قسط: 20
نیند سے جاگ کر اسنے بھرپور طریقے سے آنگڑائی لی نظر سیدھی سامنے رکھے صوفے پر بیٹھے عالم پر گئی جو اپنے موبائل میں لگا ہوا تھا بلیک پینٹ کے ساتھ اسنے وائٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی جس کی آستین کو کونیوں تک فولڈ کیا ہوا تھا
آئرہ نے مسکراتے ہوے اسے دیکھا وہ اسے بتا نہیں سکتی تھی کے وہ ان کپڑوں میں کتنا پیارا لگ رہا تھا کل تو اسکی بےباک نظروں سے بچنے کے لیے کھانا کھاتے ہی وہ کمبل میں گھس کر سوگئی لیکن آج وہ اسے غور سے دیکھ رہی تھی اور بس دیکھے ہی جارہی تھی
“کیا بات ہے بہت پیارا لگ رہا ہوں جو نظریں ہی نہیں ہٹ رہی ہیں” اسنے نظریں موبائل پر جھکاے ہوے کہا جبکہ اسکے کہنے پر آئرہ نے نظریں فورا اس پر سے ہٹائیں
“میں تو تمہیں نہیں دیکھ رہی تھی” اسکے کہنے پر عالم نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا گال پر ڈمپل نمایاں ہوا
“میری نظریں چاروں طرف رہتی ہیں ویسے کل سے تم مجھ سے نظریں کیوں چرا رہی ہو”
“میں تو نظریں نہیں چرا رہی” کل کی بات یاد کرکے اسکے گال پھر سے لال ہونے لگے
“نہیں تم چرا رہی ہو اور اب تو لال بھی ہورہی ہو وہ تو تم نے تولیہ باندھا ہوا تھا جب تمہارا یہ حال ہورہا ہے” عالم نے اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوے بےباکی سے کہا
“سوچو اگر تم بنا”
“کچھ مت بولنا پلیز”چیختے ہوے وہ دوبارہ کمبل میں گھس گئی جس سے کمرے میں عالم کا قہقہہ گونجا
اسکے قریب آکر اسنے آئرہ پر سے کمبل اٹھادیا
“اچھا نہیں کہہ رہا کچھ اٹھو ناشتہ کرو پھر ہم گھومنے چلتے ہیں کمرے میں رہنے کا بھی کیا فائدہ بتاؤ کہاں جاؤ گی” وہ وہیں اسکے پاس بیٹھ گیا
“فیصل مسجد”
“آئرہ فیصل مسجد یہاں نہیں ہے”
“مجھے پتہ ہے میں بس دیکھنا چاہ رہی تھی کے آپ کو پتہ ہے یا نہیں”
“اچھا تو پتہ چل گیا اب بتاؤ کہاں جاؤ گی”
“مجھے نہیں پتہ مجھے بس بادشاہی مسجد جانا ہے باقی جہاں آپ کی مرضی ہوگی ہم وہیں جائینگے” اسکے کہنے پر عالم نے پیار بھری نظروں سے اسے دیکھا
“تم ایسے بات کرتی ہوئی کتنی پیاری لگتی ہو” اسکے گال پر پیار کرکے وہ بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا
“ایک بات پوچھوں”
“ہاں پوچھو”
“آپ کو تھکن نہیں ہورہی مطلب اتنی لمبی ڈرائیو کی ہے اور اسکے بعد باہر چلے گئے اور پھر ابھی بھی بس چند گھنٹے کی نیند لی”
“ہاں تھکن تو بہت ہورہی ہے لیکن کیا کروں میری بیوی میری تھکن اتارتی ہی نہیں ہے” اسے پٹری سے اترتے دیکھ کر وہ اٹھ کر واشروم میں فریش ہونے کے لیے بھاگ گئی
وہ اس سے سیدھے جواب کی امید کیسے رکھ سکتی تھی وہ عالم شاہ تھا جو سیدھی سی بات کو بھی اپنے مطلب کی طرف لے آتا تھا
°°°°°
گھر میں داخل ہوتے ہی وہ کمرے میں جانے لگی جہاں وہ پہلے رہ رہی تھی لیکن اسکے جانے سے پہلے ہی معتصم نے اسکی کلائی پکڑ لی
“کہاں جارہی ہو”
“کمرے میں”
“میرا کمرہ وہاں ہے”اسنے کچن کے برابر بنے کمرے کی طرف اشارہ کیا
“لیکن میں اسی کمرے میں جاؤں گی جہاں میں پہلے رہ رہی تھی”
“جب تم میرے بنا رہ رہی تھیں اب تم میرے ساتھ ہو تو سیدھی اسی کمرے میں جاؤ اور کوئی بحث نہیں میں زبردستی کرسکتا ہوں لیکن میں کرنا نہیں چاہتا تو خاموشی سے وہاں چلی جاؤ” اسکے کہنے پر وہ غصے سے معتصم کے بتاے ہوے کمرے میں چلی گئی وہ خود بھی اسکے پیچھے ہی چلا گیا
“میں نے کھانا آرڈر کردیا تھا آنے والا ہوگا تمہاری طبیعت ٹھیک ہے”
“میری طبیعت کو کیا ہوا ہے”
“کافی تھکی ہوئی لگ رہی ہو”
“نہیں میں ٹھیک ہوں تمہیں میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے” اسکا انداز لٹھ ماردینے والا تھا
“اچھا تو کل کی تیاری کرلینا”
“کل کیا ہے” پریشے نے بھنویں اچکا کر اسے دیکھا
“کل ایک پارٹی ہے جہاں میرے سارے بزنس پارٹنر ہوں گے اور مجھے اور میری مسز کو اس میں انوئت کیا ہے”
“میں کہیں نہیں جاؤں گی” معتصم کی کوئی بات ماننا اسکے لیے تو شاید ویسے بھی گناہ تھا اسلیے اسنے پہلی فرصت میں انکار کردیا جبکہ دوسری وجہ تھکن اور حرارت تھی وہ خود ایک ڈاکٹر تھی لیکن اپنا خیال وہ کبھی بھی نہیں رکھتی تھی
“میں زبردستی نہیں کروں گا تمہاری مرضی ہوگی تم جانا چاہو تو ٹھیک نہیں جانا چاہو تو کوئی بڑی بات نہیں” مسکراتے ہوے کہہ کر وہ باہر چلا گیا جہاں ڈور بیل بج رہی تھی اور اسے پتہ تھا کے اسکا آرڈر کیا ہوا کھانا ہی آیا ہوگا
°°°°°
عصیم کے جاتے ہی اسنے سب سے پہلے ناشتہ کیا کیونکہ بھوک سے اسکا برا حال ہورہا تھا
وہ ناشتہ کرکے فارغ ہوئی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی اسنے جاکر دیکھا وہاں ایک لڑکا کھڑا تھا سر پر کیپ پہنے وہ اسکی طرف کچھ بڑھا رہا تھا
وہ کیا کہہ رہا تھا اسکے کچھ پلے نہیں پڑھ رہا تھا اسے بس اسکی ساری باتوں میں سے شاہ بے ہی سمجھ آیا تھا
جس سے وہ یہ تو سمجھ گئی تھی کے سامنے کھڑا شخص شاہ اسکے شوہر کو ہی کہہ رہا ہے لیکن اسکے بے کہنے پر اسے اچھا خاصہ غصہ آیا وہ بھلا کیسے اسکے شاہ کو بے کہہ سکتا تھا
اس لڑکے کے جانے کے بعد اسنے وہ باکس زور سے صوفے پر پھینکا
“مجھے جواب دینا چاہیے تھا وہ پتلی پتلی داڑھی مونچھوں والا شخص کیسے میرے شاہ کو بے کہہ رہا تھا اور وہ تھا کون اور یہ مجھے کیوں دے کر گیا اف کسوا کتنی بدھو ہو تم وہ شاہ کہہ رہا تھا یقینا عصیم لال مطلب شاہ نے ہی بھجوایا ہوگا” وہ خود سے باتیں کرنے میں مصروف تھی جب اسکا فون بجا جسے اٹھاتے ہی اسنے سلام کیا اور پیار بھرے لہجے میں جواب ملا
“وعلیکم اسلام کیا ہورہا تھا جان”
“کچھ نہیں”
“میں نے تمہارے لیے کچھ بھجوایا تھا”
“ہاں مجھے مل گیا لیکن آپ کو ایک بات بتاؤں شاہ جو لڑکا آیا تھا نہ وہ بہت بدتمیز تھا”
“کیوں اسنے کچھ کہا ہے تمہیں”عصیم کے ماتھے پر بل پڑے
“نہیں اسنے مجھے کچھ نہیں کہا لیکن آپ کو بار بار بے بے بول رہا تھا”
اسکے کہنے پر عصیم کی ہنسی چھوٹی
“میری جان ترکی میں بے سر کو کہتے ہیں” اسکے کہنے پر کسوا تھوڑی شرمندہ ہوچکی تھی لیکن پھر خود ہی اپنی شرمندگی کو بھگا دیا اسے بھلا کیا پتہ ترکی میں کس چیز کو کیا کہتے ہیں
“میں نے جو بھیجا ہے اسے پہن کر میرے آنے سے پہلے تیار رہنا”
“ہم باہر جارہے ہیں”وہ ایکسائیٹیڈ ہوکر بولی
“نہیں تم بس میرے لیے تیار ہونا”
“ہم باہر نہیں جائینگے تو میں ان کپڑوں کو گھر میں پہن کر کیا کررہی گی”
“جب تم باکس کھول کر دیکھو گی تو اسے پہن کر باہر جانا بھی نہیں چاہو گی میں تھوڑی دیر میں گھر پہنچ رہا ہوں جب تک مجھے میری بیوی تیار چاہیے اللہ حافظ”
اسکے فون رکھتے ہی کسوا نے اس باکس کو اٹھایا اور جلدی سے کھولا لیکن اسے کھولتے ہی اس کی ساری خوشی ختم ہوچکی تھی
°°°°°
“بادشاہی مسجد پاکستان کی دوسرے نمبر کی سب سے بڑی مسجد ہے”
مسجد میں داخل ہوتے ہی اسنے عالم کی طرف دیکھتے ہوے کہا
“اور آپ کو پتہ ہے اسکا پورا نام کیا ہے”
“ہاں بادشاہی مسجد”
“نہیں اسکا پورا نام مسجد عبدل ظفر موحی الدین محمد عالمگیر بادشاہ غازی ہے”
“یہ بات میرے لیے نئی ہے تمہیں کیسے پتہ”
“میں نے پڑھا ہے”
“اور تمہیں اتنا لمبا نام یاد بھی ہے”
“نہیں میں بھول گئی تھی ابھی اینٹرینس گیٹ پر دیکھا تھا تو یاد آیا”
“پتہ ہے آئرہ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے تمہارے ساتھ غلط ہوا تھا” اسکی بات پر آئرہ نے چہرہ اٹھا کر حیرت سے اسے دیکھا
“مطلب”
“مطلب تم ایک پڑھی لکھی لڑکی ہو اور میں گاؤں کا عام سا دسویں جماعت پاس بندہ جس نے دسویں جماعت تک بھی صرف نام کے لیے پڑھا ہے مجھے انگریزی کے چند لفظوں کے علاؤہ کچھ نہیں آتا ہے میرا نہیں خیال کے تم میرے جیسے بندے کے لیے ہو”
“اچھا تو پھر چھوڑ دیں گے مجھے” آئرہ نے شرارت سے کہا لیکن اسکی یہ بات سامنے والے کے ماتھے پر کئیں بل ڈال چکی تھی
“ہرگز نہیں رہنا تو تم نے ہمیشہ میرے ساتھ ہی ہے”
“تو پھر یہ تقریر کس لیے”
“بس ایسے ہی دل میں بات آئی تو کہہ دی” آئرہ نے پیار سے اپنے مونچھڑ شوہر کو دیکھا اور اپنے دونوں ہاتھوں میں اسکے ہاتھ پکڑ لیے
“عالم زندگی میں پڑھائی کے علاؤہ بھی بہت کچھ ہوتا ہے ضروری نہیں کہ آپ پڑھے لکھے نہیں ہو تو آپ اچھے نہیں ہو میں نے ایسے بہت سے لوگ دیکھیں ہیں جو بہت پڑھے لکھیں ہیں لیکن ان میں شعور نام کی چیز نہیں ہے آپ ایسے نہیں ہو”
“آپ کو پڑھنے کا شوق نہیں تھا اسلیے نہیں پڑھائی کی یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے میرے لیے اہم یہ ہے کے آپ نے میری مرضی کو اہمیت دی مجھے وقت دیا میں آپ کے اتنی قریب رہتی ہوں لیکن پھر بھی آپ کبھی بہکے نہیں ہیں”
“تو میں اب تمہیں برا نہیں لگتا”
“نہیں بس آپ کی مونچھیں بری لگتی ہیں ہاں پہلے آپ مجھے برے لگتے تھے بہت برے آپ مجھے زبدستی یہاں لاے بابا کے کہنے پر میں مجبورا اس شادی کے لیے راضی ہوئی تھی یہ رشتہ میرے لیے ایک بوجھ جیسا تھا لیکن اب نہیں ہے اب میں دل سے اس رشتے کو نبھانا چاہتی ہوں”
“مطلب تم نے مجھے قبول کر لیا” اسنے آئرہ کو اپنے قریب کیا
“جب قبول کروں گی تو بتادوں گی”
“اسکی ضرورت نہیں ہے تم نے دیکھا میں تمہارے لیے سوٹ لایا تھا”
“ہاں”
“تو جب تم اس رشتے کو نبھانے کے لیے راضی ہو جاؤ تو اسے پہن لینا میں تمہاری مرضی جان لوں گا” اسکا ہاتھ پکڑ کر وہ اسے اندر کی طرف لے جانے لگا
“ایک اور بات کیا تم مجھے تھوڑی بہت انگریزی سکھا سکتی ہو” اسنے جھجکتے ہوتے ہوے کہا
“اس میں جھجکنے کی کیا بات ہے بلکل میں آپ کو سکھادوں گی” اسکے کہنے پر عالم نے اسکے ہاتھ کی پشت پر اپنے لب رکھ دیے
اسکی اس حرکت پر آئرہ نے جلدی سے اپنا ہاتھ اس سے چھڑانا چاہا لیکن وہ اسی طرح اسکا ہاتھ پکڑے کھڑا رہا
“عالم میرا ہاتھ چھوڑیں کوئی دیکھ لے گا”
“مجھے پرواہ نہیں” لاپروائی سے کہتے ہوے اسنے اسکا ہاتھ مزید سختی سے پکڑ لیا
°°°°°
گھر آکر اسے وہی منظر ملا جس کی اسے توقع تھی
“تم یہاں کیا کررہی ہو” اچانک اپنے پیچھے سے کسی کی مردانہ آواز سن کر اسنے ڈر کر پیچھے دیکھا
“آپ نے تو ڈرا دیا تھا مجھے”
“تم یہاں کیا کررہی ہو کسوا”
“میں آپ کے لیے کھانا بنارہی تھی آپ نے بس فلائٹ میں کھانا کھایا تھا رات کو بھی کچھ نہیں کھایا صبح ناشتہ بھی نہیں کیا”
“میں نے کہا تھا تو تم تیار کیوں نہیں ہوئیں”
“وہ آپ نے غلط چیز بھجوادی تھی”اسنے نظریں جھکا کر کہا
“نہیں میں نے وہی چیز بھجوائی تھی جو تم نے پہنی نہیں چلو میں پہناتا ہوں” اسکا ہاتھ پکڑ کر عصیم اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا جب کسوا نے جلدی سے اپنا ہاتھ چھڑالیا جس پر عصیم نے گھور کر اسے دیکھا
“آپ پہلے کھانا کھالیں” وہ کھانے کی ڈش اٹھا کر ٹیبل کی طرف لے جانے لگی لیکن عصیم اسکے ہاتھ سے وہ ڈش لے چکا تھا
اسنے ڈش سلپ پر رکھی اور اس میں موجود کھانا نکال اور اس کھانے کے چند نوالے لے کر کسوا کو اپنی بانہوں میں اٹھا کر کمرے میں لے جانے لگا
“شاہ مجھے نیچے اتاریں کھانا تو کھالیں”
“میں کھا چکا ہوں”
“کوئی نہیں کھایا بس جلدی جلدی چند نوالے منہ میں ڈال لیے”
“چپ کرو مجھے تم پر پہلے ہی غصہ آرہا ہے جب میں نے کہا تھا تو تم تیار کیوں نہیں ہوئیں”
“میں بھلا وہ کیسے پہن سکتی تھی” اسکے کہنے کے انداز پر عصیم کو بے ساختہ ہنسی آگئی
“ہاں تم اسے نہیں پہن سکتی ہو لیکن میں تو پہنا سکتا ہوں نہ” کمرے میں لاکر اسنے کسوا کو نیچے اتارا
جو نائٹی اسنے بھیجی تھی وہ باکس سمیت بیڈ پر ہی رکھی ہوئی اسنے نائٹی اٹھا کر کسوا کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی جانب کھینچا اور اسکے گلے میں موجود ڈوپٹہ نکال کر پھینک دیا
“یہ آپ کیا کررہے ہیں مجھے نہیں پہنی”
“لیکن مجھے تمہیں اس میں دیکھنا ہے”
“تو آپ خود پہن لیں” اسنے تپ کر کہا لیکن عصیم نے بنا کوئی جواب دیے اسکے کندھے سے شرٹ سرکا کر وہاں اپنے لب رکھ دیے
اپنے شوہر کے ارادے دیکھ کر کسوا نے جلدی سے اسکے ہاتھ سے نائٹی لی
“می–یں خود پہن لوں گی” کپکپاتے لہجے میں کہہ کر وہ تیزی سے واشروم میں بھاگ گئی
°°°°°
“کسوا تم کیا اندر پہاڑ توڑ رہی ہو” پندرہ منٹ بعد بھی جب وہ باہر نہیں نکلی تو عصیم نے جھنجھلا کر دروازے پر دستک دی
“آرہی ہوں بس تھوڑی دیر”
“دو منٹ میں باہر آؤ ورنہ میں اندر آجاؤں گا” اسکے کہنے پر وہ گہرے گہرے سانس لیتی آہستہ سے دروازہ کھول کر باہر نکل گئی کیونکہ اسے پتہ تھا اگر باہر نہیں نکلی تو عصیم اپنی بات پر عمل بھی کرلے گا
عصیم کی نظریں اس پر پڑتے ہی پلٹنا بھول چکی تھیں سلک کی بلیک نائٹی اسکے گٹھنوں سے بھی اوپر جارہی تھی کندھوں پر باریک سی پٹی تھی اور اسکا چاندی جیسا وجود اس بلیک نائٹی میں دمک رہا تھا
دھیرے دھیرے قدم بڑھاتا ہوا وہ اسکے قریب آیا جو گھبرائی ہوئی سی نظریں جھکائے کھڑی تھی اور اس نائٹی کو کھینچ کر لمبا کرنے کی ناکام کوشش کررہی تھی
اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر عصیم نے اپنا چہرہ اسکے بالوں میں چھپالیا
“بہت خوبصورت لگ رہی ہو اتنی کے میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا”
“آ–آپ نے د-دیکھ لیا نہ مجھے تو میں اب چینج کرلوں”
“نہیں پہلے مجھے بتانے تو دو کے تم کتنی حسیں لگ رہی ہو” گمبھیر لہجے میں کہہ کر اسنے کسوا کے دل کے مقام پر اپنے لب رکھ دیے
جس پر اسنے سختی سے اپنی آنکھیں میچ لیں اسکے سرخ گال مزید سرخ ہوچکے تھے
اسے اپنی گود میں اٹھا کر عصیم نے اسے بیڈ پر لٹایا اور اسکے لبوں پر جھک کر اسکے گھبراتے ہوے وجود کو خود میں سمیٹ لیا