قسط 9
کتنی ہی دیر تک وہ اس کی جانب کروٹ کیے اُسے دیکھتا رہا تھا ۔۔ نیند لگے ایک ڈیڑھ گھنٹہ ہی گزرا ہوگا کے سورج کی روشنی سے آنکھ کھل گئی اٹھ کے ندی کے پاس آیا اور چہرے پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مار کر چہرہ صاف کیا اور بالوں پر ہاتھ پھیرا وہیں کھڑا اس جگہ کی خوبصورتی کا نظارہ کرتا رہا ندی کے پانی میں سورج کی کرنیں دھنک رنگ چھوڑ رہی تھی دھوپ اور ٹھنڈک دونوں کو محسوس کیا جا سکتا پیڑوں پر پرندوں کی چہچہاہٹ نے ایک خوبصورت ساز فضا میں ملا کے اُسے رومانوی بنایا ہوا تھا
روحی بے سود ہو کر سوئی ہوئی تھی ایک بندر پیڑ سے اتر کر نیچے آیا اور زمین پر بیٹھا تربوز اٹھا کر کھانے لگا وہ روحی کے پیروں کے قریب بیٹھا تھا اور اس کی دم روحی کے تلووں کو چھو رہی تھی جس سے اُسے گدگدی ہونے لگی اور وہ اپنے پیر سمیٹنے لگی دم تب بھی اس کے پیروں کے قریب ہی تھی وہ زچ ہو کر اٹھ بیٹھی اُسے اندازہ بھی نہیں تھا کے اس کے قریب کون بیٹھا ہے
اتنی اچھی نیند آرہی تھی کیوں جگا دیا مجھے ۔۔۔۔۔پتہ ہے کتنا پیارا سپنا دیکھ رہی تھی میں
وہ نیند سے بوجھل آنکھیں بند کئے مدہوشی میں بات کر رہی تھی یہ سوچ کر کے زار نے اُسے جگایا ہے
Good morning۔۔۔۔۔۔۔۔
زار نے اُسے اٹھے دیکھا تو کہتا ہوا اس کی جانب بڑھا لیکن اس کے پاس بندر کو بیٹھ کے مزے سے تربوز کھاتے دیکھ اگلے الفاظ بھول کر آنکھیں پھیلائے اُسے دیکھنے لگا اُس کی آواز سن کر بھاری آنکھیں کھولتی سامنے دیکھنے لگی
تم وہاں کیسے چلے گئے۔۔۔ابھی تو تم یہاں تھے
وہ اُس کی جانب انگلی کرکے بولی اور جیسے ہی اپنے پاس نظر ڈالی بندر کو دیکھ کر اُس کی بھیانک چینخ نکلی بندر اُس کی چینخ کر ڈر کر بھاگا وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور ممّی ممّی چلانے لگی زار اُس کی حالت پر ہنسا اور ہنستا ہی چلا گیا رخ دوسری جانب کیے روحی بندر کے جانے کے بعد سکون کا سانس لیتے ہوئے سیدھے ہوئی زار کو ہنستے دیکھ اُسے آگ ہی لگ گئی لیکن پھر اچانک جب وہ اُس کی جانب پلٹا تو اُسے دیکھ کر وہ سب بھول گئی پہلی دفعہ اُسے اس طرح ہنستے دیکھا تھا اُس نے ۔۔۔۔۔۔وہ کیسا لگ رہا تھا صرف اُس کا دل جانتا تھا زار اپنی ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے اُس کے پاس آیا وہ بھی اُسے دیکھ کر دھیرے سے ہنس دی
یہ بندر کہاں سے آگیا تھا۔۔۔۔۔۔
یہ اُس کا علاقہ ہے وہ بھی سوچ رہا ہوگا یہ میری طرف کون آگیا۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے بولا
افف میں تو تمہیں سمجھ کر اُس سے بات کر رہی تھی اور وہ میرے پاس۔۔اي ی ی ی ی
اس نے گندی سی شکل بنائے جھرجھری لی زار دھیرے سے ہنسا
لگتا ہے اُس کا دل آگیا تم پے۔۔۔۔اتنی پیاری بندریا کبھی نہیں دیکھی ہوگی اُس نے۔۔۔
مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کے اے سی پی زار ہنسنا بھی جانتا ہے۔۔۔۔۔
وہ سرشار ہوتی ہوئی اُسے دیکھنے لگی وہ مسکراہٹ سمیٹے اُسے دیکھنے لگا
اور کب تک ہم چلتے رہے گے۔۔۔
وہ لوگ صبح سے نکلے تھے اور اب سورج سر پر آچکا تھا حالانکہ گرمی نا کے برابر تھی لیکن چل چل کر روحی نڈھال ہو چکی تھی
شاید قیامت تک کیوں کے مجھے نہیں لگتا ہم یہاں سے نکل پائے گے
زار اُس سے دو قدم آگے چل رہا تھا وہ بہت سوچ سمجھ کر آگے بڑھ رہا تھا تاکہ بھٹکے نا
ایسا مت کہو انسان کو نا امید نہیں ہونا چاہیے مجھے یقین ہے ہم بہت جلد یھاں سے باہر نکل جائے گے
روحی اُس کی بات پر اُداسی سے بولی
Hope so۔۔۔۔۔۔۔۔
زار نے کندھے اچکا دیے
ویسے یہاں مہینہ بھر بھی بھٹکتی رہی تو نہیں مرونگی لیکن اگر اسی طرح چلتی رہی تو ضرور مر جاؤنگی میں
وہ گہری گہرائی سانسیں لینے لگی زار دھیرے سے ہنستا ہوا رک کے اُس کی جانب پلٹا
رک جاتے ہیں تھوڑی دیر۔۔۔۔۔۔۔
زار نے اُس کی حالت دیکھ کر کہا روحی پیڑ سے ٹیک لگائے تھکے تھکے انداز میں کھڑی ہو گئی اور زار اُس کے سامنے تھوڑے فاصلے پر ایک درخت سے لگ گیا کل سے وہ مسلسل بنا جوتوں کے چل رہا تھا کیوں کہ اُس نے اپنے جوتے روحی کو دے دیے تھے
کاش کے ہم لوگ گھر جا کر ایک گاڑی ہی لے آتے
روحی نے بے چارگی سے کہا
ہاں ۔۔۔۔۔۔ گاڑی لینے گھر جاتے اور واپس آکر پھر سے یہاں پھنس جاتے ۔۔۔ہے نا
زار اُس کی بیوقوفانہ بات پے طنز کرتے ہوئے بولا اُس نے فوراً زبان دانتوں تلے دبائی
سچ سچ بتاؤ ۔۔۔تم واقعی اتنی بے وقوف ہو یا صرف مجھے تنگ کرنے کے لئے جان بوجھ کر کرتی ہو۔۔۔۔۔
جان بوجھ کر۔۔۔۔
اور وہ کیوں۔۔۔۔۔۔۔
وہ دھیرے سے مسکرایا
کیوں کے تم جب غصّہ کرتے ہو تو اور زیادہ ہینڈسم لگتے ہو۔۔۔
وہ ایک پل اُسے خاموشی سے دیکھتا رہا پھر سر نیچے کرکے ہنسا
۔کھلے عام فلرٹ کر رہی ہو تم
نہیں میں بس مذاق کر رہی تھی
وہ اُس کی بات پر شرمندہ ہو کر بولی
کوئی بات نہیں ویسے بھی جس سوسائٹی کا تم حصہ ہو وہاں یہ کوئی بڑی بات نہیں تمہاری سوسائٹی کی لڑکیاں تو کھلے عام لڑکوں سے ملتی ہے اُن کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال گھومتی ہیں اور پتہ نہیں کیا کیا
اُس کی بات پر روحی نے اُسے حیرت سے دیکھا زار یہ بات اُسے نہیں بلکہ خود کو بتا رہا تھا اُس کی برائیاں ڈھونڈھ کر وہ اپنے آپ کو اُس کی جانب جانے سے روکنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔
پر میں اُن جیسی نہیں ہوں زار۔۔ میں بھلے ہی اس سوسائٹی کا حصہ ہوں لیکن میں اُن میں سے نہیں ہوں جو ہر آتے جاتے پر اپنا دل وار دے۔۔۔۔میں کوئی کھلی کتاب نہیں ہوں جو ہر ایک کے سامنے ظاہر ہو جاؤں ۔۔۔۔۔تم ایسا مت سوچو میرے بارے میں
روحی حیران اور اُداس ہوتے ہوئے بولی اُسے یقین نہیں آرہا تھا کے زار اُس کے متعلق ایسا سوچتا ہے وہ خاموشی سے اُسے دیکھنے لگا کیسے بتاتا کے یہ صرف اپنے دل کو سکون پہچانے کے لیے کے رہا ہے
چھوڑو نا۔۔۔۔۔میرے کچھ بھی سوچنے سے کیا فرق پڑتا ہے
اُس نے سر جھٹکتے ہوئے منہ پھیر لیا
مجھے فرق پڑتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روحی نے فوراً کہاں اور اُس نے روحی کی جانب نہیں دیکھا ایک گہرئی سانس لی اور آنکھیں موند لی روحی اُس کی پشت کو دیکھتی رہی اس انتظار میں کے شاید وہ اُس کی جانب دیکھے اور وہ سمجھ پائے کے آخر وہ کیا سوچ رہا ہے لیکن زار اُس سے نظریں نہیں ملانا چاہتا تھا اس لیے وہاں سے ہٹ کر دور فاصلے پر چلا گیا
اس جگہ بیٹھے بیٹھے اُسے کب نیند آگئی پتہ ہی نہیں چلا زار اُس کے پاس آیا تو سوتے میں بھی اُس کے چہرے کی اُداسی کو محسوس کر گیا اُسے ہرگز روحی کے کردار پر شک نہیں تھا وہ اتنی معصوم تھی ایک دِن میں ہی وہ اُسے سمجھ چکا تھا لیکن وہ اُسے چاہنے کی بھول نہیں کرنا چاہتا تھا وہ کسی بھی طرح خود کو روکنا چاہتا تھا اپنی دھڑکنوں کے بدلتے رخ کو سنبھالنا چاہتا تھا اُسے محبت سے شکایت نہیں تھی لیکن وہ روحی سے محبت نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن چاہنے سے سب کہاں ہوتا ہے
روحی نیند سے جاگ کر ادھر اُدھر دیکھنے لگی زار اُسے کہیں نظر نہیں آیا جہاں وہ کھڑا تھا وہ جگہ خالی تھی وہ فوراً اٹھ بیٹھی کافی دیر ہو چکی تھی
زار۔۔۔۔۔
وہ اُس جانب چلتی ہوئی دور تک نظریں گھمائیں اُسے ڈھونڈھ رہی تھی ساتھ اُسے پکار بھی رہی تھی لیکن وہ دور دور تک کہیں نظر نہیں آرہا تھا
زار کہاں ہو تم۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس جگہ کھڑی تھی جہاں پہلے وہ تھا لیکن وہ کہیں نظر نہیں آیا اچانک سے اُس کے چھوڑ کر جانے سے خیال روحی کو خوفزدہ کر گیا
زا ا اار ۔۔۔۔۔
وہ پوری طاقت سے چلائی تھی اور جنگل میں اُس کی آواز گم ہو گئی تھی وہ اِدھر ادھر بھٹکتی واپس اپنی جگہ پر آئی تھی اور بلند آواز میں رونے لگی تھی تب وہ اُس کے پیچھے سے نکل کر اُس کے سامنے آیا تھا روحی کی آواز حلق میں اٹک گئی تھی اور وہ اُسے حیرت سے دیکھتی فوراً اُس کے سینے سے لگ گئی تھی زار کسی مورت کی طرح اُسے طرح کھڑا رہا تھا
کہاں چلے گئے تھے تم۔۔۔۔۔۔۔
وہ روتی ہوئی اُس کی پشت پر اپنے ہاتھوں کی گرفت سخت سے سخت کرتی گئی
میں بہت ڈر گئی تھی زار۔۔۔۔۔۔پلیز مجھے کبھی اکیلا مت چھوڑنا
اُس کے انسوں زار کی شرٹ میں جذب ہورہے تھے اُس نے سے اٹھا کر زار کی جانب دیکھا زار اُسے سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا اُس کے دیکھتے ہے اجنبیت سے نظریں دوسری طرف کر لی وہ فوراً اُس سے الگ ہوئی اور اُسے دیکھنے لگی زار کے چہرے پر اپنے لیے بیزاری اور اُس کا نظریں پھر لینا روحی کو اندر تک زخمی کے گیا اور اُس کے دل میں یہی خیال آیا کہ اُس کے سینے سے لگنے کا زار نا بہت غلط مطلب لیا ہوگا جیسے وہ کچھ دیر پہلے بات کر رہا تھا
تم کہاں تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے بالوں کو کان کے پیچھے کرتی بولی
یہیں تھا۔۔۔۔۔۔
وہ بنا دیکھے مختصر بولا
میں کب سے پکار رہی تھی تمہیں۔۔۔
وہ اُس کے اس رویے سے بہت حیران ہوئی اُس کی بات اور اُس نظریں چُرانا روحی کو سیدھے دل پر لگا
میں نے نہیں سنا۔۔۔۔۔۔
وہ بے نیازی سے بولا اور اُس کے سامنے سے ہٹ گیا لیکن وہ اُسے طرح کھڑی رہی
موسم بدل رہا تھا شام ہونے سے پہلے ہی بادلوں نے روشنی کو چھپا کر اندھیرا بکھیر دیا تھا زار نے اُسی پیڑ سے تھوڑے فاصلے پر کچھ لکڑیاں اکٹھی کرکے رکھی اور آگ جلانے لگا وہ نا روحی کی جانب دیکھ رہا تھا نہ اُس سے کچھ بات کر رہا تھا جب کے روحی کی نظریں مسلسل اُس کے اوپر تھی وہ بمشکل اپنے انسوں روکے ہوئے تھی جب وہ اجنبی تھا تب بھی اتنا اجنبی نہیں لگا جتنا اس وقت لگ رہا تھا زار نے آگ جلا کر اُس کی جانب دیکھا اور اُسے خود کی جانب دیکھتے پا کر واپس منہ پھیر لیے اور آگ کے قریب ہاتھ کرتے ہوئے اُنھیں گرم کرنے لگا لیکن دھیان سارا کہیں اور تھا اسی لیے ہاتھ آگ کے قریب جاتے ہیں اُس کے منہ سے آہ نکلی روحی دوڑتی ہوئی اُس کے پاس آئی اور اُس کا ہاتھ پکڑا لیکن زار نے اگلے ہی پل ہاتھ کھینچ لیا
رہنے دو کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہوں میں
۔وہ اُسی انداز میں بولا جو پچھلے کچھ وقت سے اُس نے اپنایا ہوا تھا اور روحی بنا پلٹے پیچھے ہوتی گئی اُس کی آنکھ سے انسوں گرنے کے ساتھ آسمان سے بارش کی بوندیں گرنا شروع ہوئی تھی زار نے آسمان کی جانب دیکھا اور آس پاس نظر ڈالی تھوڑی دوری پر ایک بہت ہی گھنا درخت تھا جہاں بارش سے بچا جا سکتا تھا وہ بنا کچھ کہے روحی کا ہاتھ پکڑ کر تیزی سے چلتا ہوا اُس پیڑ کے نیچے آگیا اپنے بالوں کو رگڑتے ہوئے اُن سے پانی جھٹکنے لگا اور روحی کی جانب دیکھا ۔ اُس کا ہاتھ رک گیا اور وہ روحی کو دیکھے گیا وہ اُس کے بہت قریب کھڑا تھا اور اُس کے ہاتھ میں اب تک روحی کا ہاتھ تھا ایسا لگا جیسے روحی کے چہرے نے اس کی آنکھوں کو جکڑ لیا تھا روحی اس کی آنکھوں میں بہت غور سے دیکھ رہی تھی جو اس وقت ہر طرح سے اس کی بے رخی کو پیچھے چھوڑ کر محبت کا ثبوت دے رہی تھی آنکھوں سے اتر کر زار کی نظریں روحی کے گلابی لبوں پر رکی اور وہ بے ارادہ ہی اس کے اور قریب ہوتا گیا اس کا دل اُسے کوئی غلطی کرنے پر اکسا رہا تھا جس سے خود کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے اس نے فوراً آنکھیں بند کر لی روحی کا ہاتھ چھوڑ دیا اور رخ پھیر لیا وہ اس کی پشت کو دیکھتی رہ گئی پہلے کے مقابلے اس کا دل ہلکا تھا کیوں کہ اس بار اس کی آنکھیں میں اجنبیت نہیں بلکہ بے بسی دیکھی تھی
زار منہ سے سانس لیتے ہوئے اس سے منہ پھیرے کھڑا رہا لیکن پھر سر جھٹک کر کچھ اس طرح سے اس کی جانب پلٹا جیسے بھاڑ میں جائے سب۔۔۔۔۔۔اس کے قریب بڑھتے ہوئے اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر اس کے ہونٹوں سے ہونٹ لگا دیے روحی بے ساختہ پیچھے ہو کر پیڑ سے لگ جانے پر مجبور ہوئی زار نے ایک ہاتھ اس کی کمر کے گرد رکھتے ہوئے اتنی سختی سے پکڑا کے اُن کے درمیان میں ہوا گزرنے کی بھی جگہ نا بچے
بارش کی رفتار بہت دھیمی تھی لیکن جذبات کا طوفان بہت گہرا تھا جس میں وہ مدہوش ہو کر بہتی رہی زار کا ہاتھ روحی کی گردن سے کان تک جس شدت سے گردش کر رہا تھا اتنی ہی سختی سے اس کی انگلیاں کمر پر مضبوط ہوتی جا رہی تھی روحی نے دونوں ہاتھ اس کے گرد باندھ دیے ۔۔۔۔۔۔ ایک نا ٹوٹنے والا خواب اور دور تک چلتا جانے والا تسلسل تھا جو شاید بہت دور جا کر ٹوٹتا اگر اس خاموش ماحول میں ایک آواز اُسے اپنی جانب متوجہ نا کرتی وہ ایک دم سے رک کر اوپر دیکھنے لگا تھا اُسے یونہی خود سے لگائے درخت کے پتوں کے درمیان سے نظر آئے ہیلی کاپٹر پر اس کی نظریں تھی اور روحی کی اس کے چہرے پر اس کی آنکھوں پر اور اس کے سرخ ہوتے ہونٹوں پر ۔۔۔۔۔۔ زار نے اس کی جانب دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ روحی کی گردن اور اس کی کمر سے ہٹ کر نیچے گرے تھے وہ بے یقینی سے اُسے دیکھے جا رہا تھا جذبات میں آکر اس نے جو غلطی کی تھی اب اُسے شدّت سے اس کا احساس ہو رہا تھا وہ اپنے منہ پر سختی سے ہاتھ پھیرتے ہوئے پیچھے ہوتا چلا گیا اور اس سے بہت دور ہو گیا پلٹ کر گردن جھکائے پیشانی کو ہاتھ سے پکڑے سختی سے ہاتھ بالوں میں پھیرنے لگا دوبارہ روحی کی جانب دیکھا وہ اسی طرح کھڑی اُسے دیکھ رہی تھی اس نے نظریں چرا لیں دوبارہ ہیلی کاپٹر اس کے سر کے اوپر سے گزرا اس نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے خود کو سنبھالا اور اوپر دیکھتے ہوئے ہاتھ ہلایا لیکن اُن لوگو نے اُسے نہیں دیکھا اندھیرا ہو رہا تھا شاید اس لیے۔۔۔۔۔ زار نے فوراً جیب سے روحی کا موبائل نکال کر ٹارچ آن کی اور اس کی توقع کے مطابق اُن لوگوں نے اُسے دیکھ لیا اور ہیلی کاپٹر نیچے کرنے لگے زار نے دوبارہ روحی کی جانب دیکھا وہ سر جھکائے کھڑی تھی شاید اس کے رویے کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی جو محبت جتا کر اگلے پل بیگانہ ہو گیا تھا اس کی ہمت نہیں ہوئی کے وہ اُسے آواز دے یا اس سے نظریں بھی ملائے ہیلی کاپٹر نیچے آیا تو اس میں سے نکل کر ایک شخص باہر آیا زار نے اُسے روحی کو لانے کا اشارہ کیا اور خود اندر بیٹھ گیا