب کے گلاس پر گئی تھی
کافی تعریف سنی ہے آپ کی۔۔۔مل کر خوشی ہوئی
وہ اُسے متوجہ کرنے کئی غرض سے بولا زار نے اُس کا چہرہ دیکھتے ہوئے ہاتھ ملایا
مجھے بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بنا مسکرائے بولا شکل اور صورت سے تو وہ ٹھیک ٹھاک ہی تھا لیکن امیر زادوں کی طرح مغرور مسکراہٹ اور باتوں میں گھمنڈ ضرور تھا زار نے کچھ دیر یونہی اُن کی باتوں میں بے دلی سے حصہ لیا تھا
نا چاہتے ہوئے بھی اُس کی نظریں کسی کو ڈھونڈھ رہی تھی جو اُسے نظر آ ہی گئی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے وہ کوئی آسمان سے نیچے آتی پری کی طرح لگ رہی تھی بنا آستین والے آسمانی رنگ کے گاؤن میں جو موتیوں سے بھرا تھادوپٹہ شولڈر سے آگے ڈالے ہوئے دوسرا سرا کلائی میں اٹکا ہوا تھا جس میں سفید موتی لٹک رہے تھے اور ویسے ہی چھوٹے چھوٹے موتیوں کے ایرنگ کان سے لٹکتے ہوئے اُس کی گردن کو چھو رہی تھے بالوں کو خوبصورتی سے سٹائل دے کر ایک کندھے پر آگے ڈالا ہوا تھا زار نے تو اُسے اب تک بہت ہی سادہ روپ میں دیکھا تھا تب بھی وہ اُسے بہت اچھی لگی تھی اور آج تو میک اپ اور اُس ڈریس کے رنگ نے اُس کی حسن م چار چاند لگا دئیے تھے اُس نے اب تک زار کو نہیں دیکھا تھا لیکن زار کے علاوہ بھی بہت ساری نظروں نے اُس کے روپ کو سراہا تھا وہ نیچے اتر کر سیدھی اپنے پاپا کے پاس آئی اور تب اُس نے زار کو دیکھا زار نے فوراً سر جھکا کر نظریں نیچے کی ۔۔۔۔۔۔ابرار نے روحی کو تعریفی نظروں سے دیکھتے ہوئے بے جھجھک اُس کا ہاتھ اٹھا کر ہونٹوں سے لگا لیا روحی نے زار کو دیکھا کے شاید اُسے کوئی فرق ہوگا لیکن اُس کے چہرے پر ایک شکن بھی نہیں تھی وہ نظریں پھیرے کھڑا تھا عزیز صاحب نے روحی کو گلے لگاتے ہوئے اپنے قریب کھڑے کیا زار تھوڑے فاصلے پر کھڑا ہو گیا
Ladies and gentlemen۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عزیز صاحب نے بلند اواز میں سب کو اپنی جانب متوجہ کیا
آج ہماری سالگرہ کے موقع پر آپ سب کی شرکت اور دعاؤں سے بہت خوشی ملی۔۔۔۔۔اسی لیے اب ہم بھی آپ سب کے ساتھ اپنی ایک اور خوشی بانٹنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ایک باپ کے لیے جو سب سے بڑا خوشی کا دِن ہوتا ہے وہ ہماری زندگی میں آنے والا ہے۔۔ہماری بیٹی روحی کی شادی عباس احمد صاحب کے بیٹے ابرار سے طے کرکے ہم اپنا فرض پورا کرنے جا رہے ہیں اور اس خاص موقع کو اور خاص بنانے کے لئے ہم اپنی سالگرہ کے دن کو ان دونوں کی منگنی کا دِن بنانا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی خوشی کا اظہار کر رہے تھے لیکن ان کی باتیں نا صرف روحی کو بلکہ زار کو بھی بہت تکلیف دے رہی تھی روحی بھی اس بات سے انجان تھی کے وہ اچانک انگیجمنت کا اعلان کر دے گے وہ پتھر بن کے کھڑی تھی تب تک جب تک عزیز صاحب نے اُسے مخاطب نہیں کیا
بیٹا رنگ پہناؤ۔۔۔۔۔۔۔۔
اُن کے کہنے پر اُس نے اُنھیں خالی خالی نظروں سے دیکھا پھر زار کی جانب جہاں صرف سنجیدگی تھی لب بھینچے تھے لیکن آنکھیں بول رہی تھی اُس کے سامنے پھولوں کے درمیان رکھی انگوٹھی پیش کی گئی اُس نے ابرار کے بڑھے ہوئے ہاتھ میں وہ رنگ پہنا دی اور پورے ہال میں تالیاں گونجنے لگی اُس کے بعد ابرار نے اُس کا ہاتھ اٹھاتے ہوئے اُس کی تیسری انگلی میں اپنی رنگ پہنائی اُسی کے ساتھ روحی کی نظریں اٹھی تھی لیکن زار کا چہرہ نہیں بلکہ پشت اُسکی جانب تھی وہ رخ پھیر چکا تھا لوگ باری باری آکر اُن دونوں کو مبارک باد دے رہے تھے اور وہ بے دلی سے مسکرا رہی تھی انتظار کررہی تھی کے کب زار کا چہرہ دیکھ پائے گی ویٹر آکر اُس کے پاس رکا تھا اور اُس نے ایک گلاس اٹھا کے ہونٹوں سے لگا لیا تھا پنک کلر کی شرٹ پر بلیک جینز پہنے ہلکی بڑی ہوئی شیو اور کچھ بال جو بکھر کے ماتھے پر گرے تھے اُسے اس محفل میں موجود تمام لوگو سے مختلف اور دلکش بنائے ہوئے تھے روحی ابرار سے اکسکیوز کرکے اُس کی طرف آئی
مبارکباد نہیں دو گے۔۔۔۔۔۔۔۔
روحی کے مخاطب کرنے پر وہ اُس کی جانب پلٹا تھا ایئر روحی نے اُس کی آنکھوں میں بہت بے چینی اور تکلیف دیکھی تھی اُس نے روحی کے بڑے ہوئے ہاتھ کو دیکھا اور ہاتھ بڑھایا
Congratulations۔۔۔۔۔۔۔۔
کہتے ہی اُس نے لب بھینچ لیے تھے
میں تمہیں بہت بہادر اور نڈر سمجھتی تھی لیکن نہیں تم ایک ڈرپوک۔ بزدل اور کمزور انسان ہو اے سی پی زار
وہ اُس کے ہاتھ سے ہاتھ نکالتے ہوئے بولی وہ اُسے سنجیدگی سے دیکھتا رہا جیسے اب جی بھر کر دیکھ لینا چاہتا ہو
جو تمہیں کہنا چاہیے تم وہ کہنے کی ہمت نہیں کرتے اور جو چھپانے کی کوشش کرتے ہو وہ چاہ کر بھی چھپا نہیں سکتے
وہ اپنے آنسوؤں کو ضبط کیے بولی تو زار نے نظریں ہٹا کر نیچے کر لی وہ اُس کے دل کا حال پڑھ رہی تھی اس لیے ۔۔۔۔۔ روحی اُس کے ضبط پر حیران رہ گئی وہاں سے ہٹ کر وہ مشی کی طرف آگئی اور مشی نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے تسلی دی
یہ زار کو دیجئے۔۔۔۔
وہ وہاں سے جانے کے لیے دروازے کی جانب بڑھ ہی رہا تھا کے عزیز صاحب وہاں آئے تھے اور اُن کے ساتھ ایک ملازم جو گٹار اٹھائے کھڑا تھا زار نے اُنھیں حیرت سے دیکھا
ہم نے سنا ہے آپ بہت اچھا گٹار بجاتے ہے۔۔۔۔۔تو آج اس خوشی کے موقع پر کیا آپ ہمیں اپنا ہنر نہیں دکھائے گئے
نہیں سر اس وقت مجھ سے نہیں ہوگا ۔۔۔ ۔۔۔پھر کبھی
وہ ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولا اور ایک نظر روحی پر ڈالی اُس کا ضبط ٹوٹنے والا تھا اور اس کے پہلے وہ وہاں سے نکل جانا چاہتا تھا
پھر کبھی ہماری زندگی کا کوئی دِن اتنا خاص نہیں ہوگا۔۔۔۔آج ہماری سالگرہ ہے اور اتنا تحفہ تو ہم آپ سے مانگ ہی سکتے ہے
عزیز صاحب کے اسرار پر وہ منع نہیں کر پایا شاید اُس کے صبر کو آزمایا جا رہا تھا اُس نے گٹار ہاتھ میں لے لیا سفید روشنی میں جگمگاتا کمرہ زرد روشنی میں نہا گیا تھا اُس کے ہاتھ حرکت نہیں کر رہے تھے کیوں کے دل و دماغ جگہ پر نہیں تھا اُس نے ایک گہری سانس لی اور اپنی انگلیوں کو حرکت دی دھیرے دھیرے حرکت کرتی اُس کی انگلیاں ایک خوبصورت دھیما سا میوزک اُس ماحول میں بکھیر رہی تھی سب اُس کی جانب متوجہ تھے اور اُس کی آنکھیں بند تھی اُس نے لب کھولے تھے اور رک رک کر ادا ہوتے الفاظ میں گانا شروع کیا تھا
تو سفر میرا
ہے تو ہی میری منزل
تیرے بنا گزارا
اے دل ہے مشکل
بہت ہی دھیرے دھیرے ادا ہوتے الفاظ اور اُس کی جذبات میں ڈوبی آواز لوگو کے دلوں کو چھونے کے لیے کافی تھی
مجھے آزماتی ہے تیری کمی
میری ہر کمی کو ہے تو لازمی
جنون ہے میرا
بنوں میں تیرے قابل
تیرے بنا گزرا
اے دل ہے مشکل
اُس نے آنکھیں کھولیں لیکن اٹھا کے روحی کے جانب دیکھا نہیں وہ اُس کے لفظوں کی گہرائی اور آواز میں اتنی کھوئی تھی کے جیسے کوئی اور وہاں موجود ہی نا ہو صرف وہ اور زار۔۔۔۔۔۔۔۔زار کے ہاتھ اب تیزی سے حرکت کر رہے تھے اور ہر کوئی داد دینے والی نظروں سے اُسے دیکھ رہا تھا ابرار اُس کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا تو اُس کا تسلسل ٹوٹا ابرار کا ہاتھ اُس کی جانب بڑھا ہوا تھا وہ اُسے بس دیکھتی رہی مشی نے خود ہے اُس کا ہاتھ اٹھا کر ابرار کے ہاتھ میں رکھ دیا ابرار اُسے لیے درمیان نے آیا اور اُس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر میوزک میں جھومنے لگا وہ بس کسی بے جان شئے کی طرح حرکت کر رہی تھی اور زار کو دیکھے جا رہی تھی زار کی انگلیوں میں اور تیزی آگئی تھی اُس نے ایک نظر دونوں کی جانب دیکھا تھا اور پھر نیچے
مانا کے تیری ۔۔۔۔موجودگی سے
یہ زندگانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محروم ہے
جینے کا کوئی۔۔۔۔۔۔۔۔دوجا طریقہ
نا میرے دل کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معلوم ہے
نظریں کی اُس کی نظروں سے ملائی
تُجھ کو۔میں کتنی ۔۔۔۔شدّت سے چاہوں
چاہے تو رہنا۔۔۔۔تو بے خبر
محتاج منزل کا تو نہیں ہے
یہ ایک طرفہ میرا سفر
پھر سر نیچے کر لیا اور آنکھیں بند روحی کی آنکھ سے نکل کر ایک انسوں اُس کے سینے پر گرا
سفر خوبصورت ہے ۔۔۔۔منزل سے بھی
میری ہر کمی کو ہے تو لازمی
ادھورا ہو کے بھی ۔۔۔۔۔ہے عشق میرا کامل
تیرے بنا گزارا۔۔۔۔۔۔۔۔ اے دل ہے مشکل
روحی ابرار کا ہاتھ چھوڑ کر وہاں سے ہٹ گئی اور پاپا کے پاس آکر اُن کے گلے لگ گئی زار کی اُنگلیاں بہت تیزی سے تاروں پر حرکت کر رہی تھی بنا رکے وہ آنکھیں بند کرکے جنونی کیفیت میں تاروں کو چھو رہا تھا اور اُس کی دیوانگی اُس میوزک میں سنائی دے رہی تھی سب اس سحر میں ڈوبے اُس کی جانب دیکھ رہے تھے اچانک میوزک تھم گیا تھا اور زار کی آنکھیں کھلی گٹار کا تار ٹوٹ کر نیچے جھول رہا تھا خاموشی کے ماحول میں سب دل تھامے اُسے دیکھ رہے تھے شاید اچانک میوزیک بند ہونے کی کسی کو امید نہیں تھی سب سے پہلے عزیز صاحب کی تالی اُس خاموشی کو توڑ گئی اور پھر سب نے ہے تالیاں بجا کر اُس کی تعریف کی پوری محفل میں بس روحی کے ہاتھ نہیں اٹھے تھے وہ دھیرے سے مسکرایا اور سر جھکا کر سب کا شکریہ ادا کیا
جاری
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial