عشق محرم

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 19

“خیال رکھنا اسکا اور خبردار جو تم نے اسے ڈانٹا” عماد صاحب نے تھوڑے فاصلے پر کھڑی اپنی بہو کو دیکھتے ہوے بیٹے سے کہا
انکی فلائٹ کا ٹائم ہونے میں ابھی وقت باقی تھا لیکن ائیرپورٹ وقت سے پہنچ جائیں اسلیے وہ جلدی نکل رہے تھے
اس وقت بھی سب گھر والے ان سے مل کر انہیں رخصت کررہے تھے
“بابا سائیں آپ کو یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں ہے”
“مجھے سمجھ نہیں آرہا عصیم کیا ثقلین لالا نے کسوا کے ساتھ کوئی زبردستی کی ہے جب سے شادی ہوئی ہے وہ اتنی خاموش رہنے لگی ہے ہمیں کہاں عادت ہے اسکی خاموشی کی”
“فکر مت کریں بابا سائیں جب واپس لے کر آؤں گا نہ تو آپ کو وہی پرانی کسوا ملے گی” ان سے گلے مل کر اسنے کسوا کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے کر باہر نکل گیا انکا سامان ملازم پہلے ہی گاڑی میں رکھ چکے تھے
°°°°°
آنکھیں بند کرکے وہ گہرے گہرے سانس لینے لگی پلین میں یہ اسکا پہلا سفر تھا شوق تو اسے پلین میں بیٹھنے کا ہمیشہ سے تھا لیکن آج جب یہ شوق پورا ہورہا تھا تو بےحد ڈر لگ رہا تھا
عصیم فرصت سے اپنی ڈری ہوئی بیوی کو دیکھ رہا تھا اسے پتا تھا کے کسوا اپنے پلین کے اس پہلے سفر میں ضرور ڈرے گی
لیکن اتنا گھبرائے گی یہ اسے نہیں پتہ تھا اسکے اتنے گھبرانے کی وجہ معتصم تھا جس نے اسے مذاق میں یہ بات کہہ دی تھی کے کسوا دھیان سے بیٹھنا ابھی ہی میں پلین کریش کی خبر پڑھ کر آیا ہوں
اسکی مذاق میں کہی یہ بات کسوا اپنے حواسوں پر سوار کر چکی تھی
عصیم نے ٹیشو سے اسکی پیشانی پر موجود پسینے کے قطرے صاف کیے جس سے کسوا نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا
عصیم نے نرمی سے اسکا سر اپنے کندھے پر رکھ کر اسے اپنے حصار میں لے لیا
“ڈرنے کی کیا ضرورت ہے میں ساتھ ہوں نہ کچھ نہیں ہوگا” اسنے اسکا کندھا سہلاتے ہوے اسے پرسکون کرنا چاہا جو کے وہ ہو بھی چکی تھی
جب ہی تو تھوڑی دیر میں ہی وہ عصیم کے کندھے پر سر رکھے رکھے سوچکی تھی
°°°°°
فلائٹ لینڈ ہوتے ہی اسنے کسوا کو نیند سے جگایا وہاں پر انہیں ڈرائیور مل چکا تھا جو انکا ہی انتظار کررہا تھا
ان کے پاس آتے ہی ڈرائیور نے انہیں سلام کیا
İslam ve selam üzeriniz(اسلام وعلیکم)
Ve aleyküm sslam(وعلیکم اسلام)
انکا سامان گاڑی میں رکھ کر ڈرائیور نے انکے لیے دروازہ کھولا
“آپ کو ترکی کی زبان آتی ہے” گاڑی میں بیٹھتے ہی اسنے حیرت سے کہا
“ہلکی پھلکی تم سیکھو گی” اسکے کہنے پر کسوا نے منہ بنا کر اپنا سر نفی میں ہلایا جس پر اسنے مسکراتے ہوے اسے اپنے ساتھ لگالیا
گاڑی ایک خوبصورت سے گھر کے آگے رکی ڈرائیور نے جلدی سے گاڑی سے اتر کر انکے لیے دروازہ کھولا
“یہ کونسا شہر ہے”
“انطالیہ”
اسے لے کر وہ گھر میں داخل ہوگیا
“یہ کس کا ہے”اسکا اشارہ گھر کی طرف تھا
“میرا تمہارا ہمار” پیار بھرے لہجے میں کہہ کر وہ ڈرائیور سے ترکش میں کچھ پوچھنے لگا
جبکہ کسوا ہر طرف نظریں دوڑا کر اس چھوٹے لیکن خوبصورت گھر کو دیکھ رہی تھی
اندر بھی ہر چیز بڑی نفاست سے رکھی ہوئی تھی جبکہ باہر جو چھوٹا سا لان بنا ہوا تھا وہ بھی بےحد پیارا اور صاف ستھرا تھا
یہ گھر عصیم کا تھا یہ بات اسکے لیے حیرت والی نہیں تھی معتصم اور عصیم بزنس کے سلسلے میں کافی جگہوں پر جاتے ہیں
اسلیے جس جگہ انکا جانا زیادہ ہوتا تھا وہاں ان کا کوئی نہ کوئی گھر موجود تھا
“یہ کافی صاف ستھرا ہے” اسکے قریب آتے ہی کسوا نے کہا
“ہاں زارا نے اسکی صفائی کردی تھی”
“کون زارا”
“سرفراز کی بیوی”اسنے ڈرائیور کی طرف اشارہ کیا
“زارا اور سرفراز میرے دوست تاشفین کے پاس کام کرتے ہیں وہ یہیں رہتا ہے تو جب میں نے اسے ہمارے یہاں آنے کی خبر دی تو اسنے یہاں کی صفائی کروادی وہ ویسے بھی ہر مہینے یہاں کی صفائی کروادیتا ہے ابھی وہ یورپ گیا ہوا ہے ورنہ ہمیں لینے کے لیے وہی آتا”
“میں نے کچن کا سارا سامان پہلے ہی وہاں پر سیٹ کروادیا تھا تو تمہیں کچھ کھانا ہو تو کھا سکتی ہو زارا نے کھانا بھی بنادیا تھا بھوک لگے تو کھا لینا مجھے ضروری کام سے جانا ہے” اسکے ماتھے پر پیار کرکے وہ وہاں سے جانے لگا جب کسوا نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا
“آپ مجھے چھوڑ کر جارہے ہیں”
“میری جان ضروری کام ہے جلد ہی واپس آجاؤں گا کھانا کھا لینا اور اپنا خیال رکھنا” اسکا گال تھپتھپا کر وہ وہاں سے چلا گیا
جبکہ وہ جو پہلے اطمینان سے کھڑی تھی اب وہی اطمینان ڈر میں تبدیل ہوچکا تھا وہ کہاں کبھی اکیلی رہی تھی چاہے کچھ گھنٹوں کے لیے ہی سہی لیکن وہ کبھی اکیلی نہیں رہی تھی
اسنے پہلے ہی عصیم کو فون پر بات کرتے ہوے سن لیا تھا کے وہ یہاں اپنی میٹنگ کے لیے آیا تھا اور اسے پتہ تھا کے اس وقت وہ اپنی میٹنگ ہی اٹینڈ کرنے گیا ہوگا
°°°°°
فریج میں پلاؤ بنا رکھا ہوا تھا اسنے نکال کر اسے گرم کرکے کھالیا وہ کافی مزے کا بنا تھا
عصیم کو گئے ہوے کافی وقت ہوچکا تھا رات ہوچکی تھی اور باہر موسم کسی بھی وقت برسات شروع کرنے والا تھا
جو اسکے ڈر میں اضافہ کررہا تھا بجلی زور زور سے کڑک رہی تھی جس سے اسے ہمیشہ ڈر لگتا تھا گھر میں جب بھی بارش ہوتی تھی وہ اماں سائیں کے کمرے میں انکے پاس چھپ جاتی تھی
لیکن اس وقت تو وہ یہاں نہیں تھیں جو بارش اور بجلی کڑکتے ہی وہ انکے پاس چلی جاتی
سوچا گھر میں کسی کو فون کرلوں لیکن وہ ایسا بھی نہیں کرسکتی تھی کیونکہ سب سے بڑا مسلہ اسکا فون حویلی میں ہی رہ چکا تھا اور ڈانٹ کے ڈر سے اسنے عصیم کو بھی نہیں بتایا تھا ورنہ ایک لمبا لیکچر مل جاتا
°°°°°
وہاں بنے کمروں میں سے وہ ایک میں چلی گئی اسکا ارادہ تو پورا گھر دیکھنے کا تھا لیکن اس وقت ڈر اتنا لگ رہا تھا کے وہ بس اس کمرے میں ہی بند رہنا چاہتی تھی
بارش شروع ہوچکی تھی اور زور زور سے بجلی کڑک رہی تھی اسے اس وقت بےتحاشہ رونا آرہا تھا دل چاہ رہا تھا کونے میں بیٹھ کر ڈھیر سارا روے اور وہ ایسا ہی کررہی تھی
کمرے میں کونے میں بیٹھ کر وہ رو رہی تھی جبکہ دل عصیم کو برا بھلا کہہ رہا تھا جو اسے یہاں لاکر بھول ہی چکا تھا
وہ کتنی ہی دیر تک بجلی کی وجہ سے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر روتی رہی لیکن آواز پھر بھی آرہی تھی وہ اسی طرح روتی رہتی جب اسے باہر سے آواز سنائی دی وہ جھٹکے سے اٹھی اور باہر کی طرف بھاگی
جہاں عصیم کھڑا تھا تیز بارش کی وجہ سے وہ پورا بھیگا ہوا تھا وہ اندر ہی آرہا تھا لیکن کسوا نے اتنا بھی انتظار نہیں کیا اور بھاگ کر اسکے سینے سے لگ گئی اس تیز برستی بارش میں بھی عصیم اسکے آنسو دیکھ سکتا تھا
اسے یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی کے کسوا کیا ہوا ہے کیونکہ وہ جانتا تھا کے اسے کڑکتی بجلی سے ڈر لگتا ہے اور آج تو وہ سارا دن ہی گھر پر اکیلی رہی تھی اور ایسا پہلی بار ہوا تھا
اسے روتے دیکھ کر عصیم کو خود پر غصہ آرہا تھا کے کیا ضرورت تھی کسوا کو اکیلا چھوڑنے کی کام جاے بھاڑ میں اسے اپنی بیوی کے علاؤہ کچھ عزیز نہیں تھا
جلدی جلدی کرتے ہوے بھی اسے آنے میں کافی دیر ہوچکی تھی اسکا ارادہ آج ہی سارا کام نمٹانے کا تھا تاکہ باقی کے دن وہ کسوا کے ساتھ آرام سے گزار لے اسی وجہ سے اسے آنے میں دیر ہوچکی تھی
“کسوا اندر تو چلو” عصیم نے اسے خود سے دور کرنا چاہا تاکہ اسے لے کر اندر جاسکے لیکن وہ اسی طرح اسکے سینے سے لگی رہی
اسے دور نہ ہٹتے دیکھ کر عصیم نے اسے اپنی بانہوں میں اٹھادیا اور اسے لے کر اندر کی طرف جانے لگا وہ دونوں ہی مکمل بھیگ چکے تھے
°°°°°
اسے لے کر وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا جو اس گھر میں اسنے اپنے استعمال کے لیے رکھا ہوا تھا
اسے لاکر عصیم نے بیڈ پر بٹھایا باہر اتنی روشنی نہیں تھی لیکن اندر پورا گھر روشن ہوا پڑا تھا جس کے ذریعے وہ آرام سے اپنی بیوی کا بھیگا ہوا روپ دیکھ رہا تھا جو اسے آرام سے بہکانے کا کام کر رہا تھا
عصیم نے اسکے گلے سے گیلا ڈوپٹہ نکال کر دور پھینکا اور اسکی گردن پر جھک گیا اس اچانک افتاد پر کسوا نے گھبرا کر اسکے سینے پر اپنے ہاتھ رکھے وہ ایسا کچھ کرے گا یہ تو اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا
“یہ آپ کیا کررہے ہیں”
“پیار” ایک لفظی جواب دے کر اسنے کسوا کو بیڈ پر لٹا دیا
“د-دیکھیں پ–پلیز پلیز دور رہیں”
“جب دور ہی رکھنا تھا تو اتنی قریب کیوں آئیں تھی”
“م-میں ڈر گئی تھی”
“میں تمہارا ہر ڈر دور کردونگا”
“م–مجھے نہیں کروانا میں ا-اب ٹھیک ہوں” اسنے اسے روکنے کی ایک ناکام کوشش کی
“لیکن میں اب ٹھیک نہیں ہوں” اپنی انگلی اسکی پیشانی سے ہونٹوں تک لاتے ہوے وہ بہکے بہکے لہجے میں کہہ رہا تھا
“پلیز” اسنے اپنی جگہ سے اٹھنا چاہا لیکن عصیم اسکے دونوں ہاتھ بیڈ سے لگا کر اسکے لبوں پر جھک گیا اور کسوا ایک بار پھر اسکی قید میں بےبس ہوکر رہ گئی
°°°°°
نیند میں ہی اسنے اپنا ہاتھ بیڈ کے دوسری سائیڈ پر رکھا لیکن اسے خالی دیکھ کر اسنے فورا اپنی آنکھیں کھولیں کسوا کمرے میں نہیں تھی
اپنی جگہ سے اٹھ کر وہ باہر نکل گیا تاکہ اپنی بیوی کو دیکھ لے جو اتنی صبح کہاں گئی تھی ابھی تو فجر ہوے بھی صرف بیس منٹ ہوے تھے
کمرے سے باہر آتے ہی وہ اسے نظر آچکی تھی اپنی آنکھیں بند کیے وہ دعا مانگ رہی تھی اسے اسی طرح چھوڑ کر وہ اطمینان بھری سانس لیے اندر چلا گیا
فریش ہوکر اسنے خود بھی نماز ادا کی اور کمرے سے باہر چلا گیا جہاں اب وہ کچن میں کھڑی شاید نہیں یقینا ناشتہ بنارہی تھی
اسکے قریب جاکر عصیم نے پیچھے سے اپنی بانہوں کے حصار میں لے لیا کسوا نے گھبرا کر پیچھے دیکھا پھر اسے دیکھ کر دوبارہ اپنے کام میں مگن ہوگئی
گیلے بالوں میں بےبی پنک فراک پہنے ڈوپٹہ گلے میں ڈالے وہ نکھری نکھری سی سیدھا اسکے دل میں اتر رہی تھی
“کیا کررہی ہو”
“ناشتہ بنا رہی تھی”
“اتنی صبح”
“مجھے بھوک لگ رہی تھی” وہ نظریں جھکا کر کہہ رہی تھی
عصیم نے اسکا رخ اپنی طرف موڑا اور اسکے دونوں طرف کچن سلپ پر ہاتھ رکھ کر اسکے بےحد قریب ہوگیا
“ناراض ہو”
“نہیں”
اسکے کہنے پر عصیم نے اسکا چہرہ تھوڑی سے اوپر کیا
“کیا تمہیں لگتا میں نے تمہارے ساتھ جو کیا وہ غلط ہے” اسکے کہنے پر کسوا کی نظریں دوبارہ جھک گئیں
“نہیں”
“تو پھر جب سے شادی ہوئی ہے تم اتنی اداس کیوں رہنے لگ گئی ہو”
“میں بس وقت چاہتی تھی تھوڑا ، میرے لیے یہ سب فوری قبول کرنا بہت مشکل تھا”
عصیم نے اسکی کمر میں بازو حمائل کرکے اسے اپنے قریب کرلیا
“تو اب تم نے قبول کرلیا اس سب کو” اسکے کہنے پر کسوا نے جھکی نظروں سے مسکرا کر اپنا سر اسکے سینے پر رکھ دیا اسکے ایسا کرتے ہی ڈھیروں سکون عصیم کے دل میں اترا اسنے سختی سے اپنی جان کو خود میں قید کرلیا
“قبول کرلیا تو پھر میرا نام کیوں نہیں لیتی ہو مجھے میرے نام سے پکارو”
“مجھے عجیب لگتا ہے میں ہمیشہ سے آپ کو لالا بلاتی تھی تو اسلیے مجھے صرف آپ کا نام لینا اچھا نہیں لگتا”اسنے معصومیت سے جواب دیا
“اچھا تو پھر تم میرا نام مت لینا تم مجھے شاہ بلانا”
“شاہ”
“ہاں شاہ تم مجھے اب سے شاہ بلایا کرو گی” اسکے کہنے پر کسوا نے معصومیت سے اپنا سر ہلادیا
“تو اب جب تم دل سے راضی ہو تو ہم چلتے ہیں اپنے کمرے میں”
اسے اپنی بانہوں میں اٹھا کر وہ اپنے کمرے میں لے جانے لگا
“پلیز مجھے نیچے اتاریں مجھے بھوک لگ رہی ہے”
“میں دس بجے باہر جاؤں گا جب تم اپنی بھوک کا علاج کرلینا”
“آپ کیوں جائینگے” کسوا نے گھبرا کر اسے دیکھا
“صرف ایک گھنٹے کے لیے جاؤں گا پرامس ایک گھنٹے میں واپس آجاؤں گا”
“ہاں کل کی طرح”
“کسوا آئی پرامس میں ایک گھنٹے میں ہی واپس آجاؤں گا” اسنے اپنی ٹانگ سے کمرے کا دروازہ کھولا
“اور تمہارا فون میرے بیگ میں ہے”
“میں تو اسے گھر بھول آئی تھی”
“تم بھول آئی تھیں نہ میں تو نہیں کل ہی تمہیں دے دیتا لیکن پھر کام سے چلا گیا اور بھول گیا”اسنے کسوا کو بیڈ پر بٹھایا
“ابھی مجھے جانے دیں مجھے سچ میں بہت بھوک لگ رہی ہے”
“اب تم جب ہی اس کمرے سے باہر نکلو گی جب میں اپنے کام پر جاؤں گا”کسوا نے گھڑی کی طرف دیکھا جو چھ بجا رہی تھی اور عصیم کو دس بجے جانا تھا اور اسے پتہ تھا کے اس سے پہلے تو عصیم اب اسے چھوڑے گا نہیں اسلیے بنا کچھ کہے اسکی ہر من مانی برادشت کرتی رہی عصیم نے اسکا ڈوپٹہ اس سے دور کیا اور دروازہ بند کردیا
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial