قسط: 7
“یہ سب کیا ہے بابا سائیں”ان دونوں کے وہاں سے جاتے ہی عفان شاہ نے دادا سائیں کی طرف دیکھتے ہوے کہا
“بلاوجہ بات کو مت بڑھاؤ عفان گھر کی بچی تھی اسے گھر میں ہی آنا تھا تم اپنی بات سے مکر گئے تھے تم بھول گئے وہ رشتہ جو ہم نے ان دونوں کے درمیان طے کیا تھا لیکن ہم نہیں بھولے”
“کون سا رشتہ بابا سائیں رشتے ایسے زبردستی نہیں بنتے میری بیٹی کبھی بھی یہ رشتہ بنانا نہیں چاہے گی اور میں اسکی مرضی کے بنا اس رشتے کو ہونے بھی نہیں دوں گا” وہ چلاتے ہوے کہہ رہے تھے اور انکا لہجہ دادا سائیں کو پسند نہیں آیا تھا اسلیے اپنی جگہ سے اٹھ کر انکے قریب آکر کھڑے ہوگئے
“بھولو مت عفان یہاں بات عالم شاہ کی ہے وہ تمہاری بیٹی کو اب جان سے مار دے گا یا ساری زندگی اسی گھر میں بٹھا کر رکھے گا لیکن اسے کسی اور کے ساتھ شادی نہیں کرنے دے گا کیونکہ وہ اب آئرہ شاہ کو اپنی عزت مان چکا ہے اور تم جانتے ہو عزت کے نام پر پہلے بھی قتل ہوچکا ہے” دادا سائیں کے بات مکمل کرتے ہی عفان شاہ اپنی جگہ جم چکے تھے
یہ سچ تھا کہ پہلے بھی ایک قتل ہوا تھا جو انکی اپنی ماں اور چاچا کا تھا
مزید وہاں رکے بنا وہ اپنے قدم تیز تیز اٹھاتے وہاں سے چلے گئے انکے جاتے ہی دادا سائیں نے سکون سے اپنی آنکھیں موندے لیں انہیں اندازہ تھا کہ اب عفان شاہ اس رشتے سے انکار نہیں کرے گا
انکی آنکھیں ہنوز بند تھیں جب اپنے پیچھے انہیں معتصم کی آواز سنائی دی انہوں نے مڑ کر اپنے خوبرو پوتے کو دیکھا
“کہاں تھے تم معتصم طبیعت تمہاری ٹھیک نہیں ہے اور تم گھر سے باہر نکل رہے ہو کہاں تھے صبح سے”
“دادا سائیں میری طبیعت بلکل ٹھیک ہے بس آپ سے کچھ بات کرنی ہے”
“کہو” دادا سائیں نے گہرا سانس لے کر کہا
جب وہاں پر ثمرین بیگم اور فارینہ بیگم آگئیں انہیں باتیں کرتے دیکھ کر وہ واپس جانے لگیں لیکن معتصم نے انہیں روک لیا
“رک جائیں چچی آپ دونوں بھی میری بات سن لیں” اسکے کہنے پر وہ دونوں بھی وہاں ہر آکر بیٹھ گئیں
“میں شادی کرنا چاہتا ہوں”
“کیا واقعی یہ تو بہت اچھی بات ہے میں آج ہی تمہاری خالا سے بات کرتا ہوں کہ اپنی عشل کو تیار کرلیں معتصم شاہ اپنی منگ لینے آرہا ہے”
“دادا سائیں میں عشل سے شادی نہیں کرنا چاہتا میری زندگی میں کوئی اور ہے” اسکے کہنے پر دادا سائیں نے غصے سے اسے دیکھا
“دماغ ٹھیک ہے تمہارا جانتے نہیں ہو تمہاری منگنی بچپن میں ہی عشل سے ہوچکی تھی”
“دادا سائیں وہ بچپن تھا اسے بھول جائیں ویسے بھی میں نکاح کر چکا ہوں” کوئی بم ہی تو تھا جو اسنے دادا سائیں اور اپنی دونوں چچی پر بھاڑا تھا
“معتصم اندازہ ہے کہ تم کیا کہہ رہے ہو”
“جی دادا سائیں” اسنے اطمینان سے کہا اور اسکا یہ اطمینان دادا سائیں کو مزید تپ دلا چکا تھا
“اگر نکاح کرہی لیا ہے تو ہم سے اجازت کیوں مانگنے آے ہو”
“میں آپ سے اجازت نہیں مانگ رہا دادا سائیں آپ کو بتا رہا ہوں میں نے اس سے نکاح کیا تھا اور وہ بھی اپنے ایکسیڈینٹ سے پہلے اور اب وقت آگیا ہے کہ میں اپنی امانت کو یہاں لے آؤں میں چاہتا ہوں کہ آپ لوگ جاکر اسکا رشتہ مانگیں اور آپ کو خالا جانی کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں ان سے بات کر لوں گا اور مجھے یقین ہے وہ میری بات سمجھ جائینگی” اپنی بات مکمل کرکے وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور وہاں سے جانے لگا جب اسے اپنے پیچھے سے دادا سائیں کی آواز سنائی دی
“اگر ہم اس رشتے سے انکار کردیں اور اسکے گھر رشتہ لے کر نہ جائیں تو”
“تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا جیسے نکاح کیا ہے ویسے یہاں پر بھی لے آوں گا” اسنے بنا مڑے جواب دیا اور وہاں سے چلا گیا
جبکہ دادا سائیں کا غصے سے برا حال تھا معتصم شاہ انکی ہی طرح تھا اگر اسنے کوئی بات کہہ دی تو مطلب وہ اسے پورا کرکے چھوڑے گا
°°°°°
تکیے پر اپنا سر رکھے وہ گم سم سی لیٹی تھی جب کمرے کا دروازہ کھلا اور اماں جان داخل ہوئیں اسنے اپنا رخ موڑ لیا
“میری بیٹی ناراض ہے”اماں جان نے مسکراتے ہوے اسکے سر پر ہاتھ پھیرا
“اماں جان یہ آپ نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ”اسنے منہ پھلا کر انہیں دیکھا
“وقت آنے پر تمہیں پتہ چل جاے گا کہ یہ فیصلہ تمہارے لیے اچھا ہے وہ لڑکا تمہارے لیے اچھا ہے”
“اور یہ آپ کیسے کہہ سکتی ہیں آپ اسے نہیں جانتی اماں جان”
“اگر کوئی آپ سے محبت کرتا ہے نہ پری تو سب سے پہلے آپ کو خود پر حلال کرتا ہے”
“لیکن آپ بھی جانتی ہیں کہ اسنے مجھ سے نکاح کیسے کیا تھا”
“پرانی باتوں کو جتنا سوچو گی بدگمانیاں اتنی ہی جنم لیں گی بہتر ہے اپنے کل کے بارے میں سوچو” اسکے ماتھے پر پیار کرکے اماں جان وہاں سے جانے لگیں جب اسنے انکا ہاتھ پکڑ لیا
“میں کیسے بھول جاؤں اسکی وجہ سے میں کتنی اذیت میں رہی میں کیسے بھول جاؤں اسکی وجہ سے میری ماں ہسپتال کے بستر پر چلی گئی اس نے کہا تھا اسکے ماں باپ نہیں ہیں اسی لیے شاید اسے اس بات کا احساس ہی نہیں کہ ماں باپ کیا ہوتے ہ”
“شش” وہ اور بھی بہت کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن اماں جان اسے خاموش کرا چکی تھیں
“ایسا نہیں کہتے پری جن کے ماں باپ نہیں ہوتے انہیں ہی تو اس بات کا زیادہ احساس ہوتا ہے تصویر کہ ہمیشہ دو رخ ہوتے ہیں ضروری نہیں جیسا ہم سوچیں ہمیشہ ویسا ہی ہو اس لڑکے کا اور تمہارا ساتھ ایسا ہی لکھا تھا میں نہیں چاہتی کہ تمہارے اوپر طلاق جیسا دھبہ لگے اور اس سب سے تمہارا باپ جو پہلے ہی تکلیف میں مزید تکلیف سے دو چار ہوجاے بہتر ہے اب یہ ماضی کا باب بند ہوجاے”
وہ اٹھ کر چلی گئیں لیکن وہ کتنی دیر تک انکی کہی باتوں کو سوچتی رہی زہہن میں خیال آیا ہوسکتا ہے معتصم ایک اچھا انسان ہو لیکن وہ جتنا اسے سوچ رہی تھی اتنی ہی اسکے لیے ناپسندیدگی بڑھتی جارہی تھی
°°°°°
وہ اپنے کمرے میں داخل ہوے جہاں آئرہ اور مبشرہ بیگم پہلے سے ہی انکا انتظار کر رہی تھیں انہیں دیکھ کر وہ دونوں اپنی جگہ سے اٹھ گئیں
“بابا میں یہاں نہیں رہنا چاہتی مجھے یہاں نہیں رہنا ہے پلیز مجھے یہاں سے بھیج دیں”
“میرا بچہ ہم بعد میں اس بارے میں بات کریں گے ابھی تم اپنے کمرے میں جاؤ”
“میرا کمرہ”اسنے اچھنبے سے کہا اسکا یہاں کونسا کمرہ آگیا
“ہاں تمہارا کمرہ میں نے اسے بہت پہلے بنوایا تھا کیونکہ میں جانتا تھا تم ایک نہ ایک دن تو حویلی واپس آو گی لیکن اس طرح سے آؤ گی یہ نہیں سوچا تھا” انکے لہجے میں ملال تھا اسکا ہاتھ پکڑ کر وہ اسے باہر لے کر آے اور ملازمہ سے کہہ کر اسے اسکے کمرے میں بھجوایا لیکن جانے سے پہلے وہ یہ بات کہنا نہیں بھولی تھی کہ وہ یہاں نہیں رہے گی
وہ واپس کمرے میں آے جہاں مبشرہ بیگم پریشان کھڑی تھیں
“پلیز مبشرہ مجھے آج وہ وجہ بتادو جس نے تمہیں حویلی چھوڑنے پر مجبور کیا تھا میں جانتا ہوں کوئی بات تو ہے جس کی وجہ سے تم نے یہ حویلی چھوڑی تھی”
“یہی بات ہے عفان کے میں اپنی بیٹی کو اس ماحول میں نہیں رکھنا چاہتی تھی”
انکی بات سن کر عفان شاہ بنا مزید کچھ کہے صوفے پر جاکر بیٹھ گئے جب مبشرہ بیگم نے آگے بڑھ کر انکے ہاتھ تھام لیے
“عفان میں اپنی بیٹی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہونے دوں گی میں کبھی بھی اسکی شادی عالم سے نہیں کروں گی”
“میں کچھ نہیں کرسکتا مبشرہ”
“کیا مطلب تم کچھ نہیں کرسکتے باپ ہو تم اسکے تمہیں پورا اختیار ہے کہ اسکی زندگی کا فیصلہ لے سکو”
“میں نہیں لے سکتا” انکی آواز میں بےبسی تھی
“عالم شاہ اسے نہیں چھوڑے گا کیونکہ اسکے نزدیک اب آئرہ اسکی عزت ہے وہ اسے مار تو سکتا ہے لیکن چھوڑ نہیں سکتا”
“ایسے کیسے وہ کچھ بھی کرلے گا وہ کیوں نہیں چھوڑے گا ہماری بیٹی کو”انہوں نے تڑپ کر کہا
“بھول گئی ہو میری ماں کو کیوں مارا تھا عزت غیرت کے نام پر” انکے کہتے ہی وہ وہیں بیٹھ کر رونے لگیں عفان شاہ نے انہیں اپنے سینے سے لگا لیا یہاں سے جانے کے سارے راستے بند ہوتے نظر آ رہے تھے
°°°°°
آج وہ خاموشی سے اسکا دیا گیا ہر سبق یاد کررہی تھی یاد کرنے میں ٹائم بیس سے پچیس منٹ ہی لگ رہا تھا لیکن اسکی زبان بند تھی جو کہ بہت حیرت والی بات تھی
“کیا بات ہے آج اتنی خاموشی کیوں ہو” اور وہ تو شاید کسی کے بولنے کا ہی انتظار کررہی تھی تاکہ اپنی بھڑاس نکال سکے
“معتصم لالا نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ میں نے اتنے پیار سے بولا تھا لالا میرا ہاتھ چھوڑ دیں جو بولینگے کروں گی لیکن انہوں نے نہیں چھوڑا جب تک آپ نہیں آگئے اور اب آپ دیکھیے گا میں ان سے کبھی بات نہیں کروں گی انہیں کیا لگتا ہے ہر بار وہ مجھے چپس اور آئسکریم لا کردیں گے تو میں مان جاؤں گی اس بار ایسا کچھ نہیں ہونے والا انہں تو میری قدر کرنی چاہیے ایک ہی تو بہن ہے انکی چلو سگی نہیں میں انکے چاچا کی بیٹی ہوں لیکن بہن تو بہن ہوتی ہے نہ آپ مجھے بتائیں لالا میں نے کچھ غلط کہا ہے”
اپنی زبان کو بریک لگا کر اسنے عصیم سے پوچھا
“نہیں بلکل نہیں اور اب تم اسکے چپس اور آئسکریم دینے پر نہیں مان جانا بلکہ ساتھ میں چاکلیٹ بھی لینا”
“ارے آپ کو کیسے پتہ میں نے یہی تو سوچا تھا”
“بس مجھے سب پتہ ہے” معنی خیزی مسکراہٹ لیے اسنے کسوا کو دیکھا
“اور ہاں یہ جو تم نے کہا نہ ایک ہی بہن تو اب یہ بات ختم ہوچکی ہے کہ تم اسکی اکلوتی بہن ہو کیونکہ اسکی ایک اور بہن آچکی ہے”
“ہیں یہ کب ہوا”
“پوری تفصیل تو تمہیں ثمیرین چچی ہی بتائینگی انہی سے پوچھنا”
“اوکے میں پوچھ کر آتی ہوں” وہ خوشی خوشی جانے لگی جب عصیم نے اسے دوبار بٹھادیا
“بیٹھو یہاں پر پہلے اپنا کام مکمل کرو پھر جانا”اسکے کہنے پر وہ جلدی جلدی اسکا دیا ہوا سبق یاد کرنے لگی کیونکہ اسے پتہ تھا کہ بنا یاد کرے تو وہ اسے جانے نہیں دے گا اور وہ جب تک اپنی ماں سے ساری بات نہیں جان لیتی تب تک اسکے پیٹ کی گدگدی ختم نہیں ہونی تھی
°°°°°
ملازمہ اسے اسکے کمرے میں چھوڑ کر چلی گئی اسنے نظریں دوڑا کر پورے کمرے کا جائزہ لیا جہاں اسکی بچپن کی تصویر بھی لگیں ہوئی تھیں
ایک تصویر میں وہ ایک چھوٹے لڑکے کی گود میں موجود تھی جو اسکی چھوٹی انگلی میں سونے کی انگھوٹھی پہنا رہا تھا اسے یہ جاننے میں دیر نہیں لگی کہ وہ لڑکا کون ہے انگھوٹھی پہنا رہا تھا تو ظاہر تھا اسکا منگیتر ہی ہوگا جو اسے اپنی منگ منگ کرتا پھر رہا تھا
اس تصویر کو دیکھ کر وہ غصے سے اپنے کمرے سے باہر نکل گئی اسے حویلی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا بس ایک سیدھا راستہ تھا جہاں سے روشنی آرہی تھی وہ وہیں پر چلی گئی وہ شاید حویلی کی بیک سائیڈ تھی
نظریں گھما کر وہ ارد گرد کا جائزہ لینے لگیں جب پیچھے سے بھاری مردانہ آواز آئی
“یہاں کیا کررہی ہو” اسنے مڑ کر دیکھا اور پارہ مزید ہائی ہوگیا
“جب تک میں یہاں ہوں نہ تم مجھے اپنی شکل مت دکھانا” اسنے دانت پیستے ہوے کہا لیکن عالم کا مسکراتا چہرہ مونچھوں کو تاؤ دیتا انداز اسے اندر تک سلگا گیا تھا
“یہاں سے تو اب تم کہیں نہیں جاؤ گی تمہیں زندگی بھر یہیں رہنا ہے اور آج کے بعد بلاوجہ تم اس جگہ پر مت آنا یہاں پر ملازم کام کرتے ہیں اور اپنا دوپٹہ سر پر لو” اسنے اسکے گلے میں موجود مفلر کو دیکھتے ہوے کہا
“یہ ڈوپٹہ نہیں ہے مفلر ہے”آئرہ نے جیسے اسکی نولیج میں اضافہ کرنا چاہا
“یہ جو بھی بلا ہے اسے اپنے سر پر لو”
“نہیں لوں گی تم ہوتے کون ہو مجھ پر حکم چلانے والے”
“ابھی تو کچھ نہیں ہوں لیکن بہت جلدی بن جاؤں گا اور پھر تمہیں سارے ادب سکھاؤنگا فلحال یہ ڈوپٹہ سر پر لو اور اپنا چہرہ لے کر یہاں سے گم ہو جاؤ”
“یہ مفلر ہے” اپنے لفظوں پر زور دے کر وہ تیز تیز قدم اٹھاتی وہاں سے چلی گئی عالم شاہ نے اسکی پشت کو گھورا