عشق محرم

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 15

کمرے میں داخل ہوتے ہی اسکی پہلی نظر بیڈ پر بیٹھی ہوئی سہمی سی کسوا پر گئی دل میں جیسے ڈھیروں سکون اتر گیا اس پل کا اسے کتنا انتظار تھا یہ بات وہ لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا تھا
اسکے پاس بیٹھنے کے بجاے وہ اپنے کپڑے لے کر واشروم میں چلا گیا کیونکہ اسے اس وقت اپنی اس شیروانی سے الجھن ہورہی تھی
“میں ان سے وقت مانگنے کا کہہ رہی ہوں اگر انہوں نے نہیں دیا تو میں کیا کروں گی میں ان کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں بنانا چاہتی میں انہیں بھائی سمجھتی ہوں”
“سب کو لگتا ہے کہ بولنے سے کوئی بھائی نہیں بن جاتا لیکن میں یہ بات کس کس کو سمجھاؤں کہ میں تو انہیں واقعی میں بھائی سمجھتی تھی میں نے کبھی انکے بارے میں اس طرح نہیں سوچا میرے لیے تو وہ میرے لالا ہیں پھر بھلا میں کیسے اس رشتے کو قبول کرسکتی ہوں” واشروم کے بند دروازے کو دیکھتی ہوئی وہ دل میں سوچ رہی تھی
وہ تیزی سے بیڈ سے اتری اور دروازے کی طرف بھاگنے لگی جب اسے اپنے پیچھے سے بھاری آواز آئی یقینا وہ واشروم سے نکل چکا تھا
°°°°°
“رکو”
اسنے مڑ کر عصیم کو دیکھا جو چلتا ہوا اسکے قریب آرہا تھا
“کہاں جارہی تھیں”
“و–وہ وہ میں اپنے کمرے میں جارہی تھی” اسکے کہنے پر عصیم نے بنا کوئی جواب دیے سائیڈ ٹیبل پر رکھا چھوٹا سا باکس اٹھایا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اس میں موجود بریسلیٹ اسے پہنانے لگا کسوا نے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا لیکن اسکی گرفت سخت تھی
“یہ تمہاری منہ دکھائی ہے” اسنے اسکے ہاتھ پر بریسلیٹ پہناتے ہوے کہا ڈائمنڈ کا بریسلیٹ اسکی نازک گوری کلائی پر بےحد پیارا لگ رہا تھا
عصیم نے جھک کر اسکے ہاتھ کی پشت پر اپنے لب رکھ دیے
“چھوڑیں میرا ہاتھ عصیم لالا”
“دماغ ٹھیک ہے تمہارا کیا بول رہی ہو”اسنے تھوڑی ہمت پیدا کرکے اسکے سامنے بولنا چاہا لیکن عصیم کی سخت آواز پر وہ ہمت اڑن چھو ہوچکی تھی
“مجھے اپنے کمرے میں جانا ہے”
“یہی تمہارا کمرہ ہے”
“نہیں مجھے اپنے اصلی والے کمرے میں جانا ہے” اسکی آواز رندھ چکی تھی
“کسوا یہی تمہارا اصلی کمرہ ہے”
“پلیز مجھے جانے دیں”
“تمہیں کیوں لگتا ہے کہ تمہیں جانے دوں گا اور وہ بھی آج کی رات”
“د-دیکھیں میرے لیے یہ سب بہت اچانک ہوا ہے پلیز مجھے تھوڑا وقت دے دیجیے”
“تمہارا وقت اب پورا ہوچکا ہے اور مجھ میں اتنا صبر نہیں ہے کہ میں تمہیں آج کی رات چھوڑ دوں میں نے اس وقت کا بہت انتظار کیا ہے اب تم سے دوری ممکن نہیں ہے” اسکے بالوں میں ہاتھ پھنسا کر وہ اسکے لبوں پر جھک گیا
کسوا نے اپنے ہاتھ اسکے سینے پر مار کر اسے خود سے دور کرنا چاہا لیکن سامنے والے کو جیسے کوئی فرق ہی نہیں پڑا تھا
وہ اسکے لبوں کو قید کرکے جیسے آزاد کرنا بھول چکا تھا اس وقت اسے کسوا کی رکتی سانسوں کی پرواہ بھی نہیں تھی وہ اسکے رحم و کرم پر کھڑی تھی ورنہ اب تک وہ زمین بوس ہوچکی ہوتی
اس میں اتنی ہمت بھی نہیں بچی تھی کہ ہاتھ پیر چلا کر اسے خود سے دور ہی کر دیتی اسے لگ رہا تھا جیسے اسکا سانس رکنے والا ہو اور شاید اسی بات کا خیال کرکے عصیم نے اسکے لبوں کو آزاد کیا اور وہ اسی کے سینے پر سر رکھ کر لمبے لمبے سانس لینے لگی
“میری جان ایک کس سے تمہارا یہ حال ہوگیا مجھے کیسے جھیلو گی” اسنے جھٹکے سے اسے اپنی بانہوں میں اٹھایا اور اپنے قدم بیڈ کی جانب بڑھا دیے جب کے اسے بیڈ کی طرف جاتے دیکھ کر وہ گھبرائی ہوئی لڑکی مزید گھبرا چکی تھی
“د-دیکھیں پ–پلیز مجھے نیچے اتاریں میری بات سنیں” اسنے کچھ کہنا چاہا لیکن عصیم نے پھر سے اسکے لبوں کو قید کرلیا لیکن اس بار جلد ہی انہیں آزاد کرکے اسکی گردن پر جھک گیا
اسکی بڑھتی گستاخیاں کسوا کا حلق تک خشک کر چکی تھیں اسے اس وقت اسکی بانہوں میں اپنا آپ بہت بےبس لگ رہا تھا اسکی آنکھوں سے آنسو گررہے تھے
“پ–پلیز چھوڑیں مجھے آپ جو بولیں گے کروں گی پڑھائی بھی کرلوں گی لیکن ابھی مجھے چھوڑ دیں پلیز ع-عصیم لا”اسکے لفظ مکمل کرنے سے پہلے ہی عصیم جو اسکی گردن پر جھکا ہوا تھا دوبارہ اسکے لبوں پر جھک گیا
یقینا آج اسکا کسوا کو چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اسکے سینے پر ہاتھ مار کر کسوا نے اسے خود سے دور کیا اور اپنا رخ موڑ لیا
جب اسے اپنے گردن پر عصیم کا لمس محسوس ہوا وہ جھٹکے سے سیدھی ہوئی اور اسے خود پر سے ہٹانا چاہا لیکن عصیم اسکے دونوں ہاتھ بیڈ سے لگا کر اسے ہر طرح سے اپنا بناگیا
°°°°°
اسے واشروم کی طرف جاتے دیکھ کر عالم نے فورا اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی جانب کھینچا اور آنکھیں چھوٹی کرکے اسے گھورنے لگا
“کہاں جارہی تھیں”
“مجھے نیند آرہی ہے چینج کرنے جارہی تھیں”
“اتنی معصوم تو تم ہو ہی نہیں جو تمہیں کچھ پتہ نہ ہو میرے آنے سے پہلے چینج کرنے کیوں جارہی تھیں” اسکے گال کو اپنے ہاتھ کی پشت سے سہلاتے ہوے اسنے نرمی سے کہا جبکہ آئرہ تو بس اسکی لو دیتی نظروں سے دور جانا چاہتی تھی
“د-دیکھو مجھ سے نہ تم دور ہی رہو”
“آج کی رات تو دوری ناممکن ہے”
“تم میرے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتے” اپنے ہاتھ زبردستی چھڑا کر وہ اپنے کپڑے اٹھانے لگی جو عالم کے اسکا ہاتھ کھینچنے کی وجہ سے زمین پر گر چکے تھے
اسکے ہاتھ چھڑانے پر عالم نے گھور کر اسے دیکھا یقینا اسکی یہ والی حرکت اسے پسند نہیں آئی تھی
“یہاں آؤ” اسکی بات جیسے آئرہ نے سنی ہی نہیں تھی اپنے کپڑے اٹھا کر وہ واشروم میں جانے لگی اور اسکی یہ حرکت عالم کو مزید تیز دلا چکی تھی
اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اسے اپنی بانہوں میں اٹھایا اور لے جا کر بیڈ پر پٹھخ دیا اور اس کے اوپر جھک گیا یہ سب اتنی اچانک ہوا تھا کہ اسے کچھ سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا
“یہ ک-کیا کر-رہے ہو تم ہٹو میرے اوپر سے”اسنے گھبرا کر اسے خود کے اوپر سے ہٹانا چاہا لیکن وہ بنا کچھ کہے اسکے نازک لبوں پر جھک گیا
جب سے وہ اس سے ملی تھی اسنے ہمیشہ اس کے سے نظریں چرائیں تھیں کیونکہ تب وہ اس پر کوئی حق نہیں رکھتا تھا لیکن اب وہ اسکی ملکیت تھی اور عالم کا اسے چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا
اسکے کندھے پر مکے برسا کر اسنے عالم کو دور کرنا چاہا جو شاید آج اسکی سانس ہی روک دینا چاہتا تھا
اسکے لبوں کو آزادی بخشی کر وہ اسکی گردن اور بیوٹی بون پر کس کرنے لگا
“د-دیکھو پلیز دور رہو مجھ سے پلیز چھوڑو م—مجھے” اسنے اپنے ہاتھوں کی مدد سے اسے دور کرنا چاہا لیکن وہ اسکے دونوں ہاتھ اپنے ایک ہاتھ میں قید کرکے دوسرے سے اسکی ڈوریاں کھولنے لگا جس سے آئرہ کی جان لبوں پر آچکی تھی
آج عالم اپنے ہر انداز سے اسے ڈرا رہا تھا اسکا اپنے کام سے پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں لگ رہا تھا
اسلیے آئرہ نے آخری حربہ وہی آزمایا جو ہر لڑکی کرتی ہے
“رونا بند کرو” اسکے تیز تیز رونے پر عالم نے اسکے منہ پر اپنا بھاری مظبوط ہاتھ رکھ دیا
“یہ کیا حرکت ہے” اسکے رونے میں کمی دیکھ کر عالم نے اسکے لبوں سے اپنا ہاتھ ہٹا کر اسے گھورتے ہوے کہا
“ہاں تو تم میرے ساتھ زبردستی کررہے ہو میں ابھی اس سب کے لیے راضی نہیں ہوں” وہ روتے ہوے کہہ رہی جبکہ عالم تو حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا وہ پہلی بار اسکا یہ انداز دیکھ رہا تھا گہرا سانس لے کر عالم نے اسے چھوڑ دیا جذبات چاہے کتنے ہی بے قابو ہوتے وہ اسکے ساتھ کسی طرح کی زبردستی نہیں کرنا چاہتا تھا
“جاؤ یہاں سے” اسکے کہنے پر وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھ کر واشروم میں بھاگ گئی جبکہ عالم تو بس اسکی بھاگنے کی اسپیڈ دیکھتا رہ گیا
“دل کے ارمان آئرہ کے آنسوؤں میں بہہ گئے” اسنے بڑبڑاتے ہوے کہا اور کمرے سے باہر چلا گیا کیونکہ یہاں رک کر اپنی بیوی کو مزے سے سوتے ہوے دیکھنا اسکے بس میں نہیں تھا
°°°°°
بظاہر تو وہ لیپ ٹاپ پر کام کررہا تھا لیکن نظریں بار بار بیڈ پر سوئی ہوئی اپنی بیوی کی طرف جارہی تھیں جو مزے سے سورہی تھی لیکن اسکے جذبات جگارہی تھی
لیپ ٹاپ سائیڈ میں رکھ کر وہ اپنے کمرے سے باہر نکل آیا کیونکہ نظریں بھٹک بھٹک کر اس دشمن جان پر جارہی تھیں جو اسکی نیندیں اڑا کر خود مزے سے سورہی تھی
کمرے سے نکلتے ہی اسکی نظر سامنے بنے اپنے کمرے سے نکلتے عالم پر پڑی اسنے اچھنبے سے اسے دیکھا
“تو یہاں کیا کررہا ہے” اسنے عالم کے قریب جاکر کہا
“وہی جو تو کررہا ہے”
“اچھا تو پھر آجا دونوں نیچے چل کر اپنا دکھ بانٹتے ہیں” ان دونوں نے ایک دوسرے کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور نیچے لان میں جانے لگے جب معتصم نے مڑ کر عصیم کے کمرے کی طرف دیکھا
“کیا دیکھ رہا ہے” عالم نے اسے دیکھتے ہوے پوچھا
“دیکھ رہا ہوں کیا پتہ اسکا دروازہ بھی کھل جاے”
“یہ نہیں کھلے گا تو آجا میرے ساتھ” اسے کے کر وہ نیچے چلا گیا جبکہ معتصم نے ایک بار پھر مڑ کر دیکھا جہاں اسکا دروازہ بند ہی پڑا تھا
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial