قسط 11 حصہ 3
وہ گیا نہیں تھا تو وہاں موجود بھی نہیں تھا سارا دِن سٹدی روم کو آفس بنائے وہاں کام کرنے میں مصروف تھا۔۔۔۔بلاآخر رئیسہ بیگم کو ہی اُسے بلاوا بھیجنا پڑا کہ گھر میں موجود مہمان بار بار اس کا پوچھ چکے تھے۔۔۔۔اور اُس کے ڈیڈ اُس کی ڈھٹائی دیکھ باقاعدہ اُن پر بگڑ چکے تھے ۔۔۔۔
اور وہ اُن کے ارجنٹ نامی بلاوے پر مجبوراً اٹھ کر رف سے حلیے میں ہی سیدھے کچن کی جانب آیا جہاں اُن کی موجودگی یقینی تھی۔۔۔۔
“مام میں نے بات کی تھی بھابھی سے۔۔۔۔۔۔مگر انہوں نے تو ایسا کچھ نہیں بتایا۔۔۔۔۔وہ تو کہہ رہی تھیں اُن کے اور بھائی کے بیچ سب ٹھیک ہے۔۔۔۔۔”
مگر اندر جانے کی بجائے وہیں رک گیا جب ناز کی بات پر محسوس ہوا کے موضوع گُفتگو وہی ہے۔۔۔۔۔
“پھر بھی مجھے ایسا لگتا ہے جیسے یہ دونوں صرف دکھاوا کر رہے ہیں۔۔۔۔۔پتہ نہیں اس لڑکے نے اب کیا کہہ کر راضی کیا ہے نور کو واپس آنے پر ۔۔۔لیکن مجھے دونوں کے درمیان کچھ نارمل نہیں لگ رہا ہے۔۔۔بلکل پہلے کی طرح ہی تو ایک دوسرے سے کھنچنے کھنچنے لگتے ہیں۔۔۔۔۔”
رئیسہ بیگم ناز افرا اور وحیدہ بیگم کی موجودگی میں اپنی پریشانی ظاہر کر رہیں تھی۔۔۔۔۔وہ گہری سانس لے کر وہیں سے واپس پلٹ گیا۔۔۔۔مگر ذہن پر پھر ایک فکر سوار ہوگئی تھی کے اُس کے اتنا کرنے کے بعد بھی اُس کی ماں ابھی تک پریشان ہے۔۔۔۔جو وہ بلکل نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔
“سب ٹھیک ہوجائےگا بھابھی۔۔۔۔”
وحیدہ بیگم نے اُنہیں تسلی دی تو وہ سر ہلا گئیں۔۔
“شہیر کو بہت اچھے سے جانتی ہوں اس لیے یہ سب ہضم نہیں ہورہا ہے مجھے۔۔۔۔۔۔”
اُنہوں نے تاسف سے کہتے ہوئے آہ بھری۔۔۔
اور سب ہی اس بات سے متفق تھے کیوں کے اس کا اتنی جلدی بدل جانا غیر یقینی تھا۔۔۔۔۔
٫____
وہ واپس روم میں آکر اسی نہج پر سوچتے سوچتے تیار ہو کر دوبارہ باہر آیا۔۔۔
ڈارک گرین فارمل شرٹ اور وہائٹ جینس میں جب آکر مہمانوں سے ملا تو زبان سے کچھ نہیں مگر آنکھوں ہی آنکھوں میں اُس کے ڈیڈ نے اُس کی اچھے سے عزت افزائی کی ۔۔۔۔
وہاں ناز کے سسرالی اور گھر کے تمام لوگ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔۔۔صرف نور اور افرا وہاں نہیں تھے ۔۔۔۔اور اُس کی بیوی کہاں تھی وہ معلوم کرنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتا تھا ۔۔۔۔
کچھ دیر وہیں سب کی باتوں سے بور ہونے بعد کال سننے باہر نکلا تو نور اُسے لان میں دکھائی دی۔۔۔
ڈنر کا اہتمام باہر لان میں تھا اسلئے۔۔۔لان کو سادگی مگر خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔۔ چاروں اور لائٹس کی مدھم دلکش روشنی کا سماں تھا۔ ۔۔۔۔
وہیں درمیان میں ڈائننگ ٹیبل لگی تھی ۔۔۔۔
جس کے اوپر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر لٹکتے خوبصورت اور انوکھی شیپ کے تین فانوس ۔۔۔۔بھرپور روشنی بکھیر رہے تھے۔۔۔۔
ملازم وہاں مخلتف لوازمات سجانے میں مصروف تھے۔۔۔۔افرا آس پاس کی سجاوٹ کو آخری بار جانچنے ۔اور نور ہر چیز کو ترتیب دے کر پرفیکٹ کرنے کی کوشش میں مشغول تھی۔۔۔۔
کیوں کے یہ باہر کا انتظام دیکھنے کی ساری ذمےداری اُسے اور افرا کو دی گئی تھی۔۔
وہ جلدی جلدی میں ہاتھ چلاتی سائیڈ میں رکھی ایک ایک چیئر کو ٹیبل کے پاس رکھتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔تاکہ سب کے باہر آنے سے پہلے وقت پر سارا كام ہوجائے ۔۔۔۔۔۔پستہ گرین سوٹ پر آتشی خوبصورت دوپٹہ جو شولڈر پر پن کرکے دوسری طرف باندھا ہوا تھا تاکہ کام میں تنگ نا کرے۔۔۔۔۔۔۔اور سائیڈ سے پن کرکے پیچھے کے کھلے بالوں کو بھی کچھ دیر کے لیے جوڑے میں فولڈ کیا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ لائٹ لائٹ سا میک آپ اور تیاری بے حد نظر فریب تھی۔۔۔۔۔۔مگر چہرے کی شادابی کچھ ماند تھی۔۔۔۔
صبح سے ہی طبیعت بے حد بوجھل سی تھی۔۔۔
جسم اتنی نقاہت محسوس کر رہا تھا کے وہ کھڑے بھی نہیں رہنا چاہتی تھی مگر نہ ایسا کر سکتی تھی نہ اپنی تکلیف کا کسی سے اظہار کر سکتی تھی۔۔۔بلکہ اُسے تو خود کو نارمل ہی ظاہر کرنا تھا تاکہ کوئی محسوس بھی نہ کرے۔۔۔۔۔۔۔
اور وہ یہی کر رہی تھی۔۔۔۔۔
“بھابھی یہاں کا کام ہوگیا ہے۔۔۔۔میں سب کو بلا لوں اب”
افرا فری ہو کر اپنے آپ کو جانچتے ہوئے پوچھنے لگی تو اُس نے سر ہاں میں ہلا دیا ۔۔۔۔وہ اندر چلی گئی اور نور ایک دفعہ پھر پورے ٹیبل کا جائزہ لے کر ہر چیز پر غور کرنے لگی ۔۔۔
وہ کال پر بات کرتے کرتے بے دھیانی میں اُس کی طرف دیکھ رہا تھا اور کال بند ہوئی تو بجائے اندر جانے کے قدم اُس کی جانب بڑھا دیے۔۔۔۔۔
نظریں پُر سوچ سی اُس پر تھیں۔۔۔
جب کے نور کی اُس کی جانب پشت تھی۔۔۔
وہ اُس کی آمد سے بے خبر تھی۔۔۔۔
وہ اُس کے پاس تھوڑے فاصلے پر آکر رکا اور سامنے کھڑے تینوں سرونٹس کو جو کرسیوں کی ترتیب ٹھیک کر رہے تھے۔۔۔۔اُنہیں محض سر سے جانے کا اشارہ کیا۔۔۔وہ لوگ ہاتھ چلاتے چلاتے رک کر سر جھکائے وہاں سے اندر جانے لگے تو نور کو حیرت ہوئی۔۔۔۔
اور حیرت میں ہی اُنہیں دیکھتے دیکھتے پلٹنے پر اُس کی نظر شہیر پر پڑی تو وہ ایکدم سے اُس کی موجودگی پر گڑبڑا گئی۔۔۔۔
وہ سب کے جانے کے بعد اُس کی جانب بڑھا تو نور کو ایکدم سے گھبراہٹ محسوس ہونے لگی کے پہلے سب کو وہاں سے بھیجنا اور پھر اُس کے قریب آنا اُسے سمجھ نہیں آیا اور شاک تو تب لگا جب وہ اُس کے پاس آکر ایک محدود فاصلے پر رکنے کی بجائے اُس کے قریب اور قریب آنے لگا۔۔۔۔۔وہ سانس روکے حیرت سے پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
آپ کیا ۔۔۔کیا۔۔۔۔کیا کیا کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بڑھتی دھڑکنوں سے ٹوٹتے لہجے میں پکارتی پیچھے ہو کر چیئر کی بیک سے لگ گئی اور اُسے دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔۔۔۔
مگر وہ رکا صرف تب جب اُس کے اتنے قریب آگیا کے درمیان میں بس چار انچ کا فاصلہ رہ گیا اور نور کو فضا میں آکسیجن سے زیادہ اُس کے پرفیوم کی خوشبو بشدت محسوس ہوئی ۔۔۔
“مام کو ڈاؤٹ ہے کہ ہمارے بیچ ابھی بھی پرابلمز ہے۔۔۔۔۔اور جب تک اُنہیں تسلی نہیں ہوگی وہ پریشان رہے گیں ۔۔۔۔”
وہ اُس کی حیران آنکھوں میں سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے ہمیشہ سے ٹھہرے لہجے میں بولا
نور ماتھے پر بل ڈالے نا سمجھی سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔حیران اور پریشان۔۔
تت ۔۔۔تو ۔۔۔۔۔۔۔
اُس کا اپنے اتنے قریب ہونا اور اوپر سے اُس کی بات کا مطلب دماغ نے جس طرح لیا دل ایک دم سے سمٹ گیا۔۔۔وہ پیچھے ہونے کی کوشش میں کرسی میں گھسنے لگی۔۔۔۔۔۔۔
“تو جانے سے پہلے اُنہیں یقین دلانا ضروری ہے کے سب ٹھیک ہے ۔۔۔۔”
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دھیمی آواز میں بولا۔۔۔اور معنی اخذ کرکے نور کے قدم اور کرسی دونوں ڈگمگا گئے ۔۔۔۔۔تمام نقاہت طاقت میں بدل گئی۔۔۔تاکہ وہ وہاں سے بھاگ سکے ۔۔۔۔کیوں کے اتنا تو پتہ تھا یہ آدمی اپنی ماں کو اطمینان دلا نے کے لیے کِسی بھی حد تک جا سکتاہے۔۔۔۔
“نہیں ۔۔۔۔۔آپ ۔۔آپ۔۔۔۔۔”
وہ تیور تیکھے کرکے اُسے بعض رکھنے کو کچھ سخت سنانے کے ارادے میں تھی کہ۔۔۔۔
شش ۔۔۔۔۔۔
شہیر نے محسوس کیا کے کوئی باہر آرہا ہے تو اُسے خاموش کرنے کو ایکدم سے اُس کے لبوں پر انگلی رکھ کر روک گیا۔۔۔۔۔اور جب ہمیشہ فاصلے پر رک کر بھی اُس کی یہ حرکت اثر کرتی تھی تو اُس کے چھونے سے دھڑکنوں میں طوفان تو اٹھنا ہی تھا۔۔۔۔۔
سانسیں تو رکنی ہی تھی۔۔۔۔۔
زمین تو لرزنی ہی تھی ۔۔۔۔
“کیا کوئی آرہا ہے اس طرف۔۔۔۔۔۔”
اُس نے ہاتھ لبوں سے ہٹا کر ۔۔۔۔سرگوشی میں سوال کیا نور سے سانس نہیں لے جا رہی تھی کجا کے وہاں سے ہلنا۔۔۔۔مگر اُس کی بات پر غور کیا تو اندازہ ہوا کہ وہ کیا کرنا چاہ رہا ہے۔۔۔۔کچھ اطمنان ہوا۔۔۔۔۔ مگر دھڑکنوں کو اعتدال نہیں ملا تھا۔۔۔۔دکھاوے کی غرض سے ہی اُس کا اتنے قریب آنا عذاب جاں تھا۔۔۔۔
نور نے اُس کے چہرے سے نظریں ہٹا کر اُس کے پیچھے دیکھا جہاں اندر کے دروازے سے رئیسہ بیگم اور ناز کی ساس دونوں باتیں کرتی ہوئی باہر آکر وہیں رک گئیں تھی شاید باقی سب کے انتظار میں ۔۔۔۔مگر اُن دونوں کا لان کی اس طرف بلکل دھیان نہیں تھا۔۔۔۔
اُس نے شہیر کی طرف دیکھ کر بہت دھیرے سے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
“کون۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
اُس نے بے کیف چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔
“مام اور راحیلہ آنٹی۔۔۔۔”
نور نے اُس کی نظروں سے الجھ کر پلکیں جھکا کر اٹھاتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔
“اس طرف دیکھ رہے ہیں دونوں۔۔۔۔۔”
وہ بولتے بولتے تھوڑا اور قریب ہوا ۔۔۔۔۔ سانسیں نور کے ماتھے سے ٹکرائی۔۔۔۔۔۔گھبراہٹ میں وہ لڑکھڑا کر رہ گئی۔۔۔اُس کی بات سمجھنا ماننا تو دور سننے کی سکت بھی نہیں ملی۔۔۔
“آپ یہ ۔۔۔”
وہ گھٹی گھٹی آواز میں کچھ بولتی کے ایکدم سے اُس کے ہاتھ اپنی کمر کی طرف بڑھانے پر ساکت ہو گئی۔۔۔۔
شہیر نے ہاتھ اُس کے پیچھے لے جاتے ہوئے کرسی پر رکھے اُس کے دونوں ہاتھوں کے درمیان رکھا۔۔۔۔
“کیا اُنہوں نے اس طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔۔”
اُس کے چہرے کے بے حد نزدیک جھکا وہ دھیمے گمبھیر لہجے میں پوچھنے لگا سانسوں کی تمازت اُس کے وجود کو سر تا پیر لرزا گئی
اور یہاں آکر نور کی حد ختم ہو گئی۔۔۔۔
“پلیز آپ۔۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔
یہ سب مت کیجئے۔۔
میں۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ اُس کے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اُسے خود سے دُور کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔
“ریلیکس ۔۔۔۔میں تمہیں کھا نہیں رہا۔۔۔۔۔”
شہیر نے بنا اثر لیے جتا کر کہا تو وہ بے بسی سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
“بس ایک منٹ اور۔۔۔۔۔”
اُس کی شکوہ سنج نظروں پر نرم کوشی سے کام لیا ۔۔۔۔نور نے پیچھے دیکھا جہاں اب ناز اور حمزہ کا اضافہ ہو گیا تھا ۔۔۔۔ اب بھی وہ لوگ وہیں رکے ہوئے تھے یقیناً مردوں کی آمد کے انتظار میں۔۔۔۔۔۔مگر اب دھیان اُن دونوں کی طرف تھا۔۔۔۔۔ اُن کی اور دیکھ کر جیسے معنی خیزی سے مسکرا رہے تھے۔۔۔ نُور کو نہایت شرمندگی محسوس ہو ئی۔۔۔۔۔ اور اُس کی آنکھوں میں بے ساختہ آنسو آگئے ۔۔۔
“سب یہیں دیکھ رہے ہیں۔۔۔
مجھے بلکل بھی اچھا نہیں لگ رہا۔۔۔۔۔۔”
وہ نظریں جھکا کر بھاری دل اور لہجے سے بولی جو شہیر کو شدت سے محسوس ہوا۔۔۔۔۔وہ خاموشی سے اُسے دیکھنے لگا۔۔۔۔
“الیکسا ۔۔۔۔۔”
اس نے ٹیبل پر رکھی ایکو کو دیکھ کر پُکارا تو اُس میں نیلی روشنی جاگي ۔۔۔
“ٹرن آف دا لائٹس۔۔۔۔۔۔”
وہ نظریں اُس کے چہرے پر جمائے ہی بولا تو وہاں ڈائننگ ٹیبل کے اوپر لٹکتے تینوں فانوس بند ہوگئے اور کافی حد تک اندھیرا چھا گیا۔۔۔۔۔۔مگر اب بھی آس پاس کیے ہوئے ڈیکوریشن کی اتنی روشنی تھی کہ وہاں مکمل اُجالا نا سہی مگر مکمل اندھیرا بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔ہاں اتنی تسلی تھی کے دور کھڑے لوگو کے لیے یہاں کا منظر بوجھل ضرور ہوگیا ہوگا۔۔۔۔۔۔
نور نے اُس کی جانب دیکھا تو اُسے بہت غور سے خود کو دیکھتے پایا۔۔۔۔۔۔اُس کا دل کسی احساسِ بے ساختہ کے تحت اپنی رو سے بھٹکنے لگا۔۔۔۔
“کیا اس طرح ہی یقین دلانا ضروری ہے ۔۔۔۔”
اُس نے خود کو سنبھالتے سوال کیا ۔۔۔۔
“تمہارے پاس بیٹر آئیڈیا ہے۔۔۔۔”
وہ اسی انداز میں بولا نور نے پر سوچ نظروں سے اُسے دیکھا۔۔۔۔ناز اُس سے بات کرتے ہوئے بھی کتنی تفتیش کر رہی تھی اور کتنا مشکل تھا اُس کے لیے جھوٹ بول بول کر اُسے اطمینانی دلانا۔۔۔۔مگر جو بھی تھا۔۔۔۔اس طرح سب بڑوں کے سامنے ایسا جھوٹا ڈراما کرکے شرمندہ ہونے سے تو بیٹر ہی تھا۔۔۔۔۔
اُس نے پیچھے دیکھا تو تقریبا سب اس طرف آرہے تھے کچھ کا دھیان ایک دوسروں سے باتوں میں تھا تو کچھ کا اُن دونوں کی طرف۔۔۔
“میں اُن سے بات کرکے۔۔۔۔۔۔”
وہ اُن لوگوں کے نزدیک آنے سے پہلے اُس سے جان چھڑانے کو جلدی سے بولنے لگی لیکن تبھی شہیر نے ہاتھ بڑھا کر اُس کے چہرے پر آتے بالوں کو پیچھے کیا تو اُس کی آواز اور دل جہاں کے تہاں رک گئے۔۔۔۔حالانکہ بالوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے اُس کا ہاتھ بالوں کے علاوہ کہیں چھوا تک نہیں تھا مگر وہ مانو سر سے پیر تک جلنے لگی۔۔۔۔۔
“کوئی فائدہ نہیں”
وہ نظریں بھی اپنے ہاتھ پر رکھے اُس کے بال پیچھے کر رہا تھا ۔۔۔بے نیازی سے۔بات بھی کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
نور کی برداشت کے باہر ہوا اُس نے ایکدم سے اُس کا ہاتھ ہٹایا اور سائیڈ سے نکل کر اندر کی جانب بھاگی ۔۔۔۔۔۔
جس طرف سے سب آرہے تھے وہاں کی بجائے دوسری سمت سے۔۔۔۔۔۔اُسے بے حد شرمندگی محسوس ہو رہی تھی جیسے وہ کبھی کسی کا سامنا نہیں کر پائےگی ۔۔۔۔
جب کے شہیر نے ایسی نوبت ہی نہیں آنے دی۔۔۔۔وہ سب کی موجودگی سے بے خبری ہی ظاہر کرتا بنا پیچھے دیکھے اُس کے جانے کے بعد لائٹس آن کرتے وہیں سے باہر کی جانب نکل گیا۔۔۔۔
ایک سنگین مسئلے کو اپنے انداز میں مکمل طور پر حل کرکے۔۔۔۔