محرم میرے

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط 16 حصہ 2

“جانتی ہُوں تو اب بھی ناراض ہے مجھ سے۔۔۔۔لیکِن کوئی بات نہیں میں تو بس اتنا چاہوں گی کہ تو اپنے گھر گرہستی میں خوش حال رہے۔۔۔بھلے مجھے کتنی بھی بری بننا پڑے ۔۔۔۔”
انہوں نے اُداسی سے کہا تو نور کو بلکل اچھا نہیں لگا۔۔۔ہاں بھلے اُسے شکایت تھی کہ اُنہوں نے اُس کا ساتھ نہیں دیا لیکِن وہ اپنی ماں کو يوں شرمندہ تو نہیں دیکھ سکتی تھی ۔۔۔وہ ان سے بات کرتے وقت اپنے آپ کو حۃ الامکان نارمل رکھتی تھی مگر پھر بھی اُس کی ماں ناراضگی کو محسوس کر ہی لیتی تھی ۔۔
“ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔۔۔ میں جانتی ہوں آپ نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔۔”
اس نے آسودگی سے جواب دیا تو وہ مسکرا دیں ۔۔۔
اچھا سن ۔۔۔مجھے ایک ضروری بات بتانی ہے تجھے ۔۔۔۔۔
صبح تیری پھُوپھی گھر آئی تھی۔۔۔بات کرتے کرتے اُن کے منہ سے نکل گیا کہ انس دلی گیا ہوا ہے۔۔۔۔مجھے فکر ہو رہی ہے کے کہیں وہ تم لوگوں کو پریشان نا کرے ۔۔۔۔کیوں کے دعوت والے دن جو ہوا اُس کے بعد سے ہی وہ بہت گرمایا ہوا ہے ۔۔۔تم لوگوں کے جانے کے بعد آیا تھا یہاں ۔۔۔الٹی سیدھی دھمکیاں دے رہا تھا ۔۔۔۔۔۔تمھارے بابا نے سمجھایا تو صحیح اُسے لیکِن وہ اتنی آسانی سے بعض آنے والا نہیں ہے۔۔۔۔۔تم شہیر سے بھی کہنا ذرا خیال رکھے ۔۔۔۔”
اُنہوں نے اپنے کال کر نے کا مقصد بیان کرتے ہوئے تفصیل سے پوری بات گوش گزار کی ۔۔تو ایک پل کو نور بھی پریشان ہوئی کیوں کہ وہ بھی انس کی شیطانی فطرت سے کچھ کچھ واقف تھی ۔۔۔
لیکِن ظاہر نہیں کیا۔۔ کیوں کہ اُس طرح تو فاطمہ سارا وقت ٹینشن میں گھلتی رہتی۔۔۔
جی ۔۔آپ فکر مت کیجئے۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔بابا کیسے ہے۔۔۔۔۔
اس نے سکون سے بات ٹال کر ٹاپک بدل دیا ۔۔
===•••••===••••===•••••===•••••===
وہ شاور لے کر باہر نکلی تھی جب اُسے ڈور بیل کی آواز سنائی دی۔۔۔۔۔۔وہ حیران بھی ہوئی اور کچھ حد تک پریشان بھی۔۔۔۔کیوں کے شہیر کی غیر موجودگی میں اُس گھر میں کوئی نہیں آتا تھا۔۔۔۔اور اگر وہ ہوتا تو ڈور بیل کیوں بجاتا اُس کے پاس چابی ہوتی تھی۔۔۔۔پھر وہ اُسے کہہ کر بھی گیا تھا کہ آج رات دیر ہونی ہے اور ابھی تو اُس کے آنے کا بھی وقت نہیں ہوا تھا۔۔۔۔۔ڈھیروں سوچوں کے ساتھ چلتی جب دوپٹہ گلے میں ڈال کر وہ دروازے تک آئی تو پریشانی گھبراہٹ میں بدل چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اس نے آواز دے کر پوچھا کے کون ہے لیکن کوئی جواب نہیں ملا ۔۔۔۔
ڈور بیل ہنوز جاری تھی اور وہ بھی اس طرح جیسے کوئی بہت جلدی میں ہو دروازہ کھلوانےکی۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اُس نے دروازہ کھولنے کی بجائے پہلے پیپ ہول سے جھانک کر دیکھا ۔۔ اُسے کوئی نظر نہیں آیا لیکن دبی دبی آوازیں سنائی دی۔۔۔۔تب وہ بری طرح خوفزدہ ہوئی۔۔۔۔
سمجھ نہیں آیا کے بیل بجانے کے لیے تو دروازے کے سامنے آنا ضروری تھا پھر بیل بج رہی ہے لیکن کوئی دکھائی کیوں نہیں دے رہا۔۔۔۔
دھیان شام میں اپنی ماں کی کہی باتوں کی طرف گیا۔۔۔۔سوچا کہ کہیں واقعی انس نہ وہاں آپہنچا ہو ۔۔۔اور دل مارے گھبراہٹ کے زوروں سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔۔
اس کے اوسان خطا ہونے لگے۔۔۔ جلدی سے واپس آکر ٹیبل سے موبائیل اٹھایا اور کانپتے ہاتھوں سے شہیر کا نمبر ملایا۔۔۔
وہ ڈرپوک نہیں تھی۔۔۔لیکِن اُسے اتنے بڑے گھر میں اپنے اکیلے ہونے کے ساتھ اس بات کا بھی احساس تھا کے یہ علاقہ کافی کم آباد ہے جو چند مکان ہے وہ بھی اتنے فاصلے فاصلے پر ہے کے ضرورت پڑنے پر مدد کیلیے کِسی کو پکارنا بھی رائیگاں تھا۔۔۔۔
“شش۔۔۔۔شہیر ۔۔۔۔۔۔شہیر”
صبح تو اُسے کال کرکے چند سیکنڈ کچھ بول نہیں پائی تھی۔۔۔پر اب سراسیمگی میں اُسے اُس کے نام کے ساتھ پکار بیٹھی اور وہ جو مصروف سا متوجہ تھا جہاں کے تہاں رہ گیا۔۔۔اب کے وہ جواب دینے سے قاصر رہا ۔۔۔
“ہیلو۔۔۔۔آ ۔۔۔آپ ۔۔۔آپ سن رہے مجھے”
وہ دروازے کو دیکھتی گھبرائی سی فون کان سے ہٹا کر نیٹورک چیک کرتی دوبارہ بولی وہ چونک گیا۔۔۔۔
“ہاں۔۔۔کیا ہوا۔۔۔تم ٹھیک ہو نہ۔۔۔۔۔”
اِس دفعہ مکمل سنجیدہ ہو کر بے کلی سے پوچھا ۔۔۔۔ پیچھے ڈور بیل کی آواز اور اُس کے گھبرائے انداز سے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا ۔۔۔۔۔۔تبھی ہاتھ میں موجود تمام پیپرز ٹیبل پر پھینک کر چیئر سے اٹھا اور کیز اٹھاتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
“آپ پلیز جلدی آئیے۔۔۔۔مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔۔دروازے پر پتہ نہیں کون ہے۔۔۔۔۔۔”
اس کی آواز روہانسی ہونے لگی تھی۔۔۔نظریں بار بار دروازے پر جا رہی تھیں جہاں بیل مسلسل بجتی پھر چند سیکنڈ کے لیے رک جاتی ۔۔۔
” کب سے بیل بجا رہا ہے کوئی ۔۔۔لیکن کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔۔۔۔ میری دروازہ کھولنے کی ہمت نہیں ہو رہی ہے۔۔۔۔آپ۔۔ “
وہ گھبرائی سی بول رہی تھی اور شہیر اُسے بغور سنتے ہوئے بڈز کان میں گھسانے کر ساتھ انور کو اشارہ کرکے تقریبا بھاگتے ہوئے باہر نکلا ۔۔۔۔
دور سے ہی گاڑی انلاک کی۔۔۔۔۔۔۔۔
بال بکھر کر پیشانی پر آگئے تھے۔۔۔۔
“ریلیکس میں بس یہیں پاس میں ہوں۔۔۔۔۔دو منٹ سے پہلے پہنچ جاؤں گا”
اس نے نور كو اطمینان دلا نے کے لیے دانستہ جھوٹ بولا اور واقعی یہ سن کر اُس کا۔دل کچھ حد تک مطمئن ہوا۔۔۔۔اس نے گہری سانس لی
“فون بند مت کرنا ۔۔۔۔بات کرتی رہو مجھ سے”
وہ برق رفتاری سے گاڑی آگے بڑھاتا نورملي بات کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔حالانکہ تاثرات کڑے ضبط کے تھے ۔۔۔۔
ٹریفک میں اتنی تیز گاڑی چلانا کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا تھا یہ جانتے ہوئے۔۔۔۔کیوں کہ اُسے بس سیکنڈز میں گھر پہنچنے کی جلدی تھی ۔۔۔
اسٹیرنگ مسلسل چلاتے ہوئے وہ ٹریفک میں بہت ہمت اور دلیری سے ڈرائیو کرتا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسے معلوم تھا کہ وہ علاقہ بلکل سیف ہے ۔۔ لیکِن پھر بھی اس وقت دل بے حد مضطرب تھا ۔۔۔کیوں کے بات نور کی تھی۔۔۔۔۔الٹے سیدھے خیال آرہے تھے ۔۔۔۔حقیقی معنی میں وہ نور سے بھی زیادہ پریشان تھا۔۔۔۔
کتنی دفعہ گاڑی اوروں سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی۔۔
کتنی دفعہ لوگو نے گاڑی روک روک کر اُسے جاتے ہوئے گھورا تھا۔۔ہانک لگائی تھی۔۔۔۔۔۔لیکِن وہ بنا اثر لیے آگے بڑھتا رہا۔۔۔۔
” تم سن رہی ہو مجھے”
اس نے خاموشی محسوس کرکے ماتھے پر بل ڈالے اُس کی موجودگی کا یقین کرنا چاہا۔۔۔۔ایک ہاتھ سے ایئر بڈ کو چُھو کر چیک کیا۔۔۔
“جی ۔۔۔آپ ۔۔۔آپ جلدی آئیے۔۔۔۔”
نور نے حلق تر کرکےآہستہ سے کہا تو وہ لکیریں مدھم
ہوئیں ۔۔۔۔۔۔
وہ ڈائننگ چیئر ایک ہاتھ سے تھام کر آگے کھینچتے ہوئے اُس پر بیٹھتی فون کان سے لگائے دروازے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔جہاں فلحال خاموشی تھی۔۔۔۔
لیکن اگلے ہی سیکنڈ پھر سے بیل پر ہاتھ رکھا گیا تو خاموشی شور میں بدل گئی۔۔۔۔۔۔۔وہ دہل کر تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔فون بھی ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر گیا۔۔۔۔۔ جسے فوراً اٹھا کر دونوں ہاتھوں میں تھامے سینے سے لگا یا اور لڑکھڑاتے قدموں سے پیچھے ہوتے ہوتے دیوار سے لگ گئی ۔۔۔
شاید وہ پہلی دفعہ کسی انجانے خوف سے اتنی بری طرح وحشت زدہ ہوئی تھی۔۔
“ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔میں بس پہنچ رہا اوکے۔۔۔۔”
شہیر اُس کی حالت محسوس کرکے بیتابی سے بول رہا تھا لیکن وہ بس فون میں اُس کی آواز پر ہوتے مدھم سے وائبریشن کو محسوس کر سکتی تھی۔۔۔۔۔۔فون کان سے نہیں لگایا تھا کیوں کہ سارا فوکس بند دروازے پر تھا جیسے ابھی کوئی اُسے توڑکر اندر گھس آئیگا۔۔۔۔۔۔۔۔دل کی دھک دھک کانوں میں گھڑی کی ٹک ٹک کی طرح سنائی دے رہی تھی ۔۔۔۔۔۔آنکھیں خوف سے ساکت تھی۔۔۔۔
“لسن نور۔۔۔۔۔۔۔بات کرو مجھ سے”
وہ اُس کی خاموشی پر اُسے بار بار پکارتا رہا لیکن کوئی جواب نہیں ملا تو جھنجھلا کر اسٹیرنگ پر ہاتھ مارا ۔۔۔۔۔۔۔
ڈور بیل پھر خاموش ہوئی تو اُس کا لرزتا دل کچھ اعتدال پر آیا ۔۔۔۔اور تب فون کا بھی خیال آیا تو اُس نے جھٹ فون کان سے لگا یا ۔۔۔
“ہیلو ۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔ آپ کہاں ہے ۔۔۔”
ٹوٹی آواز اور بےترتیب لہجے میں پوچھنے لگی۔۔۔لیکِن نظریں اب بھی الرٹ انداز میں بند دروازے پر ہی تھی۔۔۔۔
“کہا نہ ڈرو مت۔۔۔۔۔پاس ہوں تمہارے۔۔۔”
شہیر نے اُس کی آواز سن کے سکون کا سانس لیا اور کچھ تیزی سے بولا۔۔۔
بلآخر گھر کے نزدیک پہنچتے ہی فوری بریک لگایا۔۔جس سے خاموشی میں ٹائروں کی آواز گونجی۔۔ ۔۔
باہر نکل کر عجلت میں اندر کی جانب بھاگا لیکن دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے حیرت سے رک گیا۔۔
جب اُسے دیکھتے ہی تین بچے۔۔۔شور کرتے ہوئے تیزی سے بھاگ کر اُس کے آس پاس سے فرار ہوگئے ۔۔۔۔۔
وہ اس افتاد کا پس منظر سمجھ کر تاسف سے سر ہلا کر رہ گیا اور گہری سانس خارج کرتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا۔۔۔
“دروازہ کھولو ۔۔۔۔۔میں ہوں “
بیل دینے سے گریز کرتے ہوئے فون پر کہا کیوں کہ وہ پہلے سے گھبرائی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔لیکِن نور سن کر بھی اپنی جگہ کھڑی رہی۔۔۔۔کشمکش میں فون کو نظروں کے سامنے کیا کہ واقعی یہ حکم فون سے آرہا ہے یا دروازے کے پیچھے سے۔۔۔۔
چند سیکنڈ لگے خود کو سنبھال کر ہمت کرنے میں ۔۔۔اور قدم آگے بڑھائے ہی تھے کہ دروازہ کھل گیا ۔۔۔
ایک پل کو دل اپنی جگہ تھما لیکِن پھر سامنے شہیر کو دیکھ کر سارا خوف جاتا رہا۔۔۔۔بیچینی سکون میں بدل گئی۔۔۔
۔
ہے ساختہ ہی وہ تیزی سے اسکی طرف بڑھی اور شاید اُس کے سینے سے لگ کر ہی اپنے محفوظ ہونے کا اطمنان کر پا تی ۔۔۔۔۔مگر بروقت سنبھل کر محتاط ہوتے ہوۓ تھوڑے سے فاصلے پر ہی قدم روک لیے۔۔۔۔
شہیر نے یہ گریز اور احتراز بخوبی محسوس کیا اور بغور اُس کے سپید سہمے چہرے کو دیکھتے ہوئے ہاتھ اُس کی جانب بڑھایا ۔۔۔۔۔۔
نور نے نظریں جھکائے حلق تر کرکے کچھ توقف سے اُس کی ہتھیلی کو تھام لیا ۔۔۔
“وہ دروازے پر۔۔۔۔۔۔۔”
نظریں اٹھائے بنا بولی ۔۔۔۔۔ آواز مدھم تھی۔۔۔۔سانسیں کچھ حد تک پرسکون ۔۔۔۔
“کوئی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔”
شہیر نے اتنے ہی آہستہ ۔۔۔پرسکون انداز میں بات کاٹی ۔۔۔۔نور نے الجھ کر اُسے دیکھا۔۔۔۔اور ایک نظر بند دروازے کو۔۔۔۔
“لیکِن ۔۔۔۔۔”
لرزتے لبوں سے کہنا چاہا لیکن وہ دوبارہ اُسے روکنے کے ساتھ غیر محسوس انداز میں اُس کے ہاتھ پر گرفت بھی مضبوط کرگیا ۔۔۔
“ریلیکس ۔۔۔۔۔کچھ بچے تھے ۔۔۔شرارت کر رہے تھے ۔۔اور کوئی نہیں ہے”
پسینے سے نم پیشانی کو دیکھتے ہوئے نرمی سے کہا لیکِن جیسے اُسے یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔
اس پر ایکدم سے لائٹ بند ہو گئی۔۔۔۔اور وہ جو سنبھلنے کی کوشش کر رہی تھی گھبرا کر آگے بڑھتی دوسرے ہاتھ سے موبائیل چھوڑ کر اُس کا بازو تھام گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
سرِ گھما کر دیکھا تو اپنے چاروں اور اُسے بھیانک اندھیرا نظر آیا ۔۔۔۔
کہیں کوئی روشنی نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
دل پے در پے پڑتی آفتوں نے جیسے دہلا کر رکھ دیا تھا ۔۔۔ورنہ اتنی کمزور وہ کبھی نہیں تھی جتنا اس وقت خوف کھا رہی تھی کہ اُس کی منتشر سانسیں شہیر کو بھی واضح سنائی دی رہی تھی ۔۔۔۔۔
“سنیئے ۔۔”
وہ ایک ہاتھ سے اُس کا ہاتھ اور دوسرے سے بازو تھامے ہونے کے باوجود اندھیرے میں اُسے تلاشتی۔ پکار کے اُس کی موجودگی کا یقین کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔اور اُس کا یوں ہمیشہ کی طرح پکارنا شہیر کو پہلی دفعہ کافی شدت سے محسوس ہوا تھا۔۔۔۔۔ساتھ ہی کچھ وقت پہلے اُبھری اپنے نام کی معجز پکار بھی بے ساختہ سماعتوں میں گونجی تھی ۔۔۔
جواباً اُس نے نور کے ہاتھ کو آہستگی سے جھٹکا دے کر اُسے اپنے قریب کھینچ لیا کہ پیروں کے ساتھ اُس کی دھڑکنیں بھی پل بھر کو ڈگمگا گئیں ۔۔۔۔۔۔وہ بے ساختہ اُس کے سینے سے جا لگی اور گھبرا کر دم بھرتے ہوئے اُس کی شرٹ کے گریبان کو جکڑ گئی ۔۔۔ڈارک کلون کی خوشبو نے ذہن کو تسخیر کیا۔۔۔۔
“سن رہا ہوں”
وہ پریشان اور بے چین سی اندھیرے میں اُس کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی جب اپنے کان کے نزدیک ہوئی بے تاثر لیکِن قطعی ناگہاں سرگوشی اور گرم سانسوں کی سرسراہٹ پر وہ چونک کر سانس روک گئی۔۔۔حالانکہ آواز بھلے لیکن دھیمی تھی مگر انداز تو عام سا تھا۔۔۔۔
شہیر نے لائٹر جلا کر روشنی کی۔۔۔۔
اندھیرے میں آگ کا شعلہ اُبھرا جس کی شعاؤں نے ایک محدود اُجالا بکھیر دیا۔۔اُس کی نظریں اُس اجالے کے دوسری طرف خود کو محویت سے تکتی سحر طراز نگاہوں سے ٹکرائی تو دل تیزی سے پھیلنے سمٹنے لگا۔۔۔۔
وہ لائٹر والا ہاتھ تھوڑا دور رکھے اُس مدھم روشنی میں اُس کے خائف چہرے کے ایک ایک نقش کو جس جاذبیت سے دیکھ رہا تھا۔۔ نور کو اُس کا انداز اجنبی اجنبی سا لگا۔۔۔۔وہ الجھ کر ۔۔۔جھجھک کر نظریں جھکاگئی۔۔۔۔۔ پیشانی پر ہلکی سی شکنیں اُبھری۔۔۔
شدت سے لائٹ آنے کی دعاء کر نے لگی جب کے ذہن میں نظریں اٹھا کر اُس کی جانب دیکھنے یا نہ دیکھنے کو لے کر کشمکش چل رہی تھی۔۔۔۔
اور وہ جو اپنی ضد میں جذباتوں کی بدلتی روش سے بھی انکاری تھا۔۔۔۔ہر احساس کو جھٹک دیتا تھا۔۔اس لمحے اور اس لمحے کی گرفت میں قید دل کی فریاد کو جھٹکنے میں ناکام رہا ۔۔۔۔۔۔بے خود سا اُس کے نکھرے نکھرے چہرے ،،گھنی سیاہ پلکوں اور لرزتے سرخ لبوں میں اُلجھتا رہا۔۔۔۔۔۔۔
وقتی کشش ہے یا جائز تعلق کی مہربانی۔۔۔عارضی خواہشیں ہے یا مستقل قیام۔۔ان تمام حساب و شمار کو پس پشت ڈال کر بے اختیاری کی موج میں بہتے ہوئے کمر کے گرد حائل بازو کا حصار تنگ کرکے اُس کے کھلتے بند ہوتے سرخی مائل لبوں کو فوکس کیے فاصلے سمیٹنے لگا۔۔۔
نور نے چہرے پر سلگتی سانسوں کی بڑھتی حدت پر دھڑکتے دل اور حیران نظروں سے اُس کی جانب دیکھا ۔۔۔۔
اور وارفتہ نگاہوں کے پُر زور تقاضے اتنے واضح تھے کے اُس کی حیرت بے یقینی میں بدلتی گئی۔۔۔۔آنکھیں ساکت اور دھڑکنیں مدھم ہوتی گئی ۔۔۔۔۔۔۔شرٹ پر گرفت ڈھیلی پڑتی گئی۔۔۔۔۔۔
وہ مر کر بھی شہیر کی جانب سے اس دیدہ دلیری کی توقع نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔۔اُن کے تعلق میں تو ایسی گنجائش بھی نہیں نکلتی تھی۔۔۔۔پھر اگر وہ اُس کی طرف بڑھ رہا تھا تو یہ حیرت بھی واجب تھی۔۔۔
وہ ایک نظر اُس کی ساکت آنکھوں میں دیکھتا دوبارہ مرکز پر لوٹتے ہوئے قریب ہو رہا تھا اور وہ سن ذہن سے اُس کی آنکھوں کی براؤن پتلیوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔حلانکہ کمر کے گرد بندھے بازو کی گرفت اتنی بھی سخت نہیں تھی کہ وہ اُسے دور نہ کر پاتی لیکِن پورا وجود جیسے پریلائز ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔۔پلکوں کو جبش دینے کی قوت بھی نا پید تھی۔۔۔۔۔
لیکن جب نچلے لب پر بھیگے لمس نے دستک دی تو پورے جسم کو زوردار کرنٹ لگا۔۔۔تمام حسیں جاگ اٹھیں۔۔۔۔۔
آنکھیں پھیل کر اُس کی پیشانی کے بکھرے بالوں سے نیچے دیکھنے کی کوشش میں ناکام ہوئی۔۔۔
اور اس سے پہلے کے وہ اُسے اُس لمس کی گرفت میں پوری طرح قید کرتا وہ اُسے دونوں ہاتھوں سے دھکیل کر دور کرگئی۔۔۔۔
اچانک اور غیر متوقع حرکت پر وہ کچھ پیچھے ہوا۔۔۔
لائٹر اُس کے ہاتھ کو ہلکا سا متاثر کرتے ہوئے چھوٹ کردور جا گرا۔۔۔۔پھر سے اندھیرا چھا گیا ۔۔
مگر وہ بے پرواہ۔۔۔۔بے نیاز سی اندھیرے میں ہی اراستے کا تعین کرتے ہوئے گرتی بچتی وہاں سے بھاگ کر روم کے دروازے تک پہنچی اور اندر جا کر ہی اگلي سانس لی۔۔۔۔وہاں کھڑکی سی آتی روشنی تھی لیکن اُسکی آنکھوں کہ آگے جیسے اب تک اندھیرا ہی اندھیرا چھایا ہوا تھا۔۔۔۔۔
وہ سکتے کی کیفیت میں تھی ۔۔۔سانسیں بے ترتیب تھی۔۔۔۔بس اُسے وہ بہکی بے خود نگاہیں دکھائی دے رہی تھی۔۔۔۔جو اُس کے لیے قطعی اجنبی تھی۔۔۔۔
کیوں کے وہ انسان تو کبھی اُس کا تھا ہی نہیں تو وہ اُس کے حق میں کبھی بدل کیسے سکتا تھا ۔۔
اور اگر یہ رنگ کو لے کر جو اُس نے شدت پسندی کا مظاہرہ کیا اُس کا اثر تھا کہ اس شہ پر وہ اُسے اپنی قربت بخش کر اُس پر احسان کر رہا تھا ۔۔۔۔ تو وہ اسی لمحے زمین میں گڑ جانا چاہتی تھی۔۔۔
اچانک لائٹ آگئی اور کمرہ روشنی میں نہا گیا۔۔۔۔۔وہ چونک کر اپنے چاروں اور دیکھنے لگی ۔۔۔اُسے لگا وہ کسی خواب کے زیرِ اثر تھی اور اچانک جاگ گئی ہے۔۔
لیکن نچلے لب پر سرسراتے گداز لمس کے احساس نے اُسے خود کو اس دھوکے میں نہیں رکھنے دیا۔۔۔۔
_______
وہ چند سیکنڈ اندھیرے میں نظریں ایک نقطے پر جمائے کھڑا رہا اور جب لائٹ آن ہوئی تو خالی خالی نظریں اٹھا کر بند دروازے کی جانب دیکھ کر
جھنجھلائے سے انداز میں دانت بھینچے اور آنکھیں بند کرلی ۔۔۔۔
غیر ارادی حرکت صحیح لیکن نا خواستہ نہیں تھی ۔پھر بھی اُسے خود پر سخت غصّہ آرہا تھا کیوں کہ اُس نے معاملہ بگاڑ دیا تھا اور اُسے بعینہ پتہ تھا کہ نور کا دماغ اب کہاں جائیگا۔۔۔۔۔
اور حقیقتاً وہ یہی سوچ کر جل رہی تھی کے اُس کی بے وقوفی کو شہیر نے اُس کی پیش کش سمجھ کر جز وقتی طور پر قبول کر لیا ہے۔۔۔۔
جب کہ وہ خود بےچین سا ساری رات سگریٹ کے ساتھ ساتھ خود بھی سلگ سلگ کر راکھ ہوتا رہا ۔۔۔۔۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial