قسط: 27 حصہ 1
“یہ کیا ہے معتصم” عماد صاحب نے معتصم کے ہاتھ میں موجود ان پیپرز کے بارے میں پوچھا جس کے جواب میں اسنے وہ پیپرز انکی طرف بڑھا دیے
“یہ سب دیکھنے کے بعد آپ کیا کہنا چاہیں گے دادا سائیں اب بھی آپ اس سب کو جھوٹ قرار دیں گے چاچی سائیں جھوٹ کہہ رہی ہیں بھابھی جھوٹ کہہ رہی ہیں اور یہ پیپرز بھی جھوٹ کہہ رہے ہیں”عصیم کی سنجیدہ آواز سن کر دادا سائیں نے اپنا جھکا سر اٹھا کر عالم کو دیکھا
جو بےیقینی سے انہیں دیکھ رہا تھا عالم شاہ انکا لاڈلا پوتا انکا ہر حکم ماننے والا لیکن آج یہ عالم وہ نہیں لگ رہا تھا جو انکا ہوتا تھا آج اسکی آنکھوں میں انکے لیے عضہ اور بےیقینی تھی
“دیکھو تم سب ہماری بات سنو” انہوں نے کچھ کہنا چاہا جب پریشے کا موبائل بج اٹھا جہاں حفضہ کی کال آرہی تھی جسے دیکھ کر اسنے فورا پک کرلی معتصم اسے جس طرح غصے میں زبردستی گھر سے لے کر آیا تھا یقیناً گھر میں یہ بات سب کو پریشان کرچکی ہوگی
“پری تم پلیز جلدی سے آجاؤ بابا کو ہارٹ آٹیک ہوا ہے وہ اس وقت ہاسپٹل میں ہیں”اسکی بات سن کر اسنے اپنے شل ہوتے حواس کو قابو میں کیا اور اس سے ہاسپٹل کا نام پوچھا
“میرے بابا ہاسپٹل میں ہیں مجھے انکے پاس جانا ہے”کال کٹتے ہی اسنے بھیگی آواز میں کہا
“فکر مت کرو ہم ابھی ہاسپٹل چلتے ہیں نام بتاؤ” ثقلین صاحب نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا اور اسکے ہاسپٹل کا نام بتاتے ہی عالم کی طرف دیکھا
“عالم گاڑی نکالو” انکے کہنے پر عالم اپنا سر ہلاکر باہر چلا گیا
°°°°°
وہ سب پریشانی میں ہاسپٹل پہنچے تھے ظفر صاحب کو میجر ہارٹ آٹیک آیا تھا اور اس وقت انکی حالت بہت خراب تھی
سب انکے لیے دعا گو تھے اس وقت بھی وہ عصر کی نماز پڑھ کر مسجد سے نکل رہا تھا جب جیب میں رکھا اسکا موبائل وائیبریٹ ہونے لگا اسنے موبائل جیب سے نکال کر دیکھا دادا سائیں کی کال آرہی تھی یہ تیسری کال تھی جو وہ اسے کررہے تھے اس سے پہلے انکی کی گئی کالز اسنے نہیں اٹھائی تھیں لیکن اسے یہ بھی پتہ تھا کہ جب تک وہ ان سے بات نہیں کرے گا وہ اسی طرح فون کرتے رہیں گے اسلیے چند پل سوچ کر اسنے کال پک کرلی
“کیسا ہے وہ” انہوں نے اسکے فون اٹھاتے ہی پوچھا
“آپ کو کوئی فرق پڑتا ہے”
“اپنے دادا سائیں سے ناراض ہو عالم”ایک تلخ مسکراہٹ انکے لبوں پر آئی
“دادا سائیں میں اب تک اس بات پر یقین نہیں کر پارہا ہوں میرے نزدیک تو آپ دنیا کے سب سے اچھے انسان تھے لیکن جو سچائی آج میرے سامنے آئی ہے اس نے مجھے اپنی سوچ پر افسوس کرنے پر مجبور کردیا ہے کہ میں ایسے انسان جیسا بننا چاہتا تھا ایسے انسان پر آنکھیں بند کرکے یقین کرلیتا تھا”
“تمہیں پتہ ہے عالم تم ہمارے سب سے لاڈلے پوتے ہو جب تم ہماری عزت کرتے ہو ہمیں ادب سے بلاتے ہو تو قسم سے سینہ چوڑا ہوجاتا ہے ہمیں خود اپنے آپ پر بےحد فخر محسوس ہوتا ہے جب تم سب لوگ ہماری عزت کرتے ہو لیکن اب ہمیں لگ رہا ہے ہم اب تم سب کے سامنے شاید نظریں بھی نہ اٹھا سکیں گے غلطی ہماری تھی اور ہمیں کبھی نہ کبھی تو اسکی سزا ملنے ہی تھی”
“وہ سزا اب لکھی تھی ہم بس یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے بیٹے کا خیال نہیں رکھ سکے اس بیٹے کا جس کا نام بھی ہمیں نہیں پتہ ہے تم لوگ اسکا خیال رکھ لینا اکثر جب ہم یہ باتیں سوچتے تھے تو خود پر بہت افسوس ہوتا تھا غصہ آتا تھا لیکن ہم کچھ نہیں کرسکتے تھے کیونکہ ہم ماضی کے ان باب کو کھولنا نہیں چاہتے تھے ڈرتے تھے کہ جس عزت کے لیے یہ سب کیا ہے وہ نہ چھن جاے لیکن اس سب کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا جس عزت کے لیے اتنا کچھ کیا تھا اب وہی نہیں رہی ہم اپنے بچوں کی نظروں میں گر گئے ہوسکے تو ہمیں معاف کر دینا”انکی آواز رندھ چکی تھی جبکہ عالم کو کچھ گڑبڑ کا احساس ہورہا تھا
“دادا سائیں آپ ٹھیک ہیں” اسنے بےچینی سے پوچھا لیکن دوسری طرف سے رابطہ کٹ چکا تھا
اسنے اگلے کی لمحے آئرہ کا کال ملائی
“آئرہ فورا دادا سائیں کے پاس جاؤ جاکر انہیں دیکھو” اسنے بےچینی سے کہا اور اسکی بےچینی دیکھ کر وہ بنا سوال کیے دادا سائیں کے کمرے کی طرف بھاگ گئی
°°°°°
“ظفر اب ٹھیک ہے لیکن اسے ابھی تک ہوش نہیں آیا”اسکے ہاسپٹل میں آتے ہی ثقلین صاحب نے اسکے قریب آکر کہا لیکن پھر اسکی حالت دیکھ کر چونک اٹھے
“عالم کیا ہوا ہے سب ٹھیک ہے”
“دادا سائیں انہوں نے خود خوشی کرلی ہے ملازم انہیں گاؤں میں موجود ہاسپٹل لے کر گئے ہیں اور پتہ نہیں وہاں کیا حالات ہیں”
“ہم سب ابھی گاؤں چلتے ہیں تم فکر مت کرو بابا سائیں کو کچھ نہیں ہوگا”
اسکی بات سن کر وہ خود بھی گھبرا چکے تھے لیکن اس وقت عالم کی حالت زیادہ خراب لگ رہی تھی
°°°°°
گاؤں میں موجود ہاسپٹل پہنچتے ہی انہیں جو خبر ملی تھی وہ انکے پیروں سے زمین نکال چکی تھی
عالم کے فون کاٹتے ہی آئرہ انہیں دیکھنے جارہی تھی اور جب ہی حویلی میں تیز آواز گونجی اسکے چلتے قدم مزید تیزی سے دادا سائیں کے کمرے کی طرف بڑھے
جب اسنے کمرے کا دروازہ کھولا تو خوف سے اسکے قدم وہیں جم گئے انہوں نے اپنی بندوق سے خود کو گولی مار لی تھی
ملازموں سے کہہ کر وہ انہیں ہاسپٹل پہچانے میں کامیاب ہوئی تھی اس کام کے بعد اسنے عالم کو فون کرکے یہاں کی صورتحال بتادی کیونکہ سارے مرد تو شہر جاچکے تھے
جب تک وہ نہیں آے تھے سارے معاملات اسی نے سمبھالے تھے اور ان سب کے آنے سے چند منٹ پہلے ہی جو کوشش ڈاکٹر کررہے تھے وہ ناکام ہوچکی تھی
°°°°°
آج دادا سائیں کو گئے ہوے تیسرا دن تھا پریشے صبح ہی واپس شہر جاچکی تھی کیونکہ ظفر صاحب ابھی تک ہاسپٹل میں موجود تھے
جبکہ باقی کے گھر والوں کے ہوتے ہوے بھی حویلی میں سوگ چھایا ہوا تھا کس نے سوچا تھا کہ یہ سب کچھ ہوجاے گا اس سب کا سب سے زیادہ اثر جس نے لیا تھا وہ عالم تھا کیونکہ وہی دادا سائیں کے سب سے زیادہ قریب تھا
“عالم کھانا کیوں نہیں کھایا” اس کی آواز سن کر عالم نے چونک کر اسکی طرف دیکھا
“میں کھا چکا ہوں”
“کوئی نہیں کھایا بس چند نوالے ہی لیے تھے وہ کوئی کھانا نہیں ہوتا”
“آئرہ مجھے کچھ نہیں کھانا بس تم میرے پاس بیٹھو یہاں آؤ” اسے اپنے قریب بٹھا کر عالم نے اسے اپنے حصار میں لے لیا
“آپ ٹھیک ہیں”
“ہاں بس دادا سائیں کی یاد آرہی تھی تمہیں پتہ ہے آئرہ میں ان سے بہت محبت کرتا تھا اپنے ماں باپ سے زیادہ قریب میں انکے تھا میرے لیے وہ اس دنیا میں سب سے زیادہ اہم تھے”
“لیکن اب وہ نہیں ہیں ہم انکے لیے دعا کے علاؤہ اور کچھ نہیں کرسکتے عالم آپ ان کے لیے دعا کریں”اپنے نرم ہاتھوں سے اسنے عالم کے گالوں پر موجود آنسو کو صاف کیا
جبکہ اسکی بات پر اپنا سر ہلاکر مسکراتے ہوے عالم نے اسے مزید سختی سے اپنے حصار میں لے لیا
°°°°°
“تم سے کچھ بات کرنی ہے پری باہر چل سکتی ہو” اسکی آواز سن کر پریشے نے اسکی طرف دیکھا سفید رنگ کے کمیز شلوار میں وہ بہت تھکا تھکا لگ رہا تھا
آج ظفر صاحب نے ڈسچارج ہوجانا تھا حویلی سے آے ہوے آج اسے دوسرا دن تھا یہاں رہ کر بھی اسکا سارا دھیان معتصم کی طرف تھا اسے اس وقت اپنی بیوی کی ضرورت تھی لیکن وہ یہاں تھی یہ بات سوچ کر اسے خود پر غصہ آرہا تھا اسے اپنے شوہر کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے تھا
اسلیے اسنے یہی سوچا تھا کہ ظفر صاحب کے ڈسچارج ہوتے ہی وہ واپس حویلی چلی جاے گی لیکن اس سے پہلے ہی معتصم اب یہاں موجود تھا
“میں انتظار کررہا ہوں تم باہر آجاؤ” بنا اسکی بات سنے وہ باہر چلا گیا جس پر کچھ دیر سوچ کر وہ بھی باہر ہی چلی گئی ہاسپٹل کے باہر بنی بینچ پر وہ ٹانگ پر ٹانگ جماے بیٹھا تھا
خاموشی سے جاکر وہ بینچ پر اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گئی
“کیا یہ سب میری وجہ سے ہوا”
“کیا” اسنے اچھنبے سے کہا
“تمہارے بابا کی جو حالت ہے شاید اسکا ذمیدار میں ہوں”
“اور تم کیسے ذمیدار ہوے انکی حالت کے”
“ڈاکٹر نے کہا ہے انہوں نے کسی چیز کا اسٹریس لیا ہے میں نے کتنا تماشہ لگایا تھا وہاں تمہارے گھر پر کس طرح زبردستی کرکے تمہیں وہاں سے لے کر آیا تھا میں بس تمہیں گھر لے جانے کے لیے آیا تھا تاکہ دادا سائیں جو تمہارے بارے میں کچھ کہنے کا موقع نہ ملے لیکن پھر تمہیں اس شخص کے اتنے قریب رکھ کر میں غصے پر قابو نہیں رکھ پایا”
”معتصم اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے” پریشے کی بات سن کر اسنے اپنے گھنے بالوں میں ہاتھ پھنسا کر گہرا سانس لیا
“پری ماں باپ کیا ہوتے ہیں میں بہت اچھے سے جانتا ہوں انکی اہمیت کیا ہوتی ہے میں جانتا ہوں میں بہت چھوٹا تھا جب ایک کار ایکسیڈنٹ میں وہ دونوں مجھے چھوڑ کر چلے گئے شاید دس سال یا بارہ یاد نہیں” اسنے اپنے شانے آچکاے
“میں اس بھری دنیا میں اپنے اپنے آپ کو بہت تنہا محسوس کرنے لگا تھا سب کو میری یہ تنہائی محسوس ہورہی تھی اسلیے ہر کوئی مجھے بھرپور توجہ اور محبت دینے لگا سب نے مجھے لاڈو میں پالا تھا میں جس چیز کی فرمائش کردیتا اسے میرا کردیتے اور میری یہی عادت تمہارے معاملے میں بھی رہی”
“مجھے تم سے محبت ہوئی تھی اور پھر تم میری ضد بن گئیں میں بس کسی بھی طرح ہمیشہ اپنی پسند کی ہوئی چیز کو اپنانا چاہتا تھا اسکے لیے مجھے جو راستہ ٹھیک لگا میں نے اپنا لیا تم میری محبت تھیں اور پھر تم میری محرم بنیں اور مجھے اپنے محرم سے عشق ہوگیا بےانہتا ، میں نے تم سے زبردستی نکاح صرف اسلیے کیا تھا تاکہ مجھے یہ اطمینان رہے کہ تم میری ہو” اسنے ایک گہری سانس اندر کی طرف کھینچی
“تم اپنی ضد میں میری ماں کو بھی بیچ میں میں لے آے تم نے کہا تمہیں اندازہ ہے کہ ماں باپ کیا ہوتے ہیں پھر بھی تم نے وہ ایکسیڈنٹ کروادیا”
“نہیں میں نے کچھ نہیں کیا تھا وہ سب صرف ایک حادثہ تھا جو کسی بھی انسان کے ساتھ ہوجاتا ہے میں نے بس اس سب کا فائدہ اٹھایا تھا تاکہ تم ڈر کر مجھ سے نکاح کرلو” یہ بات پریشے کے لیے کافی حیران کن تھی
“لیکن میں نے جو کیا تھا وہ غلط تھا میں کون ہوتا ہوں تمہیں اپنی زندگی میں زبردستی شامل کرنے والا یہ تمہاری زندگی ہے اور تمہیں اس پر پورا اختیار ہے میں جانتا ہوں کہ ، کہ وصی آج بھی تمہارا منتظر ہے میں پرسوں کی فلائٹ سے کینیڈا جارہا ہوں ہمارے گھر میں تمہارا انتظار کروں گا اگر تم آگئیں تو میں یہی سمجھوں گا کہ تم نے اس رشتے کو قبول کرلیا ہے”
“اور اگر میں نہیں آئی تو”
“تو میں تمہیں” اسے جیسے الفاظ ادا کرنے مشکل لگ رہے تھے
“میں تمہیں آز–آزاد کردوں گا” اپنی بات کہہ کر وہ رکا نہیں تھا