عشق محرم

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 12

“یہ والا کیسا ہے” پنک کلر کی ہیوی میکسی نکلوا کر اسنے آئرہ کے سامنے رکھوا کر اسکی راے پوچھی
انہیں اس مال میں آے پچاس منٹ ہوچکے تھے جس میں سے اسنے اب تک صرف ایک سوٹ لیا تھا جو شادی کے حساب سے تو بلکل نہیں تھا اسکا کہنا تھا یہ سوٹ وہ اپنی پیاری دوست پریشے کی برات میں پہنے گی
لیکن جس کام کے لیے عالم اسے لایا تھا وہ اسنے ابھی تک نہیں کیا تھا
“اچھا نہیں ہے” اسنے منہ بنایا
“تو کیا چاہیے اتنی دیر سے تم نے مجھے خوار کیا ہوا ہے” اسنے اپنے لہجے کو نارمل رکھتے ہوے کہا
“میری کیا غلطی ہے خود ہی نے کہا تھا نہ کہ چلو ولیمے کا ڈریس لینے چلو اب بندہ لے رہا ہے تو اچھے سے دیکھ کر ہی لے گا نہ” اسنے عالم کو گھورتے ہوے کہا جب نظر ایک سوٹ پر پڑی اسنے سیلز بواے سے وہ والا ڈریس نکالنے کے لیے کہا
“واؤ یہ کتنا پیارا ہے”وہ بےبی کی کلر کی میکسی تھی جو پر ستاروں کا کام ہورہا تھا وہ اتنی ہیوی نہیں تھی اور عالم کے مطابق ولیمے کے لحاظ سے بھی نہیں تھی لیکن اسکا دل تو اس میکسی پر آچکا تھا
“نہیں یہ ولیمے کے حساب سے نہیں ہے کوئی دوسرا دکھاؤ”اسنے سیلز بواے کو اشارہ کیا جو دوسرے ڈریسس لا کر اسکے سامنے رکھ رہا تھا
“یہ والا خوبصورت ہے”اسنے ایک سلور کلر کی بھاری کامدار فراک دیکھ کر کہا وہ سوٹ دکھنے میں ہی کافی بھاری لگ رہا تھا لیکن تھا وہ بےانہتا خوبصورت
“میں اتنے ہیوی ڈریس نہیں پہنتی” اسنے منہ بنا کرکہا اسکا موڈ ویسے بھی خراب ہوچکا تھا کیونکہ اسکی پسندیدہ چیز اسے نہیں دلائی تھی
“لیکن میں تو یہی لوں گا”
“تو پھر لے لو جب اپنی مرضی کرنی تھی تو مجھے ساتھ کیوں لاے”جگہ کا لحاظ کرتے ہوے وہ دبا دبا سا غرائی
“میں جارہی ہوں”
“کہاں جارہی ہو”
“میں نہیں بتانے کے میں فوڈ کورٹ جارہی ہوں” اسنے جاتے ہوے بتانا ضروری سمجھا کہ وہ کہاں جارہی ہے
تاکہ عالم کو اسے ڈھونڈ نے میں آسانی رہے کیونکہ اسکے ساتھ آئی تھی تو جانا بھی تو اسکے ساتھ ہی تھا نہ لیکن یہاں سے جاکر تھوڑے نخرے بھی دکھانے ہیں کیونکہ اسکا پسند کیا ہوا سوٹ چھوڑ کر عالم نے اپنی پسند کا سوٹ جو لے لیا ہے
اس وقت اسکے پاس پیسے بھی نہیں تھے جو خود وہ سوٹ خرید لیتی کیونکہ وہ تو یہاں عالم کے کیش پر عیش کرنے آئی تھی اسلیے اپنے بیگ میں جو اسنے کندھے سے گزار کر ڈالا ہوا تھا اس نے چند ہزار ہی رکھے ہوے تھے
عالم نے مسکراتے ہوے اسکی پشت کو دیکھا اور اپنی پسند کی ہوئی فراک کے ساتھ اسکی پسند کی ہوئی میکسی بھی لے لی
بھلا ایسا کیسے ہوسکتا تھا کہ عالم شاہ کی منگ کو کوئی چیز پسند آے اور عالم شاہ اسے نہ دلاے
اسے خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ لڑکی اس کے لیے کتنی عزیز ہوتی جارہی تھی ایسا لگ رہا تھا وہ دنیا کی کوئی بھی شے مانگتی تو عالم شاہ اسکے قدموں میں ڈھیر کردیتا
°°°°°
فوڈ کورٹ میں وہ اسے سامنے ہی کرسی پر بیٹھی شیک پیتی ہوئی نظر آچکی تھی
“چلیں” اسنے اسکے پاس جاکر کہا
“میں نے کچھ کھایا نہیں ہے اسنے اپنے چہرے کا رخ موڑ کر کہا یقینا اسے عالم کی شکل نہیں دیکھنی تھی
“اتنا منہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے لے لیا تھا تمہارا پسندیدہ سوٹ” اسنے شاپنگ بیگ اسکے سامنے رکھے
اسنے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا جیسے اسکی بات پر یقین نہ ہو پھر بیگ کے اندر جھانکا وہاں واقعی وہ میکسی تھی جو اسنے پسند کی تھی
“تم واقعی میں لے آے” اسنے خوشی سے تمتماتا چہرہ لیے اسے دیکھا
“میرے خیال سے اگر دکھ رہا ہے تو میں یقینا لے کر ہی آیا ہوں” اسنے طنزیہ کہا
“لیکن میں تھینک یو نہیں بولوں گی” اسنے ٹیبل پر رکھا اپنا ونیلا شیک اٹھایا اور اسے دوبارہ پینے لگی
“کھانا کیوں نہیں کھایا”
“اب اتنی بھی بے مروت نہیں ہوں تم میری وجہ سے ایک گھنٹے سے خوار ہوے ہو نہ تو میں نے سوچا تم آؤ تو ایک ساتھ آرڈر کرتے ہیں”
“اچھا تو پھر یہاں سے چلتے ہیں ویسے بھی یہاں پر میرے مطلب کا کھانا نہیں ملے گا” اسنے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوے کہا
“تمہارے مطلب کا کیا ہونا چاہیے”
“دیسی کھانا” اسکے کہنے پر آئرہ نے منہ بنا کر اسٹرہ اپنے لبوں سے لگائی
“گھر میں یہ سب کھاکر تمہارا من نہیں بھرا جو یہاں پر بھی یہی سب کھانا ہے”
“ہاں نہیں بھر اب چلو مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے اور زیادہ دیر ہوئی تو تمہیں ہی نہ کھا جاؤں” اسکی بات آئرہ نے سنی ہی نہیں تھی
°°°°°
“اللہ تعالیٰ پلیز یہ سب جھوٹ ہو عصیم لالا سے شادی کی بات صرف مذاق ہو کوئی آکر مجھ سے کہہ دے کسوا تمہیں بیوقوف بنایا ہے” نماز مکمل کرکے وہ اپنی دعا مانگ رہی تھی جب سے اسے اپنی اور عصیم کی شادی کا علم ہوا تھا تب سے اسکی ہر نماز کے بعد کی دعا یہی تھی
وہ بھلا کیسے اس سے شادی کرسکتی تھی وہ تو اسے اپنا بھائی مانتی تھی اور عصیم جیسا شخص تو کبھی بھی اسکا آئیڈیل نہیں تھا
اسے کبھی کبھی یہ سب صرف مذاق لگتا کیونکہ اسکا تو شادی کا سوٹ تک بھی نہیں آیا تھا اور اگر اسکی شادی ہوتی تو اسکا کچھ تو سامان ہوتا لیکن ایسا نہیں تھا ایسا کچھ نہیں تھا
جبکہ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ عصیم اسکا سارا سامان پہلے ہی لاچکا تھا اور اسکی شادی کی ساری تیاریاں تو کب سے مکمل تھیں
°°°°°
آج معتصم اور پریشے کا نکاح تھا شادی میں صرف برات اور ولیمے کی تقریب ہونی تھی آج ان دونوں کی برات تھی کل عصیم اور عالم کی اور پرسوں ان تینوں کا ولیمہ تھا
ہر طرف گہما گہمی مچی ہوئی تھی پورا ہال لوگوں سے بھرا ہوا لیکن پھر بھی ہر طرف خاموشی تھی صرف مولوی صاحب کے بولنے کی آواز آرہی تھی
“پریشے شاہ ولد ظفر شاہ آپ کا نکاح معتصم شاہ ولد یاور شاہ کے ساتھ پچاس لاکھ حق مہر سکہ رائج الوقت طے پایا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے”
اسنے پھولوں کے بنے پردے سے معتصم شاہ کو دیکھا جس نے بلیک کلر کا پرنس کوٹ پہنا ہوا تھا بال جیل سے جمے ہوے تھے اور کوٹ میں سونے کا بروچ لگایا ہوا تھا جبکہ نظریں خود کو دیکھتی پریشے پر تھیں
“میری ایک بات کان کھول کر سن لو تم اپنے اس کزن سے شادی نہیں کرو گی تم نے کرنی بھی چاہی تو میں ایسا ہونے نہیں دوں گا تو بہتر ہے پہلے ہی اس سب سے انکار کر دو” معتصم کا کہا گیا جملہ اسکے کان میں گونجا اسنے دھیرے سے خود کو کہتے ہوے سنا
“قبول ہے”
“کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے”
“آئیندہ اس شخص کا نام اپنی زبان پر مت لانا میری ہو تم صرف میری صرف معتصم شاہ کی” اسکے کانوں میں پھر معتصم کا کہا گیا جملہ گونجا
“قبول ہے”
“کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے”
“میں تم سے نکاح نہیں کروں گی”
“سوچ لو پہلے ہی تمہاری غلطی کی سزا یہ بھگت رہی ہیں میں اس سے آگے بھی بڑھ سکتا ہوں جس کا مجھے کوئی افسوس نہیں ہوگا تو بہتر ہے کہ میری بات مان لو” معتصم کی آواز پھر اسکے کانوں میں گونجی جس پر اسنے آنکھیں موند کر آہستہ سے کہا
“قبول ہے”
اسکے تیسری بار کہنے پر معتصم نے سکون سے اپنی آنکھیں موند لیں
وہ اسکے نکاح میں تھی اسکی ہی تھی لیکن آج وہ اسے پوری دنیا کے سامنے مکمل رسم و رواج کے ساتھ اپنا چکا تھا
کپکپاتے ہاتھوں سے اسنے سائن کردیے وہ پہلے ہی اس شخص کے نکاح میں تھی لیکن پہلے وہ اتنا نہیں ڈری تھی کیونکہ اسے یہ امید تھی کہ وہ اس رشتے سے آزاد ہوجاے گی لیکن اب یہ امید ختم ہوچکی تھی
اس وقت اسے سب سے زیادہ یاد جس کی آئی وہ اماں جان تھیں جو اس وقت اسکے اتنے اہم موقعے پر اسکے ساتھ نہیں تھیں اسکے پاس نہیں تھیں
نکاح ہوتے ہی ہر طرف مبارک باد کا شور مچ اٹھا
انکا نکاح ہونے کے بعد عینہ اور وصی کا نکاح ہوا تھا دلہن بنی عینہ نے اپنے سامنے موجود وصی کو دیکھا جو اب مکمل طور پر اسکا تھا سامنے بیٹھے شخص کے چہرے پر بےزاری تھی جیسے وہ یہاں زبردستی بیٹھا ہو لیکن عینہ کو اس بات سے فرق نہیں پڑنا تھا خدا نے اسکی پاک محبت کو اسکا محرم بنادیا تھا اور بہت جلد وہ اپنے محرم کے دل میں اپنے لیے جگہ بنالے گی یہ عہد اسنے خود سے کہا تھا
رسمیں ختم ہوتے ہی رخصتی کا شور اٹھا پہلے جہاں ماحول میں خوشی تھی اب وہیں آنسو بھی آچکے تھے
“وصی عینہ کا خیال رکھنا”اسنے وصی کے قریب کھڑے ہوکر کہا جس پر وصی نے دکھ سے اسے دیکھا کل تک اس لڑکی کو اسکی زندگی میں آنا تھا لیکن آج وہ کسی اور کے ساتھ رخصت ہوکر جارہی تھی
وہ نم آنکھوں سے اسے جب تک دیکھتا رہا جب تک وہ مکمل طور پر اسکی نظروں سے اوجھل نہیں ہوگئی
°°°°°
گھر آکر گھر کی خواتین نے کتنی ہی رسمیں کرلی تھیں تھکن سے اسکا برا حال تھا اوپر سے نیند بھی آرہی تھی لیکن جھجک ایسی تھی کہ وہ یہ بات کسی کو بول بھی نہیں سکتی تھی اور اس وقت اسے آئرہ بھی نہیں دکھ رہی تھی
جو اس سے ہی کچھ کہہ کر یہاں سے اٹھنے کا کہہ دیتی لیکن شاید اسکی یہ تھکن فارینہ بیگم دیکھ چکی تھیں اسلیے آئرہ کو بلا کر اسے کمرے میں چھوڑنے کے لیے کہا
“رک جاؤ بہو مجھے بھی تو اپنی بیٹی کو تحفہ دینا ہے” آئرہ جو اسے معتصم کے کمرے میں لے کر جارہی تھی دادا جان کے کہنے پر اسنے اسے واپس بٹھادیا
“یہ لو بیٹا” انہوں نے ایک سرخ مخمل کا بوکس اسکی طرف بڑھایا اسنے اپنی آنکھیں اٹھا کر سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھا دل چاہا انکے ہاتھ میں موجود اس بوکس کو لے کر پھینک دے لیکن وہ ان سب لوگوں کے بیچ میں کوئی تماشہ نہیں چاہتی تھی اسلیے خاموشی سے اس باکس کو تھام لیا جس میں سونے کا کافی بھاری سیٹ تھا
“یہ معتصم کی ماں کا تھا اسکا کچھ سامان معتصم نے رکھا تھا اور باقی کا اسکی نشانی کے لیے سب نے لیکن یہ میں نے اپنے پاس رکھا تھا کیونکہ یہ میرے معتصم کی دلہن کی امانت تھا خوش رہو خدا جوڑی بناے رکھے” انہوں نے مسکراتے ہوے اسکے سر پر ہاتھ رکھا اور آئرہ کو اسے کمرے میں لے جانے کے لیے کہا
°°°°°
نیند آنکھوں میں بھری پڑی تھی اپنا لہنگا سنبھالتی ہوئی وہ اپنے کمرے میں جارہی تھی جب کسی نے اسکی کلائی پکڑ کر اسے اپنی جناب کھینچا
جس کی وجہ سے وہ چوڑےسینے سے ٹکرائی اسنے نظریں اٹھا کر اپنے سامنے کھڑے عصیم کو دیکھا جس نے اس وقت بلیک کمیز شلوار پر بلیک کلر کا کوٹ پہنا ہوا تھا اور گھنی مونچھوں کو ہمیشہ کی طرح تاؤ دیا ہوا تھا
“میری کلائی چھوڑیں”
“مجھ سے بھاگ کیوں رہی ہو”
“میں تو نہیں بھاگ رہی” اسنے اسکے ہاتھ میں موجود اپنی کلائی چھڑانی چاہی اور اسکے ایسا کرتے ہی عصیم نے اسکی کلائی کو مزید سختی سے پکڑ لیا
“ناراض ہو مجھ سے”
“اگر میں کہوں ہاں تو آپ کیا کریں گے”
“میں تمہاری ناراضگی دور کروں گا بتاؤ کیا کروں”
“پلیز ش-شادی سے انکار کردیں عصیم لالا مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی ہے” اسکے کہنے پر عصیم نے جھٹکے سے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے قریب کیا اور اسکے اتنے قریب آنے پر کسوا کا سانس جیسے حلق میں اٹک چکا تھا اس وقت سب اپنے کمرے میں جاچکے تھی اسلیے کسی کا بھی یہاں پر آنے کا کوئی چانس نہیں تھا
“کسی کو پسند کرتی ہو تم”وہ اپنی سرخ آنکھیں اسکی آنکھوں میں ڈالے پوچھ رہا تھا جس پر اسنے جان بوجھ کر اپنا سر اثبات میں ہلادیا شاید یہ بات سن کر ہی عصیم شادی سے انکار کردے
“م-میں اسے پسند کرتی ہوں اسکا ن-نام ثوبان”
“چٹاخ” اسکے بات مکمل کرنے سے پہلے ہی عصیم کا بھاری ہاتھ اسکے نازک گال پر پڑا جس پر کسوا کی آنکھوں سے آنسو تیزی سے بہنے لگے وہ اپنی سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے غصے سے دیکھ رہا تھا جس سے کسوا کو خوف آرہا تھا اسنے پہلی بار عصیم کا یہ انداز دیکھا تھا
“اپنے کمرے میں جاؤ” اسے چھوڑ کر عصیم نے اسکے کمرے میں جانے کا اشارہ کیا یقینا وہ یہ باتیں نہیں سننا چاہتا تھا اسکے چہرے پر جہاں تھوڑی دیر پہلے مسکراہٹ تھی اب اس کی جگہ سنجیدگی نے لے لی تھی
“عصیم لالا پلیز”
“اپنے کمرے میں جاؤ اور کل نکاح سے پہلے مجھے اپنی شکل مت دکھانا” اسکے سخت لہجے کو دیکھ کر اسنے سہمی ہوئی نگاہوں سے اسے دیکھا اور وہاں سے بھاگ گئی
اسکے جانے کے بعد عصیم نے اپنے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر جیسے خود کو کرسکون کرنا چاہا لیکن غصہ تھا جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا
وہ جانتا تھا کہ کسوا کسی کو پسند نہیں کرتی اسکی زندگی میں کبھی ایسا کوئی آیا ہی نہیں تھا جسے وہ اس طرح دیکھتی
لیکن غصہ اسے اس بات پر تھا کہ اس شادی سے انکار کے لیے اسنے جھوٹ بولا اور اس سے زیادہ غصہ اس بات پر آرہا تھا کہ اسنے اپنی زبان سے کسی اور کا نام لیا
وہ تو اسکے خواب میں بھی اپنے علاؤہ کسی کو نہ آنے دے یہاں تو پھر وہ حقیقت میں کسی اور کا نام لے رہی تھی
اسنے اپنے ہاتھ کو دیکھا جو اسنے کسوا پر اٹھایا تھا خود کا ہاتھ اٹھانا اور کسوا کی نم آنکھیں یاد کرکے اب اسے خود پر بھی غصہ آرہا تھا وہ اسے کیسے تکلیف دے سکتا تھا
اسنے غصے سے اپنا ہاتھ دیوار میں مارا درد کی ایک لہر اٹھی لیکن وہ نظر انداز کیے اپنا ہاتھ دیوار پر جب تک مارتا رہا جب تک وہ اچھا خاصا زخمی نہیں ہوگیا
اسنے اپنے زخمی ہاتھ کو دیکھا اس میں تکلیف ہورہی تھی لیکن اسے یہ تکلیف اس تکلیف سے چھوٹی لگ رہی تھی جو اسنے اپنی کسوا کو دی تھی
°°°°°
اسنے پورے کمرے پر نظریں دوڑائیں وہ کمرہ کافی بڑا تھا شاید حویلی کا ہر کمرہ ہی اتنا بڑا تھا اور بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ کافی خوبصورت بھی تھا اور اسکی خوبصورتی میں اضافہ کمرے کی ڈیکوریشن نے کیا تھا پھولوں سے سجا کمرہ اور پورے کمرے میں پھولوں کی دلفریب خوشبوں
اسکا لہنگا اچھے سے بیڈ پر پھیلا کر آئرہ وہاں سے جانے لگی جب پریشے نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا
“کیا ہوا پری”
“تم کہاں جارہی ہو یہیں بیٹھو میرے پاس”
“تمہارا دماغ ٹھیک ہے پری معتصم لالا آنے والے ہوں گے”
“ہاں تو آنے دو مجھے فرق نہیں پڑتا تم یہاں بیٹھو ہم باتیں کریں گے نہ”
“پری ہم کل بات کریں گے ٹھیک ہے ابھی میں سونے جارہی ہوں اور ریلیکس ہوجاؤ کچھ نہیں ہوگا گڈ نائٹ” اسکا گال تھپتھپا کر آئرہ وہاں سے چلی گئی
°°°°°
کمرے سے نکلتے ہی اسنے اپنی چیخ روکی جو سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسکی نکلنے والی تھی
“تم یہاں کیا کررہے ہو”اسنے گھور کر عالم کو دیکھا
“کچھ نہیں بس تمہیں دیکھ رہا تھا پوری تقریب میں بجلیاں گراتی پھر رہی تھیں”اسکے کہنے پر آئرہ نے ضبط سے گہرا سانس لیا عالم نے اسکی تعریف کری تھی لیکن تعریف بھی اپنے طریقے سے کری تھی
“کیوں دیکھ رہے ہو تم مجھے”
“کیونکہ میں حق رکھتا ہوں تمہیں دیکھنے کا”
“کوئی حق نہیں رکھتے تم مجھ پر”
“رکھتا ہوں تم میری,,,”
“خبردار خبردار جو تم نے یہ م ن گ والا لفظ اپنی زبان سے نکالا مجھ سے برا واقعی کوئی نہیں ہوگا” اسکے کچھ کہنے سے پہلے ہی آئرہ ایک ہی جست میں اس تک پہنچ کر کہا انداز تنبیہہ کرنے والا تھا
“میں تو بولوں گا کیا بنا م ن گ ہاں اتنا تو مجھے پتہ ہے یہ منگ بنا اور اس میں کچھ غلط نہیں ہے تم میری”
“بے بے بے بے” زور سے چلاتی ہوئی وہ وہاں سے بھاگ گئی چلانے کا مقصد یہ تھا کہ عالم کی کہی بات اسے سنائی نہ دے
اسنے مڑ کر عالم کو دیکھا وہ اب چلا نہیں رہی تھی کیونکہ عالم شاہ بھی خاموش ہوچکا تھا اسلیے مطمئن ہوکر وہ وہاں سے جانے لگی
“تم میری منگ ہو” اسنے اتنی تیز آواز میں کہا تھا کہ تھوڑے فاصلے پر کھڑی آئرہ نے آرام سے اسکی بات سنی تھی لیکن پھر بنا مڑے وہ غصے سے وہاں سے چلی گئی
عالم شاہ نے مسکراتے ہوے اسے دیکھا اسکی مسکراہٹ جتنی گہری ہورہی تھی گال کا ڈمپل بھی اتنا ہی گہرا ہورہا تھا
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial