عشق محرم

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 21

اپنی کیفیت کو دیکھتے ہوے اسنے دوائی کھالی تھی سر میں درد کے ساتھ ساتھ اسے بخار بھی ہوچکا تھا جو اتنا زیادہ نہیں تھا اسلیے اسے کوئی فکر بھی نہیں تھی
دوائی کھا کر وہ دوبارہ لیٹ گئی جب میسیج رنگ ٹون بجی اسنے کروٹ لے کر دیکھا وہ رنگ ٹون معتصم کے موبائل پر بجی تھی اسنے ایک نظر واشروم کے بند دروازے کو دیکھا جہاں وہ باتھ لینے گیا تھا اور پھر اسکا موبائل اٹھا کر دیکھنے لگی
موبائل کھولتے ہی اسے میسیج نظر آگیا جو جیسمین کی طرف سے آیا ہوا تھا جہاں لکھا ہوا تھا
“See you tonight at the party at 8pm”
“I am very excited to meet you sam”
اسنے آنکھیں چھوٹی کرکے اس میسیج کو گھورا جیسے میسیج کو نہیں اسے کرنے والی لڑکی کو گھور رہی ہو
“اسنے مجھے فورس نہیں ورنہ وہ ہر بات میں مجھے فورس کرتا ہے کہیں مجھے پارٹی کا کہہ کر اس جیسمین سے تو ملنے نہیں جارہا”وہ خود سے بڑبڑاتے ہوے کہہ رہی تھی جب واشروم کا دروازہ کھلا
اسنے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا جہاں اسنے ڈارک بلیو جینز کے ساتھ سمپل سی وائٹ کلر کی ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی گیلی بال ماتھے پر بکھرے پڑے تھے جبکہ پیچھے گردن سے لے کر دونوں کندھوں پر تولیہ ڈالا ہوا تھا
“کیا ہوا ہے کسی کا فون آیا تھا”اسکے ہاتھ میں اپنا فون دیکھ کر اسنے پوچھا
“ہاں کسی جیسمین کا میسیج آیا تھا”اسنے جیسمین کو کھینچ کر کہا
“اچھا لاؤ دکھاؤ مجھے”اسنے نوٹ کیا تھا کے جیسمین کا نام لیتے ہی معتصم کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی
“نہیں دکھا رہی میرے خیال سے اسنے غلط جگہ میسیج کردیا ہے میں نے میسیج پڑھا تھا اس میں سیم لکھا ہوا ہے”
“اس سے میرا نام نہیں لیا جاتا وہ کہتی ہے میرا نام بہت مشکل ہے اسلیے وہ مجھے سیم بلاتی ہے” اسکے ہاتھ سے اپنا موبائل لے کر وہ کمرے سے باہر جانے لگا لیکن پھر مڑ کر پریشے کو دیکھا
“کراچی ہی سہی ہنی مون پر تو آے ہیں نہ تو میں کل تمہیں گھومانے لے کر چلوں گا جہاں تم چاہو” اپنی بات کہہ کر وہ کمرے سے چلا گیا
جبکہ وہ تو بس حیرت سے اسے جاتا دیکھ رہی تھی اسے اب معتصم کی آواز آرہی تھی جو یقیناً فون پر کسی سے بات کررہا تھا اور اسے پتہ تھا کے وہ فون پر اس جیسمین سے ہی بات کررہا ہوگا
“اچھا تو اسلیے فورس نہیں کیا مجھے چلنے کے لیے لیکن اب میں بھی جاؤں گی اور جاکر دیکھوں گی اس آلہ دیں کی جیسمین کو بھلا ہے کیسی جس سے اتنے ہنس ہنس کر باتیں ہورہی ہیں” اسنے غصے سے کہا کیونکہ معتصم کا قہقہہ وہ اس بند کمرے میں بھی آرام سے سن رہی تھی
°°°°°
وہ سورہی تھی یا سونے کا ناٹک کررہی تھی یہ اسے نہیں پتہ تھا لیکن اسکے ڈسٹرب ہونے کے خیال سے وہ دوسرے کمرے میں تیار ہونے چلا گیا
مکمل تیار ہوکر جب وہ کمرے سے نکلا تو باہر کا منظر بہت مختلف تھا
جہاں اسکی بیوی ریڈ کلر کی سمپل لانگ فراک پہنے صوفے پر بیٹھی اپنے پیروں میں ہائی ہیل پہن رہی تھی
وہ کب اٹھی کب اتنی جلدی تیار ہوئی اسے پتہ ہی نہیں چلا اور وہ پتہ کرنا بھی نہیں چاہتا تھا اسکی نظریں تو بس اس وقت اپنی تیار شدہ بیوی پر جمی ہوئی تھیں
اسنے ریڈ فراک کے ساتھ ڈارک ریڈ لپسٹک لگائی ہوئی تھی اسکی ہیل ریڈ کلر کی تھی اسکے ائیر رنگز میں بھی گولڈن اور ریڈ کلر آرہا تھا وہ جانتا تھا کے اسکی بیوی کو ریڈ کلر بےحد پسند ہے اسکی وارڈروب میں آدھے کپڑے ریڈ کلر کے ہی بھرے ہوے تھے
“کہاں جانے کی تیاری ہورہی ہے” بینٹ کی دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ اسکے قریب آیا جس پر اسنے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اور اپنی جگہ سے اٹھی لیکن اٹھتے ہی قدم لڑکھڑائے جس پر اسکے گرنے سب پہلے ہی معتصم اسکی کلائی پکڑ چکا تھا
“میں تمہارے ساتھ پارٹی میں جارہی ہوں”
“تمہیں بخار ہورہا ہے” اسنے فکر مندی سے پہلے اسکے ماتھے اور پھر گردن کو چھوا جو گرم ہورہی تھی
“مجھے کچھ نہیں ہورہا ہے”
“ہورہا ہے اور کب سے ہورہا ہے”
“یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے”
“ہم کہیں نہیں جارہے” حتمی لہجے میں کہتے ہوے وہ اپنی ٹائی ڈھیلی کرنے لگا مطلب جانا کینسل
“تم نہیں جاؤ میں پھر بھی جاؤں گی مجھے پتہ ہے کونسے ہوٹل میں جانا ہے” اسنے جلدی سے کہا اسے بس وہاں جانا تھا اور اس آلہ دین کی جیسمین کو دیکھنا تھا
“کل تو تم راضی نہیں تھیں”
“ہاں تو اب راضی ہوں نہ چلو” کہتے ہوے وہ باہر جانے لگی جب قدم ایک بار پھر لڑکھڑائے لیکن اسنے بروقت خود کو سنبھال لیا اسنے پہلی بار اتنی ہائی ہیل پہنی تھی
“اتارو اسے معتصم نے اسکی ہیل کو دیکھتے ہوے کہا جس پر اسکا منہ بن چکا تھا
“کیوں اتاروں”
“اگر جانا ہے تو اسے اتارو ورنہ یہیں رہو” اسکے کہنے پر پریشے نے منہ بنا کر اپنی ہیل اتاریں اور کمرے میں چینج کرنے کے لیے چلی گئی
دو منٹ میں ہی اسکی واپسی ہوگئی اب اسنے ریڈ کلر کی نازک سی سلیپر پہنی ہوئی تھی جس پر لگے چھوٹے چھوٹے سفید موتی چمک رہے تھے
°°°°°
وہ اسے سب سے ملوا رہا تھا اور یہاں کے لوگ اسے مسز شاہ کہہ کر جو عزت دے رہے تھے اس سے اسے لگ رہا تھا کے اتنی عزت تو شاید اسے کبھی اپنے گھر پر بھی نہیں ملی
جس جیسمین کے لیے وہ آئی تھی اس سے بھی مل چکی تھی وہ ایک شادی شدہ عورت تھی جو کے معتصم کی بہت اچھی دوست تھی اسنے اپنے آپ کو ملامت کی وہ جیسا سوچ رہی تھی ایسا کچھ نہیں تھا
جیمیسن اس سے کافی خوش دلی سے ملی تھی اس میں کوئی شک نہیں تھا کے وہ گولڈن بالوں والی جیسمین واقعی بہت خوبصورت تھی
وہ تیس سال کی تھی یہ بات اسے معتصم نے بتائی تھی جسے جان کر اسے بہت حیرت ہوئی کیونکہ وہ بائیس تیئیس سے کم کی نہیں لگ رہی تھی
کھڑے کھڑے اسکی ٹانگیں درد کرنے لگیں تھیں اچھا تھا جو معتصم نے اسے ہیل نہیں پہنے دی تھی ورنہ اس میں تو چلا بھی نہیں جانا تھا
وہ ایک طرف جاکر بیٹھ گئی بوریت سے برا حال تھا ایسا لگ رہا تھا وقت کتنا رک رک کر چل رہا ہے
لیکن یہ بات وہ معتصم کو نہیں کہہ سکتی تھی کیونکہ وہ زبردستی خود یہاں آئی تھیں اسے پتہ تھا اسکے کہنے پر معتصم پارٹی چھوڑ کر اسے گھر لے جاے گا لیکن وہ اپنی وجہ سے اسکی یہ پارٹی خراب نہیں کرنا چاہتی تھی
اسنے معتصم کی طرف دیکھا جس کے ساتھ اب کوئی لڑکی کھڑی ہوئی تھی اسنے ساڑھی پہنی ہوئی تھی جس کی ہاف سلیوز تھیں بالوں کا جوڑا بنانے کے باعث بیک پوری نظر آرہی تھی اور وہ ہنس ہنس کر معتصم کے کندھے پر بار بار ہاتھ رکھ لیتی تو کبھی خود ہی اسکا ہاتھ پکڑ لیتی جسے مسکراتے ہوے وہ نامحسوس انداز میں چھڑالیتا
غصے سے اسنے اپنے چہرے کا رخ موڑ لیا غصہ کس بات کا تھا اسے نہیں پتہ تھا شاید اس بات کا کے کوئی غیر لڑکی اتنی بے تکلف ہوکر اسکے شوہر کے ساتھ کھڑی تھی اور بار بار اسے چھو رہی تھی
اسے نہیں یاد پڑتا اسنے کبھی ایسے معتصم کو چھوا ہو غصے سے وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور ہوٹل سے باہر چلی گئی کہاں جانا تھا اسے نہیں پتہ تھا بس اس گھٹن زدہ ماحول میں نہیں رہنا تھا
°°°°°
اس لڑکی کے جاتے ہی معتصم نے گہرا سانس لیا اسے اس طرح کی لڑکیاں بلکل نہیں پسند تھیں لیکن وہ اسے برداشت کررہا تھا صرف اسکے باپ کی وجہ سے جن سے اسکے کافی اچھے تعلقات تھے اور وہ یہ تعلقات اس فضول لڑکی کی وجہ سے خراب نہیں کرسکتا تھا
اسنے نظریں دوڑاتا کر اپنی بیوی کو تلاش کیا لیکن اسے نہ پاکر اسکے ماتھے پر شکن نمودار ہوئی
اسنے مہمانوں کے بیچ ہر طرف اسے دیکھا لیکن وہ وہاں نہیں تھی اور یہ بات اسے کافی پریشان کرچکی تھی
بنا کچھ سوچے وہ باہر کی طرف گیا جہاں تیز بارش ہورہی تھی
“وہ باہر کیوں گئی ہوگی اور وہ بھی اتنی تیز بارش میں” اسنے خود کو تسلی دی شاید وہ اندر ہی ہو اسلیے اسنے اندر جاکر دوبارہ اسے تلاش کیا لیکن اسے نہیں ملنا تھا کیونکہ وہ وہاں تھی ہی نہیں وہ واپس باہر کی طرف بھاگا
“کیا یہاں سے کوئی لڑکی گئی تھی اسنے ریڈ فراک پہن ہوئی تھی”
“جی سر دو گئی تھیں ایک نے ریڈ فراک پہنی تھی اور دوسری نے ریڈ ساڑھی”
“جس نے ریڈ فراک پہنی تھی وہ کس طرف گئی ہے” اسنے بےچینی سے پوچھا جس پر گارڈ نے اسے اشارہ کرکے بتادیا کے وہ لڑکی کس طرف گئی اسکے اشارہ کرتے ہی وہ اپنی گاڑی نکال کر اس طرف گیا جہاں کا گارڈ نے اشارہ کیا تھا
°°°°°
تیز بارش میں وہ پوری بھیگ چکی تھی بخار تو پہلے ہی ہورہا تھا لیکن اب مزید بڑھ چکا تھا اسے سردی لگ رہی تھی اسنے اپنا دوپٹہ اچھے سے خود پر اوڑھ لیا تاکہ سردی سے بچ سکے لیکن یہ کوشش ناکام ٹہری
گھر ہوٹل سے زیادہ دور نہیں تھا اسلیے ہوٹل سے نکلتے ہی وہ گھر کی طرف بڑھ گئی لیکن اب جیسے ٹانگیں بےجان ہورہی تھیں سردی اتنی لگ رہی تھی کے مزید قدم اٹھانا مشکل لگ رہا تھا لیکن پھر بھی وہ اپنے قدم بڑھا رہی تھی اسے احساس بھی نہیں ہوا کب ایک گاڑی اسکے قریب آگئی
“یہاں کیا کررہی ہو بےقوف لڑکی دماغ درست ہے تمہارا” معتصم نے اسے کونی سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا
“چلو میرے ساتھ تم ہوٹل سے کیوں نکلی تھیں پتہ ہے نہ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے پھر بھی اس بارش میں بھیگ رہی ہو”
“چھوڑو مجھے”اسنے اسکی گرفت سے نکلنے کی ایک کمزور سی کوشش کی لیکن بنا اسکی کچھ سنے معتصم نے اسے گاڑی میں ڈال دیا اور خود آکر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا
“خود ڈاکٹر ہوکر تم اپنا خیال نہیں رکھ سکتیں” اسنے سختی سے اسے دیکھتے ہوے کہا لیکن پھر چونک گیا
“پری” اسنے اسکا گال تھپتھپایا لیکن وہ ہوش میں نہیں تھی اور اسکی حالت معتصم کو پریشان کرچکی تھی اسنے گاڑی تیزی سے اپنے گھر کی جانب بڑھائی
اسنے گھر کا لاک کھولا اور اسے اپنی بانہوں میں اٹھاکر اپنے کمرے میں لے آیا جو پہلا کام اسنے کیا تھا وہ ڈاکٹر کو فون تھا
“ہیلو معتصم کیسے ہو”
“فیروز پلیز گھر آؤ میری وائف کو بہت تیز بخار ہے تم اسے چیک کرو میں اس وقت کراچی میں ہی ہوں”
“میں نہیں آسکتا معتصم میں اس وقت کراچی میں نہیں ہوں”
“تو میں کیا کروں ہاسپٹل لے جاؤں” اسنے پریشان سے کہا اس وقت اسے کیا کرنا تھا کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا
“نہیں تمہارے گھر سے ہاسپٹل کافی دور ہے لے جاتے ہوے کافی وقت لگے گا”
“تو پھر میں کیا کروں”
“اسے میڈیسن دو اور گرمائش بھی”
“میں کیسے”
“یہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے معتصم فلحال تم یہی کرو ابھی کے لیے یہی ایک طریقہ ہے تم ابھی کے لیے یہی کرو کوشش کرو اسکا بخار کم ہوجاے مزید نہ بڑھے میری بہن ہے میں اسے فون کرتا ہوں شاید وہ تمہاری کچھ مدد کردے” اسکے فون رکھتے ہی اسنے اپنا ماتھے سے سہلایا اور بیڈ پر بخار میں تپتی اپنی بیوی کو دیکھا
بیڈ پر اسکے قریب بیٹھ کر معتصم نے اپنے ہاتھ کی پشت سے اسکا گال سہلایا اور گہرا سانس لے کر اپنی جگہ سے اٹھا اسنے اپنی الماری سے اپنا نائٹ سوٹ نکالا اور واپس اسکے قریب آگیا
اسنے کمرے کی لائٹ آف کری لیکن پھر بھی باہر لگی لائٹ کی وجہ سے کھڑکی سے ہلکی سی روشنی آرہی تھی جس سے زیادہ کچھ نہ سہی لیکن بیڈ پر لیٹی پریشے کا چہرہ اور گردن دکھ رہے تھے کیونکہ وہ روشنی سیدھا بیڈ پر پڑھ رہی تھی
معتصم نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور اسکے گیلے کپڑے تبدیل کیے اسکے بعد آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اسکی شرٹ پریشے کے لیے کافی بڑی تھی
اسکی نظر سب سے پہلے پریشے کی گردن پر پڑی
آخر کب تک وہ ضبط کرتا رہتا اسکے گیلے بالوں میں ہاتھ پھنسا کر وہ اسکے لبوں پر جھک گیا لیکن جلدی ہی انہیں آزاد کرکے نرمی سے اسکی گردن پر اپنے لب رکھ کر پیچھے ہٹ گیا
اسنے تولیے سے اسکے گیلے بال خشک کیے اور مشکل سے ہی سہی اسے میڈیسن کھلادی یہ بھی شکر تھا کے اسنے ہوٹل میں ہلکا پھلکا کھانا کھالیا تھا
بارش اب پہلے سے کم ہوچکی تھی اور ڈاکٹر بھی آچکی تھیں جو اسکا ٹریٹمنٹ کرکے وہاں سے چلی گئیں
اسے اپنے کپڑوں کا خیال آیا وہ وہی گیلے کپڑے پہنے گھوم رہا تھا اسنے سب سے پہلے بیڈ شیٹ اتاری کیونکہ پریشے کے گیلے کپڑوں کی وجہ سے وہ بھی گیلی ہوچکی تھی
پھر اپنے کپڑے چینج کرکے وہ اسکے پاس آکر لیٹ گیا اسنے اسے مظبوطی سے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھ کر دونوں پر کمبل ڈال لیا
اسکے قریب آتے ہی پریشے مزید اسکے قریب ہوگئی معتصم کے وجود کی گرمائش سے اسے سکون مل رہا تھا وہ اس وقت دوائیوں کے زیر اثر تھی
اسے اپنی بانہوں میں بھرے وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھا وہ جسے اپنا عشق سمجھتا تھا آج احساس ہوا وہ تو عشق سے بھی کہیں زیادہ بن چکی ہے اسکی اس حالت میں یہ چند گھنٹے اسنے کس طرح گزارے یہ صرف وہ خود جانتا تھا
اسے نہیں پتہ تھا اسکی بانہوں میں موجود یہ لڑکی اسکے لیے کیا ہے بس یہ پتہ تھا کے اسکے بنا معتصم شاہ ادھورا ہے
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial