محرم میرے

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط 15 حصہ 2

نیند کے احساس سے آنکھیں بھاری ہونے لگی تو اُس نے اسکرین سے نظریں ہٹا کر وال کلاک کی جانب دیکھا جہاں دو سے اوپر کا وقت ہو رہا تھا ۔۔۔۔لیکِن اُسے ابھی کچھ دیر اور جاگ کر کام مکمل کرنا تھا۔۔۔۔۔اور اس وقت کافی کی شدت سے ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔تبھی وہ سگریٹ کا آخری کش لگا کر اُسے بھی ایش ٹرے کی نظر کرتے ہوئے اٹھ کر روم سے باہر نکلا۔۔۔۔دروازے سے باہر آتے ہی کانوں میں پڑتی ٹی وی کی آواز اور لیونگ روم کی جلتی لائٹس پر وہ کچھ حیران ہوتا نیچے آیا۔۔۔۔۔
وہ جو صوفے پر پیر سمیٹ کر بیٹھی ٹی وی سے زیادہ اپنی سوچوں میں مگن تھی اُس کی غیر متوقع آمد پر بنا اُس کی جانب دیکھے ہی سیدھی ہو کر بیٹھ گئی اور نظریں ٹی وی پر مرکوز کردی ۔۔۔۔۔۔
اسکرین پر کمرشل ایڈ چل رہی تھی۔۔مگر اُس کا دھیان کہاں تھا۔۔۔بس یونہی مصروفیت کا مرکز بنا رکھا تھا ٹی وی کو۔۔۔۔اور آجکل کئی بار ایسا ہوتا تھا۔۔۔۔کبھی رات دیر تک کتابیں ۔۔۔یا ٹی وی ۔۔نیند تو بہت ہی کم آنے لگی تھی۔۔۔
وہ اُسے دیکھ کر بجائے کچن کے اُس کی جانب بڑھا وہ اُس کے پاس آنے پر الرٹ ہوتی رہی مگر اُس کی جانب نہیں دیکھا ۔۔۔۔
“اتنی رات ہو رہی ہے ۔۔۔۔تم سوئی نہیں اب تک۔۔۔اینی پرابلم “
وہ خلاف مزاج آج کل بہت شانت تھا۔۔۔۔۔اس وقت بھی بہت نرمی اور اپنائیت سے پوچھا ۔۔۔۔۔نور نے ضبط سے اُسے دیکھا جو خود اُس کی بے سکونی اور رت جگوں کی وجہ بن کر بھی انجان کھڑا تھا۔۔۔۔۔
نظر اُس کے ہاتھ پر گئی۔۔۔سیدھا ہاتھ تو ٹراوزر کی پاکٹ میں تھا اور دوسرا ہاتھ اور اُس میں موجود رنگ دیکھ خون کا دوران تیز ہو چکا تھا ۔۔۔
وہ غصے سے اٹھ کر اُس کی جانب بڑھی۔۔۔۔۔
آپ کو اب میرے جاگنے سے بھی دقت ہے۔۔۔۔۔ہاں سوری یہ ٹی وی کی آواز سے ڈسٹربنس ہو رہی ہوگی نہ آپکو۔۔۔۔لیجئے بند کردی میں نے۔۔۔۔اور یہ لائٹس بھی یقینا آپ کے لیے ناقابل برداشت ہوگی۔۔۔۔اب ٹھیک ہے۔۔۔۔یا اور کچھ باقی ہے۔۔۔۔۔
وہ عجیب حزیانی کیفیت میں پہلے ٹی وی اور پھر تمام لائٹس آف کر کے دونوں ریموٹ کو زور سے ٹیبل پر پٹخ کر بولی۔۔۔۔۔ایک سانس میں ہی تمام کاروائی مکمل کرکے دھڑکنیں تیز ہو چکیں تھی۔۔۔۔
اگر خاموش ہوں تو اُس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ” تمہاری ہر بدتمیزی برداشت کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔”
وہ بظاہر دھیرے سے اور اطمینان سے بولا لیکِن ضبط چہرے سے ظاہر تھا ۔۔۔ ۔۔۔
بدتمیزی ۔۔۔۔۔آپ تو خود مجھے یہاں بڑے مشکلوں سے برداشت کر رہے ہیں۔۔۔۔ورنہ آپ کا دل تو چاھتا ہے کے کسی بھی طرح مجھے یہاں سے نکال پھینکے ۔۔۔بس کچھ مجبوریوں نے آپ کے ہاتھ باندھ رکھے ہے۔۔۔۔
نور کا انداز اور لہجہ زہر خند تھا۔۔۔۔نا قابلِ سہن تھا۔۔۔۔
لیکِن میں کیا کہتی ہُوں ۔۔۔۔آپ آج سب فراموش کرکے اپنے دل کی کر ہی لیجئے۔۔۔۔۔کم سے کم یہ کھیل ختم کرکے مکمل طور پر آزاد تو ہو جائے گے آپ ۔۔۔۔
وہ بلا ارادہ ہی اُس پر بھڑاس نکال رہی تھی۔۔اپنے ہی کہے کو غلط ثابت کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔اور یہ شہیر کے لیے نہایت ضبط آزما تھا ۔۔وہ بس چپ تھا تو اپنے بدلتے احساسات کی وجہ سے۔۔۔۔کیوں کے جانتا تھا اُسے ہرٹ کرکے وہ خود سکون سے نہیں ره پاتا تھا ۔۔۔۔
اگر یہ میرے دل کی ہوتی نا تو کوئی وجہ۔۔” مجبوری۔۔۔۔۔۔۔۔یا لحاظ۔۔۔مجھے نہیں روک سکتا تھا۔۔۔۔۔”
وہ سرد انداز میں بولا ۔۔۔۔نرمی اور اپنائیت نور کے تلخ لہجے کی وجہ سے زائل ہو چکے تھے۔۔۔۔
۔
انف ۔۔۔۔۔۔
نور نے اُس کی بات پر آنکھیں چھوٹی کرکے گھورتے ہوئے کچھ کہنا چاہا لیکِن وہ ایکدم سے ٹوک کر اُسے خاموش کر گیا۔
ہر چیز کی ایک لمٹ ہوتی ہے۔۔اور اب تم لائن کراس کر رہی ہو۔۔۔۔ٹھیک ہے میں انسان ہی غلط ہوں ۔۔۔ تم ہزار بار بتا چکی ہو ۔۔۔لیکِن تمہارا یہ بات کرنے کا ٹون بھی بلکل صحیح نہیں ہے۔۔۔۔خاص کر میرے ساتھ اس لہجے میں بات کرکے مجھے اپنے لیے اور برا مت بناؤ۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے سنجیدگی سے وارن کرکے جانے کیلئے پلٹ گیا۔۔۔نور کو اس اطمینا زہر لگا۔۔ اُس کا دل کیا کچھ تو ایسا کہے کے اُسے بہت برا لگے وہ اُس سے بہت لڑے ۔۔۔۔بات بہت بڑھ جائے اور رنگ کا ذکر کرنا آسان ہوجائیے۔۔۔۔۔لیکِن وہ واپس جا رہا تھا اور نور کو ایسا کچھ نہیں سوجھ رہا تھا ۔۔۔وہ اُس کے بڑھتے قدم دیکھ عجیب بیچینی کی زد میں کھڑی تھی۔۔۔
“آپ برے ہیں۔۔۔۔۔۔”
پھر ایکدم سے چلا دی ۔۔۔۔وہ چونک کر اُس کی جانب پلٹا۔۔۔۔اتنے شدید ری ایکشن کی اُمید نہیں تھی تبھی حیران ہوا ۔۔۔
آپ اس دنیا کے۔۔ سب سے برے انسان ہے۔۔۔اور میں اب” ایک پل کے لیے بھی آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔۔۔”
وہ اُسے غصے سے دیکھتی ہوئی پُر تعیش انداز میں بولتی آنسو رگڑ کر باہر کی جانب بڑھنے لگی۔۔۔شہیر کی پیشانی پر ڈھیروں بل پڑے ۔۔۔۔اُس نے مشتعل ہو کر دانت بھینچے اور ایک ہی جست میں آگے بڑھ کر اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے اپنی جانب کھینچا وہ بری طرح آکر اس سے ٹکرائی۔۔۔۔
ایک پل کو پورا وجود جھنجھنا گیا۔۔۔۔۔۔سانسیں تھم گئیں ۔۔۔ ۔۔۔۔مگر اگلے ہی لمحے وہ اُسے غصے سے دیکھ کر پوری طاقت سے خود کو چھڑانے لگی۔۔۔
۔اپنی کمر میں حائل آہنی بازو کو ہٹاتے تو کبھی اُس کے ہاتھ میں جکڑی کلائی کو چھڑاتے۔۔۔تو کبھی ایک ہاتھ سے اُسے دھکیل کر پیچھے کرنے کی کوشش میں ہلکان ہوگئی لیکن کوئی اثر نہیں ہوا ۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی سانسیں کافی تیز ہوگئی مگر وہ پرسکون کھڑا تھا ۔۔۔ذرا بھی اُس کی کسی مزاحمت کا اثر نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔بلآخر وہ جھنجھلا کر رونے لگ گئی تو وہ جو اُس کے جوش جتن پر محظوظ ہو رہا تھا سنجیدہ ہو کر گرفت مدھم کرتا گیا
نور محسوس کرتے ہی جوش میں آکر اُسے پوری قوت سے دھکیلتی اُس کی گرفت سے نکل کر دور ہوئی ۔۔۔۔وہ اُس کی چالاکی پر دانت پیستے ہوئے آگے بڑھا اور اُس کے فرار ہونے سے پہلے ہی کمر میں ہاتھ ڈال کر واپس کھینچتے ہوئے اٹھا کر کندھے پر کِسی سامان کی طرح ڈال دیا۔۔۔۔۔۔نور کی آنکھیں اور منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔۔۔۔۔۔
“۔کیا کر رہے ہیں آپ ۔۔۔۔چھوڑیں مجھے ۔۔۔”
وہ مچل کر اُس کی قید سے نکلنے کی کوشش کرتی صدمے سے چلائی ۔۔۔۔۔
شہیر بنا کان دھرے آگے بڑھتا گیا ۔۔ اُس کے روم کا دروازہ پیر سے دھکیل کر کھولا اور اُسے بیڈ پر تقریباً پٹخ دیا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ بے ساختہ کراہ اٹھی لیکن موقع کی نزاکت دیکھ کر اگلے ہی سیکنڈ میں الرٹ ہوتی وہاں سے اٹھنے لگی۔۔۔
اور اُسے اٹھنے کی کوشش کرتے دیکھ وہ فوراً اُس کی طرف جھکا ۔۔۔بیڈ پر گھٹنا رکھے اُس کے دائیں بائیں ہاتھ رکھے تمام راہیں در بستہ کی۔۔۔۔
وہ خوف سے سانس روکے اُس کی پُر اسرار آنکھوں میں دیکھتی واپس پیچھے ہوتی گئی اور وہ اس کے نزدیک ہوتا رہا جب تک اُس کا سر بستر سے نہ جا لگا۔۔۔۔۔۔۔
سانسوں کی پر زور تپش سے اس کی رگ رگ میں سنسناہٹ دوڑ گئی ۔۔۔۔۔۔
دھڑکنیں مانو ڈھول کی طرح بجنے لگی۔۔۔۔۔۔اتنی سردی میں بھی ماتھے پر پسینہ چمکنے لگا۔۔۔۔۔اتنا وائلڈ وہ کبھی نہیں ہوتا تھا۔۔۔۔۔اتنے خطرناک تیور کی تو وہ اُمید بھی نہیں رکھتی تھی۔۔۔۔
“زور آزمائی کا شوق تو اچھا ہے مگر یہ وقت بلکل مناسب نہیں۔۔۔آدھی رات کو تمہاری یہ ڈبل میننگ آوازیں پڑوسیوں کو پریشان کریں گی اور تمہیں شرمندہ۔۔۔۔مجھے کوئی خاص فرق نہیں پڑنے والا کیوں میں تو ویسے ہی برا آدمی ہوں۔۔۔۔رائٹ۔۔۔۔”
وہ حد درجہ سنجیدہ بلکہ برہم تھا۔۔۔۔
اُس کے چہرے کے اتنے نزدیک جھکا تھا کے وہ اُس کے دھڑکنوں کی رفتار بھی گن سکتی تھی۔۔۔۔۔۔سگریٹ اور پرفیوم کی ملی جلی خوشبو ذہن پر گراں بار تھی اور اُس کی قربت دل پر۔۔۔۔۔
“میں ۔۔۔میں۔۔۔سوری۔۔۔۔میں ننننن ۔۔۔۔نہیں جاؤں گی۔ “
اس نے خود کو چاروں اور سے مقبوض پا کر ہتھیار ڈالنے میں عافیت جانی اور بمشکل سانس لیتے ہوئے بے ترتیب بولی ۔۔۔شہیر نے اُس کی آنکھوں سے نظریں ہٹا کر لرزتے لبوں کو دیکھا پھر گلے میں اُبھرتی مٹتی گہرائی کو۔۔۔۔۔اور دوبارہ آنکھوں میں ۔۔۔۔
“بیٹر فور يو ۔۔۔۔کیوں کہ تم مجھ سے نہیں جیت سکتی۔۔۔۔۔اور میں تمہیں ہرا کر خوش نہیں ہو سکتا۔۔۔۔اسلئے اس مقابلے بازی سے باز آجاؤ۔۔۔یہی بہتر ہے”
وہ اُس کی سہمی آنکھوں کا بغور مطالعہ کرتے ہوئے مدھم سی سرگوشی میں بولا اور اُس سے دور ہو کر پیچھے ہوا ۔۔۔۔
نور نے سانس بحال کی اور اگلے ہی لمحے تیر کی تیزی سے اٹھ بیٹھی۔۔۔۔وہ ایک وارن کرتی نظر اُس پر ڈال کر باہر نکل گیا اور نور نے حیرت سے منہ پر ہاتھ رکھے صدمے سے نکلنے کی کوشش کرتی رہ گئی ۔۔۔
######
اگلے دن بھی اُس کے غصے کا اثر دیکھنے کو ملا۔۔۔۔۔
صبح نیچے آکر وہ بنا ناشتے کے لیے رکے ہی باہر نکل گیا ۔۔۔
نور نے اُسے روکا نہیں ۔۔۔۔۔نہ کوئی سوال کیا وہ کچھ خوف زدہ بھی تھی اور غصّہ بھی۔۔۔۔۔۔۔کے بھلے خود اُس کا جینا حرام کرکے ایک تو اُسے ڈرایا بھی اور غصّہ بھی خود ہی ہے ۔۔۔
اس نے باہر نکل کر اُس کی گاڑی کو دور جاتے ہوۓ دیکھا اور غصے سے سر جھٹک کر واپس اندر چلی آئی۔۔۔۔
بھلے پھر سارا دن اُسے اس بات کا دکھ رہا کے کم سے ناشتا کرنے کا پوچھ لینا چاہیے تھا۔۔۔۔
کچھ اپنی بے ساختگی کا بھی احساس ہوا کے وہ رات غصے میں اپنا آپا کھو کر واقعی بلا وجہ اُس پر بھڑک کر بدتمیزی تو کر چکی تھی۔۔اور اس سب کی وجہ تھی وہ رنگ ۔۔۔۔
کسی لیکچر میں اس کا دھیان نہیں تھا۔۔۔۔وہ بس کھڑکی سے باہر دیکھتی اپنی جان کی دشمن اُس رنگ کو راستے سے ہٹانے کے بارے میں سوچتی رہی ۔۔۔۔
اور بلاآخر اُسے ایک آئیڈیا ملا جس کے کام کرنے کے تھوڑے بہت چانسز تھے۔۔۔مگر وہ آزمانا چاہتی تھی اور یہ طے کرتے ہی وہ لیکچر کے درمیان سے اٹھ کر باہر نکل آئی ۔۔۔
پھر اسکوٹی اسٹارٹ ہو کے سیدھے جویلری شاپ پر آکر رکی ۔۔۔۔
اس نے اندر آکر ایک میل ویڈنگ بینڈ پسند کرنے میں پورا ایک گھنٹہ لگایا۔۔۔کیوں کے رنگ ایسی تو ہونی چاہیے تھی کے سامنے والا ہاتھ میں موجود رنگ اُتار کر اُسے پہنے میں توقف نہ کرے۔۔۔۔
اور ایک گھنٹے کی جدو جدوجهد کے بعد ایک نفیس سا بلیک بینڈ پسند آیا جس کے درمیان میں چھوٹے چھوٹے بلیک ڈائمنڈ ایک قطار میں نسب تھے۔۔۔۔۔لیکِن اُس کی قیمت سن کر اُس کے حواس گم ہو گئے۔۔۔۔۔
” سترہ لاکھ۔۔۔۔”
اس کی حیرت اتنی واضح تھی کہ آس پاس کے چند لوگوں نے اُس کا چہرہ دیکھنا ضروری سمجھا۔۔۔وہ دوسرا آپشن ڈھونڈھنے کی کوشش میں ناکام رہی اور مایوس ہو کر باہر آگئی ۔۔کیوں کہ دوسرا کچھ اُسے شہیر کی شایان شان نہیں لگ رہا تھا اور جو مشکل سے پسند آیا تھا وہ اوقات سے باہر تھا۔۔۔۔۔
لیکن اُس رنگ کی بدولت جو اُس کا سکون اغوا ہو چکا تھا اس كا تاوان کتنا بھی ہو دینا تو لازمی تھا۔۔
وہ گھر آکر بھی اسی پریشانی میں چکر پر چکر کاٹتی رہی کے کیا کرے کہاں سے اتنے پیسے لاۓ ۔۔۔کارڈ کا خیال آیا مگر اُس نے فوراً نفی کی کے اتنے سارے پیسے شہیر سے لینا بلکل مناسب نہیں۔۔۔۔
اس کے پاس اتنے زیور تھے کے اُس جیسی دس رنگز با آسانی خريدی جا سکتی تھیں ۔۔۔۔۔لیکن وہ اُسے شہیر کی بیوی کے حوالے سے ملے تھے اسلئے وہ اُنہیں اپنی ملکیت نہیں سمجھتی تھی اور نا اُن کا فیصلہ کر سکتی تھی ۔۔۔اُس کے علاوہ اپنے گھر سے ملی کچھ سونے کی جویلری تھی لیکن وہ اتنی ہرگز نہیں تھی کہ رنگ کی رقم آدھی بھی پوری ہوجائے۔۔۔۔۔۔
لاکھ سوچ کر بھی اُسے کوئی راہ نہیں سوجھی تو اُس نے کریڈٹ کارڈ نکالا اور دل کو تسلی دی کے وہ اس قابل ہے کہ یہ قرض ایک دن چکا دے گی۔۔۔۔
اپنی گولڈ جویلری اور کارڈ لے کر وہ کچھ دیر بعد ہی دوبارہ جویلری شاپ پہنچی۔۔۔زیوروں کے بدلے بننے والے پیسوں کے علاوہ باقی کارڈ سے پے کرکے وہ رنگ خرید لی ۔۔۔۔۔۔۔تب جا کر اطمینان آیا۔۔۔۔یہ رنگ اُس کے ہاتھ میں پہنی رنگ سے کئیں زیادہ خوبصورت اور یقیناً زیادہ ہی قیمتی تھی۔۔۔۔
جب کے اِدھر تیرہ لاکھ ڈیبٹ کے میسیج پر وہ حیران ہوا کے اچانک اتنی رقم کیسے اکاؤنٹ سے نکلی۔۔۔لیکِن نور کی جانب سے اُسے ایسی توقع نہیں تھی۔۔۔۔اُسے یہی لگا کے شاید اُس نے کارڈ کہیں کھو دیا ہے اور یہ کِسی اَور کا کام ہے ۔۔۔وہ بعد میں پتہ کرنے کہ سوچ کر دوبارہ کام میں لگ گیا۔۔۔۔۔۔۔
°°°°°°°°••••••°°°°°°°°°••••••°°°°°°°°••••••
💍💍💍💍💍
پھر تو اُس نے شاید زندگی میں کبھی کسی کا اتنا انتظار نہیں کیا تھا جتنا اُس رات شہیر کی واپسی کا اِنتظار کیا۔۔۔۔۔
وقت سے پہلے ہی ہونے والی ہر آہٹ پر ۔۔۔۔ہرآواز پر باہر نکل نکل کر آئی۔۔۔۔۔سارا کام جلدی جلدی ختم کرکے۔۔۔ اپنا آپ روز کی طرح سادگی سے سنوار کر ۔۔۔۔۔خون جماتی سردی میں باہر نکل کر اُس کی راہ تکتی رہی۔۔۔۔۔۔
گارڈن میں لگی کیاروں کے تمام پھولوں کی گنتی کرلی ۔۔۔۔۔۔۔ آسمان پر نظر آتے تاروں میں تصاویر کھوجتی رہی۔۔۔۔۔۔گھر کے اس پاس کے ماحول کی خبر لی ۔۔۔۔۔اور لان کے ایک ایک کونے کا تجزیہ کیا۔۔۔۔۔
انتظار تھا کہ ختم ہوتے نہیں بن رہا تھا ۔۔۔اور دل کی بے چینی تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔عجیب جنونی کیفیت ہو گئی تھی کے اپنا آپ بس سے باہر ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔۔
اور روبرو بھی پھر رقیبِ جان تھا۔۔۔جو آزمانے کا ایک موقع نہیں چھوڑتا تھا۔۔۔۔
اُس رات وہ کافی دیر سے واپس آیا۔۔۔۔۔۔۔
نور کار پارکنگ کے پیچھے بنے گیراج کی طرف جانے کا ارادہ رکھتی تھی جب گاڑی کی آواز کانوں میں پڑی اور پھر لائٹس سے گیٹ کے آگے کا منظر روشن ہوگیا۔۔۔۔۔وہ تیزی سے گیٹ کی طرف بڑھی۔۔۔شولڈر سے گر کر۔زمین پر گھستے ڈوپٹے کا بھی ہوش نہیں رہا۔۔۔۔۔
اس نے اندر آکر گاڑی پارک کی اور اُسے خمشگیں نظروں سے گھورتے ہوئے باہر نکلا۔۔۔۔کیوں کر سردی بے حد شدید ہونے کے باوجود وہ کسی شال یہ جیکٹ کے بغیر تھی۔۔۔۔بس یلو پتلا سا دوپٹہ اپنے گرد لپیٹا ہوا تھا۔۔۔۔جو کتنا کارگر تھا یہ چہرے سے چھلکتی سرخی سے ہی واضح تھا ۔۔۔
مگر وہ کُچھ نہیں بولا کیوں کے پتہ تھا آگے سے الٹی سیدھی باتیں سننے ملیں گی ۔۔۔۔۔۔۔تبھی گاڑی سے اپنا جیکٹ نکال کر ہاتھ پر ڈالے۔۔۔۔کچھ غصے سے دروازہ بند کیے خاموشی سے اندر آکر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔
“سنیئے ۔۔”
نور نے اندر آ کر بیتابی سے اُسے پُکارا کیوں کے اُسے نظر آرہا تھا کے وہ اب تک شاید غصّہ ہے۔۔۔اور یقیناً کھانا بھی کھانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔۔۔۔۔
وہ رکا مگر پلٹ کر نہیں دیکھا ۔۔۔
“آپ کتنی دیر میں آئیں گے ۔۔۔میں کھانا لگا دوں ۔۔۔”
اس نے ان ڈائیرکٹلی پوچھا۔۔۔آگے کا سوچ کر ہمت جٹاتے ہوئے دل تیزی سے دھڑک رہا تھا ۔۔۔
” کھانے کے ساتھ روز روز تمہاری بدتمیزی سے ٹیسٹ خراب ہوگیا ہے زبان کا۔۔۔۔۔اس لیے آج باہر ڈنر کر لیا تھا میں نے۔۔۔۔۔”
وہ بنا اُس کی جانب دیکھے جتاتے انداز سے بولتا آگے بڑھ گیا۔۔۔۔نور نے غصے اور بے بسی سے اُس کی پشت کو دیکھا جو اُس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی غائب ہو کر اُس کے لیے مشکل پیدا کر چُکا تھا ۔۔۔
لیکن اُس نے بھی رخت سفر باندھ لیا تھا اور شاپنگ بیگ لے کر اُس کے روم کی طرف چل پڑی تھی۔۔وہ الگ بات تھی کے قدموں میں پختگی نہیں تھی ۔۔۔بلکہ بار بار رک کر سوچا تھا کے مناسب ہے کہ نہیں اور پھر آخری سیڑھی پر آکر لوٹنا بزدلی مان کر اپنے محاذ پر ڈٹ گئی تھی۔۔۔۔
آہستہ سے روم کا دروازہ ناک کیا تو دو منٹ کی تاخیر سے کھل گیا۔۔۔اور وہ جو بہت ڈٹ کر کھڑی تھی اُسے ۔۔۔۔دیکھتی ہی کمزور پڑ گئی۔۔۔زبان تالو سے لگ گئی
شہیر نے سوالیہ نظروں سے اُس کی خاموشی کو دیکھا اور وہ کچھ نہیں بولی تو بیزاری سے آنکھیں گھما کر خود واپس اندر آگیا اس کے لیے راستہ چھوڑ کر ۔۔۔۔۔۔
وہ ہمت کرکے خشک لبوں پر زبان پھیرتی اندر داخل ہوئی ۔۔۔۔۔
وہ مرر کے سامنے کھڑا شرٹ کے اوپری کھلے بٹنوں کو دوبارہ بند کرنے لگا جب کے وہ دروازے کے پاس ہی رکی لفظ تلاشنے لگی۔۔۔۔
میں نے کل آپ سے جس طرح بات کی۔۔۔۔مجھے پتہ ہے وہ کتنا غلط تھا ۔۔۔۔۔اور میں اُس کے لیے شرمندہ ہوں ۔۔۔۔۔۔
اُسے اپنی بات کے لیے واجب بہانہ مل گیا ۔۔۔۔تبھی اطمینان سے بولی لیکِن جیسے ہی شہیر نے ايبرو اٹھا کر اُس کی جانب دیکھا گڑبڑا گئی ۔۔۔۔
“وہ آجکل پڑھائی کا تھوڑا پریشر ہے نہ تو بس اسلئے۔۔۔میں آپ کے لیے سوری گفٹ بھی لے کر آئی ہوں۔۔۔۔”
اگلی لائن ایک ہی سانس میں مکمل کرکے بلیو کلر کی چھوٹی سی گفٹ بیگ اُس کی طرف بڑھائی ۔۔۔جہاں وہ گفٹ پر حیران ہوا وہیں اُس کی بوکھلاہٹ بھی غور سے ملاحظہ کی۔۔۔اور اُس کے ہاتھ سے بیگ تھام لیا۔۔۔۔نور بے دردی سے لب کچلتی اُس کے ری ایکشن کا انتطار کرنے لگی ۔۔
شہیر نے سنجیدگی سے اس کے نئے تیوروں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے وہ باکس کھولا اور رنگ باہر نکال کر بیگ اور باکس ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا۔۔۔۔۔۔اور غور سے اُس رنگ کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔نور کا اچانک بدلنا اور یہ گفٹ دینا تو اُسے سمجھ نہیں آیا مگر اپنے اکاؤنٹ سے نکلنے والے تیرہ لاکھ کا جواب ضرور مل گیا ۔۔
“آپ کو اچھا نہیں لگا ۔۔۔۔”
نور اُسے اتنے غور سے رنگ کا جائزہ لیتے دیکھ پریشان سی ہوئی۔۔۔
اچھا ہے۔۔۔تھینک یو۔۔۔۔
وہ رنگ مُٹھی میں بند کرکے اُس کی طرف دیکھ کر بنا مسکرائے ہی بولا۔۔۔وہ اُلجھا ہوا تھا
“آپ پہنے گے نہیں اسے۔۔۔۔”
اس نے جھجھک کر بہت ہمت سے کہا۔۔۔۔اتنا فری ایکدم سے ہوجانا جتنا اس کے لیے مشکل تھا اتنا شہیر کے لیے حیران کن۔۔۔۔۔۔وہ سنجیدگی سے اُسے دیکھنے لگا پھر بے دلی سے اُنگلی اپنے بائیں ہاتھ کی پہلی اُنگلی میں ڈالی۔۔۔
“”نہیں ۔۔۔۔۔اس اُنگلی میں نہیں ۔۔۔”
نور نے ایکدم سے اُسے ٹوکا اور پھر اپنی بے وقوفی کا احساس کرکے سنبھلی۔۔۔
وہ یہ رنگ۔۔۔ رنگ فنگر کے لیے ہی ڈیزائن کی ہے۔۔۔۔اِدھر اچھی نہیں لگیگی ۔۔۔۔۔
سنبھل کر سمجھداری سے کہا تو شہیر نے لاپرواہی سے سیدھے ہاتھ کی تیسری اُنگلی میں رنگ پہن لی ۔۔۔
اس نے شہیر کے چہرے کو دیکھ کر غصے سے دانت بھینچے لیکن جیسے ہی اُس نے نظریں اٹھا کر دیکھا ویسے ہی لب کھینچ کر مسکرا دی۔۔۔
“یہ والے ہاتھ میں۔۔۔پہننی ہوتی ہے ۔۔۔”
وہ اندر ہی اندر کڑھ کر بضاہر نارمل بنتی اُس کے بائیں ہاتھ کی طرف اشارہ کرکے بولی۔۔۔۔بس نہیں چلا کے ہاتھ پکڑ کر وہ رنگ نکال پھینکے اور اپنی لائی رنگ خود ہی پہنا دے ۔۔۔۔
شہیر کو کچھ حد تک اُس کی بات سمجھ آگئی اور اُس نے سنجیدگی سے اپنے ہاتھ میں موجود اُس رنگ کو دیکھا۔۔۔۔جیسے کشمکش میں ہو کے اُتارے یا نہیں ۔۔۔۔۔
اگر آپ یہ رنگ نہیں اُتارنا چاہتے تو کوئی بات نہیں۔۔۔
اس معمولی سے وقفے سے لگا کے دل کو کسی نے زوروں سے مُٹھی میں بھینچ لیا ہو۔۔۔۔۔۔اُس نے پرسوچ نظروں سے دیکھتے ہوئے بھاری دل سے کہا۔۔۔۔
“میں اسے نہیں اتار سکتا کیونکہ۔۔۔۔۔”
وہ اس رنگ کو انگھوٹے سے چھو کر بولنے لگا کہ ۔۔
کیوں کہ ۔۔۔۔”
نور نے بیتابی میں فوراََ سوال کر دیا۔۔۔۔پورے وجودِ میں دھک دھک سی محسوس ہوئی۔۔۔۔
“اٹس اسٹک (its stuck)۔۔۔کافی ٹائم سے نکالی نہیں اس لیے اب پھنس گئی ہے۔۔۔۔۔۔”
وہ دھیرے سے سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔۔نور کو کچھ تو سکون ملا کے چلو نا اتارنے کی ایک وجہ ہے۔۔۔مگر وہ وجہ اتنی ہے بنیاد تھی کے تسلی ہونا نہ ممکن تھا ۔۔۔۔۔
“بولتے ہوۓ شرم جیسی کوئی چیز محسوس تک نہیں ہوتی۔۔۔۔۔”
نور نے دانت پیس کر سوچا۔۔۔
“میں کوشش کروں “
کچھ سوچ کر جھجھک کر پوچھنے لگی ۔۔۔وہ خاموشی سے اُسے دیکھنے لگا اس طرح کے وہ خجل سی نظریں جھکا کر زمین پر کچھ تلاشنے لگی۔۔۔۔
شہیر نے سنبھل کر گہری سانس لیتے ہاتھ اُس کی طرف بڑھایا۔۔۔وہ آگے بڑھی اور بہت تردد کے بعد اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے۔۔۔۔۔ایسے لگا جیسے بدن میں سیکڑوں چنٹیاں اِدھر سے اُدھر بھاگ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔
شہیر کے احساسات بھی نارمل نہیں رہ پا رہے تھے۔۔۔۔۔وہ بغور اُس کے خوبصورت چہرے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ایک ایک نقش کی نگاہوں میں جذب کر رہا تھا
اپنے آپ اور اطراف سے بیگانہ ہو کر ۔۔۔۔
نور کا تو سارا فوکس وہ رنگ تھی ۔۔۔۔جو بلاآخر اس کے ہاتھ لگ چکی تھی۔۔۔۔وہ پہلے آہستہ سے رنگ نکالنے کی کوشش کرتی رہی کہ مبادا وہ ناکام عاشق جھوٹ ہی نہ بول رہا ہو۔۔۔لیکِن کچھ دیر میں اُسے اندازہ ہو چکا تھا کے رنگ نکالنا تو دور اپنی جگہ سے ہلا پانا بھی نا ممکن ہے۔۔۔۔۔
مگر وہ پھر بھی کوشش کرتی رہی۔۔۔۔۔اندر جو غصّہ اور بے سکونی بھری تھی اُس نے بھی کافی قوت بخش دی تھی ۔۔۔اُس نے ایک ہاتھ سے اُس کی ہتھیلی تھام کر دوسرے ہاتھ سے پوری طاقت سے رنگ کھینچنی چاہی۔۔۔تو کبھی رنگ گھما کے باہر نکالنے کی کوشش کی ۔۔۔غرض اس بات کا خیال بھی نہیں کیا کہ سامنے والا انسان ہے اور اُسے تکلیف بھی ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔پھر بھی کچھ كار آمد ثابت نہیں ہوا ۔۔
یہاں تک کے وہ اتنا جھنجھلا گئی کے غصے میں ہاتھ لبوں کے قریب کرکے منہ کھول دیا تاکہ دانت سے رنگ کاٹ دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکِن بروقت اپنے پاگل پن کا احساس کرکے سانس روکے اُس کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔وہ ابرو اٹھائے حیرت سے اُس کے کھلے لبوں کو دیکھ رہا تھا اور پھر اُس کے رک کے خود کو دیکھنے پر اُس کی آنکھوں میں جھانکا۔۔۔۔نگاہوں میں ایک عجیب سی لپک تھی کے وہ نروس ہو کر نظریں جھکاتی جبکہ ہاتھ چھوڑ کر پیچھے ہو گئی۔۔۔
نہیں نکل رہی ہے۔۔۔( “بلکل اُس چڑیل کی طرح۔۔۔۔وہ دماغ سے چمٹی ہوئی ہے اور یہ اُنگلی سے۔۔۔۔۔۔۔۔”)
نظریں جھکائے شرمندہ سی ہو کر بولی اور ضبط سے سوچا۔۔۔۔دل مانو پوری طرح سے مایوس ہوگیا کیوں کے اُس نے کوشش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔۔۔۔۔۔۔شہیر نے اُس کے بجھے لہجے اور رونے کو بیتاب آنکھوں کو بخوبی محسوس کرکے لب بھینچے۔ کچھ کہتا اُس کے پہلے ہی وہ دل برداشتہ سی پلٹ کر اُس کے روم سے باہر نکل گئی۔۔۔
اس نے گہری سانس لے کر اپنے سیدھے ہاتھ کی تیسری اُنگلی میں موجود بلیک خوبصورت سی رنگ کو دیکھا اور لبوں اور بے ساختہ مدھم سی مسکراہٹ آئی ۔۔۔۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial