قسط 15 حصہ 1
وہ معمول کی طرح شہیر کا ویٹ کرتی لان میں ٹہل رہی تھی۔۔۔اپنے دونوں بازوں اپنے ہی گرد لپیٹے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔گرم سویٹر پہننے کے باوجود سردی کا اثر بدن پر شدّت سے طاری تھا۔۔۔۔۔۔۔یخ بستہ ہواؤں کے اثر سے سانسیں بھانپ کی صورت ہوا میں تحویل ہو رہیں تھیں۔۔۔گالوں کی سرخی بڑھتی جا رہی تھی ۔۔
رئیسہ بیگم نے وہ سارا دن اُس کے ساتھ گزارا لیکن شام ہوتے ہی وہ واپس چلی گئیں تھیں ۔۔۔۔اُس نے بارہا روکا ۔۔۔۔لیکِن اُنہوں نے گھر پر کچھ مہمانوں کے آنے کا کہہ کر منع کر دیا ۔۔۔۔
حالانکہ اُن کے آنے کے بعد سے صورتِ حال کافی پُر آزمائش ہو چکی تھی اور مزید ہونے والی تھی۔۔۔۔اس بات کا اُسے اندازہ تھا۔۔۔لیکِن پھر بھی وہ چاہتی تھی کے وہ رک جائیں ۔۔۔۔
اُن کے آنے سے تنہائی ایک دن کے لیے ہی صحیح کم ہوگئی تھی۔۔۔کم سے کم کوئی بات کرنے والا تھا۔۔۔۔۔ورنہ تو اُس گھر میں اتنے دن رہتے ہوئے اُس نے صرف گنتی کی چند باتیں کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ کبھی کوئی لمحہ اپنے تنہا ہونے کا شدت سے احساس دلاتا تو وہ کبھی کتابوں میں خود کو مصروف کرکے اپنا دھیان بٹالیتی ۔۔۔یا کبھی ذائشہ کو تو کبھی اپنے گھر یا شہیر کے گھر فون پر بات کرکے دل لگا لیتی۔۔۔۔
اس کے بر خلاف کالج میں اُس کا وقت بہت پُر جوش گزرتا تھا ۔۔۔۔۔وہاں وہ بے خوف خوشحال سی نور بن کر رہتی تھی جس کی زندگی میں شہیر نام کا کانٹا نہیں ہوا کرتا تھا۔۔۔۔۔و کالج میں کبھی اُس کا ذکر نہیں کرتی تھی۔۔۔۔دو تین ہی لوگ تھے جو جانتے تھے کے وہ میریڈ ہے ورنہ اس کے حوالے سے وہ کبھی کسی سے کوئی ذکر یا بات بھی نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔۔
رئیسہ بیگم کے جانے کے بعد سے اُس کا ذہن کافی منتشر ہو گیا تھا۔۔۔۔۔اُن کی باتیں بھول ہی نہیں رہی تھی ۔۔۔۔۔خاص کر اُن کی ایک بات اُس کے دماغی پر اتنی بڑی طرح سوار ہو چکی تھی کے وہ چاہ کر بھی جھٹک نہیں پا رہی تھی۔۔۔۔
اب بھی وہ اسی بارے میں سوچ رہی تھی جب خاموش فضا میں گاڑی کی آواز سنائی دی اور اگلے پل گاڑی کی لائٹس نے اُس کی آنکھوں پر وار کیا ۔۔۔۔
وہ آنکھیں بند کرکے کھولتی آگے بڑھی اور گیٹ کھول کر سائیڈ پر ہو گئی ۔۔۔۔
اُسے اپنے لیے منتظر دیکھ شہیر کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی اور دل کو ڈھیروں سکون ملا تھا۔۔۔۔اس بات کا اعتراف کرتے بنا تھا کہ اپنی مرضی کے خلاف بھی کوئی چیز خوشی اور اطمینان کا باعث بن سکتی ہے۔۔۔۔حالانکہ یہ ملال بھی تھا کہ شاید یہ بس اُس کی ماں کی موجودگی کی وجہ سے ایک دکھاوا ہی ہو ۔۔۔
وہ گاڑی پارک کرکے باہر نکلا تو ہوا کے سرد جھونکے شدّت سے بدن میں گھستے محسوس ہوئے ۔۔۔سانس خارج ہوتے ہی دھواں بن گئی ۔۔۔ بے ساختہ خیال آیا کے اتنی سردی میں وہ کب سے اُس کی وجہ سے باہر کھڑی ہے ۔۔۔لیکن اُس نے خود کو کچھ کہنے سے بعض ہی رکھا کہ کہیں پھر اُس پر چڑھ نہ دوڑے ۔۔۔۔بڑی مشکل سے تو سیز فائیر ہوا تھا۔۔۔
دھیمے قدموں سے آگے بڑھتے ہوئے۔۔۔سرشاری سے اُس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔آنکھیں بھی جیسے آجکل ضد پر تھیں کے اس کے خلاف جا کر ہی چین لیں گی۔۔۔لیکن جیسے ہی وہ گیٹ بند کرکے پلٹی وہ فوراََ نظروں کا رخ بدل کر اندر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
وہی لا تعلقی کی کوشش۔۔۔۔۔۔
لیکِن لا تعلقي کی بس اب کوششیں ہی باقی رہ گئی تھی ۔۔۔۔۔ وہ بھی جانے کونسی انا کی تسکین کے لیے جو یہ ماننا نہیں چاہتی تھی کے دوسری دفعہ بھی کسی پر یقین کرنے کی بیوقوفی کی جا سکتی ہے۔۔۔۔
مگر باغی دل تو ایک پل کو بھی اُس کی جانب سے دست بردار ہونے کو راضی نہیں تھا۔۔۔۔دل تو اپنے ہی بنائے باندھ توڑنے پر بضد تھا۔۔۔۔
اور یہ تبدیلیاں اُس تعلق خاص کی بدولت تھی جس نے دونوں کو ہم راہ کردیا تھا۔۔۔۔جس سے کبھی وہ انکاری تھا مگر آج وہ تعلق احساس بن کر جکڑ چکا تھا ۔۔۔۔۔
اور پھر وہ جس نے اُس کے روز و شب بدل دیے تھے ۔۔۔۔۔۔چھوٹی چھوٹی چیزیں جو کبھی کسی نے اُس کے لیے نہیں کی تھی وہ کرکے اُسے اپنی جانب مائل کرلیا تھا۔۔۔۔وہ چاہ کر بھی اُسے بتا نہیں سکتا تھا کہ صرف ہر روز یہ اُس کا انتظار کرنا ہی اُس کے لیے کیا اہمیت رکھتا تھا ۔۔۔
کتنا خوشنما احساس تھا جب تھک کر گھر کی جانب سفر کرتے ہوئے یہ خیال آتا کے وہاں کوئی راہ دیکھتا ہے ۔۔
اندر آکر اس کی نظریں رئیسہ بیگم کی متلاشی تھی ۔لیکن خالی ہی لوٹیں ۔۔۔۔
“مام ؟
ہمیشہ سی گہری خاموشی محسوس کرکے اُس نے سوالیہ نظروں سے نور کو دیکھا ۔۔۔۔
“چلی گئیں “
“وہ کل گھر پر کچھ مہمان آنے والے ہے اسلئے اُنہیں جانا پڑا۔۔۔فون کیا تھا آپکو لیکِن آپ نے اٹھایا نہیں ۔ ۔”
اس نے تفصیل سے بتایا تو شہیر نے فون نکال کر چیک کیا اور ڈھیر سارے مس کالز دیکھ کر لب بھینچے۔۔۔۔
“شاید اُس وقت میں میٹنگ میں تھا ۔۔۔”
افسوس سے کہہ کر ان کا نمبر ملا کر کان سے لگایا ۔۔۔
“‘اُنہوں نے کہا وہ صبح آپ سے بات کرلیں گی ۔۔۔۔”
نور نے آہستہ سے کہا تو وہ فون کان سے ہٹا کر اُسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا۔۔۔۔اُسے نور کا لب و لہجہ اور چہرہ کچھ بجھا بجھا سا محسوس ہوا۔۔۔۔۔۔جب کے وہ اُس کے یوں دیکھنے پر نظریں جھکاتی منظر سے ہٹ گئی۔۔۔۔
وہ بھی خاموشی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔۔۔کچھ دیر بعد فریش ہو کر چینج کیے آرام دہ ٹی شرٹ اور ٹریک پینٹ میں واپس نیچے آیا تو وہ کھانا لگا رہی تھی۔۔۔
ویسے ہی اُداس اُداس سی ۔۔۔لیکِن کیوں۔۔۔۔وہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کیوں کہ صبح وہ بلکل نارمل تھی ۔۔۔۔۔
“کھانا گھر پر بنایا ۔۔۔۔۔۔ہاتھ؟
ہمیشہ کے مقابلے ٹیبل پر ڈشز کا اضافہ محسوس کرکے اُس کا دھیان اُس کی زخمی اُنگلی کی جانب گیا تو سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔۔
“ہاتھ ویسے بھی ٹھیک ہے لیکن یہ سب میں نے نہیں بنایا ہے۔۔۔مام نے بنایا تھا آپ کے لیے “
اس نے دھیمے سے لہجے میں جواب دیا تو وہ ایک نظر اُسے دیکھتا کھانے کی جانب متوجہ ہوا ۔۔۔۔نور نے کھانا لگا کر گلاس میں پانی بھرتے ہوئے اُس کے ٹیبل پر رکھے بائیں ہاتھ کو دیکھا جس کی تیسری اُنگلی میں گولڈن خوبصورت سی رنگ تھی۔۔
بلا شبہ وہ اُس کے ہاتھ میں پیاری لگ رہی تھی مگر نور کو سخت بری لگی ۔۔۔۔تن بدن میں جیسے کڑواہٹ گھلتی گئی ۔۔۔۔اور آنکھوں میں مرچ سی بھرنےلگی۔۔۔
آپ خواہ مخواہ پریشان ہو رہی ہیں۔۔۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔میں بہت خوش ہوں۔۔۔۔اور وہ بھی بہت اچھے سے رہتے ہیں۔۔۔۔ بہت خیال رکھتے ہیں میرا۔۔۔۔۔پُرانی باتیں ذہن سے نکال چکے ہیں وہ اب۔۔۔۔۔۔۔
رئیسہ بیگم کی پریشانی کے اظہار پر اُس نے اپنی طرف سے تسلی دینے کی کوشش کی تھی جس پر انہوں نے مسکرا کر سر نفی میں ہلا دیا تھا۔۔۔۔
اگر تم مجھے دھوکا دینے کے لیے یہ کہہ رہی ہو تو میں” بتا دوں کے اس کا کوئی فائدہ نہیں کیوں کے میں اُس کی ماں ہوں۔۔۔۔۔اور اگر واقعی تمہیں ایسا لگتا ہے تو تم خود دھوکے میں ہو نور۔۔۔۔۔۔۔
انہوں نے پرسوچ نظروں سے اُسے دیکھا تھا اور پھر تھوڑا رک کر بولیں تھیں کہ۔۔۔۔۔
اُسے ذہن سے نکالنا تو دور کی بات میرا بیٹا اپنے ہاتھ سے اُس کی دی ہوئی رنگ تک نہیں نکال پایا ہے ۔۔۔۔۔
اُن کا جواب اُسے اگلے کچھ سیکنڈ کے لیے ساکت و جامد کرچکا تھا۔۔۔۔۔آگے اُنہوں نے کیا کہا اُس نے نہیں سنا۔۔۔۔۔اُس کی سماعتوں میں بس وہی بات گونجتی رہ گئی تھی۔۔۔۔۔
محبت کو پانے کی خواہش اتنی پرزور نہیں ہوتی۔۔۔۔جتنا دو کے درمیان تیسرے کے ہونے کا احساس جان لیوا ہوتا ہے۔۔۔۔
یہ حقیقت تو اُس کا نصیب تھی کے وہ چاہ کر بھی اس کی زندگی سے اُس تیسرے نام کو مٹا نہیں سکتی تھی۔۔۔کِسی نہ کسی حوالے سے۔۔۔۔۔۔درد۔۔۔دھوکا۔۔۔۔کرب ۔۔۔ایذا ۔۔۔۔۔کِسی نہ کسی صورت اُس کا ہونا تو طے تھا لیکن کہیں نہ کہیں یہ تسلی تھی کے حال میں اُس کی حیثیت ایک غیر ضروری خیال سے زیادہ نہیں تھی جو بھولے بھٹکے ذہن میں آجائے تو انسان فوراً جھٹک دے۔۔۔۔
مگر نہیں یہ بھی جھوٹی تسلی ثابت ہوئی تھی کیوں کے اگر وہ اتنی ہی غیر ضروری ہوتی تو کیا اب تک اُس کا دیا نذرانہ یوں خود سے لگائے رکھتا۔۔۔۔وہ تو نہ ہو کر بھی اُن کے درمیان تھی۔۔۔۔کیوں کے وہ خود اُسے نہیں جانے دینا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔
وہ اُس کا ہو کر بھی اُس کا نہیں تھا اس بات سے زیادہ جاں سوزِ یہ حقیقت تھی کہ وہ کسی اور کا تھا۔۔
وہ جگ دونوں ہاتھوں میں پکڑے کھڑی جلتی نگاہوں سے اُس رنگ کو دیکھ رہی تھی جس نے چند گھڑیوں میں اُس کا کتنا ہی خون خشک کردیا تھا۔۔۔
اُس کے لیے ضبط مشکل ہوتا جا رہا تھا۔۔ آنکھیں رونے کو مچل رہی تھی۔۔۔۔۔
“تم نے کھانا کھا لیا”
شہیر نے کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد آہستہ سے پوچھا تھا۔۔۔۔۔۔پہلی دفعہ وہ اُس سے یہ سوال کر رہا تھا۔۔۔ وہ کبھی اُسے بیوی تو کیا انسان سمجھ کر بھی مروت نہیں دکھاتا تھا لیکن وہ تب بھی ان باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتی تھی ۔۔۔لیکن آج معاملہ اُس کی برداشت سے باہر ہوگیا تھا۔۔۔۔
“آپ کو اس سے کوئی غرض نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔”
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر تلخئ سے بولی تھی اور جگ کافی زور سے ٹیبل پر رکھا تھا ۔۔۔وہ حیران سا ہو کر اُسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔پہلے خاموشی پھر اُداسی اور اب یہ غصّہ سمجھ سے بالا تر تھا ۔۔۔۔
اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دیجئے گا میں اندرہوں ۔۔۔۔”
وہ خود پر کنٹرول کھوتا محسوس کرکے جلدی سے بولتی ہوئی وہاں سے ہٹ گئی۔۔۔۔شہیر کی پیشانی پر ڈھیروں بل پڑے ۔۔
“اب کیا کردیا یار میں نے”
وہ جھنجھلا کر بڑبڑا یا اور کھانا بیچ میں ہی چھوڑ کر وہاں سے اٹھ گیا ۔۔۔۔بنا غلطی کے یہ غصّہ اُسے بلکل اچھا نہیں لگا۔۔۔۔بعد اس کے کہ وہ اپنی عادت کے خلاف جا کر اُس سے معافی بھی مانگ چکا تھا۔۔۔
*******
“آزار و اذیت ہے یک طرفہ محبت بھی۔۔۔
اک طرفہ قیامت ہے, یک طرفہ محبت بھی۔”
“سنتے تھے کے قصہ ہے،افسانوں کا حصہ ہے۔
،جانا کے حقیقت ہے یک طرفہ محبت بھی۔۔۔۔”
“خود سے ہی چھپاتے ہیں،خود کو ہی جلاتے ہیں۔۔
خود سے ہی رقابت ہے یک طرفہ محبت بھی۔۔۔۔”
“ایک شخص سے وابستہ جذبات ہے صف بستہ
ایک طرز عقیدت ہے ایک طرفہ محبت بھی ۔۔۔”
دن اپنی رفتار سے گزرتے رہے ۔۔۔اور ہر روز بے چینی بے سکونی اضطراب۔۔۔۔ بڑھتا رہا۔۔۔۔۔۔وہ اپنے آپ میں ہی گم رہنے لگی۔۔۔۔۔ پہروں بس یہی سوچتے سوچتے گزر گئے کے کیسے نکلے ان بیڑیوں سے جس نے ذہن کو لاغر کر چھوڑا تھا۔۔ دل جل جل کر خاک ہو رہا تھا ۔۔۔وہ اپنے دلوں و دماغ سے سب جھٹک دینا چاہتی تھی۔۔۔اُس کا خیال تک نہیں لانا چاہتی تھی لیکن سب کوششیں بے سود تھیں ۔۔۔نہ پڑھائی میں دل لگتا تھا نہ گھر کے کاموں میں۔۔۔۔۔نہ نیند سکون کی تھے نہ کوئی دن خوشگوار۔۔۔۔۔سب سونا تھا ۔۔۔۔خالی تھا۔۔۔۔۔پرسوز تھا۔۔۔
۔۔۔۔اُس کی موجودگی میں وہ کتنی ہی نارمل نظر آنے کی کوشش کرتی مگر ایک آزردگی ہمہ وقت سوار رہتی ۔۔۔کبھی خاموشی۔۔۔۔کبھی اُداسی۔۔۔۔کبھی خفگی۔۔۔تو کبھی بلا وجہ کا غصّہ اور جنجھلاہٹ بار بار عود آتے ۔۔۔۔شہیر نے بے نیازی اختیار کی ہوئی تھی کیوں کے اپنی طرف سے وہ احتیاط کرتا تھا کے اُس کے ساتھ رویہ اچھا رکھے۔۔۔۔۔۔۔ یہ بلا وجہ کا چڑنا۔۔۔لڑنا اُس کے لیے ضبط آزما نہ ثابت ہو اسلئے وہ اگنور کرنے لگا تھا۔۔۔۔۔وہ بات بھی کرتا تو آگے سے کاٹ کھانے دوڑتی اسلیے وہ مخاطب کرنے دے اجتناب برتتا تھا۔۔۔۔۔۔۔اور خود کو جوابی کاروائی سے بعض رکھتا۔۔۔۔۔۔۔
لیکن وہ اتنا سب کرکے بھی یہ نہیں کہہ پا رہی تھی میری بے سکونی کی وجہ تمہارے بائیں ہاتھ کی تیسری اُنگلی میں پہنی وہ رنگ ہے جو بتاتی ہے کے تم کس قدر غرق ہو کسی کی نسبت میں۔۔۔۔۔۔
کتنا واضح ہے تمہارا کِسی اور سے یہ جنونی عشق۔۔۔
نکال کر پھینکتے کیوں نہیں اسے۔۔۔۔۔
جب تم نے کہا ہے کہ تم اس کے لیے منفی یا مثبت کوئی جذبات نہیں رکھتے تو کیوں سنبھال رکھی ہے اُس کی امانت ۔۔۔۔
کیوں کہ اگر اُس کے بعد وہ پوچھ لیتا کہ تم کیوں ایسا چاہتی ہو ۔۔۔تمہیں کیا فرق پڑتا ہے تو اُس کے پاس دینے کے لیے کوئی جواب نہیں تھا۔۔۔۔۔
وہ اُسے یہ نہیں بتا سکتی تھی نا کہ تمہارے معاملے میں میرا دل مجھے بے بس کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔
“”میں نہیں جانتی ایسا کب اور کیسے ہوگیا مگر خدا گواہ ہے میں نے کبھی ایسا نہیں چاہا تھا۔۔۔۔۔۔
جب مجھے معلوم ہے کے اُس انسان کے دل میں پہلے سے ہی کوئی آباد ہے تو میں بیوقوفوں کی طرح اپنی جگہ کیوں تلاشوں گی۔۔۔۔
میں اتنی بے عقل تو نہیں ہُوں نا کے کھلی آنکھوں سے باہیں کھول کر بھڑکتے آتش کدے میں کود جاؤں۔۔۔۔
۔۔۔۔لیکن ہاں میں نے سنا ہے کہ محبت میں عقل کا دخل ممکن نہیں ہے۔۔۔۔۔۔یہ تو بے شعور ہوتی ہے ۔۔۔۔سوچ سمجھ کر نہیں کی جا سکتی ۔۔۔۔
اگر سوچ سمجھ کر کی جا سکتی تو ہر کوئی اپنے لیے بہترین محبوب کا انتخاب کرتا۔۔۔۔۔پھر تو محبت کبھی بدنام نہیں ہوتی۔۔۔۔۔پھر تو ہر کوئی محبت کرتا۔۔۔۔
“ہاں شاید وہ بلکل صحیح کہتے ہے۔۔۔۔دل ہمیں کبھی بھی اپنے فیصلے لینے کا اختیار نہیں دیتا ۔۔۔۔یہ اپنے راستے خود ہی چنتا ہے اور منزل بھی خود ہی منتخب کرلیتا ہے۔۔۔
میں اُن سے نفرت کی دعویدار رہی۔۔۔۔۔اُن کی ایک ایک بات کو ذہن نشین کرکے رکھا تاکہ ہمیشہ خود کو یاد دلاتی رہوں کہ مجھے اس انسان کے ہر عمل کے بدلے اُس سے اور زیادہ نفرت کرنی ہے۔۔۔۔۔اور دیکھو میرا دل میرے ہی خلاف ہوگیا ۔۔۔۔
میں تو یقین ہی نہیں کر پا رہی ہوں کے میرے دل نے اتنے غلط راستے کا تعین کیوں کر لیا۔۔۔۔۔۔وہ انسان جس نے کبھی مجھے ایک نظر دیکھنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔۔۔ جس نے بار بار میرا دل دکھایا ۔۔۔مجھے بے وقعت کرتا رہا۔۔۔۔۔۔ایسے انسان سے ۔۔۔۔۔
،”کچھ گن ملے نا ملے لیکِن نصیب تو ہمارے بلکل ایک سے ہے۔۔۔۔۔دیکھو نہ اُن کی بھی محبت میں قسمت پھوٹی اور میرا بھی نصیب سیاہ نکلا۔۔۔۔۔”
لیکن میں سچ بتا رہی ہُوں ۔۔۔میرے من میں کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ وہ بھی مجھے چاہے۔۔۔۔۔۔مجھے اہمیت دیں ۔۔۔۔ہمارے بیچ سب ٹھیک ہوجائے۔۔۔۔۔۔اظہار ا۔۔۔قرار۔۔۔وعدے وفا۔۔۔۔ان سب کی بھی کوئی امید نہیں جاگی دل میں۔۔۔لیکِن ہاں جب بھی محسوس ہوا کے اُن کی آنکھوں میں کِسی اور کا عکس ہے۔۔۔۔۔میری سانسیں بے چین ہو گئیں۔۔۔۔۔اُنہیں کبھی درد میں دیکھا تو میرا دل جل کر راکھ ہوگیا۔۔۔۔۔۔
وہ رنگ اُن کے ہاتھ میں دیکھ کر مجھے ایسا لگتا ہے جیسے سینکڑوں زہریلے سانپ مجھ سے لپٹے ہے اور لمحہ لمحہ مجھے ڈس رہے ہیں۔۔۔۔
کُچھ دن اور یہی حال رہا تو مجھے کچھ ہوجائے گا میں پاگل ہوجاؤں گی ذاشہ۔۔۔۔۔۔
یا تو میں خود کو ختم کر لوں گی یا اُنہیں کچھ کردوں گی۔۔۔۔۔”
اس نے خود سے اقرار کر لیا تو پھر زائشہ سے بھی دل کی ہر بات کہہ دی ۔۔۔۔کوئی تو چاہیے تھا تسلی دینے کو ۔۔۔جھوٹی ہی صحیح ۔۔۔
“آرام سے یار۔۔۔۔۔۔۔۔پاگل تو مجھے لگ رہا ہے تم ہو گئی ہو الرڈی ۔۔۔۔۔لیکِن اس سب سے کیا ہوگا ۔۔۔بجائے اس اذیت میں جینے کے اچھا نہیں ہوگا کے تم اس کا حل نکالو۔۔۔۔۔۔جا کر کہو اُن سے کے تمہیں نہیں پسند ہے اپنی زندگی میں اُن کی سابقہ محبت کا دخل ۔۔۔۔۔اُتار کر پھینکے اُسے ۔۔۔۔”
زائشہ تو پہلے سے اُس کے بدلے رنگ روپ سمجھ رہی تھی اور اُسے کہتی بھی تو ماننا تو دور آگے سے بھڑک اٹھتی مگر اُس رنگ نے بلاآخر ایسی آگ لگا دی تھی کے خود کو پل پل جلنے سے بچانے کے لیے فائر بریگیڈ کو بلانا ہی پڑا ۔۔۔۔
“تم چاہتی ہو ۔۔میں اُن پر ظاہر کروں کے میں کونسے راستے پر چل رہی ہوں ۔۔۔۔۔تاکہ اُنہیں مجھ پر ہنسنے کا موقعہ مل جائے۔۔۔۔۔وہ میرا مذاق بنا سکے کہ دیکھو کیسی بے ضمیر لڑکی ہے جس کو میں بار بار ٹھکراتا رہا۔۔۔۔۔جسے ایک نظر دیکھنا میں پسند نہیں کرتا وہ میرے پیچھے کیسے خبط ہو رہی ہے۔۔۔۔ہرگز بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔میں ابھی اتنی بھی دیوانی نہیں ہوئی ۔۔۔۔”
اُسے زائشہ کی صلاح سخت بری لگی۔۔۔
“میں نے تو سنا تھا ۔۔۔۔محبت میں انائیں نہیں ہوتی ۔۔”
زایشہ انجوئے بھی کر رہی تھی۔۔اور اُسے مزید تپا بھی رہی تھی ۔۔
“جہاں سے بھی سنا ہے بلکل غلط سنا ہے ۔۔۔۔مجھے تو لگتا ہے محبت میں اتنی انا ہونی چاہیے کے محبت سر اٹھا کر کی جا سکے۔۔۔بھیک میں مانگی گئی چیز کی حیثیت ہی کیا ہوتی ہے۔۔۔”
اس کا جواب متوقع تھا۔۔۔۔۔زائشہ نے دل ہی دل میں داد دی۔۔۔
ویسے میں اسے انا نہیں عزتِ نفس سمجھتی ہوں ۔۔۔کیوں کہ اگر انسان اپنے آپ سے سینسیر نہیں تو وہ کبھی کسی اور سے محبت کر ہی نہیں سکتا۔۔۔
میں جانتی ہُوں بھلے ہم طے نہیں کرسکتے کے ہمیں محبت کس سے اور کب تک کرنی ہے۔۔۔۔نہ یہ ہمارے اختیار میں ہے کے ہم اسے اپنی مرضی کے مطابق رکھے یا نکال کر پھینک دیں ۔۔۔۔لیکن ہاں اسے سرخرو رکھنا یا بے وقعت کرنا ہے یہ ضرور ہمارے اختیار میں ہے ۔۔
اور کم سے کم میں انہیں یہ موقع ہر گز نہیں دوں گی۔۔۔۔۔۔میں اُنہیں کبھی نہیں بتاؤں گی۔۔۔۔۔۔مر کر بھی اظہار نہیں کروں گی ۔۔۔۔۔”
اس کی آواز میں کچھ کچھ اداسی تھی۔۔۔۔
“لیکن محبت تو اپنا پتہ دے دیتی ہے۔۔۔جس سے ہوتی ہے اُس تک خود ہی خبر پہنچا دیتی ہے ۔۔۔کیا پتہ تم سے پہلے اُنہیں خبر ہو گئی ہو۔۔۔۔۔۔”
زائشہ نے بلکل درست اندازہ لگا کر اُسے آگاہ کیا۔۔۔
“مجھے نہیں لگتا کے وہ کبھی مجھ پر اتنا غور کریں گے ۔۔لیکِن اگر ایسا ہے بھی تو انہیں مجھ پر تصرف حاصل نہیں ہوجاتا۔۔۔۔جب تک میں اُنہیں موقع نہیں دیتی وہ مجھ پر برتری نہیں جتا سکتے ۔۔۔۔اور میں اُنہیں کبھی موقع نہیں دوں گی کیوں کے مجھے اُن کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔بھلے میرے سامنے کتنے بھی مسئلے آجائے۔۔۔۔میرا دل مجھے کتنا بھی بے بس کرے مگر جہاں بات سممان کی آئےگی میں کبھی کمپرومائز نہیں کروں گی ۔۔۔”
اس نے زایشہ کو بتانے سے زیادہ خود کو باور کرایا۔۔۔۔پلکیں نمی کو جذب کرکے بھیگنے لگی۔ ۔
“جب ہم ایک لا حاصل راستے پر قدم رکھتے ہے نہ تو صبر خود ہی آجاتا ہے دل کو۔۔۔شاید کبھی دل میں پانے کی آس بھی جاگے مگر وہ آس اتنی شدید نہیں ہوتی کے ہمیں جھکنے پر مجبور کردے ۔۔۔
اس لیے مجھے یقین ہے میں محبت کے بدلے محبت کی جستجو سے آزاد ہوں۔۔۔۔”
زائشہ کو بھی محسوس ہو رہا تھا کے وہ خود سے بات کر رہی ہے۔۔۔۔آواز میں گھلتی نمی بھی بلکل واضح تھی۔
“یعنی تم ایک طرفہ محاذ پر نکل پڑی ہو۔۔۔۔۔جانتے ہوئے کے بہت مشکل ہونے والاہے۔۔۔۔کیوں کے نظروں کے سامنے رکھ کرکے نظر انداز کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔۔۔۔۔اور پھر ایسے تو محبت کبھی مکمل ہی نہیں ہوگی تمہاری ۔۔۔
زائشہ مسکرا کر کہتے کہتے سنجیدہ ہوئی۔۔۔
“محبت کی تکمیل کے لیے حصول شرط نہیں ہے۔۔۔۔یہ اپنے میں ہی مکمل ہوتی ہے۔۔۔”
اس نے پر سوچ نظروں سے زمین کو تکتے ہوئے خود کو ایک اور سبق رٹا يا ۔۔
“۔یعنی جلد ہی جیجو صاحب کے ہوش ٹھکانے لگنے والے ہے”
زائشہ نے شرارت سے کہا وہ خاموش رہی ۔۔۔۔
“تو اب رنگ کا کیا سوچا ہے کیسے برداشت کرنی ہے ۔۔”
زائشہ مین ٹاپک پر لائی۔۔۔
“وہ رنگ تو میں کسی بھی حال میں ٹھکانے لگا کر رہوں گی زاشہ۔۔۔۔”
اس نے ایک عزم سے جواب دیا حالانکہ یہ ممکن کیسے ہوگا وہ خود نہیں جانتی تھی بس اتنا پتہ تھا کے کچھ دن اور اُس نے کچھ نہیں کیا تو ذہنی مریض بن جائیگی۔۔۔۔