مہرو انساء

afsanvi

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط 12

تہمینہ مہرو کے کمرے میں آئی ۔ یہ آج رات تو نے پہننا ہے ۔ تہمینہ نے بتایا۔ میں نہیں پہنو گی یہ سوٹ۔مہرو نے۔اس سوٹ کو دیکھنا بھی پسند نہ کیا۔مہرو میں کوئی بحث نہیں کرنا چاہتی اس لیے چپ چاپ پہن لی مجھے اور بھی بہت کام ہیں۔ تہمینہ سوٹ رکھتی اسے کہتی چلی گئی۔
💛
حویلی میں سب لوگ کاموں میں مصروف تھے آغا جان اور تہمینہ کے علاوہ کوئی بھی۔اس رشتے سے خوش نہ تھا مگر وہ کرتے بھی تو کیا کرتے آغا جان کے سامنے بول نہیں سکتے تھے۔
💘
مہر اپنے کمرے کی بیلکونی میں کھڑا اپنے خیالوں میں گم تھا جب ابراہیم اس کے پاس آیا ۔مہر بھائی مجھے یہ تو سمجھا دیں مجھے سمجھ ہی نہیں آرہا۔ ابراہیم نے کتاب اس کی طرف کرتے ہوئے کہا۔ اچھا تم جاؤ میں آتا ہوں۔مہر اپنے خیالوں سے باہر آیا ابراہیم کو جواب دیا۔جی ٹھیک ہے ۔ ابراہیم کہتا چلا گیا۔مہر بھی اس کے پیچھے چل دیا۔
💞
جب مہر اپنے کمرے سے نکلا تو اسے مہرو نظر آئی مہر رک کے اسے دیکھنے لگا۔مہر تم کہاں ہو پلیز آجاؤ دیکھو یہ لوگ تمہاری مہرو کی کسی اور سے شادی کروارہے ہیں میں بلکل بھی خوش نہیں ہوں پلیز آجاؤ اور مجھے اپنے ساتھ لے جاؤ۔مہرو مہر کی فوٹو دیکھ کے روتے ہوئے اسے کہ رہی تھی مہرو کی باتیں سن کے مہر کے دل کو کچھ ہوا بس کچھ دن میری جان پھر میں تمہیں لے جاؤں گا یہاں سے۔ مہر نے دل میں کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
💙
سکینہ میری بات سنو۔مہر کچن میں آتا ہوا کہنے لگا۔ مہر باںا میں آپ سے بعد میں بات کرتی ہوں ابھی بہت کام ہے مجھے۔ سکینہ نے بتایا۔ تم نہیں چاہتی تمہاری شا دی جلدی ہو۔ مہر نے اسے پوچھا۔جی بولو۔سکینہ فوراً پلٹی۔ مہر نے اپنے ہونٹ سکینہ کے کان کے قریب کیے اور پھر کچھ کہا اور پھر دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کے مسکرائے۔ویسے یہ پلان دیا کس نے۔سکینہ نے پوچھا۔مہرو نے رات میں بتایا تھا اب یہی کرنا ہے تم نے۔ مہر کہتا چلا گیا۔
💗
مہرو نے گلابی رنگ کا فراک پہنا ہوا ریشمی بال کمر میں پھیلائے ہوئے ہلکے سےمیک ایپ کیے وہ بہت حسین لگ رہی تھی مگر مہرو کا چہرہ بجھا سا تھا۔وہ لوگ باتوں میں مگن تھے اکبر اور بی اماں کو لڑکا کچھ خاص پسند نہ آیا وہ شکل میں بھی بس ٹھیک تھا قد بھی چھوٹا تھا اور رنگ بھی درمیانہ نہ تھی
💕
۔چائے لے آؤ سکینہ۔ آغا جان نے سکینہ کو حکم دیا۔ جی۔ وہ کہتی کچن کی طرف چل دی۔ سکینہ چائے لے آئی تھی اور اب سب کو دینے لگی تھی پلان کے مطابق سکینہ نے اجمل پہ چائے گرا دی۔ میں نے جان کے نہیں گرائی آغا جان میں نے جان کے نہیں گرائی غلطی سے گر گئی۔ سکینہ نے بتایا۔اچھا ٹھیک ہے تم انہیں باتھ روم لے جاؤ۔ آغا جان نے۔ اسے کہا وہ اسے باتھ روم لے آئے ۔
💜💜
وہ ابھی باتھ روم گیا ہی تھا کہ سکینہ نے لائیٹ بند کردی وہ پریشان ہوتا ادھر ادھر دیکھنے لگا پھر جب اس نے اندھیرے میں چائے صاف کی اور باتھ روم کا دروازہ کھولنے لگا دروازہ نہ کھلا سکینہ دروازے کی کنڈی لگا کے وہاں سے چلی گئی وہ کب سے دروازہ کٹھکٹھا رہا تھا مگر کوئی نہیں کھول رہا تھا۔ جلدی سے نیچے آجاؤ وہ رسم کرنے کے لیے انتظار کررہے ہیں ۔ تہمینہ مہرو سے کہتی چلی گئی۔ مہرو نے سر پہ ڈوپٹہ کیا اور خود کو شیشے میں دیکھنے لگی۔
💟
پانچ منٹ بعد سکینہ ادھر آئی لائیٹ اور دروازہ کھولا۔ اتنی دیر کوئی لگاتا ہے۔ سکینہ نے اس سے پوچھا۔ جی وہ دروازہ بند ہو گیا تھا۔ اجمل نے بتایا۔ آپ کیا کہ رہے میں کب سے یہاں کھڑی ہوں ایسا تو کچھ بھی نہیں ہوا۔ سکینہ نے اسے بتایا۔ اوہ اب سمجھی کہیں وہ چڑیل تو نہیں آ گئی تھی۔ سکینہ نے کہا۔ کک کون چڑیل ۔ اجمل ڈرتے ہوئے پوچھنے لگا۔اس حویلی میں ایک چڑیل رہتی ہے وہی آئی ہو گی لازماً اور آپ کو پتہ ہے آپ کی جس سے شادی ہورہی اس پر بھی چڑیل آتی ہے۔ سکینہ نے۔ اسے ڈرایا۔
💝
اب راستہ یاد ہو گا تو خود چلے جائیے گا مجھے بہت کام ہیں۔سکینہ اپنا کام کرتی چلی گئی اور اجمل باہر ہی نکلا تھا کے سامنے سے مہرو آرہی تھی مہرو نے اجمل کو نہیں دیکھا مہرو کی۔اس سے ٹکر ہوئی اور وہ گرنی لگی تھی مگر اجمل نے پکڑ لیا اسی وقت مہر آیا۔
💞
ہاتھ چھوڑ۔ مہر نے غصے۔سے کہا۔جی۔ اجمل نے حیرانگی سے دیکھا۔میں نے کہا ہاتھ چھوڑ۔مہر نے پھر سے کہا اس نے مہرو کا ہاتھ چھوڑا اور خود سے دور کیا ۔ تم نیچے جاؤ۔مہر نے مہرو سے کہا تو وہ نیچے چلی گئی۔ آپ کون ہے۔ اجمل نے سامنے کھڑے شخص سے پوچھا۔ہاتھ کیوں پکڑا تھا۔مہر اس کی بات کو نظرانداز کرتے اپنا سوال کیا۔ وہ گرنے والی تھی۔ہاں تو تو آیا تیفا ان ٹربل کا علی ظفر۔اوہ بھائی ہو کون تم ۔ اس نے پھر پوچھا میں۔ سرپرائز ہوں تجھے تیرا نکاح والے دن بتاؤ گا چل کٹ لے اب۔ مہر نے اس کے کندھے میں ہاتھ رکھتے ہوئے بولا اور وہاں سے چلا گیا۔
💓
اس گھر میں سب ہی عجیب ہے۔ اجمل کہتا سیڑھیاں اترنے لگا۔رسم کیجیے۔ آغا جان نے کہا۔ مہر کو اپنے سامنے اپنی بیوی کا کسی اور کے ساتھ دیکھنا ہرگز برداشت نہ ہورہا تھا مگر اس نے اپنے آپ پہ قابو کیا۔ہاتھ دیجیے۔اجمل نے مہرو سے ہاتھ مانگا۔ مہرو نے ہاتھ آگے کیا تو انگلی پہ پٹی بندھی ہوئی تھی
💗
۔یہ کیا ہے۔ اجمل نے پوچھا۔اس وقت چوڑیاں پہن رہی تھی تو لگ گئی ۔ مہرو نے بتایا۔ دوسرے ہاتھ میں پہنا دیں۔ آغا جان نے کہا تو اس نے دوسرا ہاتھ آگے کیا مہرو نے۔اپنے ناخن اسے چبائے۔ آآآآآ۔ اجمل نے چیخ ماری۔کیا ہوا۔مہرو نے پوچھا۔کچھ نہیں۔اس نے۔مسکراتے ہوئے بتایا اور مہر کو مہرو کی حرکتوں پہ ہنسی آرہی تھی۔ اجمل نے انگوٹھی پہنا دی۔رسم کے بعد مہرو اٹھ کے وہاں سے چلی گئی ۔

جاری ہے۔

Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial