قسط 14 حصہ 2
وہ بیڈ پر بنا شرٹ کے بے ترتیب سویا ہوا تھا جب مسلسل بجتی ڈور بیل نے اُس کی گہری نیند میں خلل پیدا کیا۔۔۔نیند میں ہی صبیح ماتھے پر چند سلوٹیں پڑی ۔۔۔۔بمشکل آنکھیں کھولیں۔۔۔۔ بوجھل ذہن سے موبائل اٹھا کر وقت دیکھا۔۔۔صبح کے سات بج رہے تھے ۔۔ ۔اتنی صبح نیند خراب ہونے پر وہ سخت جھنجھلا کر بستر سے اٹھا ۔۔۔
شرٹ اٹھا کر پہنتے ہوئے بنا بٹن بند کئے ہی باہر نکلا ۔۔۔تیزی سے سیڑھیاں پار کی۔۔۔۔۔۔لیوینگ روم کا منظر اندھیرے میں گم تھا۔۔۔۔
ڈور بیل کا بجنا جاری تھا۔۔اُس نے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئےیونہی بے دھیانی میں کھڑکی کے شیشے کی جانب نظر ڈالی جہاں سے پردہ تھوڑا سرکا ہوا تھا اُسے باہر اپنے ڈیڈ کا خاص ڈرائیور نظر آیا۔۔۔۔وہ کچھ محتاط ہوا اور دروازہ کھولنے کی بجائے پہلے پیپ ہول سے باہر دیکھا جہاں رئیسہ بیگم اور اُن کی ملازمہ سکینہ کھڑی تھی۔۔۔
باقی کی نیند فوراً اُڑ گئی۔۔۔اس خیال سے کہ اگر اُنہیں پتہ چل گیا وہ اور نور یہاں آکر اب ایک روم میں بھی نہیں رہتے تو خوا مخواہ اُس کی شامت آجائیگی۔۔۔اور بنی بنائی بات بگڑ جائیگی۔۔۔۔۔
وہ بجائے دروازہ کھولنے کے تیزی سے واپس مڑ کر نور کے روم کی طرف بڑھا اور شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے ڈور ناک کیا۔۔۔وہ بھی نماز کے بعد ابھی ابھی ہی سوئی تھی اس پر بلکل اثر نہیں ہوا۔۔۔۔اگلے ایک منٹ ادھر وہ ڈور ناک کرتا رہا اُدھر باہر کی بیل بار بار بجتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔بلآخر نُور نے اٹھ کر دروازہ کھولنے کی زحمت کی تو اُسے کچھ اطمنان ہوا
پر اگلے ہی سیکنڈ دل تھما ۔۔۔
خواب آلود نگاہیں اور توبہ شکن سراپا دیکھ بدن میں پھریری سی دوڑ گئی۔۔۔۔بے اختیار اُسے سر سے پیر تک دیکھا۔۔۔لیکن ڈور بیل نے فوراً اس کیفیت سے باہر نکالا اور جھٹ سے نظریں ہٹا دی ۔۔۔
وہ سخت نیند میں تھی ڈھنگ سے آنکھیں بھی نہیں کھول پا رہی تھی نہ کھڑے ہو پا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔دوپٹہ سرے سے غائب تھا۔۔۔۔
شہیر نے سرسری سا بتایا کے باہر دروازے پر مام کھڑی ہے وہ اُس کے روم میں چلی جائے ۔۔۔۔۔مگر اُسے جیسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا وہ سوئی جاگی سی بس اُسکے ہلتے لبوں کو دیکھتی رہی اور اُس کی بات ختم ہونے پر بجائے باہر نکلنے کے ۔۔۔واپس اندر جانے لگی۔۔
شہیر نے اُسے گُھور کر دیکھا اور کوئی راہ نہ پا کر ایک دم سے واپس کھینچتے ہوئے باہوں میں اٹھا لیا ۔۔۔۔وہ بوکھلا کر رہ گئی۔۔۔۔ گرنے کے ڈر سے باہیں اُس کے گلے میں ڈال کر اُسے سختی سے تھام لیا۔۔۔۔۔نہ کھلنے والی آنکھیں ضرورت سے زیادہ کھل گئی ۔۔اُسے سمجھ ہی نہیں آیا کے یہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔دل اُس کے ہر بڑھتے قدم پر خوف سے لرزنے لگا۔۔۔ابھی تو وہ پچھلے دن ہوئے واقعے کے اثر سے ہی مکمل طور پر باہر نہیں نکلی تھی۔۔اوپر سے صبح صبح یہ نیا حملا اُس کے حواس جھنجھوڑ چکا تھا۔۔۔۔
شہیر اُسے اوپر اپنے روم میں لایا اور آہستہ سے بیڈ پر لٹایا وہ نیند اور صدمے کے زیرِ اثر تھی۔۔۔ تبھی اُس کے گلے سے بازو نکالنے کی بجائے اُسے ویسے ہی سختی سے تھامے رکھا۔۔۔۔۔وہ پیچھے نہیں ہو پایا۔۔۔اُس کے کافی نزدیک جھکا سنجیدگی سے اُس کی حیران پریشان سہمی آنکھوں میں دیکھنے لگا اور پھر عجیب سے ہوتے احساسات پر فوراً نظریں اُس کے چہرے سے ہٹا کر اُس کے ہاتھ اپنی گردن سے نکالے اور پیچھے ہوا۔۔۔
“مام ہے باہر دروازے پر۔۔”
اُسے بنا دیکھے مختصر سی اطلاع دے کر خود باہر نکل گیا۔۔۔۔نور کا دل زوروں سے دھک دھک کر رہا تھا۔۔۔۔۔
اوپر سے اُس بستر کی تپش اور خوشبو حواسوں پر سوار ہو کر دل کو مزید بے چین کر رہی تھی۔۔۔۔ وہ تیزی سے اٹھ بیٹھی اور دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھے سانسیں ہموار کرنے لگی۔۔۔۔
°°°°°°
“سوری مام۔۔۔۔۔۔”
اُس نے گلے لگتے ہی دیری کے لیے معذرت کی ۔۔۔اُنہوں نے مسکراتے ہوئے اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھا۔۔۔
“نور کہاں ہے۔۔۔۔۔طبیعت ٹھیک ہے اُس کی۔۔”
اندر آتے ہی اُنہوں نے اُس کی اُمید کے مطابق پہلا سوال کیا۔۔۔اور ساتھ ہی اُن کی نظریں اُس کی متلاشی تھی۔۔اُس نے جان بوجھ کر جواب نہیں دیا خاموشی سے آگے بڑھ کر مرر وال پر پڑے پردے کھولنے لگا۔۔۔۔
اُن کی یہ اچانک آمد اُس کے ہی جھوٹ کی بدولت تھی جب اُنہوں نے دیر رات کو بات کرتے ہوئے نور کا پوچھا تھا اور اُس نے نور کی طبیعت خرابی کا بہانہ بنا دیا تھا۔۔۔یہ سوچے بنا کے یہ جھوٹ بھاری بھی پڑ سکتا ہے۔۔۔۔
۔۔
وہ دوبارہ اُس کا پوچھے اُس سے پہلے نور ہی باہر آگئی تھی ۔۔۔۔۔۔
رئیسہ بیگم اُسے دیکھ کر مسکرائیں جب کہ وہ اپنے حلیے کو لے کر کافی نروس تھی۔۔۔۔۔ چال بے حد سست تھی ۔۔۔۔۔مشکلوں سے مسکرا رہی تھی۔۔۔وہ رات کے بالکل سادے سے کھلے کھلے بلیک کرتے اور ٹراوزر میں تھی۔۔۔۔۔ بال ڈھیلی سی چوٹی میں گتھے تھے ۔۔۔۔۔ڈھنگ کے کپڑے تو کیا اُس کا دوپٹہ بھی موجود نہیں تھا پاس اور شہیر کے روم میں اُس کے کپڑے تو تھے نہیں اسلئے اُسے ایسے ہی آنا پڑا تھا ۔۔۔۔
رئیسہ بیگم نے اُسے محبت سے گلے لگایا ۔
” ویسے ہی تم دونوں کی اتنی یاد آرہی تھی پھر شہیر نے رات کو بتایا کے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔میرا تو دل ہی نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔بس پھر میں نے سکینہ سے کہا کہ مجھے ابھی اپنی بہو سے ملنا ہے اور ہم چلے آۓ ۔۔۔۔
اُنہوں نے اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنے آنے کی وجہ بتائی ۔۔۔۔۔ اُس نے اپنی طبیعت خرابی کی بات پر حیران ہو کر اُنہیں پھر شہیر کی جانب دیکھا ۔۔۔۔وہ جیسے پہلے سے ہی جانتا تھا اور الرٹ بھی تھا ۔۔۔۔۔اُس کے دیکھتے ہی بے نیاز بن کر لب دانتوں میں دبائے ۔۔۔۔بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔۔۔
نور نے اُس کی ایکٹنگ پر من ہی من اُسے گھورا۔۔۔۔
“۔نیند خراب ہو گئی نہ تم دونوں کی میری وجہ سے۔۔۔۔”
اس کی غائب دماغی محسوس کر اُنہوں نے شرمندہ ہو کر کہا تو اُس نے گڑبڑا کر سر نفی میں ہلاتے ہوئے اپنی بے وقوفی کو کوسا۔۔۔۔
بلکل نہیں ۔۔۔۔ بلکہ صبح صبح سرپرائز مل گیا۔۔۔۔۔مجھے بھی آپکی اور سب گھر والوں کی بہت یاد آرہی تھی۔۔۔۔بہت دل کر رہا تھا وہاں آنے کا۔۔۔’
آپ بیٹھیے نہ میں آپ کے لیے پانی لاتی ہوں۔۔۔۔”
اس نے اُن کا ہاتھ تھامے خوش دلی سے کہا اور آخر میں اُن کے سفر کا خیال کرکے جلدی سے بولی۔۔
کوئی ضرورت نہیں۔۔۔آؤ بیٹھو میرے پاس ۔۔پانی سکینہ لے آئے گی۔۔۔بلکہ اسے ساتھ اسی لیے لائی ہوں ۔۔۔اب سے یہ یہیں رہےگی گھر کا اور تم دونوں کا دھیان رکھے گی اچھے سے۔۔۔۔۔ویسے تو تم کسی کو یہاں رکھنے کے حق میں نہیں ہو مگر سکینہ تو اپنی ہی بچی ہے۔۔۔۔۔یہ یہاں رہےگی تو تمہیں کوئی ڈر یا انسکیورٹی بھی نہیں رہےگی ۔۔۔۔۔اور تمہارا ہاتھ بھی بٹائے گی یہ کاموں میں۔۔۔۔
اُنہوں نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر صوفے کی طرف بڑھتے ہوئے اپنے پاس بیٹھایا جب کے شہیر پہلے سے اُن کی دوسری طرف بیٹھا ہوا تھا۔۔اُن کی بات سنتے ہی سکینہ مسکراتی ہوئی کچن کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔۔ اور یہاں اُن کی سکینہ والی بات پر اُن دونوں کے دماغ کو جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔دونوں جانتے تھے سکینہ اُن کا دھیان رکھنے کے لیے نہیں بلکہ اُن پر دھیان رکھنے کے لیے لائی گئی تھی ۔۔۔۔
دونوں نے ایک ساتھ ایک دوسرے کی جانب دیکھا تھا
اور شہیر نے سر صوفے کی بیک سے ٹکائے آرام دہ پوزیشن میں بیٹھتے ہوئے آہستہ سے سر نفی میں ہلا کر اُسے منع کرنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔۔رئیسہ بیگم کا رخ نور کی طرف تھا۔۔۔اسلئے وہ اُس اشارے بازی سے انجان تھیں۔۔۔۔
لیکِن اس کی کیا ضرورت ہے مام۔۔۔۔۔”
وہ پریشان ہو گئی کے منع کرے تو کیا کہہ کر۔۔۔۔
کیسے ضرورت نہیں۔۔۔تم گھر کے کاموں میں اُلجھی رہوگی تو پڑھائی کب کروگی ۔۔۔شہیر کو کب وقت دوگی ۔۔۔سکینہ پاس رہےگی تو آسانی ہوگی بیٹا تمہیں ۔۔۔۔۔
رئیسہ بیگم کو اُس کا بدلتا رنگ صاف نظر آرہا تھا ۔۔وہ سکینہ سے گلاس لے کر پانی پینے لگیں تو اُس نے دوبارہ سے شہیر کی طرف دیکھا اور اُس نے بہت غیر محسوس انداز میں پھر سے سر ہلاکر اُسے وارن کیا۔ ۔۔
لیکن گھر میں تو کوئی خاص کام ہے ہی نہیں ۔۔ کالج بھی صرف کچھ گھنٹے جانا ہوتا ہے اور یہ بھی دن بھر آفیس میں ہی ہوتے ہے۔۔۔۔میں فری ٹائم میں سب مینیج کرلیتی ہوں آرام سے۔۔۔۔۔پلیز آپ رہنے دیجیے نہ۔۔۔۔مجھے اچھا لگتا ہے خود یہ سب کرنا ۔۔۔۔۔
اس دفعہ اُس نے تھوڑی جی جان لگا کر کوشش کی اور بیچارگی سے بولی تو رئیسہ بیگم الجھ گئیں کے کیا کریں۔۔۔”
ٹھیک ہے اب تم کہہ رہی ہو تو میں کیسے زور دے سکتی ہوں ۔۔۔مگر ہاں تم بلکل بھی خود کو ان سب چکروں میں تھکاؤگی نہیں۔۔۔ذرا بھی مشکل ہوئی تو فوراً مجھے کال کرکے بتاؤگی۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔
اُنہوں نے بے دلی سے کہا تو اُس نے سکون کا سانس لیا اور مسکرا کر سر ہاں میں ہلا دیا۔۔پھر وہ اُن سے باقی سب کے متعلق استفسار کرنے لگی۔۔اور رئیسہ بیگم اُسے گھر والوں کے دیے میسیج دینے لگیں ۔۔
تبھی نظر بے ارادہ اُس کی جانب گئی تو وہ اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔نیند سے بوجھل نگاہیں تھیں اور غیر معمولی ۔۔۔۔بے خود انداز تھا۔۔۔ ۔۔ مگر نور کے متوجہ ہونے پر وہ بہت سرعت سے نظروں کا رخ بدل چکا تھا ۔۔۔۔۔
تم کیا ہماری باتیں سُن رہے ہو اتنے غور سے۔۔۔۔آفس نہیں جانا ہے آج ۔۔۔
رئیسہ بیگم نے اُسے کتنی دیر بعد نوٹس کرکے مخاطب کیا تو نور بھی چونک سی گئی۔۔۔۔اور نظریں جھکائے دھڑکنیں شمار کرنے لگی۔۔۔۔
_جا رہا ہوں ۔۔۔ویسے بھی آج آپ مجھ سے ملنے نہیں آئیں ہے ۔۔۔۔پتہ نہیں پھر بھی یہاں کیا کر رہا ہوں میں۔۔۔۔”
وہ تھکے تھکے سے لیکن سنجیدہ لہجے میں شکوہ کرکے اپنی جگہ سے اٹھ گیا تو اُس کے انداز پر اُن کے ساتھ نور بھی مسکرا دی۔۔۔۔
تمہارے ہاتھ کو کیا ہوا ہے بیٹا۔۔۔۔۔
رئیسہ بیگم کا دھیان اُس کی اُنگلی پر بندھے بینڈیج پر گیا تو انہوں نے فکرمندی سے پوچھا۔۔۔۔
“کچھ نہیں بس ذرا سا کٹ گیا تھا کچن میں۔۔۔۔۔”
اس نے آسودگی سے مسکرا کر کہا۔۔۔
سب ٹھیک ہے نہ تم دونوں میں ۔۔۔۔۔۔
اُنہیں جیسے موقع مل گیا اپنا ضروری سوال پوچھنے کا ۔۔ نظریں اُس کے چہرے کو جانچ رہیں تھیں ۔۔۔
اس نے بس ہولے سے مسکرا کر سر ہلا دیا تھا۔۔۔۔
مجھ سے کچھ مت چھپانا۔۔۔۔کبھی بھی کوئی بھی شکایت ہو تو کھل کر بتانا مجھے۔۔۔۔۔
انہوں نے اپنائیت سے کہا نور کو لگا وہ تھوڑی دیر اور یہاں رہی تو پتہ نہیں کتنے جھوٹ بولنے پڑیں گے۔۔۔تبھی جلدی سے وہاں سے اٹھ گئی۔۔۔
جی ۔۔۔۔۔اچھا میں آپکے لیے۔۔۔۔۔۔”
میرے لیے ابھی کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔میں تھوڑی دیر آرام کروں گی تم جاؤ جا کر شہیر کی تیاری میں ہیلپ کرواؤ۔۔۔۔کہیں اُسے کِسی چیز کی ضرورت نہ ہو۔۔۔۔
اُنہوں نے اُس کی فرار تلاشتی کیفیت سمجھ لی تھی اور اُسے روک کر مسکراتے ہوئے ۔۔۔۔ایک مشکل سے دوسری مصیبت میں ڈال دیا تھا ۔۔۔اور اُسے مانتے ہی بنی ۔۔۔۔
••••••••
جب وہ بنا ناک کیے اندر آگئی تھی تب شہیر نے کیسا برتاؤ کیا تھا وہ کبھی بھول نہیں سکتی تھی۔۔۔۔۔اور اُس کمرے کے اندر اب اجازت سے بھی کبھی نہیں جانا چاہتی تھی۔۔۔۔مگر فلوقت کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں تھا۔۔۔۔یہاں تک کہ وہ تیار ہونے تو کیا اپنے کپڑے لینے بھی روم میں جاتی تو رئیسہ بیگم کے سامنے سے جانا پڑتا اور پھر اُن کے ہزار سوالوں کے جواب دینا پڑتا۔۔۔۔
اس نے بے بسی سے بند دروازے کو دیکھتے ہوئے بس ایک دفعہ آہستہ سے بجایا۔۔۔۔
اور اگلے چار سیکنڈ بعد ہی دروازہ کھلا۔۔۔۔۔
وہ پریشان اور جھنجھلائے سے تاثرات لیے وہیں کھڑی رہی شہیر نے بخوبی اُس کی سوچ کو محسوس کیا اور اُسے سر سے اندر آنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔وہ پھر بھی آگے نہیں بڑھی۔۔۔۔کشمش میں گھری لب بے دردی سے کاٹتے ہوئے زمین کو گھورنے لگی اور پھر اُس کی طرف دیکھ کر سر نفی میں ہلایا اور واپس پلٹ گئی۔۔۔۔لیکن آگے بڑھنے سے پہلے ہی شہیر نے اُس کا ہاتھ تھام کر روک دیا ۔۔۔۔۔۔
نور نے حیرت سے پلٹ کر اُسے دیکھا ۔۔۔۔
“اس دن کے لیے سوری ۔۔۔۔۔۔۔”
وہ مدھم لہجے میں نرمی سے بولا تو نور نے اُس کے دلکش چہرے سے نظریں ہٹا کر اُس کے ہاتھ میں موجود اپنی کلائی کو دیکھا ۔۔۔۔اور شہیر نے تب اُس کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔۔۔
“کم ان ۔۔۔۔۔۔”
اس نے راستہ دے کر اندر آنے کو کہا تو اُس نے قدم آگے بڑھائے۔۔۔مگر اب بھی ایک الجھن گھیرے ہوئےتھی اور دل رفتار سے بھٹک رہا تھا ۔۔۔۔
حالانکہ وہ چار دن پہلے تک ہر روز اس کمرے میں آتی تھی۔۔۔۔۔ایک ایک حصے کو ترتیب اور نفاست سے سنوارتی تھی مگر اُس کی موجودگی میں وہاں ہونا آزمائش کا کام تھا۔۔۔۔اُس کی موجودگی خوشبووں کے حصار جیسی تھی ۔۔۔چاروں اطراف سے گھیرے ہوئے تھی ہر سانس کے ساتھ محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔اور پھر آجکل وہ اُس سے جڑی ہر بات اور ہر احساس کا شدّت سے اثر لے کر خود پر سوار کرلیتی تھی ۔۔
اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے ۔۔۔۔۔کہاں جائے۔۔۔۔۔کدھر بیٹھے۔۔۔۔وہ کبھی چہرے پر نا آنے والے بال ہٹاتی ۔۔۔۔کبھی گلے میں موجود چین کو ناخن سے گھستی کبھی انگلیاں مروڑتی ۔۔۔۔۔مگر وہیں کھڑی رہی ۔۔۔۔۔
وہ خود کو موبائیل میں مصروف ظاہر کرکے کچھ دیر بیٹھا اگنور کرتا رہا ۔۔۔۔۔لیکن جب منظر نہیں بدلہ تو نظریں اٹھا کر ڈریسنگ کے شیشے میں اُس کی جانب دیکھا۔۔۔۔اور اُس کے ہراساں چہرے کو دیکھ کر اندازہ لگایا کے شاید وہ اُس کی وہاں موجودگی سے ان کمفرٹربل ہے۔۔۔۔
۔اسلئے وہاں سے اٹھ کر اپنے کپڑے لیتے ہوئے واشروم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔نور نے بند دروازے کو دیکھ کر سکون کی سانس لی اور آکر صوفے پر بیٹھ گئی ۔۔۔۔
بھلے اُس کے جانے سے کچھ نارمل ہو گئی تھی مگر اصل مشکل اب بھی قائم تھی کے کیا کرے ۔۔۔۔تیار ہو کر نیچے کیسے جائے جب کے کپڑے تو تھے ہی نہیں ۔۔۔
کتنی دیر وہ روہانسی ہو کر دماغ لڑاتی رہی مگر کوئی حل نہیں ملا یہاں تک کہ وہ شاور لے کر بال خشک کرتے ہوئے باہر بھی آگیا ۔۔۔
وہ اُسے آتے دیکھ ایکدم سے الرٹ ہو کر اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی تھی اور اس بار وہ تھوڑا جھنجھلا گیا تھا۔۔۔۔
“کیا ہوا کیا پرابلم ہے”
جھنجھلاہٹ کو مشکل سے کنٹرول کرکے پوچھا تاکہ کچھ سمجھ آئے۔۔۔۔۔اُس نے تیزی سے سر نفی میں ہلا دیا ۔ ۔اور آگے بڑھ کر اُس کے سامنے آئی ۔۔۔اُس سے کچھ فاصلے پر رکی۔۔۔۔۔۔
“میں آپ کی تیاری میں کیا ہیلپ کر سکتی ہوں۔۔۔وہ بتا دیجیے ۔۔”
جس مقصد سے اُسے بھیجا گیا تھا اُس پر آکر پوچھا تو وہ ایک پل کو خاموش رہا۔۔۔سمجھ تو آگئی تھی کے یہ کون کہہ سکتا ہے ۔۔۔
“اُس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔تم چاہو تو سو جاؤ تھوڑی دیر یہاں۔۔۔۔۔”
اس نے سہولت سے انکار کرتے ہوئے بستر کی طرف اِشارہ کرکے کہا یہ سوچ کر کے شاید وہ نیند کے مارے اتنی بیزار بیزار سی ہو رہی ہے۔۔۔نور نے ایسے دیکھا جیسے بستر میں کانٹے لگے ہو۔۔۔۔اور بوکھلا کر سر نفی میں ہلایا۔۔۔۔
“نہیں مجھے سونا نہیں ہے۔۔۔۔۔تیار ہو کر نیچے جانا ہے لیکن میں کیا کروں ۔۔۔۔میرے کپڑے تو نیچے روم میں ہے۔۔۔۔۔اور مام وہیں بیٹھیں ہے۔۔۔۔۔اُن کے سامنے کیسے لے کر آؤں کپڑے ۔۔۔۔اُنہوں نے دیکھ لیا اور پوچھ لیا کے میرے کپڑے وہاں کیوں ہے تو۔۔۔۔۔۔اُنہیں تو پتہ چل جائے گا نہ کے میں نیچے والے روم میں رہتی ہوں۔۔۔۔۔پھر وہ ناراض ہوجائیں گی اور اگر اُنہوں نے مجھے یہاں آکر رہنے کا کہہ دیا تو۔۔۔۔میں کیا جواب دوں گی ۔۔۔منع بھی کیسے کروں گی ۔۔۔۔اور۔۔۔۔
وہ حواس باختہ سی۔۔۔کبھی اُسے تو کبھی ادھر اُدھر دیکھتی۔۔۔۔ اپنے مزاج اور عادت کے خلاف بول بول کر اُسے حیران کر گئی۔۔۔اُس پر ہر لائن کے ساتھ بدلتے چہرے کے ایکسپریشن قابلِ آفریں تھے کہ لبوں پر بے ساختہ آنے والی مسکراہٹ کو اُس نے لب بھینچ کر مشکل سے روکا۔۔۔۔
ایک تو میں نے ابھی تک برش بھی نہیں کیا۔۔۔ اوپر سے مجھے اتنی بھوک بھی لگ رہی ہے۔ ۔۔۔
وہ مقابل سے بے خبر ۔۔۔ اپنی ہی دھن میں لگی ہوئی تھی۔۔۔وہ سر جھکا کر نفی میں ہلاتے سنجیدہ ہوا۔۔۔۔
اوکے ۔۔۔۔لیٹس ۔۔۔۔۔
شہیر نے اُس کی مشکل حل کرنے کو کچھ کہنا چاہا لیکِن وہ اُس کی سننے کے لیے رکے تو ۔۔۔۔
“میں کب تک یہاں ایسے بیٹھے رہوں۔۔۔۔وہ کیا سمجھیں گی کے مجھ سے ملنے اتنی دور سے آئیں ہے اور میں آکر یہاں بیٹھ گئی ہوں۔۔۔۔مجھے شاید ان کا یہاں آنا اچھا ہی نہ لگا ہواس لیے میں اُن کے پاس نہیں جا رہی۔۔ ۔ ۔۔۔۔کیا سوچیں گی ۔۔۔۔”
وہ مسلسل بولے جا رہی تھی ۔۔۔شہیر کو کچھ بولنے بات کرنے کا موقع ہی نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔۔تبھی اُس نے آگے بڑھ کر اچانک اُس کے لبوں پر اُنگلی رکھ دی۔۔۔۔۔اور اس دفعہ درمیان میں کوئی فاصلہ نہیں تھا۔۔۔کھلتے لب ساکت ہوگئے تھے اور سانس اندر کی اندر رہ گئی تھی۔ دل مانو اچھل کر حلق میں آگیا تھا ۔۔
“رلیکس ۔۔۔ میں لے آتا ہُوں کپڑے ۔۔۔۔رلیکس “
وہ اُس کی پوری کھلی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔اور پھر نرم لبوں کی لرزش محسوس کرکے نظریں آنکھوں سے ہٹ کر نیچے آئی۔۔۔اور ایکدم سے سنجیدہ ہوئیں ۔۔۔۔۔۔۔
جب کہ اُس کا ہاتھ ہٹانے کی بجائے ایک ابرو اٹھا کر اتنے شوق و توجہ سے اپنے لبوں کو دیکھنا ایسا تھا کہ بیک وقت اپنے جسم میں اُسے کئیں سانپ رینگتے محسوس ہوئے اور اُس نے تیزی سی شہیر کا ہاتھ ہٹا کر گہری سانس لی۔۔۔۔۔اُس سانس کے ساتھ بھیگے بالوں سے اٹھتی شیمپو کی خوشبو بھی حس شامہ نے شدّت سے محسوس کی۔۔۔۔
جب کے وہ چونک کر پیچھے ہٹا ۔۔۔۔۔اور نظریں پھیر کر چہرے پر ہاتھ گھمایا ۔۔۔۔
اچانک سے فضا بدل گئی تھی ۔۔۔۔۔جیسے دونوں کے دل کی دھڑکنیں ہم ساز ہو کے چاروں اور گونج رہی تھی ۔۔۔۔۔سانسوں نے راگ بکھیرا ہوا تھا ۔۔۔۔
“. کپڑے لے آؤں گا میں “
وہ بنا اُس کی طرف دیکھے آہستہ سے بولا اور باہر نکل گیا نور نے کرتے کے گلے کو ہاتھ میں بھر کر آنکھیں میچتے ہوئے لمبی سانس لی ۔۔۔۔۔۔
اُسے آنے میں دیر لگنی یقینی تھی اور وہ جلد سے جلد وہاں سے نکلنا چاہتی تھی اسلئے اُس کے آنے تک باتھ لینے کا فیصلہ کرکے واشروم کی طرف بڑھی ۔۔۔
اور واقعی اُسے دیر لگی تھی ۔۔۔جب وہ واپس اندر آیا تب تک وہ نہا کر باہر اچکی تھی اور ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑی بال سلجھا رہی تھی۔۔۔۔۔وہ بھی شہیر کی شرٹ ٹراوزر پہنے ۔۔۔۔۔وہ چند سیکنڈ دروازے پر ہی رکا اُسے دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔۔
وہائٹ شرٹ جو نازک بدن کے بلحاظ کافی بڑی تھی ۔۔۔نیچے گھٹنوں سے تھوڑی اوپر تک لمبی ۔۔۔۔۔۔اور آستین فولڈ دینے کے بعد ہتھیلی تک آرہی تھی ۔۔۔
نیچے بلیک ٹریک پینٹ جو یقیناً کمر پر دو تین فولڈ دینے کے بعد ٹخنے پر پہنچی تھی ۔۔
ایک شولڈر پر ٹاول رکھ کے سامنے سے شرٹ کے اوپر پھیلایا ہوا تھا۔۔۔۔۔اور دوسرے شولڈر پر گھنے براؤن بال جمع تھے ۔۔۔۔۔
وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔مم ۔۔۔میں نے سوچا ٹائم ہوگیا ہے بہت تو ۔۔۔۔۔اور۔۔۔اور دیر نا ہوجائے۔۔۔۔اسلئے تب تک میں۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن میں اچھے سے دھو کر واپس کردوں گی آپکو۔۔۔۔پکّا
وہ اُس کی نظروں سے نروس ہو کر پہلے سے ٹھیک ٹھاک ٹاول کو بلا وجہ اور پھیلاتی خود کو مزید ڈھانپنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی تو اُس کی آخری بات وہ چہرہ دوسری طرف کرکے مدھم سا مسکرايا اور فوراً اُس مسکراہٹ کو سمیٹ کر اُس کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔ ہاتھ میں موجود شاپنگ بیگ اُس کی طرف بڑھائی۔۔۔
اس میں کپڑوں کے ساتھ کچھ ضرورت کی چیزیں بھی ہے اگر اور کچھ چاہیے ہو تو بتا دو۔۔۔۔مام اب سو رہی ہے ۔۔۔میں لے آؤں گا ۔۔۔
اس نے نظروں کو اُس کی جانب سے بعض رکھے آستین فولڈ کرتے ہوئے خود کو مصروف ظاہر کیا۔۔۔
نور نے شاپر کھول کر دیکھا تو کپڑوں کے ساتھ اُس کے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا کچھ میکپ کا سامان۔۔۔۔اُس کا موبائل ۔۔۔پرفیوم ۔۔۔۔اور ہیئر برش بھی تھے ۔۔۔
سب ہے ۔۔۔۔تھینک یو ۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اطمینان سے کہا اور ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔شہیر نے نظر اٹھا کر بند ہوتے ڈور کو دیکھا اور تھکی تھکی سی سانس لے کر اپنی بے ساختگی پر خود کو سرزنش کی ۔۔۔۔۔
ایک انجانی کشش اُسے شدّت سے نور کی طرف کھینچ رہی تھی اور وہ خود کو اُس کے آگے بے بل محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔لیکِن وہ مات تو ہرگز نہیں کھانا چاہتا تھا۔۔۔۔