محرم میرے

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط 11 حصہ 1

“نہیں رہنے دو۔۔۔۔میں رات تک پہنچ رہا ہوں وہاں۔۔۔۔”
ناشتے کی ٹیبل پر سب کی موجودگی میں وہ فون پر بات کر رہا تھا جب جانے کی بات پر سوائے نور کے سب ہی اُس کی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔۔
“جیجو ۔۔۔۔آپ واپس جانے کی بات کر رہے ہیں۔۔۔”
علی جو اُس کی کال بند ہونے کے انتظار میں ہی تھا چھوٹتے ہی منہ بنا کر پوچھنے لگا۔۔۔۔
۔۔۔ کچھ امورٹنٹ کام ہے۔۔۔۔
اُس نے حامی بھرتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔۔
“مگر اتنی جلدی بیٹا۔۔۔۔ابھی تو ہم نے اپنی بیٹی سے ڈھنگ سے بات بھی نہیں کی۔۔۔”
اُس کے بابا نے بھی اُس ٹاپک میں حصہ لیا تو نور اُداس دل سے اُنہیں دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔
“نور میرے ساتھ نہیں جا رہی ہے انکل۔۔۔۔۔۔وہ ابھی یہیں رہیگی۔۔۔”
اُس نے سنجیدگی سے جواب دے کر نور کی جانب دیکھا جو دوبارہ سر جھکا کر پلیٹ کی طرف متوجہ تھی ۔۔۔جب کے فاطمہ بھی پر سوچ نظروں سے اُسے ہی دیکھ رہیں تھی۔۔۔
“کل جو کچھ ہوا۔۔۔۔۔ آپ اُس کی وجہ سے ناراض تو نہیں ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔میں اُن دونوں کی طرف سے۔۔۔۔”
انہوں نے کسی خدشے کے تحت پوچھتے ہوئے معافی مانگنے کی کوشش کی مگر شہیر نے روک دیا ۔۔۔
پلیز انکل۔۔۔۔۔۔میں خود شرمندہ ہوں کے میری وجہ سے اتنا میس ہوگیا۔۔۔۔۔۔
وہ رسانیت سے بولتے ہوئے انہیں مطمئن کرگیا۔۔۔
فاطمہ کو اُس کے اکیلے جانے کی وجہ سمجھ آگئی تھی۔۔۔۔۔۔۔اور نور پر سخت غصّہ بھی آیا تھا ۔۔
اس وقت شہیر کے سامنے تو اُنہوں نے نور سے کوئی بات نہیں کی مگر جب وہ وہاں سے اٹھ کر کچن میں گئی تو خود بھی اُس کے پیچھے چل دیں۔۔۔۔
“داماد جی تُجھے اپنی مرضی سے یہاں چھوڑ کر جا رہے ہیں یا تونے ساتھ جانے سے منع کیا ہے۔۔۔۔_”
اُنہوں نے روکھے لہجے میں سوال کیا تو اُس نے مایوسی سے اپنی ماں کو دیکھا۔۔۔۔۔۔
“امی میں نے آپ کو سب بتا دیا ہے پہلے ہی_۔۔۔”
وہ اُن سے نظریں چرا کر دکھ سے بھاری ہوتے لہجے میں بولی۔۔
“اور میں نے بھی تُجھ سے کہا تھا کہ میں اُس کی ماں سے بات کروں گی وہ اپنے بیٹے کو سمجھائے گی ۔۔۔ہم اس مسلے کو حل کر لیں گے۔۔۔۔تجھے سمجھ نہیں آئی تھی میری بات۔۔۔۔۔”
اُنہوں نے غصے سے مگر دھیمی آواز میں کہا ۔۔۔نور نے عادتاً نچلے لب کو دانتوں میں جکڑا اور طے کیا کے وہ اُن کی کسی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہے گی۔۔۔۔۔
اگر اُس کی اپنی ماں اُسے سمجھنا نہیں چاہتی تو وہ اب اُنہیں سمجھانے کی کوشش بھی نہیں کریگی ۔۔
“بڑے کچھ کہتے ہیں تو سوچ سمجھ کر اپنی اولاد کر اچھے کے لیے کہتے ہے۔۔۔۔تُو کیوں بسا بسایا گھر توڑنا چاہتی ہے۔۔۔۔۔”
“پتہ نہیں ہے کیا تجھے کے ایسے مائکے میں آکر بس جانے والی لڑکیوں کو کوئی اچھا نہیں دیکھتا یہاں۔۔۔۔جینا مشکل کردیتے ہے اُس کا۔۔۔۔۔”
“اپنی نہیں سوچ رہی تو اپنی بہن کی سوچ اپنے بابا کی سوچ۔۔۔۔کیوں اس عمر میں سماج میں سر جھکا کر جینے پر مجبور کر رہی ہے ہمیں۔۔۔۔۔”
ایک کے بعد ایک اُس کی ماں کی تلخ باتیں اور تیز الفاظ اُس کا دل چیرتے گئے ۔۔۔۔اُسے زخمی کرتے گئے مگر اُس کی آنکھیں میں نہ ایک آنسو آیا۔۔۔۔
نہ چہرے پر درد کا تاثر اُبھرا نہ لبوں سے کوئی آہ نکلی وہ اگلے پندرہ منٹ تک وہاں کسی بےجان تصویر کی طرح کھڑی اُن کی باتیں سنتی رہی جس میں کبھی اُس پر غصّہ ۔۔۔کبھی حیرت۔۔۔کبھی افسوس تھا تو کبھی زمانے بھر کی فکریں سوائے اُس کے۔۔۔۔۔۔
فاطمہ اُس کی مسلسل خاموشی پر بلآخر خود ہی خاموش ہو کر چلی گئی۔۔۔۔مگر اُس پر یہ واضح ضرور کرکے گئیں تھی کے اب اُس کا اپنا گھر اپنا نہیں رہا تھا۔۔۔۔
وہ اسی خاموشی سے اپنے اور ردا کے مشترکہ روم میں چلی آئی تھی۔۔۔۔۔۔اور پھر اُن کی ایک ایک بات کو یاد کرکے ارمانوں سے روئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔جتنی بھڑاس نکال سکتی تھی آنسوؤں کے ذریعے نکالتی رہی ۔۔۔۔۔تب تک جب تک تمام اشک ختم نہیں ہوگئے تھی۔۔۔آنکھیں تھک نہیں گئیں تھیں۔۔۔۔۔جب تک دماغ بوجھل ہو کر غنودگی میں نہیں چلا گیا تھا۔۔۔اور اُس کے بس میں تھا بھی کیا۔۔۔۔
مگر اُس کے بعد وہ ایک فیصلے پر پہنچ کر اٹھی تھی ۔۔۔اور اپنے چہرے پر پانی کے چھپکے مار کر ۔۔۔۔دکھ اور آنسوؤں کا ہر تاثر مٹا کر شہیر کے پاس آئی تھی۔۔۔۔۔
وہ کھڑکی کے قریب کھڑا اپنے پسندیدہ کام میں مصروف تھا۔۔۔۔جب کسی کی موجودگی کے احساس سے دروازے کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔
“میں تھوڑی دیر میں نکل رہا ہوں۔۔۔۔۔”
نور کو دیکھتے ہی بیزاری جتایا۔۔۔۔ مانو وہ اُسے یاد دلانے آئی تھی کہ تم جانے والے تھے۔۔۔۔اسلئے اُس کے پوچھنے سے پہلے ہی بتانا ضروری سمجھا ۔۔۔۔۔
“آپ نے کہا تھا ۔۔۔اگر میں آپکے ساتھ چلوں تو بدلے میں آپ میرے لیے کچھ کریں گے۔۔۔۔کیا سچ میں۔۔۔۔۔”
نور نے اُسے دیکھتے ہوئے ہمت سے پوچھا حالانکہ یہ انکار کے بعد خود ہی آگے بڑھ کر کہنا کافی مشکل عمل تھا ۔۔وہ اُس کی پیش دستی پر حیران ضرور ہوا مگر حیرت ذرا بھی ظاہر نہیں ہونے دی ۔۔۔
“جو تم چاہو ۔۔۔”
اُس نے دھویں کو سانسوں سے آزاد کرتے ہوئے سنجیدگی سے حامی بھری۔۔۔۔اور غور سے اُسے دیکھا کہ دھلا شفاف چہرہ ہر آس احساس سے عاری رکھنے کی کوشش تو اچھی تھی مگر وہ اُن آنکھوں کی ویرانی اور بھاری لہجے پر بھی یہ نہ سمجھتا کے کتنے دریا عبور کرکے و یہاں پہنچی ہے۔۔۔۔اتنا نہ سمجھ نہیں تھا۔۔۔۔۔
اور نُور نے بھی محسوس کرلیا تھا کہ وہ شاید اُسے نظروں سے پڑھنے میں کامیاب ہورہاہے تبھی حال دل چھپانے کو نظریں جھکا دی ۔۔۔۔۔
“میں پڑھنا چاہتی ہوں ۔۔۔”
نظریں جھکائے تمہید کی ۔۔۔۔
“میں نے کچھ سال پہلے اپنی پڑھائی بیچ میں ہی چھوڑ دی تھی مگر اب میں آگے پڑھنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔میں آپکی بات ماننے کے لیے تیار ہوں اگر آپ بدلے میں میری پڑھائی کی ذمےداری لے سکتے ہیں تو ۔۔۔۔جب تک مجھے پڑھنا ہوگا بس تب تک میں آپکے ساتھ رہوں گی اور اُس کے بعد ہماری راہیں الگ ہوں گی۔۔۔”
اُس نے تفصیل سے اپنا مدعا بیان کیا اور اپنی بات کو مکمل طور پر واضح بھی کیا ۔۔۔۔ وہ چند سیکنڈ خاموش رہا پھر سادگی سے بولا۔۔۔
“یہ تم مجھے ایسے بھی کہتی تو میں ضرور کرتا۔۔۔۔اسکے لیے تمہیں مجھے میری شرط کا حوالہ دینے کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔۔”
اُس نے دلیری کا مظاہرہ کیا تو نور نے دل ہی دل میں اُسے گھورا۔۔۔۔۔جیسے بہت ہی کوئی سمجھدار اور فراخ دل انسان ہو۔۔۔جو اتنا مہرباں ہورہا تھا ۔۔
“ایسے ہی کوئی بات ماننے اور منوانے والے کا معاملہ نہیں ہے ہمارے درمیان۔۔۔۔۔میرا لیے یہ سودا ہی ٹھیک ہے۔۔۔۔”
اُس نے پھینک کر مارنے والے انداز میں کہا ۔۔۔۔۔تو شہیر نے بیزاری سے آنکھیں گھمائیں۔۔۔۔۔
“بنا طعنہ مارے تو میڈم کوئی بات ہی نہیں کرتی “
ضبط سے سوچ کر دانت بھینچے۔۔۔۔۔
“ٹھیک ہے ایز یو وش مجھے منظور ہے”
۔عاجزی سے کہتے ہوئے باہر نکل گیا ۔۔۔
۔
*******
“جب تمام دروازے منہ پر بند ہوجاتے ہے تب جو راہ سامنے ہے اُس پر بڑھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جاتا۔۔۔۔۔”
وہ اپنے دوپٹے کو فولڈ کرکے اٹیچی میں رکھتے ہوئے یاسیت زدہ لہجے میں بولی۔۔۔۔ذائشہ افسوس سے اُسے دیکھ رہی تھی اُس کی شکستہ دلی دیکھ جھنجھلا سی گئی۔۔۔۔۔
‘بلکل نہیں۔۔۔۔ابھی تک تم اتنی مجبور نہیں ہو۔۔۔۔۔میں ہوں نہ تمہارے ساتھ۔۔۔۔رکھو اسے ۔۔۔اور تمہارا دل نہیں چاہتا تو کوئی ضرورت نے اپنے ساتھ ذبردستی کرکے اُس کے ساتھ جانے کی ۔۔۔”
اُس کے ہاتھ میں موجود شرٹ چھین کر بیڈ پر پھینکتے ہوئے سخت غصے سے بولی۔۔۔۔
“پھر میں کہاں جاؤں”
نور نے بے تاثر انداز میں پوچھا تو وہ کچھ سیکنڈ کے لیے خاموش رہ گئی۔۔۔۔
“میرے ساتھ میرے گھر”
جانتی تھی کوئی فائدہ نہیں پھر بھی بھاری دل سے بولی ۔۔۔۔
“اگر گھر نہیں ایک ٹھکانہ ہی ڈھونڈھنا ہے تو پھر اُن کے ساتھ جانے میں کیا برائی ہے ۔۔۔۔”
اُس نے آسودگی سے مسکرا کر سر نفی میں ہلاتے ہوئے کہا اور شرٹ اٹھا کر فولڈ کرتی اپنے کپڑوں کے ساتھ رکھنے لگی۔۔۔۔
“مگر تم نے کہا تھا نور کہ۔۔۔۔۔۔”
“میں کیا سوچتی ہوں۔۔۔۔کیا کہتی ہوں ۔۔۔اس سے کیا ہی فرق پڑتا ہے۔۔۔۔۔ہوتا تو وہی ہے نہ جو سماج نے بنایا رواج ہے۔۔۔۔ جو سماج کی نظروں میں غلط نہ ہو ۔۔”
وہ ذائشہ کی بات کاٹ کر بولی۔۔۔۔اور اُس کی جانب دیکھا۔۔۔۔
‘ایک سوال ہے میرے ذہن میں ۔۔۔۔۔اگر معاملہ الٹ ہوتا۔۔۔۔۔اگر اُن کی جگہ میں اور میری جگہ وہ ہوتے۔۔۔۔۔اگر میں کسی عاشق کا جوگ لے کر بیٹھ جاتی اور کہتی کے یہ شخص میرے لیے قابلِ قبول نہیں۔۔۔۔میں اسے شوہر نہیں مانتی تب بھی کیا حالات ایسے ہی ہوتے ۔۔۔۔
کیا تب اُن سے کہا جاتا کے بیوی کو وقت دے ۔۔۔حوصلا رکھیں۔۔۔۔۔اُس کی بے رخی کو نظر انداز کرکے اُس کا دل جیتنے کی کوشش کرے۔۔۔۔۔”
وہ ذائشہ کو پر سوچ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی ۔۔۔۔اور اُس کی بات پر زائشہ کھل کر ہنسی۔۔۔۔
“اگر ایسا ہوتا تو غضب ہوجاتا ۔۔۔۔۔قیامت آجاتی ۔۔۔۔”
اپنی ایکٹنگ کے جوہر دکھاتے ہوئے فلمی انداز میں کہا ۔۔مگر نور اپنے ہی ذہن میں چلتے اس سوال کے جواب کے زیرِ اثر تھی۔۔۔کچھ نہیں بولی۔۔۔۔
“اگر ایسا ہوتا تو تمہارا نام نہاد شوہر تمہیں بالوں سے پکڑ پر بیچ چوراہے پر ذلیل کرتا کے دیکھو یہ ۔۔بد کردار عورت ۔۔۔میرے نکاح میں ہو کر کسی نہ محرم سے وفا نبھا رہی ہے۔۔۔۔تمہاری بے حرمتی کو ثواب سمجھتا۔۔۔۔۔۔۔اور یہ دنیا ٹھوکروں میں پڑے پتھر کی طرح اپنے طانوں کی مار سے ختم کردیتی تمہیں۔۔۔۔۔۔”
وہ خود ہی سنجیدہ ہو کر تاسف سے بولی۔۔۔۔۔
“مگر نور ایسا ہوتا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔شاید خدا نے عورت کو بنایا ہی ایسا ہے وہ مرد کی طرح سخت دل نہیں ہوتی۔۔۔۔۔اُس کا دل نرم مٹی کی طرح ہی رہتا ہے تا عمر ۔۔۔۔۔تبھی تو خود کو حالات کے مطابق ڈھال ہی لیتی ہے۔۔۔۔۔۔ایسی تو کئیں ساری لڑکیاں ہے جو دل میں کسی کی محبت کا دیا جلاتی ہے مگر جب قسمت اُنہیں کسی اور در پر لے آتی ہے تو وہ اُس آگ میں اپنا گھر نہیں جلنے دیتی۔۔۔۔۔۔۔بلکہ اُس دیے کو اپنے ہاتھوں بجھا کر اُس گھر میں روشنی کرکے وفا نبھاتی ہے۔۔۔
لیکن مرد ایسا نہیں کرتے۔۔۔
۔کیوں کے وہ شاید خود پسند ہوتے ہے ۔۔۔۔”
ذائشہ نے جس طرح کہا نور کو محسوس ہوا جیسے وہ کسی آنکھوں دیکھے تجربے کے تحت سچائی بتا رہی ہو۔۔۔۔
“یا شاید وہ ثابت قدم ہوتے ہے۔۔۔۔کیوں کے اُنہیں پتہ ہوتا ہے اُنہیں روکنے یا مجبور کرنے والا کوئی نہیں ہے۔۔۔۔”
تو اُس نے اپنا اندازہ بھی ظاہر کیا۔۔۔۔ذائشہ رک کر اُسے دیکھنے لگی جیسے کچھ سوچ رہی ہو۔۔اور پھر دونوں پیر اوپر کرکے رخ پوری طرف اُس کی جانب کرکے بیٹھ گئی ۔۔۔
“ایک بات کہوں نور۔۔۔۔۔۔”
اور اُس سے اجازت لے کر اُسے حیران کرتے ہوئے اُس کا ہاتھ تھاما ۔۔۔۔
۔”میں تمہارے ہر فیصلے میں تمہارے ساتھ ہوں ۔۔۔لیکِن شہیر کو دیکھ کر مجھے ایسا لگتا ہے وہ اتنا برا بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔”
اُسے اپنے ساتھ کا یقین دلا کر کچھ جھجھکتے ہوئے اپنا اندازہ ظاہر کیا ۔۔۔نور نے اسے گھورتے ہوئے ہاتھ چھڑایا ۔۔۔۔
“تم پھر شروع ہو گئی۔۔۔۔”
۔اُسے لگا کل کی طرح پھs زائشہ اُس کی تعریفوں میں آہیں بھر بھر کر زمین آسمان ایک کرےگی تبھی برہم ہوئی ۔۔۔
“میری بات سنو ۔۔۔۔۔تمہیں لگتا ہے کے اُس کی زندگی میں تمہارے لیئے جگہ نہیں ہے۔۔۔۔مگر کل کا اُس کا ریئکشن دیکھ کر میں کیا کوئی بھی یہ بات مان نہیں سکتا۔۔۔۔۔”
مگر زائشہ نے اُسے اٹھنے سے روک کر سنجیدگی سے کہا تو وہ ساکت سی اُسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔
“جو انسان اپنی بیوی کے لیے سب کے سامنے اس طرح اسٹینڈ لے سکتا ہے۔۔۔۔اُس پر اٹھنے والی اُنگلیوں کو روک سکتا ہے۔۔۔۔وہ اتنا بھی غلط نہیں ہو سکتا کے اُسے سمجھنے کی کوشش نہ کی جاے۔۔۔۔۔”
زایشہ نے محتاط انداز میں کہا کہ کہیں نور اُسے غلط نہ سمجھے یہ نہ سوچے کے وہ بھی اُس کی امی کی طرح اُسے شہیر کے ساتھ سمجھوتے کی صلاح دی رہی ہے ۔۔۔جب کے اُس کی بات پر شہیر کا اُس کے لیۓ ڈھال بن کر کھڑے ہونا۔۔۔۔۔۔پھپھو سے سامنا کرنا۔۔۔۔۔۔انس کی حالت خراب کردینا۔۔۔۔۔ایک ایک منظر اُس کی نظروں کے آگے گھومتا گیا ۔۔۔اور دل اُس سوچ کے محور میں بھٹک کر آگے بڑھتا گیا۔۔۔۔
‘رشتے کی خوبصورتی ضرور محبت اور پیار سے ہوتی ہوگی مگر رشتے کی بنیاد تو رسپیکٹ ہوتی ہے نہ ۔۔۔۔اور صاف نظر آتا ہے اُسے تمہاری اور تمہاری عزت کی بہت پرواہ ہے نور۔۔۔۔۔۔۔”
زائشہ نے اب بھی بہت احتیاط سے اُسے احساس دلایا وہ خالی خالی نظروں سے اُسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔
“ہو سکتا ہے نہ ۔۔۔۔۔ وہ اظہار نہ کر پا رہا ہو مگر اُس کے دل نے تمہاری آمد کو قبول کر لیا ہو ۔۔۔۔۔”
وہ پُر امید لہجے میں بولتی اُس کی تمام اور تمام سوچوں کا رخ شہیر کی جانب موڑ گئی۔۔۔۔۔
اور وہ ایک ایک لمحے کو یاد کرتی چلی گئی ۔۔۔
۔جس لمحے میں اُس نے اپنی ماں کے سامنے اُس کی حیثیت واضح کی تھی۔۔۔۔۔
۔جب جب اُسے بے رخی سے توڑا تھا۔۔۔۔۔
۔جب اُس کے سامنے آکر کانچ کے ٹکڑوں کو اُس کے چہرے تک آنے سے پہلے خود پر روک گیا تھا۔۔۔۔۔
جب تیز بارش اور سیاہ رات میں اُس سے “تم کون ہو” کا سوال کرکے اُس کے وجود سے بے خبری کا ثبوت دیا تھا ۔۔۔۔
جب سختی سے اُسے اپنی زندگی سے چلے جانے کو کہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
جب وہ اُس سے ناطہ توڑ آئی تھی اور وہ ایکدم سے اُس کے سامنے آکر اُسے حیران کر گیا تھا ۔۔۔۔
جب بھری محفل میں اُس کا سائبان بن کر اُسے مان بخشا تھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔اچھے برے ہر پل کو سوچتی چلی گئی۔۔۔۔۔
“میں نے اس رشتے کو وہ مقام دیا ہے کہ اب چاہ کر بھی تمہارے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔”میرا دل کبھی اس حق میں نہیں تھا”
اُس رو میں جب کانوں میں دو جملے گونجے تو تمام تسلسل توڑ گئے۔۔۔۔اور اُس نے جھٹک کر اُن سے اپنی جان چھڑائی اور ایکدم وہاں سے اٹھ گئی ۔۔۔۔
پتہ نہیں تم کیا بولے جا رہی ہو ۔۔۔۔
لیکن میں کوئی خوش فہمی نہیں پالنا چاہتی ۔۔۔۔
اُنہیں ایک فیور چاہیے اور مجھے ایک آسرا ۔۔۔۔
میں بس اس سمجھوتے کو مان کر ہی چلنا چاہتی ہوں ۔۔۔
زائشہ کی امیدوں پر۔ پانی پھیرتے ہوئے ٹھوس انداز مزید کہہ کر اپنی پیکنگ کی طرف متوجہ ہوگئی تو زایشہ نے گہری سانس لے کر بے نیازی سے کندھے اچکا دیے ۔۔۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial