میں اسیرِ محبت ہو گیا

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 8

ارے میں صبح سے یہاں لاؤنچ میں ہی بیٹھا ہوں کوئی بتا دے اس اتنے بڑے پیلس میں میرا کمرہ کون سا ہوگا ۔ اتنے سارے کمرے ہیں کوئی ایک تو مجھے بھی دو تاکہ میں بھی اپنی معصوم کمر کو آرام دے سکوں جو بیٹھ بیٹھ کر اکڑ گئی ہے ۔ لاؤنچ میں بیٹھے ذزان کی دہائیاں عروج پر تھیں جبکہ داریہ جو اوپر والے پورشن میں گرل کے پاس کھڑی تھی اس کی دہائیوں کو بے زاری سے سن رہی تھی ۔
اوئے تم ہاں تم ہی اوپر او ۔ داریہ نے اسے آواز دی تو ذزان نے حیران ہوتے اپنی انگلی اپنے سینے پر رکھتے کنفرم کرنا چاہا کہ واقع داریہ اسے ہی بلا رہی ہے جب آگے سے اس نے کہا ہاں تم تو وہ فوراً بھاگ کر سیڑھیاں چڑھتا اس کے پاس پہنچا تھا ۔ میرے پیچھے آو میرے کمرے میں تم وہاں رہو گے آج سے ۔ داریہ نے اسے حکم دیتے اپنے قدم اپنے کمرے کی جانب بڑھائے تھے ۔
جبکہ ذزان تو حیران تھا کہ کیا واقع داریہ اس کو اپنے ساتھ ایک کمرے میں رہنے کا کہہ رہی تھی ۔ وہ ایکسائٹڈ ہوتا اچھلتا کودتا اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا ۔ وہ اٹیچ کمرہ دیکھ رہے ہو وہاں رہو گے تم ۔ کمرے میں پہنچتے ہی داریہ نے اسے کمرے کے اندر بنے ایک کمرے کی جانب اشارہ کرتے کہا ۔ جو پورا شیشہ کی دیواروں سے بنا تھا ۔
میں وہاں کیوں رہوں گا ؟؟ میں تمہارے ساتھ اسی کمرے میں ایک ہی بیڈ پر نہیں۔۔۔۔۔۔۔ وہ حیران ہوتا ہاتھ ہلائے اس سے ایک ساتھ نہ رہنے کہ وجہ پوچھنے لگا کہ تبھی بیڈ کی طرف نظر پڑتے اس کی زبان کو بریک لگی تھی کیونکہ بیڈ پر بڑی شان سے داریہ میڈم کے جانو صاحب براجمان تھے ۔ کیا ؟؟ جانو کو دیکھ اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔
دیکھ لیا تم نے کہ اس بیڈ پر داریہ کے ساتھ سونے کا حق صرف جانو کا ہے ۔ اور تم اپنی حد سے مت بڑھو لڑکے ورنہ اس کمرے سے تمہارے وجود کو نکالنے کے ساتھ تمہاری روح کو بھی تمہارے وجود سے نکال دوں گی سمجھے ۔ داریہ اس سے بات کرنے کے ساتھ اپنی ہیل والی سینڈل سے ٹک ٹک کر چلتی جانو کے پاس جاکر بیڈ پر بیٹھی اسے پیار سے سہلانے لگی ۔
تم اس بھیڑیے کے ساتھ سوتی ہو ؟؟ ذزان کی سوئی تو وہیں اٹکی تھی اس لیے بے یقینی بھری آواز میں پوچھنے لگا ۔ اسے نہیں سنا تھا کہ داریہ نے کیا کہا سوائے اس کے کہ جانو اس کے ساتھ ایک ہی بیڈ پر سوتا ہے ۔ مسلہ ہے کوئی ؟؟؟ داریہ نے اپنی خوبصورتی سے تراشی گئی آئیبرو کو اچکاتے پوچھا ۔
جبکہ ہری آنکھیں ساتھ ساتھ اسے تنبیہہ بھی کر رہی تھیں ۔ ن۔۔۔نہیں کو۔۔۔کوئی مسلہ نہیں ۔ میں زرا فرش ہو جاؤں ۔ وہ داریہ کے خوف سے کچھ نہیں بولا تھا ۔ رکو ! خبردار جو تم نے واشروم کا رخ بھی کیا تو ۔ کمرے میں رہنے ہے تو میرے اصولوں پر چلنا پرے گا ۔
اور پہلا اصول یہ ہے کہ واشروم رات اور صبح میں ہی پہلے استعمال کروں گی ۔ پہلے میں جاوں گی واشروم اس لیے انتظار کرو تم اور ہاں ساتھ والے کمرے کی کبڈ سے تم جا کر ایک کمفرٹیبل ڈریس لے آؤ اپنے لیے تاکہ سکون سے سو سکو ۔ اور ہاں میرے بھائی کا کمرہ ہے وہ خبردار جو کوئی اور چیز چھوئی تو ۔
کیمرے لگے ہیں ہر طرف ۔ داریہ بیڈ سے اٹھ کر اسے گھورتے ہوئے انگلی اٹھا کر وارن بھی کرنے لگی تو ذزان نے تھوک نگلتے ہاں میں سر ہلایا اور پھر اگلے ہی پل کمرے سے باہر بھاگا تھا کیونکہ داریہ کے سامنے تو اس کی ہوا ہی ٹائیٹ ہو جاتی تھی ۔
#############################
وہ سارا دن ان آنکھوں اور اس چہرے کو بھلا نہیں پایا تھا ۔ اس نے رحمان کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے بھی ان آنکھوں کے جال سے نکلنا چاہا مگر وہ تو جیسے کسی سائے کی طرح چمٹ گئی تھیں اس کی سوچوں سے ۔
اس کی آنکھیں بے مثال تھیں !
نہ جھٹک سکا وہ خیال تھیں !
میرے دل کے اندر اتر گئیں !
چمٹ گئیں وبال تھیں !
رحمان اس وقت اس کے ساتھ ہی سو رہا تھا ۔ دوپہر کو داریہ سے وڈیو کال پر بات کرتے اس نے داور کی شکایت بھی لگائی تھی جس پر داریہ نے اس کے ساتھ مل کر داور سے ناراض ہونے کا پلان بنایا تھا ۔ داور کی بے تحاشہ کالز آئی تھیں باران کو مگر باران نے ایک بھی رسیو نہیں کی تھی ۔
اور گھر کے ملازموں کو بھی داور کی رحمان سے بات کروانے سے منع کر چکا تھا ۔ ابھی رحمان اس کے ساتھ چپک کر لیٹا سو رہا تھا جبکہ باران اس کے سلکی براؤن بالوں میں نرمی سے انگلیاں پھیرتا اسی حسینہ کو سوچ رہا تھا ۔ کیسے ممکن ہو سکتا ہے یہ ؟؟ ہو بہو وہیں آنکھیں وہی رنگ وہی ہونٹ ہوبہو وہی چہرہ ۔ کیا یہ میرا وہم تھا یاں واقع حقیقت ؟؟ ہلکی آواز میں بڑبڑایا ۔
پھر اپنا موبائیل سائیڈ ٹیبل سے اٹھا کر اس نے گیلری اوپن کرتے پھر سے وہی تصویر نکالی تھی جسے وہ دیکھ کر سکون محسوس کرتا تھا ۔ ہاں وہ تصویر والی لڑکی بلکل زحلے جیسی تھی ۔ بس فرق ایک تل کا تھا جو زحلے کی آنکھ کے نیچے تھا مگر اس تصویر والی لڑکی کے پاس نہیں تھا ۔
زحلے تو یہاں ایک مشرقی اور معصوم لڑکی بن کر آئی تھی تاکہ باران کو اس پر شک نہ ہو اور وہ اسے آسانی سے رکھ لے کام پر مگر اس کے تو فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی کہ اس کا چہرہ باران کو کسی اور کی یاد دلا گیا تھا اور اس کے زہن پر قابض ہو گیا تھا ۔
اب یہ تو آنے والے وقت میں ہی پتا چلنا تھا کہ کون تھی وہ تصویر والی لڑکی اور کیا رشتہ تھا اس کا باران سے اور کیوں تھی وہ ہوبہو زحلے جیسی ؟؟؟ ان سب سوالوں پر سے پردے آنے والے وقت میں ہی ہٹنے تھے ۔
#############################
وہ ساتھ والے روم سے ایک ٹراؤزر شرٹ لے آیا تھا اور اب صوفے پر بیٹھا داریہ کے باہر نکلنے کا ویٹ کر رہا تھا ۔ ٹائم پاس کے لیے وہ موبائل یوز کر رہا تھا مگر ساتھ ساتھ وہ ایک نظر بیڈ پر شاہانہ انداز میں بیٹھے جانو کو بھی دیکھ لیتا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
ذزان کو تو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے جانو کو اس سے کوئی زاتی دشمنی ہو اس لیے ہر وقت اسے گھورتا ہی رہتا تھا ۔ تم یوز کر سکتے ہو اب واش روم ۔ وہ جو اپنی ہی سوچوں ہی گم جانو کو دیکھ رہا تھا داریہ کی آواز پر ہوش کی دنیا میں آیا تھا مگر جیسے ہی نظر داریہ پر گئی تو اس کی سانسیں تھم گئی تھیں ۔
وہ مہرون رنگ کے لونگ سلیپنگ ڈریس میں بھیگے گھلے بالوں کو اکھٹا کر کے دائیں کندھے پر ڈالے میک اپ سے پاک چہرہ لیے اس کے سامنے کھڑی اس کو دنیا بھلا گئی تھی ۔ اوئے کیا آنکھیں پھاڑے دیکھ رہے ہو ؟؟ آنکھیں نکال دوں گی تمیز میں رہو ۔
وہ اپنی لمبی باریک انگلیوں جن کے لمبے ناخنوں پر اس نے بلیک نیل پینٹ لگا رکھی تھی سے اس کے چہرے کے آگے چٹکی بجاتی بولی تو ذزان کو ہوش آیا تھا ۔ ک۔چھ ن۔۔ہ۔۔ہیں میں زرا شاور لے لوں ۔ وہ اپنا ٹراؤزر شرٹ اٹھا کر واشروم میں گھس گیا جبکہ داریہ سر جھٹکتی شیشے کے سامنے پری چئیر پر بیٹھ کر لوشن اٹھا چکی تھی ۔
وہ اپنی سکن کی بہت کئیر کرتی تھی ۔ سونے سے پہلے ڈھیروں لوشن اور سیرم لگاتی تھی چہرے پر اور ساتھ بالوں پر بھی ۔ صبح اٹھ کر بھی وہ ڈھیروں جتن کرتی تھی چہرے پر ۔ مطلب صاف تھا اسے عشق تھا خود سے ۔ وہ اپنا بے حد خیال رکھتی تھی ۔
#############################
ارے تم اتنی صبح یہاں ؟؟ زحلے جو اپنی باران کے مینشن جانے کی تیاری کر رہی تھی غزین کے آنے پر حیران ہوتی پوچھنے لگی ۔ ہاں تمہیں گڈ بائے اور ویشیز دینے آیا ہوں ۔ اور ساتھ یہ پیپر سپرے الیکٹرک شوک ڈیوائس اور یہ سموک گن ۔ تم وہاں گن نہیں لے جاسکتی مگر ان چیزوں پر روک نہیں ہوگی تو تم سیف رہو گی وہاں ۔
اور ہاں وہاں جا کر جو میں کہوں اسے فولو کرنا ایسا نہ ہو میری بات نہ مانو اور ہمیشہ کی طرح اپنی چلاؤ ۔ میں تمہارا ہیڈ ہوں اس مشن میں اس لیے میری بات ماننا فرض ہوگا تم پر ۔ غزہن اسے سیفٹی کے لیے چیزیں پکراتے پھر تھوڑا روعب ڈالتے اس کے ماتھے پر انگلی سے پیچھے کو دباؤ دیتا بولا ۔
ہاں ہاں ٹھیک ہے تم یہ بتاؤ کہ جو کیمرے مجھے دیے گئے ہیں چیک کیے ہیں نہ کہ سہی سے چلتے ہیں نہ ؟؟ زحلے نے پہلے ناک چڑھائی اور پھر کیمروں کا فکرمندی سے پوچھنے لگی کیونکہ اسے وہاں جا کر کیمرے فٹ کرنے تھے۔ ہاں بلکل ٹھیک ہیں میں نے خود چیک کیے تھے ۔
اب بس تم اس مشن کے ساتھ اپنا بھی خیال رکھنا ۔ وہ اس کے بال سہلاتا بولا تو زحلے نے مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا تھا ۔
#############################
وہ روز صبح نو بجے اپنے آفس چلا جاتا تھا مگر ابھی دس بج رہے تھے اور وہ گھر پر ہی تھا کیونکہ انجانے میں ہی وہ زحلے کے آنے کا ویٹ کر رہا تھا ۔ رحمان جو لاؤنچ میں ہی اپنے گاڑیوں والے کھیلونوں سے کھیل رہا تھا اچانک کھلونے وہیں چھوڈ باران کے پاس پہنچا تھا ۔
تاتو آپ اب تب تیوں نئ دئے ؟؟ ( چاچو آپ اب تک کیوں نہیں گئے ) اس نے آنکھیں پٹپٹاتے پوچھا تو باران نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے گود میں اٹھا کر بیٹھایا تھا ۔ بس ابھی چلا جاؤں گا مگر پہلے رحمان بتائے کہ کیا وہ بابا کو مس کر رہا ہے ؟؟ باران نے رحمان کی چھوٹی سی ناک کو دباتے پوچھا تو رحمان نے منہ چڑھایا تھا ۔ نئی مان نئی مش تر را بابا تو ۔ ( نہیں رحمان نہیں مس کر رہا بابا کو ) رحمان نے آنکھیں گھماتے کہا تو باران اس کے صدقے جاتا اس کے گال چوم گیا ۔
اتنی ناراضگی ؟؟ باران نے حیران ہونے کا ناٹک کرتے پوچھا ۔ ام بوت زادا تونکہ بو مما نئی لا تر دیتے ۔ ( ہمم بہت زیادہ کیونکہ وہ مما نہیں لا کر دیتے ) رحمان نے ہاتھ کھولتے اپنی ناراضگی بتاتے ساتھ وجہ بتائی تھی ۔ اوہو اب کیا کریں ہم ؟؟ بابا تو کہتے ہیں شادی نہیں کرنی ۔ باران نے اور تجسس ظاہر کرتے کہا ۔
دا ترتے آہیں تہ اے اللہ مان تو ایک پاری شی مما دو آمین ۔ ( دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ رحمان کو ایک پیاری سے مما دو آمین ) وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو دعا کی صورت اٹھاتا بولا تو باران اس کے انداز پر زرا سا مسکرایا تھا وہ کبھی کھل کر نہیں مسکرایا تھا نہ کبھی ہستا تھا ۔
جبکہ رحمان نے جیسے ہی آمین کہتے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو اپنے چھوٹے سے خوبصورت پھولے گالوں والے چہرے پر پھیر کر ہٹایا تو سامنے سے ہی زحلے اپنے کپڑوں کا چھوٹا سا پرانا بیگ اٹھائے اندر آئی تھی ۔ تاتو جے توں اے ؟؟ ( چاچو یہ کون ہے ) اس نے حیرانگی سے پوچھا تو باران نے اس کی نظروں کے زاویے پر دیکھا تو زحلے کو دیکھ اس کے دل میں ہلچل مچی تھی ۔
کام کے لیے آئی ہے پر آپ جاؤ کھیلو ۔ باران اسے نیچے اتارتا خود بھی کھڑا ہوگیا جبکہ رحمان بھاگ کر اپنے کھلیونوں کے پاس واپس پہنچ گیا ۔ سر میں زیادہ لیٹ تو نہیں ہوئی نہ ؟؟ زحلے نے اٹیلین زبان میں پوچھا ۔
نہیں دیر کا معملہ ہی نہیں کیونکہ تمہیں کوئی ٹائم دیا ہی نہیں گیا تھا ۔ خیر میں آفس جانے سے پہلے تمہیں کام بتا دینا چاہتا تھا ۔ تمہارا کام بس یہ ہے کہ تمہیں صبح چھ بجے فریش جوس بنا کر دینا ہے مجھے اور رات کا کھانا بنانا ہے ۔
اس کے علاؤہ جب تک رحمان یہاں ہے اس کا خیال رکھنا ہے ۔ چاہے رات کا کھانا بھی نہ بنے پر رحمان کا خیال رکھنے میں کوتاہی نہیں ہونی چاہیے ۔ سمجھ آگئی ؟؟ باران نے اپنے تھری پیس کی پینٹ کی پوکٹوں میں ہاتھ ڈالے رعب بھرے لہجے میں کام بتائے تو زحلے نے تابعداری سے سر ہلایا تھا ۔ وہ جو کمرہ ہے کچن سے تھوڑے فاصلے پر وہاں رہو گی تم اور ابھی سے تمہارا کام شروع ہوتا ہے ۔
سیلری کی ٹینشن نہ لینا اتنی ملے گی کہ گنتے گنتے تھک جاؤ گی ۔ وہ آنکھوں پر گلاسزز لگا کر اسے اور باتیں بتاتا وہاں سے باہر کی جانب بڑھ گیا اور زحلے رحمان کی جانب جبکہ جاتے ہوئے باران نے واپس پیچھے پلٹ کر زحلے عمر کو ضرور دیکھا تھا ۔
#############################
بس کر دو باران اب اگر مجھے غصے آگیا نہ تو میں نے وہاں اٹلی آکر تمہیں جوتوں سے مارنا ہے ۔ حد ہوتی ہے کسی چیز کی ۔ فون کیوں نہیں پک کر ہے تھے میرا پچھلے دو دن سے ۔ داور نے آج پھر باران کو کال کی تو اس بار اس نے کال پک کر لی تھی جبکہ اس کے کال پک کرتے ہی داور اس پر بھڑک اٹھا تھا ۔ مجھے ایسے شخص سے بات نہیں کرنی جو میرے بھتیجے کو ڈانٹتا ہے ۔
باران نے آفس چئیر کی بیک سے ٹیک لگائے سکون سے جواب دیا تو داور نے دوسری طرف دانت پیسے تھے ۔ تمہارا بھتیجا میرا بیٹا ہے ۔ اور ہو گئی مجھ سے غلطی جو میں نے اسے ڈانٹ دیا غصے میں مگر اب احساس بھی تو ہو رہا ہے مجھے ۔ یاد آتی ہے مجھے رحمان کی اس لیے بات کرواو میری اس سے ۔
داور نے پہلے اپنی صفائی دیتے آرام سے بات کی مگر آخر میں لہجہ روعب والا بنایا تھا ۔ نہیں کرواؤں گا ۔ باران نے تین لفظی جواب میں انکار کرتے داور کے غصے کو بڑھایا تھا ۔میں اگر وہاں آگیا نہ تو بہت مار کھاؤ گے تم ۔ داور نے اپنا غصہ بمشکل کنٹرول کرتے کہا ۔ سوچنا بھی مت یہاں آنے کی اور دوسری بات مجھے یہ بتاؤ کہ تمہیں پتا بھی ہے داریہ نے کسی سے نکاح کر لیا ہے ؟؟
باران اسے اٹلی آنے سے منع کرنے کے ساتھ داریہ کی بات چھیڑ بیٹھا تھا ۔ جبکہ دوسری طرف داور بھی ایک دم نارمل ہوا تھا داریہ کے موضوع پر ۔ ہاں پتا ہے مجھے ۔ تمہیں کیا لگتا ہے کہ وہ صرف تمہاری بہن ہے اور تمہیں ہی اس کی فکر ہے ۔ میں بھی اس کا بھائی ہوں میں بھی اس کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوں ۔
آخر وہ میری تم سے زیادہ لاڈلی ہے ۔ مگر میں خود ہی چپ ہوں جب تک وہ نہ بتائے ۔ ویسے بھی وہ مجھ سے ناراض ہے میری کال پک نہیں کر رہی ۔ داور نے آرام سے بات کرتے کہا ۔ ہمم سہی کہا میں نے اس لڑکے کی انفورمیشن نکلوائی ہیں سب کچھ کلئیر ہے اس کے بارے میں ۔
اور پھر ہم دونوں نے ہی اسے اجازت دی ہوئی ہے کہ وہ جب چاہے شادی کر لے ۔ باران نے بھی چئیر سے ٹیک ہٹا کر سیدھا ہو کر بیٹھتے ٹیبل پر پرے گول گیند جیسے پیپر ویٹ کو گھماتے کہا ۔ ہاں بس ایک ہفتے تک میں آؤں گا اٹلی تو مل کر ہم روسیا جائیں گے ۔
ابھی میں پیرس میں ہی ہوں کچھ کام ہے ۔ داور نے اسے آگے کا پلین بتایا تو باران نے بھی اوکے کہتے کال کٹ کر دی تھی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ داور پھر سے رحمان والے ٹاپک پر آنے والا تھا ۔ جبکہ اس کے کال کٹ کرنے پر دوسری طرف داور نے اسے دل ہی دل گندی گالی سے نوازہ تھا ۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial