عشق محرم

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 16

نیند سے بھری آنکھیں کھول کر اسنے اپنی اس جگہ کو دیکھا جہاں وہ سویا ہوا تھا
ٹانگیں زمیں پر پھیلائے وہ صوفے پر سورہا تھا اسکے سامنے رکھی ٹیبل پر کچھ کاغذ اور فائل رکھی ہوئی تھیں
اسے یاد تھا کمرے میں آنے کے بعد وہ زمینوں کا حساب کرنے بیٹھ گیا تھا اور وہیں بیٹھے بیٹھے اسکی آنکھ لگ گئی اور آج اسکی فجر بھی قضا ہوچکی تھی
اپنی آنکھیں مسلتے ہوے اسنے بیڈ پر سوئی ہوئی آئرہ کو دیکھا
“زرا سا بھی خیال نہیں ہے اس لڑکی کو شوہر یہاں بےآرام سورہا تھا اور خود مزے سے پورے بیڈ پر پھیل کر سورہی ہے” بڑبڑاتے ہوے وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور الماری سے اپنے کپڑے نکالنے لگا کیونکہ ناشتے کا وقت ہونے ہی والا تھا
لیکن پھر اسنے مڑ کر بے خبر سوئی ہوئی آئرہ کو دیکھا اور اسکے سر پر جاکر کھڑا ہوگیا
“آئرہ اٹھو” اسکا کندھا ہلکے سے تھپتھپا کر اسنے اسے اٹھایا لیکن وہ ہنوز اسی حالت میں لیٹی رہی
“اٹھو” اس بار اسنے تھوڑا سختی سے کام کیا جس کی وجہ سے کسمسا کر اسنے دوسری طرف کروٹ لی البتہ نیند سے وہ ابھی تک بیدار نہیں ہوئی تھی لیکن اس بار اسنے اسے اٹھانے کی کوشش نہیں کی تھی بلکہ اپنا چہرہ اسکی گردن پر رکھ کر اپنی داڑھی رگڑنے لگا
اپنی گردن پر چھبن محسوس کرکے آئرہ نے کوفت سے اپنی نیند سے بھری آنکھیں کھولیں لیکن اسے اپنی گردن پر جھکا دیکھ کر وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی نیند ساری اڑ چکی تھی
“یہ تم کیا کررہے تھے”
“تمہیں جگانے کی کوشش اٹھو اور میرے کپڑے نکالو”
“میں کیوں نکالوں”
“کیونکہ تم میری بیوی ہو”
“جب میں نہیں تھی جب بھی تو خود نکالتے تھے اب بھی نکال لو”
“وہ اس لیے کیونکہ جب تم میرے پاس نہیں تھیں چلو اب اٹھو” اسکا ہاتھ پکڑ کر اسنے اسے بیڈ سے اتارا
“میرے کپڑے نکالو مجھے نہانا ہے ناشتے کا وقت ہونے والا ہے” آئرہ نے گھڑی کی طرف دیکھا جو سات بجارہی تھی
“پتہ نہیں یہ حویلی والے اتنی جلدی ناشتہ کیوں کرتے ہیں” بڑبڑاتے ہوے اسنے جلدی سے اسکی الماری کھولی تاکہ کپڑے نکال کر واپس سوجاے
“یہ مت سوچنا کہ تم واپس سوؤگی تم بھی میرے ساتھ نیچے چلو گی ہم ساتھ جائینگے” اس نے فقط ایک نظر گھور کر اسے دیکھا اور اسکے کپڑے آگے پیچھے کرکے دیکھنے لگی اسکی پوری الماری ہیں صرف شلوار کمیز موجود تھے جن میں بھی آدھے سے زیادہ سفید رنگ کے تھے
“تمہارے پاس کوئی اور پکڑے ہیں بس یہی پہنتے ہو”
“ہاں کیونکہ میں اس میں خود کو آرام دہ محسوس کرتا ہوں پتہ نہیں معتصم اور عصیم کیسے جینز وغیرہ پہن لیتے ہیں”اسکی بات پر وہ نفی میں سر ہلاتی ہوئی اسکی بھورے رنگ کی شلوار کمیز نکالنے لگی
لیکن عالم نے وہ ہینگ کیا ہوا سوٹ واپس رکھ کر سفید رنگ کی کمیز شلوار اٹھالی
“مجھے یہ رنگ پسند ہے آئیندہ اسی رنگ کا نکالنا”
“جب خود ہی نکالنا تھا تو مجھے کیوں اٹھایا”اسنے اسنے دیکھتے ہوے میں کہا
“میں تمہیں بتارہا ہوں یہ میرا پسندیدہ رنگ ہے تو تم میرے لیے یہی رنگ نکالا کرو”
“ہاں یہ ٹھیک ہے اور تمہارے پاس شال ہے نہ تو کوئی گرین کلر کی شال لے لینا اور باہر لان میں جاکر دل پر ہاتھ رکھ کر کرنا دل دل پاکستان” وہ باقاعدہ اسے کرکے بتارہی تھی کہ باہر لان میں جاکر اسے کس طرح سے گانا گانا ہے
“بہت ہی مزاحیہ بات بولی تم نے میرا تو ہنس ہنس کر برا حال ہے” عالم نے اسے گھورتے ہوے کہا جس پر اپنے کندھے اچکا کر اسنے اسکا نکالا ہوا سوٹ واپس رکھ کر وہی بھورے رنگ کی شلوار کمیز نکال لی
“تم یہی پہنو گے”
“ٹھیک ہے میں یہی پہن لیتا ہوں لیکن پھر تم بھی میری مرضی کا پہنو گی “اسکے کہنے پر آئرہ نے بھنویں آچکا کر اسے دیکھا
“میں کیوں پہنو گی”
“کیونکہ میں تمہاری مرضی کا پہن رہا ہوں”
“تم نے میری”آئرہ نے اسے کچھ کہنا چاہا لیکن وہ دونوں کے بیچ کا فاصلہ جو چند قدم کا تھا مٹاتے ہوے اسکے قریب آگیا
“میری ایک بات کان کھول کر سن کو آج کے بعد تم مجھے آپ کہہ کر بلاؤ گی”
“میں جب سے تم سے ملی ہوں نہ تو تمہیں تم ہی کہہ کر بلارہی ہوں”
“وہ اس لیے کیونکہ جب تم میری بیوی نہیں تھیں لیکن اب ہو مجھے یہ بات بلکل اچھی نہیں لگ رہی کہ میری بیوی مجھے تم بلاے”
“میں تو بلاؤں گی تم تم تم”
“آئرہ تم مجھے غصہ دلا رہی ہو”
“تم تم ت”اسکے دوبارہ وہی بات کہنے پر عالم نے اسکی پشت کو آلماری سے لگایا اور بےدردی سے اسکے لبوں پر جھک گیا
آئرہ نے سختی سے اسکی کمیز کو اپنی مٹھیوں میں دبوچ لیا کچھ دیر بعد جب اسے آزاد ملی تو اسے اپنے ہونٹوں پر جلن کا احساس ہوا
اسنے ہاتھ لگا کر اپنے ہونٹوں کو چھوا جہاں اسکی انگلیوں پر خون کی بوند لگ چکی تھی
عالم نے مسکراتے ہوے اسکے لبوں پر اپنا انگھوٹھا پھیر کر خون صاف کیا اور اپنا چہرہ اسکے بےانہتا قریب کرلیا
دونوں کی سانسیں ایک دوسرے کے چہرے پر پڑرہی تھیں
“تو تم کیسے مخاطب کروگی”
“آ–آپ بول کر”
“لیکن اسکا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے میں تمہارے ان نازک لبوں کو بخش دونگا” کہتے ساتھ ہی وہ دوبارہ اسکے لبوں پر جھک گیا
دروازے پر دستک ہونے کی وجہ سے وہ بدمزاح ہوکر پیچھے ہٹا
“کون ہے”
“شاہ سائیں میں ہوں وہ بڑے شاہ سائیں نے کہا کہ آپ سب کو ناشتے کے لیے بلاؤں آج ولیمہ ہے نہ تو آپ سب کو جگا دوں”اسکی تیز آواز سنتے ہی باہر کھڑی ملازمہ جلدی جلدی اپنی بات مکمل کرنے لگی
“آپ جائیں ہم آرہے ہیں” اسنے گہرا سانس لے کر کہا اور ایک نظر آئرہ کے جھکے سر کو دیکھ کر وہاں سے چلا گیا
اسکے جانے کے بعد آئرہ نے دل ہی دل میں اس ملازمہ کو ڈھیروں دعائیں دی
°°°°°
نیند میں اسے اپنے اوپر کسی چیز کا وزن محسوس ہورہا تھا اسنے اپنی نیند سے بھری آنکھیں کھول کر دیکھا جہاں اسکے سینے پر معتصم کا بھاری ہاتھ رکھا ہوا تھا
اسنے جھٹکے سے اسکا ہاتھ اپنے اوپر سے ہٹایا جس کی وجہ سے وہ کسمسا کر کروٹ بدل کر سوگیا
اسے گھور کر وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور واشروم میں چلی گئی کیونکہ اسے پتہ تھا کہ سب حویلی والے اس وقت اٹھ چکے ہوتے ہیں
شاور لے کر وہ باہر نکلی جب دروازے پر دستک ہوئی اسنے جاکر کمرے کا دروازہ کھولا جہاں ملازمہ کھڑی تھی
“بیگم صاحبہ بڑے شاہ سائیں نے کہا ہے آپ لوگوں کو جگادوں آج ولیمہ ہے نہ”
“جی آپ جائیے ہم آرہے ہیں” اسے بھیج کر اسنے واپس دروازہ بند کردیا اور ایک نظر سوتے ہوے معتصم جو دیکھا
“اب انہیں کیسے اٹھاؤں” خود سے بڑبڑاتے ہوے وہ اسکے قریب گئی
“سنو” اسکا کندھا ہلکے سے تھپتپاتے ہوے اسنے اسے اٹھانے کی ناکام کوشش کی وہ ہنوز لیٹا رہا
جب پریشے کی نظر سائیڈ ٹیبل پر رکھے پانی کے جگ پر گئی اسنے اٹھا کر وہ جگ پورا کا پورا اسکے اوپر ڈال دیا جس سے وہ ہڑبڑا کر اٹھا
“یہ کیا حرکت ہے”
“تم اٹھ نہیں رہے تھے میں نے تو بس اٹھایا ہے” اسنے معصومیت سے کہا جسے دیکھ کر معتصم کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر جھٹکے سے اسے اپنی جانب کھینچا
“تمہیں شوہر کو اٹھانے کا طریقہ نہیں آتا سکھانا پڑے گا”
“مجھے کچھ نہیں سیکھنا” پریشے نے اس سے دور ہونا چاہا کیونکہ اسکے بال جو گیلے ہوچکے تھے ان سے پانی ٹپک رہا تھا اور اسکے چہرے اور کپڑوں پر گررہا تھا جبکہ تین گیلی لٹیں ماتھے پر جھول رہی تھیں
“لیکن میں تو سیکھانا چاہتا ہوں”
“فلحال تم جاکر اپنے کپڑے بدل لو دیکھو معتصم تم مجھے بھی گیلا کررہے ہو” اسکے کہنے پر معتصم اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھ کر اس سے دور ہوگیا
°°°°°
بیس منٹ پہلے اسکی آنکھ لگی تھی لیکن اسے مسلسل کسی کے رونے کی آواز آرہی تھی پہلے تو وہ اگنور کرتا گیا لیکن جب وہ آواز مسلسل آتی رہی تو اسنے نظریں اپنے بیڈروم میں دوڑائیں
جہاں وہ صوفے پر سہمی ہوئی بیٹھی اپنا سر گھٹنوں میں دیے رونے میں مصروف تھی اسنے اس وقت عصیم کی ہی شرٹ پہنی ہوئی تھی
غصے سے وہ بیڈ سے اتر اور اسکے دونوں بازو پکڑ کر اسے اپنے سامنے کھڑا کیا
“کس بات کا سوگ منا رہی ہو”
“آ—آپ نے ٹھیک ن-نہیں کیا میرے ساتھ”
“کیا غلط کیا ہے میں نے حلال ہو تم مجھ پر بیوی ہو میری میں نے کچھ غلط نہیں کیا میں نے اپنا حق لیا ہے” اسکی لہجے میں جتنی سختی تھی انداز میں بھی اتنی ہی سختی تھی اسکی اتنی سخت گرفت سے کسوا کو لگ رہا تھا کہ اسکا بازو ٹوٹ جاے گا
“چ–چھوڑیں مجھے عصیم لال”
“کچھ الٹا سیدھا کہہ کر مجھے مزید غصہ مت دلانا لگتا ہے رات کو میں نے تمہیں ٹھیک سے بتایا نہیں کہ میں تمہارا لالا نہیں ہوں پھر سے بتانا پڑے گا”
“ن–نہیں نہیں پلیز چھوڑیں مجھے” اسکی مزاحمت کو نظر انداز کرکے عصیم نے اسے بیڈ پر دھکا دیا اور اسکے اوپر جھک کر اسکی گردن پر اپنا لمس چھوڑنے لگا
“پلیز دور ہٹیں” کسوا نے روتے ہوے اسے خود سے دور کرنا چاہا لیکن وہ اپنے کام میں مگن رہا
اسکے کندھے سے شرٹ سرکا کر اس نے وہاں پر اپنے لب رکھ دیے جب دروازے پر دستک ہوئی جسے پہلے تو اسنے نظر انداز کیا لیکن دوبارہ دستک ہونے پر اسنے غصے سے دروازے کو گھورا
“کیا مسلہ ہے”
“شاہ سائیں وہ بڑے سائیں نے کہا کہ آپ لوگوں کو جگادوں”
“جاؤ تم ہم آرہے ہیں” اسنے اپنا چہرہ موڑ کر دوبارہ کسوا کو دیکھا جس نے اپنی آنکھیں زور سے میچی ہوئی تھی
“ابھی چھوڑ رہا ہوں بعد کے لیے تیار رہنا” ہلکے سے اسکے لبوں کو جھک کر وہ اسکے اوپر سے ہٹ گیا اور اسکے ایسا کرتے ہی وہ سیدھی واشروم میں بھاگ گئی
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial