عشق محرم

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 28

(پانچ سال بعد)
“ایسے گھور کیوں رہی ہو”
“دو گھنٹے پہلے میں نے فون کیا تھا اور تم اب آرہے ہو”
“سوری جان کام میں پھنس گیا تھا تم غصہ مت کرو تمہاری صحت کے لیے اچھا نہیں ہے” معتصم نے نرمی سے اپنی ناراض بیوی کو دیکھتے ہوے کہا جو باہر بیٹھی اسکا ہی انتظار کررہی اور اب اس کے وہاں پہنچتے ہی اس کمرے میں جارہی تھی جہاں عینہ تھی
“سب پتہ ہے مجھے میری کوئی فکر نہیں ہے بس اپنے بےبی کی فکر ہے”
“ہاں بےبی کی فکر تو ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بےبی سے زیادہ اپنی بیوی کی فکر ہے”
معتصم نے گہری نظروں سے اسکے وجود کو دیکھتے ہوے کہا اور اسکے ساتھ ہی کمرے میں داخل ہوگیا
جہاں عینہ مظفر صاحب الماس بیگم حفصہ اور وصی موجود تھے جبکہ باقی گھر کے افراد بھی ان سے ملنے کے لیے آنے والے تھے
اسنے سب سے پہلے وصی کو مبارک باد دی اور اسکے بعد کاٹ میں لیٹے اس ننھے وجود کو دیکھا
“کیسی لگی”وصی نے راے مانگنا ضروری سمجھا
“ماشاءاللہ بہت پیاری ہے اپنے باپ پر جو نہیں گئی”اسکے کہنے پر وہاں سب کی ہنسی چھوٹی جس پر وصی فقط منہ بنا کر رہ گیا
ظفر صاحب کے ٹھیک ہوتے ہی ثقلین صاحب ان سب کو حویلی لے جاچکے تھے کیونکہ انکا یہی کہنا تھا کہ یہ حویلی ہی انکی اصلی جگہ ہے اور اب وہ سب وہیں شاہ حویلی میں رہتے تھے جہاں اب پہلے سے زیادہ چہل پہل ہوتی تھی
°°°°°
“ہم حویلی نہیں جائینگے” ہاسپٹل سے واپسی پر جب گاڑی اسکے گھر کی طرف جاتی دکھائی دی تو پریشے نے اچھنبے سے پوچھا
“نہیں ڈاکٹر نے تمہیں ویسے بھی سفر سے منع کیا تھا حویلی سے یہاں بھی میں صرف تمہاری ضد پر لایا تھا کہ تمہیں عینہ کی بیٹی دیکھنی ہے ہم یہیں رکیں گے کم از کم آج تو حویلی نہیں جائینگے”اسے گاڑی سے اتار کر وہ اندر گھر کے اندر لے گیا
°°°°°
رات کے کسی پہر تکلیف سے اسکی آنکھ کھل چکی تھی اسنے تکلیف میں ہی معتصم کی طرف ہاتھ مارا
نیند تو اسکی ویسے بھی کچی تھی جبکہ ان دونوں پریشے کی وجہ سے وہ نیند میں بھی الرٹ ہوکر سوتا تھا اسکے ہاتھ مارنے پر وہ نیند سے اٹھا لیکن پھر اسکی حالت دیکھ کر نیند بھک کر اڑ گئی بنا وقت ضائع کیے اسنے پریشے کو اپنی گود میں اٹھالیا اور تیزی سے گاڑی ڈرائیو کرکے اسے لے کر ہاسپٹل پہنچا
پریشانی میں اسنے سب سے پہلے صائمہ بیگم کو کال ملائی کیونکہ عینہ سے ملنے کی وجہ سے وہ سب لوگ اسی شہر میں موجود تھے
°°°°°
“میں ہوں عالم شاہ ایک زمیندار” زریام شاہ نے اپنے ڈمپل کی بھرپور نمائش کرتے ہوے کہا اسنے اپنے سائز کے مطابق لائٹ ییلو شرٹ کے ساتھ بلیو جینز پہنی ہوئی تھی جبکہ پریشے کے مفلر کو اس اسٹائل میں اوڑھا ہوا تھا جس طرح عالم اپنی شال ڈالتا ہے
“میں ہوں معتصم شاہ شاہ انتستری کا مالک” ماہر شاہ نے فخر سے کہا
“تم نہیں ہو میں معتصم شاہ میں ہوں معتصم شاہ” یہ آواز ساحر شاہ کی تھی
“تم عصیم شاہ ہو کیونکہ تم انکے بیٹے ہو”
“ہاں تو تم بھی انکے بیٹے ہو ماہر” ساحر نے ناک چڑھا کر کہا
“کتنی بار بولا ہے مجھے لالا بولا کرو بڑا ہوں تم سے”
“صرف چار منٹ بڑے ہو”
“بڑا بڑا ہوتا ہے” وہ اب بھی اپنی بات پر قائم تھا
“بس کرو تم دونوں اسلیے میں نہیں کھیلتا تم دونوں کے ساتھ ہر وقت لڑتے رہتے ہو” زریام نے تنگ آکر کہا جس پر وہ دونوں بھی اپنے کھیل کی طرف متوجہ ہوچکے تھے
“بس بہت ہوا یہ کھیل جاکر جلدی سے تیار ہوجاؤ”
“کیوں مامی سائیں کیا ہوا ہے”
“کتنی بار بولا ہے کہ یہ بڑی امی ہیں” اپنے چھوٹے سے ماتھے پر ہاتھ مار کر ماہر نے جیسے ساحر کی عقل پر ماتم کیا
“جی نہیں یہ مامی ہیں”
“نہیں یہ بڑی امی ہیں”آئرہ نے گہرا سانس لے کر ان دونوں کو دیکھا ساحر اور ماہر جن میں پیار محبت کم اور لڑائی جھگڑا زیادہ پایا جاتا تھا دکھنے میں وہ دونوں بلکل ایک جیسے تھے اگر کپڑے ایک جیسے پہن لیتے تو گھر کے افراد بھی کنفیوژ ہوجاتے تھے کہ ساحر کون ہے اور ماہر کون
“بس بند کرو یہ بحث خالا چچی مامی بڑی امی جو بولنا ہے بولو لیکن ابھی جاکر تیار ہوجاؤ”
“تیار کس لیے اماں سائیں ہم کھیل رہے ہیں” زریام نے منہ بنا کر اپنی ماں کو دیکھا
“تیار اس لیے میرے لال کیونکہ آپ سب کی پرنسسز آچکی ہے”
“کیاااا” وہ تینوں ایک ساتھ چیخ مار کر وہاں سے بھاگ گئے کیونکہ انہیں تیار ہوکر اپنی پرنسسز کے پاس جانا تھا حویلی میں ان بچوں کو جس چیز کی خواہش تھی وہ تھی ایک لڑکی جسے وہ اپنی پرنسسز کہتے اور اب انکی پرنسسز آگئی تھی
°°°°°
“بابا سائیں اٹھ جائیں پرنسسز آگئی ہے”وہ بھاگتا ہوا کمرے میں آیا اور سوتے ہوے عالم کی مونچھ کھینچ کر اسے جگانے لگا
“تم دونوں ماں بیٹے کو پتہ نہیں میری مونچھ سے کیا دشمنی ہے”
“بابا سائیں پرنسسز آگئی ہے اس سے ملنے جانا ہے اٹھ جائیں” اسے دوبارہ لیٹتے دیکھ کر وہ اسکے پیٹ پر بیٹھ کر اسے اٹھانے لگا جب آئرہ کمرے میں داخل ہوئی
“اٹھ گیا میں بس خوش جاؤ جلدی سے تیار ہوجاؤ ایسی حالت میں تو نہیں جاؤ گے نہ اپنی پرنسسز سے ملنے کے لیے جاؤ اماں سائیں کے پاس وہ تیار کردیں گی”
“اماں سائیں تیار کردیں” بیڈ سے اتر کر وہ آئرہ کے قریب آیا
“اپنی نہیں میری اماں سائیں کے پاس جاؤ”
“اوہ اچھا”عالم کی بات سنتے ہی وہ کمرے سے بھاگ گیا کیونکہ اسے تیار ہونے کی جلدی تھی
اسکے کمرے سے جاتے ہی وہ آئرہ کے قریب آیا اور اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لے لیا جو الماری سے اپنے کپڑے نکال رہی تھی
“تم نے میری نیند خراب کردی ہے”
“میں نے کب کی آپ کے لاڈلے نے کی ہے”
“لیکن اسے بھیجا تو تم نے ہی ہوگا”
“ہاں تو اگر میں اٹھانے آتی تو آپ پھر مجھے تنگ کرتے”
“وہ تو میں اب بھی کروں گا”
“عالم نہیں جاکر تیار ہوجائیں” اسکی بات کو نظر انداز کرکے اسنے آئرہ کے بھرے بھرے وجود سے چادر ہٹائی اور جھک کر اسکے پیٹ پر اپنے لب رکھ دیے
“عالم”
“جان عالم اتنے پیار سے مت بولا کرو پھر میری نیند نہیں نیت خراب ہو جاتی ہے” اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لے کر وہ اسکے لبوں پر جھک گیا
°°°°°
اپنی گود میں دو سال کے شاہ میر کو لیے وہ جلدی سے کمرے سے نکلی ہاتھ میں اسنے شاہ میر کا سارا سامان پکڑا ہوا تھا تاکہ اسے جلدی سے تیار کرکے عصیم کے آتے ہی فورا باہر سے ہی ہاسپٹل کے لیے نکل جائیں جو آدھے گھنٹے کا کہہ کر ایک گھنٹے میں بھی نہیں آیا تھا
وہاں رکھے چھوٹے سے کاؤچ پر اسنے شاہ میر کو لٹا دیا اور اسکے کپڑے پہنانے لگی کیونکہ اس وقت اسنے صرف پیمپر پہنا ہوا تھا
“اماں سائیں”ساحر کی آواز پر اسنے مڑ کر دیکھا اور حیرت سے اسکا منہ کھلا رہ گیا کیونکہ اسکے سارے کپڑوں پر کیچپ گرا ہوا تھا
“یہ کیا کردیا”
“میں نے نہیں کیا اماں سائیں یہ ساحر نے میرے اوپر گرایا ہے” اسنے تھوڑے فاصلے پر کھڑے ماہر کی طرف اشارہ کیا
“نہیں اماں سائیں یہ جھوٹ بول رہا ہے یہ اسنے خود اپنے اوپر گرایا تاکہ مجھ پر الزام لگا سکے اور میری ڈانٹ پٹے اور یہ ساحر ہے میں ماہر ہوں” اسنے جلدی سے صفائی پیش کی
“چلو تم میرے ساتھ دماغ خراب کردیا تم لوگوں نے میرا سب ہاسپٹل جاچکے ہیں ایک میں ہی ان آفتوں میں پھنسی ہوئی ہوں” ساحر کا ہاتھ پکڑ کر وہ اسے اندر کی طرف لے گئی اور جلدی جلدی اسکے کپڑے چینج کروا کر باہر نکلی
لیکن کاؤچ پر اب شاہ میر نہیں تھا خالی کاؤچ دیکھ کر اسنے پریشانی سے ارد گرد دیکھا اور پھر وہ اسے مل گیا پیمپر پہنے چھوٹے چھوٹے قدموں سے بھاگتا ہوا وہ باہر کی طرف بھاگ رہا تھا کیونکہ اسکا باپ جو آگیا تھا
عصیم نے جھک کر اسے اپنی گود میں اٹھایا اور اسکے گال پر پیار کردیا
“ادھر آؤ شرم تو آ نہیں رہی ہے ایسے ہی پیمپر پہنے پورے گھر میں گھوم رہے ہو اور آپ بڑی جلدی آگئے” اسے اپنی گود میں کے کر اسنے عصیم کو گھورا
“یار مجھے کیوں ڈانٹ رہی ہو کام میں تھوڑا پھنس گیا تھا اور اسے بھی مت ڈانٹو تم بھی تو پیمپر پہن کر پورے گھر میں گھومتی رہتی تھیں”اسکی بات سن کر کسوا کا منہ کھلا رہ گیا
“آپ کو شرم نہیں آتی میں پیمپر میں گھومتی تھی اور آپ مجھے دیکھتے تھے”
“ایسے نظارے کون مس کرے گا” شرارت سے اسنے کسوا کو دیکھا اور اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ کر اسکا قہقہہ گونجا
°°°°°
“بڑے بابا ہمیں بھی پرنسسز دیکھنی ہے” شرافت سے ایک لائن میں کھڑے ہو کر ان تینوں نے کہا
جس پر مسکراتے ہوے معتصم نے اپنی ننھی سی جان کو اپنی گود میں لیا اور ان تینوں کے برابر بیٹھ گیا تاکہ وہ ٹھیک سے اپنی پرنسسز کو دیکھ سکیں جس کا انہیں کب سے انتظار تھا
“کتنی ملائم ہے” زریام نے اسکے گلابی گالوں کو چھوتے ہوے کہا جس کی آنکھیں بند تھیں لیکن اچانک ہی وہ رونا شروع ہوچکی تھی اور اسے روتے دیکھ کر زریام گھبرا چکا تھا
“بڑے بابا میں نے تو کچھ نہیں کیا”
“ہاں میری جان تم نے کچھ نہیں کیا گھبراؤ مت” اسے گھبراتے دیکھ کر معتصم نے پیار سے کہا
“لالا اسکا نام کیا رکھیں گے” کسوا نے معتصم کی گود سے اسے لے کر کہا
“میرے خیال میں یہی اسکا نام رکھ دیں گے انہیں ہی تو اتنا انتظار تھا پرنسسز کا” اسنے ایک ساتھ بیٹھے ساحر ماہر اور زریام کو دیکھتے ہوے کہا
“جمیلہ رکھ دیتے ہیں” ماہر نے فورا کہا جس پر ساحر نے منہ بنا کر اسے دیکھا
“یہ بھی کوئی رکھنے والا نام ہے ہم تو آصفہ رکھیں گے”
“چھی آصفہ بھی کوئی رکھنے والا نام ہے ہم رائمہ رکھیں گے”
“جی نہیں میرا والا نام رکھیں گے” ساحر نے اپنا ہاتھ اپنی کمر پر رکھا جبکہ اپنے بھائی کی دیکھا دیکھی ماہر بھی میدان میں آگیا
“نہیں میرا والا”ان تینوں کی لڑائی دیکھ کر معتصم گہری سانس لے کر رہ گیا
“میرا خیال ہے ہم خود ہی اسکا نام رکھ لیں گے”
“بلکل اور اسکا نام میں رکھو گی” اب وہ بچی آئرہ کی گود میں تھی
“ویسے اسے دیکھ کر اسکا نام رکھا جائے تو گوری یا گلابو اچھا لگے گا”
“بہت اچھا ہے اگر تمہارے بیٹی ہوئی تو اسکا نام رکھ لینا”عالم کی بات سن کر معتصم نے اپنا مشہورہ دے دیا
“میں تو بس ایک بات بتا رہا تھا نہیں رکھنا تو مت رکھو” اسکی بات سن کر وہ کندھے اچکا کر رہ گیا جبکہ ان سب کو نظر انداز کرکے آئرہ بس اس بچی کا نام سوچ رہی تھی
جو تھوڑی ہی دیر بعد وہ سوچ بھی چکی تھی اور اسکا بتایا ہوا نام سب کو پسند بھی آیا تھا جب ہی سب لوگ جہاں پہلے اسے بےبی یا پرنسسز بلا رہے تھے اب اسکی جگہ نور پکار رہے تھے
°°°°°
حویلی آتے ہی اسکا شاندار استقبال ہوا ثمرین بیگم نے اسکے اور نور کے سر پر نوٹ وار کر ملازم کو دے دیے
پوری حویلی کو سجایا ہوا تھا ہر طرف غبارے پھیلے ہوے تھے جس سے بچے کھیل رہے تھے اور دیوار پر ویلکم بےبی گرل لکھا ہوا تھا اور وہ مسکراتے ہوے اس سجی ہوئی حویلی کو دیکھ رہی تھی
°°°°°
“شاہ آپ یہاں کیا کررہے ہیں”پوری حویلی میں دیکھنے کے بعد بھی جب وہ اسے کہیں نہیں ملا تو اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ چھت پر آگئی جہاں وہ اسے مل چکا تھا
“میں تمہارا انتظار کررہا تھا” کسوا کا ہاتھ پکڑ کر عصیم نے اسے اپنے قریب کرلیا
“جیسے آپ تو جانتے تھے میں آنے والی ہوں”
“بلکل مجھے پتہ تھا تم مجھے ڈھونڈتے ڈھونڈتے یہاں تک آجاؤ گی”
“اچھا تو میں نے آپ کو ڈھونڈ لیا اب نیچے چلیں مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے”
”میں تھوڑی دیر میں آرہا ہوں تم تب تک کمرے میں موجود ان طوفانوں کو بابا سائیں کے کمرے میں پھینک وادو”
“کوئی اپنی اولاد کے لیے اس طرح کہتا ہے”
“اولاد ہی ایسی ہے تو میں کیا کرسکتا ہوں بہت غصہ آتا ہے مجھے جب یہ لوگ میرے رمینس میں اپنی چھوٹی سی ٹانگ آڑاتے ہیں”اسکے کہنے کے انداز پر کسوا کو بے ساختہ ہنسی آگئی
“میں انہیں چچا سائیں کے کمرے میں بھجوا بھی دوں گی تو بھی کوئی فائدہ نہیں وہ واپس اٹھ کر کمرے میں آجائیں گے تو اپنی یہ پلینینگ بند کریں اور نیچے چلیں”
“تو ہم نیچے ہی نہیں جاتے ہیں تاکہ وہ طوفان ہمیں ڈسٹرب ہی نہ کرسکے”
“آپ کیوں میرے معصوم بچوں کے پیچھے پڑے ہیں” اسنے اپنی کمر پر ہاتھ رکھ کر کہا
“ہاں ایک تمہارے بچے معصوم اور انکی ماں معصوم بس ایک باپ ظالم ہے”
“ہاں یہ تو ہے” اسکی بات سن کر بےاختیار کسوا کے لبوں سے نکلا لیکن اپنی کہی بات کا اندازہ ہوتے ہی قدم پیچھے کی طرف کیے وہ بھاگنے لگی
لیکن اس کے نیچے جانے سے پہلے ہی عصیم اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی جاب کھینچ چکا تھا
“بہت ظالم ہوں میں تو تھوڑا ظلم کردیتا ہوں”
“شاہ نہیں میں مذاق” اسکے باقی کے لفظوں کو عصیم نے اپنے لبوں میں قید کرلیا اور کافی دیر بعد اسکی سانسوں کو آزاد کیا
“آپ بہت برے ہیں”
“وہ تو میں ہوں” مسکراتے ہوے اسنے کسوا کو اپنے سینے سے لگا کر آنکھیں موند لیں
°°°°°
اسنے زریام کے بالوں میں ہاتھ پھیرا جو ابھی کچھ دیر پہلے ہی سویا تھا جبکہ سوتے میں بھی اسکے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی جو اسکے گال پر پڑتے ڈمپل کو نمایاں کررہی تھی
آئرہ نے جھک کر اسنے ڈمپل پر اپنے لب رکھے جب اپنے پیچھے سے آتی عالم کی آواز پر اسنے چہرہ موڑ کر اسے دیکھا جو ابھی کمرے میں آیا تھا
“یہ تو غلط بات ہے میرے ڈمپل پر تو تم نے کبھی پیار نہیں کیا”
“ہاں تو آپ کا ڈمپل میرے بیٹے جتنا پیارا نہیں ہے”
“تمہارے بیٹے نے یہ ڈمپل بھی مجھ سے ہی لیا ہے تو ایک جیسا ہی ہوا چلو میرے ڈمپل پر بھی پیار کرو”اسے حکم دے کر اسنے اپنا گال اسکے لبوں کے قریب کیا
چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی اور اس ہلکی سی مسکراہٹ میں بھی اسکا گہرا ڈمپل دکھ رہا تھا
آئرہ نے اسکے ڈمپل پر اپنے لب رکھ دیے
“آئرہ نور کو دیکھ کر اب میرا بھی دل چاہ رہا ہے کہ ہمارے بھی بیٹی ہو” اپنی شال صوفے پر پھینک کر وہ آئرہ کی گود میں لیٹ گیا
“یہ بات تو آپ نے جب بھی کہی تھی جب زریام ہونے والا تھا”
“ہاں اور میں اب بھی کہہ رہا ہوں اور جب تک کہتا رہوں گا جب تک میرے بیٹی نہیں ہوجاتی ہے”
“لیکن میرا اب ایسا کوئی ارادہ نہیں اگر اب بھی بیٹا ہی ہوا تو میرے لیے یہ دونوں ہی کافی ہیں”
“لیکن میرا ارادہ تو ہے”
“تو خود ہی کرتے رہیے گا اور بیٹی بھی خود ہی پیدا کرلیے گا”آئرہ نے اسی اپنی گود سے اٹھانا چاہا لیکن وہ اسی طرح لیٹا رہا اور اسکی گردن پر ہاتھ رکھ کر عالم نے اسکا سر جھکایا اور اپنی پیشانی پر اسکی پیشانی ٹکا دی
“میں کیسے کروں گا میں تو تم سے مکمل ہوں اور تمہارے بنا ادھورا ہوں تو اسلیے تمہیں ہی اس کام میں میری ہیلپ کرنی ہوگی” اسنے معصومیت سے کہا جبکہ اسکی بات سن کر آئرہ نے مسکراتے ہوے اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھے جبکہ اسکا لمس پاکر عالم نے سکون سے اپنی آنکھیں موند لیں
°°°°°
“یہ کتنی پیاری ہے نہ معتصم”
“تم نے اب دیکھا ہے”
“نہیں کہا آج ہے” اپنی جگہ سے اٹھ کر وہ بیڈ پر اسکے قریب آکر لیٹ گیا اور اسکی گود میں موجود نور کو اپنی گود میں لے لیا
“پیاری کیسے نہیں ہوگی معتصم شاہ کی بیٹی ہے” اسکی بات سن کر پریشے نے گھور کر اسے دیکھا
“ہاں اسے دنیا میں تم ہی تو لاے تھے”
“بیوی لانے کا سبب تو میں ہی بنا تھا”
“کتنے بدتمیز ہو تم”
“شاید تم بےشرم کہنا چاہ رہی ہو”
“نہیں میں اس سے بھی بڑا لفظ کہنا چاہتی ہوں لیکن سمجھ نہیں آتا کیا کہوں کیونکہ بےشرم لفظ تمہارے لیے بہت چھوٹا لفظ ہے”
“اب جیسا بھی ہوں تمہارا ہی ہوں”نور کو اپنے سینے پر لٹا کر اسنے پریشے کو اپنے بازو کو حصار میں لے لیا
“میرے ہی رہنا”
“تمہارا ہی رہوں گا” اسکے کہنے پر پریشے نے کھلکھلا کر اسے دیکھا اور دوبارہ اپنا سر اسکے کندھے پر رکھ لیا اور اسکے ایسا کرتے ہی معتصم نے بھی سکون سے اپنی آنکھیں بند کرلیں کیونکہ اسکا سکون اسکی زندگی اسکی بیوی اور بیٹی اسکے پاس تھیں
°°°°°
ختم شد
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial