قسط: 25
صبح کے دس بجے وہ حویلی میں داخل ہوا تھا جہاں اسکی پہلی نظر دادا سائیں پر پڑی انہیں سلام کرکے وہ اپنے کمرے میں جانے لگا جب اپنے پیچھے اسے انکی آواز سنائی دی
“بیوی کہاں ہے تمہاری”
“انکل کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی”
“تو تم اسے وہاں چھوڑ آے اسکے منگیتر کے پاس” انکے کہے جملے نے اسکے چونکنے پر مجبور کردیا
“آپ کہنا کیا چاہتے ہیں”
“سیدھی اور صاف بات تمہاری بیوی اپنے باپ کے گھر پر ہے تو ہو سکتا ہے وہ لڑکا بھی وہاں موجود ہو ہم بس تمہیں بتارہے ہیں جو پہلے ہوا تھا کہیں وہ دوبارہ نہ ہوجاے” دادا سائیں کی بات سنتے ہی اسکی پیشانی پر لاتعداد بل پڑے
“دادا سائی وہ بیوی ہے میری”
“تمہاری دادی بھی تو بیوی تھی میری پتہ ہے نہ اسنے کیا ، کیا تھا”
“دادا سائیں مجھے اپنی بیوی پر پورا بھروسہ ہے”
“ٹھیک ہے دیکھ لیتے ہیں وہ تمہارے بھروسے کا کتنا بھرم رکھتی ہے” انہوں نے طنزیہ مسکراہٹ لیے اسے دیکھا
“دادا سائیں وہ میرا بھروسہ نہیں توڑے گی”
“اور جس دن توڑا تو اسے یہاں لانا اور اپنے ہاتھوں سے اسے گولی مارنا ویسے ہی جیسے میں نے ماری تھی” انہوں نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا جس پر وہ اپنی مٹھیاں بھینچ کر وہیں سے باہر نکل گیا
°°°°°
“کیسی ہو” آواز پر اسنے مڑ کر دیکھا جہاں وصی کھڑا تھا لائٹ بلیو شرٹ کے ساتھ ڈارک بلیو جینز پہنی ہوئی تھی
وہ کب سے اس سے بات کرنے کی کوشش کررہا تھا لیکن سب کی موجودگی میں ٹھیک سے کر نہیں پارہا تھا لیکن اب اسکے کمرے سے باہر آتے ہی وہ خود بھی اسکے پیچھے آگیا
“بابا کی طبیعت خراب تھی کسی نے مجھے بتایا کیوں نہیں” اسکے سوال کا جواب دیے بنا اسنے خفگی سے کہا
“ہمیں انکل نے ہی منع کیا تھا وہ نہیں چاہتے تھے تم پریشان ہو لیکن اب انکی طبیعت زیادہ خراب تھی وہ تمہیں یاد بھی کررہے تھے تو آنتی نے تمہیں بلوا لیا” اسنے اسے تفصیل سے بتایا
“تم خوش ہو”
“اس سے کیا فرق پڑتا ہے”پریشے کے کہتے ہی اسنے دونوں کے درمیاں موجود چند قدم کا فاصلہ مٹایا
“کیوں نہیں پڑتا اگر تم خوش نہیں ہو تو یہاں آجاؤ اپنے گھر والوں کے پاس ہم ہیں تمہارے ساتھ معتصم تمہارے ساتھ کچھ برا نہیں کرسکتا”
“وصی پلیز میرے معاملے سے دور رہو اپنے گھر اور بیوی پر توجہ دو”
“میں چاہ کر بھی عینہ کے بارے میں ایسا کچھ نہیں محسوس کررہا ہوں جیسا تمہارے لیے کرتا ہوں پریشے مجھے تم پسند ہو اور میں تمہیں تم پلیز میرے پاس لوٹ آؤ میں لڑوں گا تمہارے لیے معتصم سے پہلے میں سب گھر والوں کی خاطر عینہ سے شادی کے لیے مان گیا تھا لیکن اب ضرورت پڑی تو میں ان گھر والوں سے بھی لڑ لوں گا” پریشے کے دونوں کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر اسنے اسے اپنے قریب کرنا چاہا
جب ہی بھاری ہاتھ کا زور دار پنچ اسکے منہ پر پڑا جس سے وہ تھوڑی پیچھے کی طرف جاگرا
“معتصم تم یہاں کیا کررہے ہو” اسے اس وقت یہاں دیکھ کر پریشے کو کافی حیرت ہوئی تھی
آواز سن کر تقریبا سب گھر والے ہی باہر آچکے تھے اور حیرت سے یہی پوچھ رہے تھے کہ وہ اس وقت یہاں کیا کررہا ہے کیونکہ پریشے انہیں بتاچکی تھی کے وہ گاؤں جاچکا ہے
“ہاتھ لگانا تو دور اگر آج کے بعد تم نے میری بیوی کی طرف دیکھا بھی تو تمہاری آنکھیں نکالنے میں بلکل دیر نہیں کروں گا” اسنے سخت لہجے میں وصی کو دیکھتے ہوے کہا جو اپنی ناک سے نکلتا خون صاف کررہا تھا
“معتصم یہاں کیسے آنا ہوا وصی نے کیا کردیا ہے” حفصہ نے آگے بڑھ کر اس سے پوچھا لیکن وہ بنا کسی کی بات کا جواب دیے پریشے کا ہاتھ پکڑ کر لے جا چکا تھا
°°°°°
“معتصم میرا ہاتھ چھوڑو یہ کیا طریقہ ہے” اسنے اپنا ہاتھ چھڑانے کی جدو جہد کی لیکن اسنے بنا اسکی کسی بات کا جواب دیے اسے گاڑی میں بٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر کار اسٹارٹ کردی جس کی رفتار وہ تیز سے تیز کرے جارہا تھا
“تم یہاں کیا کررہے ہو تم مجھے میرے گھر سے زبردستی لے کر جارہے ہو پتہ نہیں سب لوگ کیا سوچ رہے ہوں گے اور تم نے وصی پر ہاتھ کیوں اٹھایا”
“بہت تکلیف ہورہی ہے تمہیں”
“ہاں ہورہی ہے” اسکی گرفت اسٹیرنگ پر سخت ہوگئی اور پریشے کے کہتے ہی اسنے گاڑی کی اسپیڈ مزید تیز کردی
“معتصم پلیز اسپیڈ سلو کرو” اسنے چلاکر کہا لیکن وہ اسکی سن ہی کب رہا تھا
اسکی رویے پر وہ پریشان ہورہی تھی پتہ نہیں ایسی کیا بات ہوئی جو معتصم کو اتنا غصہ دلا دیا اس وقت ویسے بھی اس سے کچھ کہنا بےکار تھا وہ اس وقت اسکی سن ہی کہاں رہا تھا
اسنے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور تب ہی زہہن میں شادی سے پہلے اماں جان کی کہی باتیں گونجنے لگیں
°°°°°
“تمہیں پتہ ہے پری میں نے تمہارے اس رشتے کے بارے میں بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے اور یہ بات میں تمہیں آج ہی بتا دینا چاہتی ہوں تاکہ تمہارے دل میں میری طرف سے کوئی میل نہ رہے”
“اماں جان ایسی باتیں نہیں کریں میرے دل میں آپ کے لیے کوئی میل نہیں ہے”
“میں جانتی ہوں میری بچی پھر بھی میں یہ بات تم سے آج کہنا چاہتی ہوں جو میں نے آج تک کسی کو نہیں بتائی تم جاننا چاہتی تھیں نہ ہمیشہ سے کہ تمہارے دادا جان تمہارے بابا کو پسند کیوں نہیں کرتے تھے” انکے کہنے پر اسنے آہستگی سے اپنا سر ہلایا وہ اس سے کیا کہنے آئی تھیں اسے سمجھ نہیں آرہا تھا
“میری تمہارے دادا سے دوسری شادی ہوئی تھی جن سے میری پہلی اولاد یعنی تمہارے چاچا ہوے تھے تمہارے دادا نے اسلیے کبھی بھی ظفر کو پسند نہیں کیا کیونکہ وہ انکی اولاد نہیں تھا وہ کسی اور کی اولاد تھا”
“کس کی”
“جمال شاہ کی”
“کون جمال شاہ”
“معتصم شاہ کا دادا”
“میری پہلی شادی جمال شاہ سے ہوئی تھی ہم نے یہ نکاح بنا کسی کو بتاے کیا تھا وہ ہمیشہ مجھے یہ بات کہتے تھے کہ انکی پہلے ہی ایک شادی ہوچکی ہے لیکن وہ اس عورت کو پسند نہیں کرتے صرف زبردستی کا رشتہ ہے کبھی یہ تک بھی نہیں بتایا تھا کے انکی اولاد بھی ہے”
“جب مجھے یہ خبر ملی کے تمہارا باپ اس دنیا میں آنے والا ہے تو میں گھبرا چکی تھی ہم نے نکاح کیا تھا لیکن یہ بات ہم کس کس کو بتاتے پھرتے میں نے تو یہ بات اپنی ماں اپنے واحد رشتے سے بھی چھپائی ہوئی تھی کے میرا نکاح ہوا ہے وہ پہلے ہی بیمار رہتی تھیں جب انہیں میرے امید سے ہونے کی خبر ملی تو انہیں بھی یہی لگا کے میں نے کچھ غلط کیا ہے اور اسی صدمے میں وہ چلی گئیں”
“ظفر کے پیدا ہوتے ہی میں اسے حویلی لے گئی کیونکہ اسکے آنے کی خبر ملتے ہی جمال نے مجھ سے ملنا بھی ترک کردیا اور فون بھی اٹھانا چھوڑ دیا تھا میں اسکے گھر گئی تو وہ اس وقت حویلی میں اکیلا تھا میں نے جب اس سے بات کی اسے اسکا بیٹا دکھایا تو اسنے اسی وقت مجھے طلاق دے دی یہ کہہ کر کہ مجھ جیسی عورتیں صرف وقت گزاری کے لیے ہوتی ہیں”آہستہ آہستہ وہ اسے ہر بات بتاتی چلی گئیں اور وہ حیرت سے بت بنی انہیں سنتی جارہی گئی
“میں تمہارے باپ کو لے کر وہاں سے آگئی میرے پاس کوئی رشتہ نہیں تھا اسلیے میں اپنی دوست کے پاس چلی گئی وہ میرے بارے میں سب کچھ جانتی تھی اور مجھ پر بھروسہ بھی کرتی تھی میں نے اسے ہر طرح کا ثبوت بھی دکھایا جسے دیکھنے کے بعد وہ مجھ سے یہی کہتی تھی کے میں جمال شاہ کو سزا دلواؤں لیکن مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی کے میں ایسا کچھ کرپاتی”
“اسنے اپنے بھائی سے یعنی تمہارے دادا سے میری شادی کروادی وہ بہت اچھے تھے میرے بارے میں سب کچھ جانتے تھے لیکن انہوں نے ظفر کو کبھی نہیں اپنایا انکے نزدیک وہ ایک پرائی اولاد تھا تمہارے باپ نے بچپن سے ہی بہت تکلیفیں اٹھائیں ہیں اسلیے میں نہیں چاہتی کہ بیٹی پر طلاق کا دھبہ لگ جانے سے وہ مزید تکلیف میں آجاے”
“تمہاری میری ظفر حفضہ ہم سب کی جگہ وہیں ہے پری بھلے جمال نے مجھے چھوڑ دیا لیکن تم سب کا اصل گھر ہے تو وہی اور میری یہی خواہش تھی کہ تم لوگ اپنے اس اصل گھر میں جاؤ میرے باقی بچے نہیں جاسکے پری لیکن تمہیں یہ موقع ملا ہے اور میں اسے ضائع نہیں کرنا چاہتی ہوں”
“آپ مجھے اس گھر میں بھیجنا چاہتی ہیں اماں جان جہاں سے آپ کو نکالا گیا تھا”
“ہاں کیونکہ وہ سب میری نصیب میں نہیں تھا لیکن تمہارے نصیب میں ہے مجھے لوگوں کی پہچان ہے پری اور میں جانتی ہوں معتصم اپنے دادا سے الگ ہے بہت الگ وہ تمہیں بہت خوش رکھے گا لیکن بدلے میں تم بھی اسے وہی خوشی وہی سکون دینا جو وہ تمہیں دے گا”
°°°°°
حویلی پہنچتے ہی وہ اسے لے کر اندر چلا گیا جہاں سب لاؤنج میں بیٹھے تھے جبکہ دادا سائیں کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ تھی
سب کو سلام کرکے وہ اسے لے کر اندر کی طرف جانے لگا جب دادا سائی کی بات نے اسکے ںڑھتے قدم روک دیے
“لے آے اپنی بیوی کو معتصم کیا ہم نے کچھ غلط کہا تھا”
“کیا کہا تھا آپ نے” پریشے نے انہیں دیکھتے ہوے کہا
“پری اندر چلو”
“نہیں مجھے جاننا ہے انہوں نے کیا کہا تھا”
“ہم نے یہ کہا تھا کہ اگر تمہاری بیوی تمہیں اپنے سابقہ منگیتر کے ساتھ ملے تو اسے یہاں لے کر آنا اور اپنے ہاتھوں سے اسکا قتل کردینا” انکے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی اپنی جگہ سے اٹھ کر وہ چلتے ہوے انکے قریب آگئے
“قتل کے علاؤہ کچھ اور نہیں آتا آپ کو دادا سائیں” اسنے “دادا سائیں” پر زور دے کر کہا
“بتا چکی ہے آئرہ مجھے کہ کس طرح آپ نے اپنی جھوٹی غیرت کے نام پر اپنی بیوی اور بھائی کا قتل کیا تھا” اسنے کہتے ہی دادا سائیں کا چہرہ غصے سے سرخ ہوچکا تھا جبکہ معتصم اور وہاں موجود باقی سب افراد کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا بھلا کس نے آج تک ہمت کی تھی جمال شاہ سے اس طرح بات کرنے کی
“پریشے کمرے میں چلو یہاں تماشہ لگانے کی ضرورت نہیں ہے” سختی سے اسکا بازو پکڑ کر وہ اسے لے جانے لگا جب اسنے اپنا بازو اس سے چھڑالیا
“میں تماشہ لگا رہی ہوں تماشہ تمہارے دادا سائیں نے لگایا اپنی سو کالڈ غیرت کے نام پر جھوٹ بول کر”
“اپنی بکواس بند کرو لڑکی” دادا سائیں کی دھاڑتی آواز اس جگہ گونجی
“اگر یہ آپ کو بکواس لگتی ہے تو بکواس ہی سہی کروں گی میں یہ بکواس جو سچ ہے بتاؤں گی سب کو” اسکے چلانے پر دادا سائیں کا ہاتھ اٹھا جو بیچ میں ہی روک لیا جا چکا تھا انہوں نے حیرت سے معتصم کی طرف دیکھا
“تم نے ہمارا ہاتھ روکا”
“معاف کیجیے گا دادا سائیں آپ کا ہاتھ روکا لیکن اگر کوئی میری بیوی پر ہاتھ اٹھاے گا تو یہ میں برادشت نہیں کروں گا”
“تمہیں دکھ نہیں ہے وہ کیا بکواس کررہی ہے” عماد صاحب نے اپنی جگہ سے اٹھ کر غصے سے کہا
“بلکل دکھ رہا ہے چاچا سائیں لیکن یہ کوئی بھی غلطی کرے گی بدتمیزی کرے گی یا کچھ بھی کرے گی اسے سزا میں خود دوں گا لیکن کوئی اور ایسا کرے یہ حق میں نے کسی کو نہیں دیا ہے چلو میرے ساتھ” انہیں جواب دے کر وہ اسے وہاں سے لے جانے لگا جب دوبارہ اپنا ہاتھ چھڑاتی وہ دادا سائیں کے قریب جاکر کھڑی ہوگئی
“مجھے جانتے ہیں میں کون ہوں” اسکا پراسرار انداز سب کو کھٹکنے پر مجبور کرچکا تھا
“میں ہوں پریشے شاہ ظفر شاہ کی بیٹی وریشہ اور جمال شاہ کی پوتی” اسکے کہے الفاظ دادا سائیں کو سن کر چکے تھے