ہجرے عشق

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط 27

اسلام علیکم ڈاکٹر تانیہ کبھی ہم غریبوں کو بھی یاد کر لیا کرو– بجلی کا بل نہیں أٸیں گا أپ کے پاس —
وہ ابھی بارہ گھنٹے کی ڈوٹی کرنے کے بعد وہ اپنے کیبین میں أٸی تھی اور ٹیبل پر موباٸل بجتا دیکھ فوراً کال ریسیو کی___
والیکم سلام جی أتا ہیں بجلی کا بل اسلیٸے تو أپ غریب کو یاد نہیں کرتی میں —
تانیہ نے دانت پیستے کہا__ اسے کی بات پر مقابل قہقہ لگا کر ہنسا
ضاور أخر کب تم میرے بھاٸیوں سے میرا رشتہ مانگوں گٸے— میرے بھاٸی میرا رشتہ ڈھونڈہ رہے ہیں ہمھارے ری لشپ کو تین سال ہوگٸے ہیں–
تانیہ چٸیر پر بیٹھی تھی اور دل کی پریشانی بتاٸی —
تانو تم پریشان نہ ہو ارحام کی طبیعت جیسے پوری طرح ٹھیک ہو جاٸیں گٸی– میں اس سے ہمھارے رشتے کے بارے میں بات کروں گا— تم تو سب جانتی ہو — کہ میں یتیم ہوں –بچپن سے ارحام نے بڑے بھاٸی کی طرح میرا خیال رکھا ہیں – — کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی اس نے مجھے —– میں اس کے بغیر اپنی أنے والی نٸی زندگی کی شرعاوت نہیں کر سکتا–
ضاور نے سنجیدگی سے کہا —
ہممم سہی پر پلیزززز ضاور اتنی دیر بھی نہیں کرنا کہ میرا رشتہ کہیں اور ہوجاۓ —
نہیں ایسا کچھ نہیں ہوگا تانو تم خامخواھ پریشان ہو رہی ہو —
ضاور نے تسلی دی کچھ دیر تک وہ دونوں یوٸی یہاں وہاں کی باتیں کرنے کے بعد ضاور نے کال ڈسکنیکٹ کر دی تھی–
ملی أنکھوں پر گلاسز لگاۓ تیز گاڑی ڈراٸیونگ کر رہی تھی
اچانک سامنے سے ایک گاڑی نے نیو ٹرن لیا وہ فورا جھٹکا کھا کر گاڑی کو بریک لگا گٸی تھی ورنہ دونوں کا بُرا ایکسیڈنٹ ہو جاتا —ملی نے غصہ میں زور سے ہاتھ ڈیش بورڈ پر مارا تھا—- اپنا غصہ کم کرنے کی کوشش کرنے لگٸی — جب سامنے والی گاڑی کے مقابل پر غصہ کم نہیں ہوا تو درام سے گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے سامنے والی گاڑی کی جانب گٸی —-گاڑی کی ونڈو کے شیشے کو زور سے کٹکٹایا مقابل گاڑی کا دروازہ کھول کر اس کے سامنے أیا —-
لگتا ہے پاکستان میں ہر ایرے غیرے کو ڈراٸیونگ لاٸسن دیا جاتا ہے یہ دیکھے بغیر کے سامنے والے شخص کو گاڑی چلانی أتی بھی ہیں کہ نہیں —
قہر بھری نظروں سے ملی نے مقابل کو دیکھ کر کچا چبا جانے والے انداز میں کہا–
أپ کو بات کرنے کی تمیز شاید کسی نے نہیں سیکھاٸی —
مقابل بھی دھاڑا تھا اس کی بات پر—
واہ یہاں تو لوگ اپنی غلطی مانے کے بجاۓ دوسرے پر غصہ کرنا جانتے ہیں —دیکھو مسٹر لگور غلطی تمھاری ہے جبکہ تمھاری ساٸیڈ اس روڈ پر ہے تو پھر نیو ٹرن کیوں لیا –اس روڈ پر أنے کے لیٸے غلطی تمھاری ہے تو ابھی چلو شاباش تم سوری بولوں گٸے مجھے —
ملی نے شھادت کی اگلی مقابل کو دیکھاٸی ایکیٹیوڈ سے بولی–
تم جیسی بتمیز لڑکی میں نے اپنی پوری لاٸف میں أج تک نہیں دیکھی
ملی کے الفاظ مقابل کے تن بدن میں أگ کے شعلہ جلا گٸے تھے
میری جیسی لڑکی دیکھ بھی نہیں پاٶں گٸے ملی از أون لی ون ہیں
ملی نے مقابل کو دیکھ اترا کر کہا–
تم ملی ہو یا پھر بلی— أے ڈونٹ انٹر سٹنگ ناجانے کہاں کہاں سے لوگ منہ اٹھا کر سامنے أجاتے ہیں— پورا دن خراب کرنے کے لیٸے — اب ہٹو میرے راستے سے–
مقابل نے اسے اگلی دیکھا کر کہا ایک سیکنڈ نہیں لگایا تھا —–ملی نے وہی مقابل کی شھادت کی اگلی زور سے پکڑتے توڑ مروڑ کر مقابل کی پیٹ کے پیچھے کی—
أہہہہ جنگلی بلی کیا کر رہی ہو چھوڑ میری اگلی—
مقابل درد سے تڑپ رہا تھا ملی نے بہت زور سے اس کی اگلی دباٸی تھی —
ملی نے مقابل کے کان میں ہلکی سرگوشی کرتے اسے دھمکا گٸی
مقابل کو کچھ سمجھ نہیں أٸی کہ وہ کس کے جنگول میں پھس گیا ہے
سوری اب چھوڑو—- اگر میری اگلی کو کچھ ہوا نہ تو تمھیں مس بلی جیل میں پھینکوا دو گا —
مقابل چلا کر بولا اس سے پہلے ملی اس کو جواب دیتی اس کا موباٸل رنگ ہوا تھا اس کو جھٹکے سے چھوڑ کر کال ریسیو کی تھی– اور کسی کی کال ہوتی تو وہ ریسیو بعد میں کرتی مگر سامنے موباٸل پر ارحام کا نمبر اسکرین پر چمک رہا تھا
مقابل اپنی اگلی کو مسلتے خونخوار نظروں سے ملی کو گھور رہا تھا وہ جو کال پر مصروف ہو گٸی تھی __
وہ وہاں سے اپنی گاڑی کی جانب گیا تھا—- اور گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی کو بھاگا لے گیا —–اسے اس سر پھری لڑکی پر بھروسہ نہیں تھا کیا پتا وہ پھر سے اس کی اگلی کی دشمن بن جاتی اسلیٸے وہاں سے بھاگنے میں عافیت سمجھی —
عروشہا جیسے سیڑھیوں کو عبور کرتی نیچھے أٸی تھی –حال میں صوفے پر بیٹھے ارحام اور ضاور لیپ ٹاپ میں ضروری کام کر رہے تھے ان کو ایک نظر دیکھ وہ کیچن کی جانب بڑھ گٸی تھی—
تم یہاں کیا کر رہی ہو —
عروشہا کچن میں داخل ہوٸی تھی سامنے ملی کپ ٹرے میں رکھ رہی تھی اور وہ اب اس میں کافی ڈال رہی تھی جب عروشہا اس کے روبرو کھڑی ہوکر پوچھا—
باس — ملی کے منہ سے غلطی سے باس الفاظ نکلا تھا ارحام نے سب کو یہ کہہ کر ملی کا انٹروڈیکشن کروایا تھا کہ وہ بیگلون میں اس کے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھی ہے — ارحام نے باس کہنے سے منع کر دیا تھا اور اچانک اس کے منہ سے باس سُن کر عروشہا نے ملی کو گھورا
وہ میرا مطلب ارحام —-نے کہا تھا بلیک کافی بنانے کو
اس نے فوراً اپنی پھسلی ہوٸی زبان سمبھالی
تم باہر جاٶ کافی میں خود اپنے شوہر کے لیٸے لیکر أٶں گٸی —
عروشہا کا انداز تلخ تھا ملی اس کو خاص پسند نہیں تھی —اس کا رویہ اور خاص کر کے اس کا پیٹ شرٹ پہناں— ارحام جان بوجھ کر ملی کو اپنے کام کرنے کو کہتا تھا— اور یہی بات عروشہا کو زہر لگتی تھی کہ اس کی بیوی ہوتے ہوۓ بھی وہ کسی غیر لڑکی کو اپنے کام کرنے کا کہتا ہے—- اور ایک یہ بھی وجہ تھی عروشہا کی ملی کو نہ پسند کرنے کی–
مگر ارحام کو بہت مزا أتا تھا عروشہا کا جیلس ہوکر خون جلانا
اگر وہ ارحام کی بیوی نہ ہوتی تو ملی اس کو اچھا سبق سیکھاتی لیکن وہ ارحام کے لیٸے ہر بار عروشہا کا لحاظ کر جاتی تھی اور اس کو عروشہا کا اس طرح اپنے لیٸے رویہ سمجھ نہیں أتا تھا
وہ کوٸی بحث کیے بغیر کچن سے باہر نکل گٸی تھی عروشہا نے اس سے جاتے ہی اس کی بناٸی ہوٸی بلیک کافی پھینک دی اور خود جلدی میں دوسری بلیک کافی بنانے لگی —
ملی تم تو کافی بنانے گٸی تھی تمھارے ہاتھ میں تو کافی کہی بھی نظر نہیں أ رہی– کیا تم ایسے ٹاٸم ویسٹ کرنے گٸی تھی کچن میں
ضاور نے لیپ ٹاپ سے سر اٹھا کر ملی کا سرخ چہرہ دیکھ کر جلے پر نمک چھڑکا وہ عروشہا کو کچن میں جاتا دیکھ چکا تھا
جب ضاور کی نظر کچن سے نکلتی ان کی جانب أتی عروشہا پر گٸی تھیں– جس کے ہاتھ میں کافی کے کپ تھے –اسے نے دل جلانے والی مسکراہٹ ملی کی جانب اچھالی—- ملی نے غصہ میں مٹھیاں بھیجی اور أنکھوں سے ضاور کو وارنگ دی تھی کہ باز أ جاٶ ضاور ورنہ دھوبی کی طرح پھچاڑ دو گٸی
ضاور کی ہنسی کو یکدم ملی کی دھمکی میں بریک لگٸی
ارحام — عروشہا نے ٹیبل پر ٹرے رکھی اور اسے پیار سے پکارا وہ جو لیپ ٹاپ میں محو تھا اس کی میٹھی أواز پر سر أٹھاکر عروشہا کو دیکھا
مہرون رنگ کی شرٹ جو اس کے گھٹنوں تک أتی تھی چوہڑیدار بجامہ ہم رنگ ڈوپٹہ سر پر اوڑھا ہوا تھا
دودھیا سفید رنگ میں وہ مہرون رنگ کی ڈریس میں ارحام کے دل کی تارو کو ہلا گٸی تھی وہ مہرون رنگ میں قاتل حسینہ لگ رہی تھی
بنا پلکیں چپکاۓ وہ اس کا سر تان پاٶں کا طواف کر رہا تھا
جب ضاور نے گلا کنکھارا تو وہ اس کے حُسن کے اسیر سے نکل کر فوراً نظر لیپ ٹاپ کی چمکتی اسکرین پر جما گیا تھا —-عروشہا کو یوں اچانک ارحام کی نظریں پھیرنا کچھ خاص سمجھ نہیں أیا
ملی عروشہا کے أتے ہی اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر اپنے کمرے میں چلی گٸی تھی
ویسے بھابھی کیا کافی أپ صرف شوہر کے لیٸے أٸی ہیں ایکلوتا دیور ہوں میں أپ کا —أپ اس کو بھی بھول گٸی ناٹ بیڈ بھابھی
ضاور نے منہ بسور کر خفگی سے کہا تھا تو عروشہا اس کا چہرہ دیکھ کر مسکراٸی تھی —
نہیں تو ضاور بھاٸی أپ کو کیسے بھول سکتی ہوں أگر أپ کو بھول گٸی نہ تو کچھ لوگ مجھے کچا چبا جاٸیں گٸے—
مسکراتی عروشہا نے ٹھیڑی نظروں سے ارحام کو دیکھا مطلب صاف تھا وہ ارحام کو کہہ گٸی تھی —
عروشہا نے کافی کا دوسرا کپ ضاور کی جانب بڑھایا اور اسے نے فوراً کپ مسکراتے عروشہا سے لیکر ٹیبل پر رکھا تھا ارحام نے عروشہا کو گھورا
وہ کیا جنگلی بھیڑیا ہے جو اس کو کچا چبا جاۓ گا ارحام نے خونخوار نظروں سے عروشہا کو دیکھا
کافی کا ایک گھونٹ بھرا تھا اور کپ ٹیبل پر رکھا اور وہ چونک کر عروشہا کو دیکھنے لگا تھا کیونکہ کافی ضاور ملی کی بناٸی کافی سے کہیں زیادہ عروشہا کی کافی کا ٹیسٹ بہت اچھا تھا وہ جو ضاور سے ہنس کر بات کرنے میں مصروف تھی
کہیں میری کافی میں زہر تو نہیں ملایا —
ارحام نے جانچتی نظروں سے عروشہا کو دیکھ کہا تھا وہ جو ضاور سے مسکرا کر بات کر رہی تھی اس کی بات سُن کر اس کے تاثرات بدلے وہ ابھی تک وہی بات سوچ رہا تھا عروشہا کو تو حیریت ہوٸی اپنے شوہر کو دیکھ–
ایک سیکنڈ نہیں لگایا تھا اور عروشہا نے اس کی کافی میں سے گھونٹ بھرا اور زور سے وہ کپ ٹیبل پہ رکھا
اب تو أپ کو یقیناً یقین أگیا ہوگا نہ کہ میں نے أپ کی کافی میں کوٸی زہر و ہر نہیں ملایا —-اور اگر اب بھی أپ کو یقین نہیں ہے — تو میں کچھ نہیں کہہ سکتی — تو پھر أپ جاکے ملی سے کہے —-کہ وہ بنا زہر کی أپ کو اچھی سی پیار والی میٹھاس کی کافی بنا دیں —
عروشہا نے قہر بھری نظروں سے اسے گھور کر دانت پیستے کہا اور سیڑھیوں کی جانب برھ کے اپنے کمرے میں چلی گٸی تھی— اس کو بہت غصہ أ رہا تھا ارحام پر —– اخر کر بھی کیاسکتی تھی خاموش رہنے کے سوا __
شایان جیسے حویلی میں داخل ہوا تھا سجاد ممتاز بیگم کو صحن میں کرسی پر بیٹھے کوٸی ضروری بات کرنے میں مشغول تھے —
دونوں ہاتھ چہرے پر پھیرے تھے اور غصہ ٹھنڈہ کرنا چاہا وہ باہر سے بہت غصہ میں أیا تھا
چلتا ہوا وہ سیڑھیوں کی جانب بڑھ گیا جب پیچھے سے سجاد کی أواز پر اس کے قدم وہی تھمے تھے وہ پلٹا—
شایان مجھے تم سے گاٶں کے مسٸلہ سے بات کرنی ہیں نیچھے أٶ—
سجاد وہی کرسی پر بیٹھا اونچی أواز میں شایان سے کہا وہ سر ہاں میں ہلاتا نیچھے اکر ان کے ساتھ کرسی پر بیٹھ گیا–
میں نے اور تمھاری ماں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ تم سرداری کی کرسی سمبھالوں
سجاد کے کہے الفاظ شایان کے پیروں سے زمین ہلا گٸیں تھے وہ پھٹی أنکھوں سے بے یقینی کے عالم میں اپنے سامنے بیٹھے ماں باپ کو دیکھ رہا تھا
یہ أپ کیا کہہ رہے ہیں بابا میں سرداری کی کرسی سمبھالو نہیں کبھی نہیں یہ نہیں سکتا مجھ سے اتنی بڑی زمیداری سمبھالیں نہیں جاٸیں گٸی —–
شایان نے بہت مشکل سے سوچ سمجھ کر نہ میں جواب دیا اس کا جواب سجاد ممتاز بیگم پہلے سے جاتے تھے کہ وہ جب شایان سے سرداری کی کرسی کی بات کرۓ گٸے تو اس کا جواب یہی ہوگا جو اس نے دیا تھا—-
دیکھو —-شایان بیٹا ابا جان اور بھاٸی جان کے جانے کے بعد میرے کندھوں میں اتنی جان نہیں ہے کہ میں اتنی بڑی زمیداری سمبھال سکوں—- اور یارم شہر چلا گیا ہے—- میں ایسا نہیں کہہ رہا بیٹا کہ یارم نے وہاں جاکر کچھ غلط کیا ہے —- یہاں سے جاکر اس نے سہی کیا —لیکن اس کے اوپر پہلے سے بہت زمیداری تھی — اور دوسری زمیداری میں اس کے اوپر کیسے رکھتا—– میری أخری امید سہارا تم ہو مجھے پورا یقین ہیں تم مجھے نا امید نہیں کرو گٸے گاٶں کے مسٸلہ بھی بہت بھڑ گٸے ہیں
سجاد نے امید لیے شایان کو دیکھ سنجیدگی سے کہا
لیکن بابا میں کیسے__ شایان ابھی کچھ بول رہا تھا کہ ممتاز بیگم اس کی بات بیچ میں کاٹ دی
شایان بیٹا تمھارا بابا درست کہہ رہا ہے تم اس حویلی اور گاٶں والوں کی أخری امید ہو میں جانتی ہوں کہ تم یہ زمیداری کیوں نہیں لینا چاہتے—— میں بس تمھیں ایک نصیت کرنا چاہوں گٸی بیٹا
اگر تمھیں ڈر ہے کہ کل کو تم بھی غلط راستے پر چلے جاٶں گٸے — ایسا بیٹا ہرگز نہیں ہیں—– اگر تم ہر وقت خدا سے ڈرتے رہوں گٸے— تو کبھی تم غرور میں نہیں أٶ گٸے —– اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا کہ ہم انسان مٹی سے بنے ہوٸیں ہیں —–اور ایک دن اس ہی مٹی میں مل جانا ہے پھر تمھارے ایمان کی حفاظت تمھارا خود ضمیر کریں گا —
ممتاز بیگم کی بات شایان کے دل کو چھو گٸی تھی لیکن پھر بھی جو کچھ ہوا تھا اب اس کے دل میں ڈر بیٹھ گیا تھا کہیں وہ بھی ولید بخش چوہدری کی طرح ظالم نہ بن جاۓ
شایان کشمکش کا شکار ہوا تھا —
تم جو فیصلہ لو گٸے مجھے تم پر پورا یقین ہے وہ سہی لو گٸے—
سجاد نے جوش اندازہ میں شایان کو گم سم سا دیکھ کہا تھا
امی بابا جیسا أپ دونوں کو ٹھیک لگ رہا ہیں میں ویسا کروں گا —–اور ان شااللہ ایسا سردار بن کر دیکھاٶں گا جیسے گاٶں والے ڈرے نہیں بلکہ اس کو اپنی ہر پریشانی دل کھول کے بتاٸیں —
شایان کرسی سے اٹھ کر شایان ممتاز بیگم کو دیکھ سنجیدگی سے کہا وہ دونوں یہ دیکھ مسکراٸیں تھے کہ ان کے بیٹے نے ان کے کہنا کا مان رکھا __
میرے پیارے سمجھدار بیٹے مجھے تم سے یہی امید تھی شاباش میرے شیر—
سجاد شایان کو گلے لگا کر کندھے پر تپکی دیتے خوش ہوکر بڑے مان سے بولا
شایان سجاد سے الگ ہوکر بس دھیما سا مسکرایا تھا–
اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا—
بے ھودا لباس میں لڑکی بانہیں پھیلاۓ اداٶں کا جلوا دیکھا رہی تھی
اور مقابل صوفے پر بیٹھا اس کی اداٶں سے لطف انداز ہو رہا تھا
ساٸیڈ ٹیبل تھا جس پر وہ حرام دارو شیشی پڑھی تھی—
دارو کو گلاس میں ڈالتے بار بار منہ سے لگاۓ اس لڑکی کی ڈانس دیکھ وحشی مسکرا رہا تھا اور اس کے أدمی پورے حال میں پھیلے ہوۓ تھے جن کے ہاتھوں پر گن تھیں
وہ لڑکی ڈانس کرتی اس کے ارد گرد جھوم رہی تھی
لیلہ میں لیلہ ایسی ہوں لیلہ ہر کوٸی چاہے مجھ سے ملنا اکیلا
وہ سونگ پر ڈانس کرتی گلیز اشارہ دیتی مقابل کو شرٹ سے کھینچ تھا اور وہ لڑکی مقابل کا ہاتھ پکڑ کر اپنی کمر میں رکھا مقابل نے أدمی کو اشارہ کیا تھا حرام کا گلاس اسے تھمایا اور وہ خود اس لڑکی کے ساتھ ڈانس کرنے لگا—-
مقابل کے دو أدمی اس کے أگٸے کسی أدمی کی پوری خون میں لت پت لاش زمین پر رکھی وہ جو ڈانس کرنے میں خوش ہو رہا تھا اچانک زمین پر لاش کو دیکھا
میوزک بند کرو__
چلا کر سونگ بند کرنے کا کہا تھا اور وہ ایک ایک قدم اس لاش کی جانب بڑھا رہا تھا
کس کو اٹھا کر لاٸیں ہو
دو أدمی جو اس لاش کو لیکر أۓ تھے دونوں کو ایک ایک نظر دیکھ کر پوچھا جواب دینے کے بجاۓ ادمی نے اس کے اگٸے خط کیا تھا وہ اس خط کو کھول کر پڑھنے لگا
تم جیسے انسان کو اسلام علیکم کہنا تو نہیں چاہیے لیکن میں مسلمان ہوں اور ہم مسلمانوں پر سلام کرنا فرض ہیں اسلیٸے اسلام علیکم وقار — میری طرف سے تمھارے لیٸے ایک چھوٹا سا سرپراٸز بھیج رہا ہوں أ ے ھوپ تمھیں بہت پسند أۓ گا —
مٹھیوں میں اس خط کو دبوچتے پھینکا اور فورا اس لاش کو سیدھا کیا اس کی أنکھیں سرخ ہوگٸیں
یونان یہ کیسے ہوا تمھیں کہاں سے ملا
وہ ان دو أدمیوں سے دھاڑ کر پوچھنے لگا تھا کہ وہ لوگ اس کی دھاڑ پر کانپ نے لگٸیں
میری گاڑی میں اس کی لاش تھی جب کلپ سے نکلا تھا گاڑی کی ڈکی کھولی تو سامنے ہی یوبان کی لاش تھی
دروازے سے چلتا ہوا اس کا خاص أدمی بولتے اس کے پاس ا کھڑا ہوا
یہ سب بیگلون کے ولڈر کا کام ہیں وہ یونان تک پہنچ گٸے ہمھیں جلد سے جلد یہاں سے لڑکیوں کو بیگلون شفٹ کرنا ہوگا
اس کے خاص أدمی نے وقار کو دیکھ کہا
تم بلکل ٹھیک کہہ رہے ہو لیکن مجھے جلد سے جلد اس ولڈر کی انفارمیشن چاہیے —-ورنہ میں تمھاری جان لیں لو گا دنیا کے کسی بھی کھونے میں ولڈر تم چھپے ہو چاہے تم قبر میں ہی کیوں نہ ہو— میں تمھیں وہاں سے بھی کھوڈ کر باہر نکلا لو گا —- اور پھر تمھیں وقار ایسی موت دیں گا کہ تم میرے پیروں پر گڑگڑا کر مجھے سے اپنی موت کی بھیک مانگوں گٸے —
مجھے ولڈر کی ساری انفارمیشن چاہیے أخر کون ہیں جس میں اتنی جُرات کی ہے وقار سے پنگا لینے کی اپنی موت کو دعوا دیا ہے تم نے جو بھی ہو بہت جلد تم سے ملاقات کرنے أٶں گا ولڈر–
طیش دار لہجے میں کہتا شیطانی قہقہ لگا کر ہسنے لگا تھا
رات کے دس بج رہے تھے ڈنر کرنے کے بعد ارحام اپنے کمرے میں أیا تھا
سگریٹ کی طلب ہورہی تھی— وہ بالکونی میں کھڑا ہوکر سگریٹ کو لاٸٹر سے جلاتے لمبے لمبے کش بھڑنے لگا تھا اور أسمان پر ستاروں کو دیکھنے لگا — ستاریں رات کے وقت بہت خوبصورت منظر پیش کر رہے تھے
ہوا میں جیسے اسے نے سگریٹ کا دھواں چھوڑا اس کی نظر دھنک رھ گٸیں سلطان مینشن کے کچھ فاصلے پر ایک أدمی کھڑا تھا— وہ اس سے نظر أیا وہ گھور کر اس سے دور سے دیکھ رہا تھا —
پھر سگریٹ کو شوز سے مسل کر اندر گیا الماڑی سے دور بینی اٹھا کر وہ جلد میں بالکونی میں أیا تھا اور اس أدمی کے دیکھنے لگا- جو کال پر کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا__ مگر اس کے دوسرے ہاتھ میں گن تھی- یہ وہ دیکھ کر چونکنا ہوگیا کہ شاید کوٸی دُشمن ان تک پہنچ گیا ہے—- جیب سے ماسک نکال کے چہرے پر لگایا اور باہر مین گیٹ کی جانب بڑھا —
وہ دو دو سیڑھیوں کے ڈھنک لیتے نیچھے اتر کر فورا باہر کی جانب بھاگا
سب اپنے کمروں میں تھے
ارحام اس وقت کہاں جا رہا ہے—- کہیں اس ملی سے چھپ کر تو ملنے نہیں جا رہا –نہیں نہیں میں بھی ناجانے کیا سوچ رہی ہوں ایسا تھوڑی ہوگا وہ تو بس اچھے دوست ہیں —
عروشہا کچن سے جیسے باہر أٸی اس کی نظر باہر جاتے ارحام پر گٸی وہ اپنے زہن میں چلتے سوال پر کشمکش میں ڈوبی تھی—
ایک بار جاکر دیکھتی ہوں- أخر ایسا کون سا رات کے وقت انہیں کام أگیا جو بھاگتا باہر جا رہا ہیں–
عروشہا جہاں سے وہ گیا تھا اس جگہ پر نظر رکھتی سوچنے لگٸی اور اس کے دھیرے سے پیچھا کیا کہ أخر ارحام جا کہاں رہا ہے–
ارحام کو رات کے وقت مین گیٹ کھولتا دیکھ کر چوکیدار حیران ہوا
لیکن اس کے غصہ سے سب ہی اچھے سے واقف تھے سو سوال کرنے سے گریز کیا اور چپ کرکے وہی کرسی پر بیٹھا رہا
ارحام نے باہر اس أدمی کو دیکھا وہ دوسری طرف گردن کیے ہوا تھا اس وجہ سے اسے نے ارحام کو نہیں دیکھا تھا
اس أدمی کو أنکھوں کے حصار میں لیٸے جھک کر شوز سے چاقو نکالا اور اس أدمی پر نشان بنا کر اس طرح پھینکا تھا چاقو أدمی کو زور سے سینے میں پیوست ہوا تھا– اور وہ وہی پر زمین پہ درام سے گرا اور یہ سب منظر عروشہا نے مین گیٹ سے دروازے سے چھپ کر دیکھا تھا —اس کی انکھیں پھٹی کی پھٹی رھ گٸیں- اور کچھ سوچنے اور سمجھنے کی صلایت کھول بیٹھی تھی— جھیل سی أنکھوں میں فورا أنسوں أ گٸے تھے یہ منظر دیکھ کر اس کے منہ سے با سخت چیخ نکلنے والی تھی کہ اس نے دونوں ہاتھ منہ پر رکھے تھے اور خود کی چیخ کا گلا گھونٹ دیا
وہ أدمی چاقو لگنے سے اوندھے منہ گرا تھا ارحام نے اس کو سیدھا کیا وہ چونکا تھا— وہ أدمی ویٹر تھا جس سے ارحام نے ریا کی انفارمیشن لی تھی_ جب اچانک اس کی جیب میں کچھ نظر أیا تھا اس نے اس أدمی کی جیب میں ہاتھ بڑھا کے دیکھا کہ اخر وہ کیا ہے
اس أدمی کی جیب میں سے کچھ تصویریں تھیں ارحام وہ ایک ایک تصویر بنوز حیریت سے دیکھ رہا تھا
عروشہا کو وہاں اور دیر تک رکنا ناگوارہ لگا تھا وہ بے جان ٹانگوں کو پیچھے دھکیلنے لگٸی تھی– جب اس کے پیروں میں پایل کی دھیمی چم چم کی أواز پر ارحام ان تصویروں سے سر اٹھا کر مین گیٹ کی جانب –دیکھا جہاں عروشہا شاکت کی حالت میں نم أنکھوں میں کہیں سوال لیٸے اسے دیکھ کر خوفزہدہ ہوگٸی تھی ارحام نے فورا وہ تصویریں اپنی جیب میں رکھیں
عروشہا نے ارحام کو دیکھ گردن نفی میں ہلاکر اندر کی جانب بھاگی
عروشہا میری بات سُنو رُکو عروشہا
وہ اس کے پیچھے بھاگتا مسلسل اسے اپنی صفاٸی دۓ رہا تھا
مگر وہ اس کی کوٸی بات سُن نے بغیر ہی روتی کمرے میں چلی گٸی
جیسے اس نے دروازہ لاک کرنے کے لیٸے بند کیا ہی تھا کہ ارحام نے دروازے پر پاٶں رکھ دیا
عروشہا میری ایک بار بات تو سُنو–
اس نے دروازہ کھولنا چاہا لیکن عروشہا دروازہ بند کرنے کے لیٸے اپنا پورا زور لگا رہی تھی کہ ارحام دروازہ کھول نہ پاۓ
اتنا کچھ دیکھنے کے علاوہ اور کیا سُننے کو رہا ہے أپ قاتل ہیں– أپ نے اس أدمی کو مارا ڈالا
وہ روتی مسلسل ایڑی چھوٹی کا زور لگا رہی تھی دروازے کو بند کرنے کے لیٸے
عروشہا تم مجھے غلط سمجھ رہی ہو
وہ اسے دوبارہ سمجھانے لگا
أپ قاتل ہیں اور مجھے قاتل کے ساتھ ایک پل بھی نہیں رہنا مجھے أپ سے خُلہ چاہیے ابھی —
وہ چلا کر بولی تھی عروشہا کے زبان سے ادا کیا گیا خُلہ کا الفاظ اسے کے پیروں تلے سے بے دردی سے زمین کھینچ گیا
أنکھوں میں اچانک خون اتر أیا تھا اور ایک ہی جھٹکے سے درام سے دروازہ کھولا تھا – کہ عروشہا اتنی تیز رفتار برداش کر نہیں پاٸی اور جاکر زمین پر گری
کیا کہا زرا پھر سے کہنا ۔۔۔وہ اس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ طیش گرجدار أواز میں اسے کی جھیل سی أنکھوں میں دیکھتا دھاڑا تھا
اس کی دھاڑ پر عروشہا نے کانوں پر ہاتھ رکھیں
بولو کیا کہا تم نے ابھی
زور سے ہاتھ کا مکہ بنا کے غصہ میں زمین پر مارا تھا وہ اس وقت جنونی انسان لگ رہا تھا عروشہا نے أنکھیں ضبط سے بند کی پہلے ہی وہ اسے خوف کھا رہی تھی اوپر سے اسکا ایسا جنونی روپ دیکھ وہ سہم گٸی
أپ ایک قاتل ہیں مجھے أپ کے ساتھ نہیں رہنا
با مشکل کپکپاتی زبان سے بولی
تم کیا چاہتی ہو مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا— ہاں لیکن میں کیا چاہتا ہوں اس سے تمھیں بہت فرق پڑے گا— چاہیے تم میرے ساتھ اپنی مرزی سے رہوں — یا زبردستی سے مس عروشہا ارحام سلطان رہنا تو تمھیں میرے ساتھ ہر حال میں ہوگا
وہ اسکا چہرہ مظبوت ہاتھ میں دبوچتے دانت پیستے گویا جب دیکھا کہ وہ بہت زیادہ ڈر گٸی ہے تو اس سے دور ہوکر کھڑا ہوگیا تھا
بالوں میں ہاتھ پھیرا اس کو رھ رھ کر طلاق والے الفاظ اس کا بے پی ہاۓ کر رہا تھا
میں نہیں رہوں گٸی أپ کے ساتھ کبھی نہیں قاتل ہیں أپ قاتل سُنا أپ نے قاتل ہیں أپ—
وہ روتی سسکیاں لیتی پوری قوت سے چلاٸی تھی کہ اس کی گردن کی نسیں تر ہوٸیں
ارحام پہلے ہی غصہ میں پاگل ہو رہا تھا –اوپر سے اس کی یوں زبان طراشی اس کا دل کیا اس لڑکی کو جان سے مار دۓ لیکن چاھ کر بھی وہ ایسا نہیں کر سکتا تھا —
وہ الماڑی کی جانب گیا اور وہ لاک تہجوری کا دروازہ کھولا –اس میں جو جو چیزیں تھیں اس نے درام سے وہ فرش پر پھینکی عروشہا منہ پر ہاتھ رکھ کر ہچکیوں کو روک رہی تھیں
دیکھو تمھارا ہر سوال کا جواب یہ سب ہے —
وہ ان ساری پھینکی چیزوں کو دیکھ دھاڑا تھا عروشہا نے کانپتے ہاتھوں سے وہ تصویریں دیکھنے لگٸیں
یہ جو تم تصویروں میں لڑکیاں دیکھ رہی ہو– نا اٍن کا بہت بُری طرح ریپ کیا گیا ہے— اور پر انہیں جان سے مار دیا — اور کچھ کو اغوا کر کے تسگری کی گٸی ہیں ان سب کے پیچھے وقار نام کا درندہ ہے جو اپنی ادمیوں سے کہہ کر یہ سب کام کرواتا ہے جس أدمی کو تم نے ابھی دیکھا
ہے وہ وقار کا أدمی تھا جو مجھ پر نظر رکھے ہوا تھا
جب تک میں زندہ ہوں اس درندے کو کسی بھی لڑکی کی عزت کے ساتھ کھیلنے نہیں دو گا– اور یہ سب جانے کے بعد بھی تم مجھے قاتل سمجھ رہی ہو تو شوق سے سمجھوں–
وہ چلاتے اس کو ایک ایک تصویر دیکھا رہا تھا جو کہ سب لڑکیوں کی تھیں —
عروشہا کا دماغ ماف ہو گیا تھا وہ چونک کر اس سے دیکھنے لگٸی جو خونخوار نظروں سے اسے کچا چبانے کو تیار تھا
جو بھی ہے مجھے پھر بھی أپ کے ساتھ نہیں رہنا میں جا رہی ہوں —
وہ زمین سے اٹھ کھڑی ہوٸی تھی —دروازے کی جانب قدم بڑھاۓ تھے کہ ارحام نے اسے کی کلاٸی میں ہاتھ ڈال کر اپنے قریب کیا وہ نازک سی لڑکی اس کے سینے سے جا لگٸی– ارحام نے اس کے دونوں ہاتھ کمر کے پیچھے کیے —
تم ایسے نہیں مانوں گٸی یہ سب کرنے پر تم نے مجھے مجبور کیا ہے اب میری سزا کے لیٸے خود کو تیار رکھوں وہ جھٹکے سے اسے دور ہوا تھا–
عروشہا کو اس کی دھمکی سمجھ نہیں أٸی تھی — کہ وہ أخر کیا کرنے والا ہے —ارحام نے دروازہ لاک کیا تھا——
اور کوٹ اتار کر زمین پر پھینکا عروشہا اس کا جنونی روپ دیکھ اس کا روم روم کانپ اٹھا تھا
ارحام نہیں پلیززز — وہ اب شرٹ کا پہلا بٹن کھول چکا تھا وہ قدم قدم اس کی طرف بڑھ رہا تھا
وہ ڈرتی روتی تیز ہوتی دھڑکنوں کو قابو کرتی پیچھے ہو رہی تھی
تم نے خود میرے جنون کو أگ دی ہے اب سہو بھی
وہ پوری شرٹ کے بٹن کھول چکا تھا شرٹ کو زمین پر پھینکا عروشہا پیچھے ہوتی جاکر دیوار سے لگٸی
داٸیں ساٸیڈ سے نکلنا چاھ رہی تھی جب ارحام نے اپنے دونوں ہاتھ دیوار سے پن کیے تھے وہ پوری کانپ رہی تھیں نم أنکھوں سے ارحام کو دیکھا جس کی أنکھوں میں أج خون تھا
جہاں تڑپ تھی جو وہ اس شیر کو طلاق نام سے جھگا گٸی تھی
ایک سیکنڈ نہیں لگیا عروشہا کو ہاہوں میں بھر لیا
ارحام مجھے معاف کریں پلیززز چھوڑیں مجھے پلیز
وہ اس کی باہوں میں مچل اٹھی تھی وہ روتی اس سے منتیں کرنے لگٸی
ارحام نے اس کی ایک نا سُنی اور اس سے بیڈ پر لیٹایا لیمپ بند کیا عروشہا کو اپنا سانس رکھتا معلوم ہوا تھا—
وہ دونوں ہاتھوں سے اسے پیچھے دھکیل رہی تھی کہ ارحام نے اس کے دونوں ہاتھ اپنی ہاتھ کی گرفت سے بند کیٸے
ا ارحام پ پ پلیزز م
وہ لرزتے جسم کے ساتھ بول رہی تھی مگر أج ارحام اپنی شدتوں سے تڑپانے کا ادارہ کر چکا تھا
کچھ ہی دیر میں وہ اسے ادھا مرا کرچکا تھا
اسے کے زہن میں بار بار عروشہا کے خلہ کی بات یاد أ رہی تھی و بھلا اب اس لڑکی کو خود سے کیسے جُدا کر سکتا تھا جس سے دیکھ کے وہ سانس لینے لگا تھا
اس کا زندہ رہنا تو بس اس لڑکی سے تھا کہ وہ پاس ہے تو روح جسم میں اس کی ہے اگر وہ دور ہو جاۓ گٸی تو وہ کیسے زندہ رھ سکتا ہے–
ارحام کا ایک ایک لمس عروشہا کو اگ کی طرح خود پر برستا محسوس ہوا تھا
جب صبح کی اذان میں کچھ وقت تھا تب جاکر ارحام نے اس اپنی گربت سے ازاد کیا تھا
اگر کبھی دوبارہ تمھاری زبان سے خُلہ کا نام نکلا تو عروشہا اس سے بھی بہت زیادہ بُرا پیش أٶں گا تمھارے ساتھ–
وہ اس کے کان کے قریب دھیمی سے سرگوشی کرتا اس سے اندر سے ڈرا گیا تھا عروشہا نے أنکھیں کھول کر ارحام کو دیکھ تھا
جو سرد نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا اور پھر سے وہ اس کے لب چھو گیا تھا
أے ھوپ تم دو بارہ ایسی غلطی سے بھی غلطی نہیں کرو گٸی جانے من ورنہ
وہ اس سے دھمکاتے بیڈ سے اٹھ کر شرٹ زمین سے لیکر واشروم میں گس گیا
عروشہا دونوں ہاتھ چہرہ پر دے کر پھوٹ کر رو دی
اس کا ضمیر ارحام کے ساتھ رہنے سے جھنجھوڑ رہا تھا وہ ایک قاتل ہے بس بار بار اس کے زہن میں یہاں بات چل ہی تھی
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial