قسط 30
صبح کے تقریباً نو بج رہے تھے اس کی أنکھیں شور کی أواز پر کھولیں تھیں
اگڑاٸی لیتی وہ صوفے پر بیٹھی اور پورے کمرے میں نظر دوڑانے لگٸی
اچانک شور کی أواز مزید ہوٸی اس کے کان سے ٹکراٸی تو وہ صوفے سے اٹھ کر دوپٹہ سر پر اوڑھے کمرے سے باہر نکلی
اور سیڑھیوں کو عبور کرکے نیچھے أ رہی تھی ابھی تین چار سڑھیاں اسے عبور کرنی تھی کہ سامنے کا منظر دیکھتے اس کے پیروں کو یہی پر بریک لگٸی تھیں
اور نیچھے اس طرح دیکھ رہی تھی جیسے کوٸی معجزہ ہوتا دیکھاٸی دیا ہو اسے
جہاں ارحام گاٶں کے بچوں کو نوکر سے تحفے لیکر ان بچوں کو مسکراتے دے رہا تھا
ان بچوں کی عمر پانچ چار چھ سال تھیں کچھ پیاری معصوم سی لڑکیاں تھیں تو کچھ پیارے لڑکے تھے
وہ نا سمجھی میں وہی سیڑھیوں پر کھڑی سب کو دیکھ رہی تھیں
چار سال کی چھوٹی سی بچی نے ارحام کے ہاتھ سے تحفہ لے کر اس کو نیچھے جھکنے کا اپنے چھوٹے ننہے سے ہاتھوں سے اشارہ کیا وہ مسکراتا گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا
أنکل أپ میری ڈول کی طرح بہت بہت ہی پیار ہیں
وہ چھوٹی بچی ارحام کے گلے سے الگ ہوٸی تھی اور مسکراتی اسے دیکھ کہا تھا
چھوٹی بچی کی مسکراہٹ دیکھ اور الفاظ پر اس کی مسکان گہری ہوٸی تھیں
چھوٹی بچی کے بالوں پر بوسا دیا
نہیں بیٹا أپکی ڈول مجھ سے بھی زیادہ پیاری ہے کیونکہ ان کا خیال أپ پرنسس جو رکھتی ہیں اسلیٸے—-
وہ اس چھوٹی بچی کا گال چھومتے مسکراتے بولا
وہ سب بچے تحفے لیکے خوشی سے جھوم اٹھیں تھے اور پھر اپنے گھر چلے گٸے عروشہا ارحام کو شوخ نگاہوں سے تکنے لگٸی
سمندر کی لہروں کی طرح جنہیں سمجھنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے اس طرح شاید ارحام أپ کو بھی سمجھنا میرے لیے مشکل ہے — سب کی فکر کرتے ہیں أپ — سواۓ میرے — سب سے محبت کرتے ہیں أپ — لیکن مجھ سے کیوں نہیں کرتے محبت أپ
وہ ارحام کو نظروں کے حصار میں لیے دل میں سوچنے لگٸی تھی
اس کو خود پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوٸیں تو ارحام جو کہ ان بچوں کے والدین سے بات کر رہا تھا جیسے ہی ان سے بات کرکے فارگ ہوا تھا
اسے نے پیچھے نظر کی جہاں سیڑھیوں پر کھڑی گم سم عروشہا پر گٸیں جو وہ اسے ہی تک رہی تھی
پہلے تو وہ خود کو اس طرح عروشہا کے تکنے پر دھیما سا مسکرایا
قدم اٹھ کر اس کے سامنے کھڑ ہوا
میں بُوا سے کہہ کر ناشتہ کمرے میں لانے کا کہتا ہوں — تب تک عروشہا تم فریش ہو جاٶ پھر ساتھ میں ناشتہ کرتے ہیں– اور پھر میرے پاس تمھارے لیے ایک سرپراٸز بھی ہے
ارحام عروشہا کو دیکھتے مسکراتے پیار بھرے اندازہ میں اسے کہا
تو وہ جو سوچ میں گم تھی اس کے اسطرح کہنے پر وہ ادر ادھر نظریں چُرا گٸی
بنا کچھ کہے سر جھکاۓ وہ سیڑھیاں عبور کرتے اوپر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گٸی تھی
وہ جہاں سے گٸی تھی اس جگہ کو ارحام دیکھتے مسکرایا اور کچن کی طرف گیا اور بُوا کو ان کا ناشتہ کمرے میں لگانے کا کہا اور فورا ہی بُوا ان کا ناشتہ کمرے میں لے گٸی تھی
عروشہا سادھ سے یلو رنگ کے شرٹ اور پجامہ کے ساتھ بال ٹوٸلیہ سے رگڑتے باہر اکے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی بالوں میں کنگی کرنے لگٸی تھی کہ ارحام کمرے میں داخل ہوا تھا
اور أتے ہی اس کی نظر عروشہا پر گٸیں اور پھر جیسے وہ پلٹنا ہی بھول گیا — وہ چلتا ہوا اس کے پیچھے کھڑا ہوکر أٸینے میں اس کا عکس دیکھنے لگا
عروشہا کا سر نیچھے تھا جس وجہ سے وہ ارحام کو دیکھ نہیں پاٸی — اچانک جیسے اس نے سر اٹھا کر خود کو أٸینے میں دیکھا
ارحام کو اپنے پیچھے کھڑا دیکھا وہ کوٸی بھوت ہو اور وہ ہربڑاٸی میں پیچھے ہوٸی تھی
ہربڑی کی وجہ سے اس کا پیر مڑگیا اور وہ گرنے والی تھی کہ ارحام نے اسے کی کلاٸی سے تھام کے اپنی طرف کھینچا تھا اور عروشہا اس کے مظبوت سینہ سے جالگی اور اس کے بال ارحام کے چہرہ پر گرے
اس کے بالوں میں لگے شیپوں کی خشبوں کو محسوس کرنے لگا
دو پل کے لیے وہ دونوں یوٸی کھڑے رہے عروشہا کو جیسے ہوش أیا جھٹکے سے اسے دو قدم پیچھے ہوٸی
ارحام اس کی اس حرکت پر قہقہ لگاکے ہنسا تھا وہ ہنستا ہوا ایسا عروشہا کو لگا جیسے کہ بن موسم برسات کا ہونا اس نے کبھی ارحام کو ایسے مسکراتے نہیں دیکھا تھا
اس کی ہنسی جان لیوا تھی عروشہا اس کی ہنسی میں دل و جان روح سب کچھ قربان کر گٸی تھی جھیل سی أنکھیں اس کی ہنسی پر الگ چمک سے جگمگاٸی
بے دھیان میں عروشہا کے لب ارحام کو دیکھ کھلکھلاۓ تھے
اس کی ہنسی عروشہا کو بے سکونی کی وادیوں سے لے کر بے تہاشہ سکون میں لاٸی تھیں
کہاں کھو گٸی مس عروشہا ارحام سلطان کہیں مجھ سے عشق تو نہیں ہوگیا تمھیں
وہ اسے کھویا ہوا دیکھ اس کے أگٸے چپٹی بجاٸی تو وہ فوراً ہوش میں أٸی
نہیں اب تک أپ کو مجھ سے عشق نہیں ہوا تو بھلا مجھے کیوں ہوگا
وہ نظرے یہاں وہاں دیکھتی لاپرواھی دیکھتے بولی
ارحام اس کا نازک ہاتھ تھام کے صوفے کی جانب گیا اور پیار سے اسکو بیٹھایا
عروشہا کو وہ بدلا بدلا لگا کل جو وہ اس کے مرنے سے بھی اس کو فرق نہیں پڑ رہا تھا — تلخ جواب دیتے وہ اس کا ننہا دل چکنا چور کرگیا تھا— اور أج اسکو اپنے سر کا تاج بنا کر بڑے مان والا لہجہ اختیار کر رہا تھا
عروشہا کو سمجھ نہیں أ رہا تھا وہ شخص جو کہ اس کا شوہر تھا
مگر اسے سوال کرنے کی ہمت نہیں ہوٸی
ارحام اسے کی ساٸیڈ پر بیٹھ گیا تھا اور روٹی اور أملیٹ کا نوالا بنا کر عروشہا کے لبوں کے أگٸے کیا وہ حیرانی سے ارحام کو دیکھ رہی تھیں
کیا أج صرف مجھے ہی تکتے پیٹ بھرنے کا ارادہ ہے – یا ناشتہ بھی کرنا ہیں
جلدی کروں ناشتہ کرنے کے بعد تمھارے لیے میرے پاس ایک سرپراٸز بھی ہے
أنکھوں میں شرارت لیے وہ اسے دیکھ کہا تو عروشہا نے وہ نوالا ارحام کے ہاتھ سے کھا لیا — اس طرح ایک ایک نوالا ارحام نے عروشہا کو کھلایا
أپ نے بھی تو ناشتہ نہیں کیا — کیوں نہیں کیا أپ نے ناشتہ
نوالے کو دانتوں میں چباتے وہ اسے دیکھ تعجب سے پوچھنے لگی
کیونکہ أج مجھے ناشتہ اپنی بیوی کے ساتھ کرنے کا دل چاہ رہا تھا اسلیٸے—
وہ پھر سے نوالا اسے کی جانب کرتے سنجیدگی سے بولا اور خود بھی ناشتہ کر رہا تھا
ارحام أخر أپ چاہتے کیا ہیں — صاف صاف بتاٸیں — جب أپ کا دل کرتا ہے تو أپ مجھے عرش پر بیٹھا دیتے ہیں– اور جب أپ دل کرتا ہے تو أپ مجھے بے دردی سے اس ہی عرش سے نیچھے پھینک کر زمین کی دھو بنا دیتے ہیں — کیا میں أپ کے لیے محض ایک کھیلونا ہوں — جس کے ساتھ جب جی چاہا أپ نے کھیل لیا اور جب جی بھر گیا تو اس کو پھینک دیا —
لہجے دھیما تھا لیکن الفاظ سخت سے بھی سخت تھے وہ اب پاگل ہونے کو تھی — برادش نہیں ہو رہا تھا بار بار کبھی تلخ رویہ اسکا تو کبھی موم جیسا جھنجھلا کے بولیں
اسے کے الفاظ پر ارحام نے چبڑے میچ لیے وہ سخت گھوری سے عروشہا کو گھورنے لگا– وہ جلد بازی میں نا جانے کیا بول گٸی تھی اور جب اس نے ارحام کا چہرے دیکھا جو سرد پڑ گیا تھا
ارحام نے گہری أہ بھرتے اپنے غصے پر کنٹرول کیا اور دوبارہ سے عروشہا پر وہ غصہ نہیں کرنا چاہتا تھا
میں مانتا ہوں تمھارے ساتھ میں ہمیشہ بہت بُرا پیش أیا ہوں لیکن اگر یہ میں تم سے پوچھوں کہ عروشہا کیا تم میرے مرنے پر روٶں گٸی یا نہیں تو تم ہی بتاٶں -کیا تمھیں غصہ نہیں أۓ گا
وہ اسکا ہاتھ تھام کر اسکی جھیل سی سنہری أنکھوں میں دیکھ پوچھ رہا تھا — وہ اسکے سوال پر سر جھکا گٸی — یانے اسکے اسکرح سر جھکانے سے ظاہری بات تھی کہ وہ غصہ کرتی لیکن اب عروشہا کیا کہے سامنے بیٹھے شخص سے کہ میں أپ جیسے تلخ الفاظ استعمال کبھی نہیں کرتی — لیکن وہ صرف سوچ کے رھ گٸی — کہا کچھ نہیں کیونکہ بات پھر سے بڑھ جاتی اس ڈر سے وہ خاموش ہوگٸی تھی
ارحام اس کا یوں سر جھکا کے دیکھ صوفے سے اٹھکر الماڑی کی جانب گیا اور الماڑی کھول شاپنگ بیگ نکال کے عروشہا کے واپس أیا
یہ لوں اور جلدی سے تیار ہو جاٶ میں تمھارا باہر ویٹ کر رہا ہوں اوکے —
وہ اس کی جانب شاپنگ بیگ کو بڑھاتے کہہ رہا تھا عروشہا نے نا سمجھی سے ارحام کو دیکھ کے جانچتی نظروں سے پھر اسکے ہاتھ میں شاپنگ بیگ کو دیکھا
یہ کیا ہے — وہ اٹھ کر اس کے روبری کھڑی ہوٸی تھی اور اس کے ہاتھ سے بیگ لے کے پوچھا
خود ہی دیکھ لو — وہ مصنومی مسکرایا
وہ بیگ کھولنے لگٸی تھی جیسے اس نے وہ بیگ کھولا اس کے اندر ریڈ کلر کی ساڑی تھی جس کے اوپر چھوٹے چھوٹے بلیک رنگ کے ستاروں سے وہ ساڑی چمک رہی تھی وہ ساڑی کو بیڈ پررکھتی اس کے اندر اور جو چیزیں تھیں وہ دیکھنے لگٸی بلیک رنگ کے چھوٹے سے جھمکے بلیک ہیل سی سینڈل اور بھی کچھ ضرورت کی چیزیں تھیں
وہ ان سب کو باری باری بیڈ پر رکھ رہی تھی جب سب دیکھ لیا تو وہ ارحام کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھا
تمھارے سوال کا جواب میرے ساتھ چلوں گٸی تب تمھیں مل جاٸیں گا تم — بس ابھی کے لیے اتنا جان لوں کہ تمھیں پندرہ منٹ کے اندر تیار ہوکے نیچھے أنا ہے میں تمھارا گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں
وہ اس کی جھیل سی انکھوں میں کہیں سوال اپنے لیے دیکھتا سنجیدگی سے کہتا کمرے سے نکل گیا اور عروشہا بیڈ پر پڑے سامان کو دیکھ سوچنے لگٸی کہ ارحام اج بدلا بدلا سا کیوں ہے
خیال کو جھٹکتے وہ تیار ہونے لگٸی کچھ دیر کے بعد وہ ساڑی زیب تن کیے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی تیار ہونے لگٸی بالوں کو کھلا چھوڑ دیا تھا أنکھوں میں کاجل ہونٹوں پر ریڈ رنگ کی لپیسٹک ہلکا میکپ کا ٹج دیتے وہ کمرے سے باہر نکل کے نیچھے أٸی جہاں گاڑی سے ٹیک لگاۓ ارحام گھڑی میں وقت دیکھ رہا تھا
سینڈل کی أواز پر اس نے سر أٹھا کر سامنے دیکھا تھا عروشہا کے دودھیا سفید رنگ پر وہ ساڑی کیا خوب جچ رہی تھی وہ اپنے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھتی اسکے روبرو کھڑی ہوٸی تھی
ارحام بلیک پینٹ شرٹ بال جیل سے سیٹ کیے ہوٸیں تھے اگر عروشہا چاند لگ رہی تھی تو ارحام چاند کی روشنی دونوں ہی اج ایک دوسرے کو حسین لگ رہے تھے عروشہا بنا سانس روکے ارحام کا پورا جاٸزہ لینے لگٸی تھی
اور ارحام بھی یوٸی بنا پلکیں چپکاۓ عروشہا کے چہرہ کی نقویش کو ہنوز تکنے لگا
أج مجھے مارنے کا تمھارا پورا ارادہ لگ رہا ہے قاتل حںسینہ
وہ اسکے حُسن کو دیکھ معنی خیزی سے اسکی جھیل سی أنکھوں میں جھاک کے کہا تو عروشہا پلش کرنے لگٸی لاکھ کوشش کی کہ ارحام کی تعاریف کیے جملے پر کوٸی تاثرات ظاہر نہ کرے مگر افسوس اسکا دل اس ہی سے دغا کرگیاتھا
ارحام نے اسکو پلش کرتے دیکھ رب کا شکرا ادا کیا — فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا تھا اور عروشہا کو بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ چپ کرکے گاڑی میں بیٹھ گٸی تھی اور ارحام نے ڈراٸیونگ سیٹ سمبھال کے گاڑی منزل۔کی اور بھڑا دی
کاش میں بھی اپنی شادی پر اس طرح تیار ہوتی
مایا بیڈ پر بیٹھی میگزین دیکھ رہی تھی جس میں دلہنیں الگ الگ اندازہ میں ویڈنگ ڈریسز میں خوبصورت اندازہ میں پوز دیٸے فوٹو میں کھڑی تھیں مایا نے حسرت بھری نظروں سے میگزین کے ہر صفے کو پلٹ کر دیکھتے بولی تھی
وہ ابھی انہیں کو دیکھنے میں گم تھی کہ شاہدہ بیگم اس کے کمرے میں أٸی
میری بیٹی کیا کر رہی ہے شاہدہ بیگم اسے کے سر پر شفقت سے پیار بھرا ہاتھ کرتے مسکراتے بولیں وہ سر اٹھ کر شاہدہ بیگم کو دیکھ کر میگزین کو بند کر گٸی
امی أپ یہاں أپ کو کوٸی کام تھا تو مجھے بلا لیا ہوتا — وہ اٹھ کر شاہدہ بیگم کو دیکھ فکر سے بولی
ہر وقت تو میری بیٹی ہی میرے کمرے میں أتی ہیں میں نے سوچا کیوں نہ اج میں ہی اپنی بیٹی کے کمرے میں جاکر چکر لگا أٶں
شاہدہ بیگم مسکراتی بولی اور بیڈ پر بیٹھ کر مایا کو بھی اپنے پاس بیٹھنے کا کہا تو وہ سر ہاں میں ہلاتی ان کے ساتھ بیٹھ گٸی
اچھا میری بیٹی کیا دیکھ رہی تھی — شاہدہ بیگم نے میگزین کو دیکھ مایا سے سوال پوچھا
امی میں میگزین میں دلہنوں کی تصویریں دیکھ رہی تھی یہ دیکھیں امی کتنے پیارے لہنگے ہیں نا کاش میں اور عروشہا بھی اس طرح تیار ہوتی اپنی شادی میں —
وہ میگزین شاہدہ بیگم کو دیکھاتی نم لہجے میں بولی تو شاہدہ بیگم کو یاد أیا کہ نا ہی عروشہا دلہن بنی اور نا ہی مایا کتنے خواب تھے ان کے جو کہ قسمت کے ہاتھوں بے دردی سے روند دیٸے گٸے تھے
یکدم شاہدہ بیگم کی انکھیں نم ہوٸیں
میں اپنی دونوں بیٹیوں کا خواب پورا کروں گٸی میری دونوں ہی بیٹیاں دلہن بنے گٸی اور ویسے ہی ان کی شادی دھوم دھام سے ہوگٸی جیسا میری بیٹیوں نے سوچا تھا ویسے ہی ہوگا سب مایوں مہندی اور رُخصتی یہ سب ایک اچھی تاریخ دیکھ کر طعے کر دیٸے گٸے میری بیٹیوں کی کوٸی خواہش ادھوری نہیں رہے گٸی یہ ایک ماں کا وعدہ ہے اپنے بچوں سے —-
شاہدہ بیگم مایا کو دیکھ خوش انداز میں کہا
پر امی یہ سب کیسے ہوگا ہمھاری تو شادی ہوگٸی ہیں— مایا نے اداس لہجے میں کہا
ہاں تو کیا ہوا بس میں نے کہہ دیا سو کہہ دیا بہت جلد میری بیٹیوں کی بھی سب کی طرح شادیاں ہوگٸیں
شاہدہ بیگم تھوڑا سخت لہجے میں کہا تو مایا کی أنکھیں نم ہوٸیں شاہدہ بیگم کا پیار دیکھ ان کے گلے لگٸی
امی أپ دنیا کے بیسٹ بیسٹ ساس ہیں — مایا خوشی سے اچھلتی بولی تو شاہدہ بیگم اس کی پیار سے پیٹ سہلاٸی
تب یارم کمرے میں داخل ہوا اس کے ہاتھ میں فاٸلز تھیں وہ ٹیبل پر رکھتے کوٹ صوفے پر رکھ کے ماں اور بیوی کو دیکھا جو کہ اس بیچارے کی أنے کی أمد سے بے خبر تھیں
أپ دونوں تو مجھے بھول ہی گٸیں ہیں — ساس بہو میں اتنی محبت دیکھ مجھے جلیس فیل ہو رہا ہے
یارم ان دونوں کو دیکھ کر شرٹ کو فولڈ کرتے خفگی سے بولا
شاہدہ بیگم سےمایا الگ ہوٸی اور یارم کو دیکھا
جلیس ہونے والی کیا بات ہے أٶں أپ بھی ہمھارے بیچ میں بیٹھ جاٶ
مایا نے یارم کو دیکھ کہا —
یارم میرے بچے ادھر أٶ
شاہدہ بیگم نے یارم کو ہاتھ کے اشارہ سے بیڈ کی دوسری ساٸیڈ پر بیٹھنے کا کہا تو وہ سر اثبات میں ہلاتا مسکرا کے بیٹھ گیا شاہدہ بیگم نے یارم کے بالوں پر بوسہ دیا
یارب میرے سب بچوں کو ہمیشہ ہنستا ہوا رکھیں اور اپنے مان و حفاظت میں ایمان سلامت رہے ان کا أمین —-
شاہدہ بیگم مایا یارم کو دیکھتی دعا کرنے لگی دونوں نے یک زبان میں امین کہا
ارحام کی گاڑی ھوٹل کے أگٸے رکی وہ باہر نکال کے عروشہا کی ساٸیڈ کا دروازہ کھولا تھا وہ باہر نکلی تھی اور نظر چوہداری گھماٸی
أپ یہ کیا کر رہے ہیں ارحام میری أنکھوں پر پٹی کیوں باندھ رہے ہیں — میں ایسے کیسے چلوں گٸی اگر گر گٸی تو
ارحام اسے کی أنکھوں پر بلیک پٹی باندھ رہا تھا کہ گھبرا کے عروشہا نے کہا
بے فکر ہوجاٶ میں تمھیں گرنے نہیں دوگا ہاتھ دو اپنا —
وہ اسکے اگٸے اپنا ہاتھ کرتے پیار سے بولا عروشہا نے اپنا نازک ہاتھ ارحام کے ہاتھ میں دیا —
وہ ہر طریقے سے اج اسے حیران کر رہا تھا وہ اس کا نازک ہاتھ تھامتے أگٸے چلنے لگا — کہ اچانک رُکا اور پیچھے ہوکے عروشہا کی أنکھوں سے پٹی کھولی وہ انکھوں کو مسلتے سامنے دیکھا اسکو زور کا دھجکا لگا جیسے کہ وہ سانس لینا ہی بھول گٸے تھی وہ پھٹی پھٹی أنکھوں سے سامنے کا نظارہ دیکھنے لگٸی اسے لگا کہ وہ کوٸی خواب دیکھ رہی ہے اس نے اپنے بازٶں پر زور سے چپٹی کانٹی تھی
أہہہ یہ خواب نہیں سچ ہے پر یہ — وہ خود سے ہمکلام ہوٸی اور بے یقینی کے ڈوبتے عالم میں ارحام کو دیکھا جو اس کا ری ایکشن چیک کر رہا تھا اسے خود کو چپٹی کاٹتے دیکھ ارحام مسکراتا نفی میں سر ہلا گیا
یہ سامنے کا منظر تھا کہ پورا ھوٹل رنگ برنگین لاٸٹوں سے چمک رہا تھا اور سامنے بھڑا سا سٹیج تھا اور جہاں عروشہا کھڑی تھی سٹیج تک جانے کے راستے پر گلاب کے تازہ پھولوں سے بنایا ہوا راستہ تھا
سٹیج پر غباروں پر ہیپی برتھڈے مس عروشہا لکھا ہوا تھا پورا ھوٹل خالی تھا اس نے ہر ایک چیز کو بغور دیکھا
ہیپی برتھڈے مس عروشہا ارحام سلطان —- بال جو کہ اس کے چہرے پر أرہے تھے انہیں کان کے پیچھے کرتے اس کے کان پر دھیمی سی سرگوشی کر گیا
ارحام یہ سب کیا ہیں — وہ نم أنکھوں سے اسے دیکھ حیرانی سے پوچھا
حویلی میں کبھی کسی نے اس طرح اسکی سالگیرا سلیبریٹ نہیں کی تھی — ہاں البتہ یارم اور شایان نے ہمیشہ اسکو شہر کسی بھانے سے لیے جاتے تھے اور اسکی سالگرا سلیبریٹ کرتے تھے— لیکن جو ارحام نے اس کی سالگرا کا عالیشان انتظام کیا تھا — شایان اور یارم پیچھے رھ گٸے تھے اسکی سالگیرا کی تیاروں میں
ارحام اسکا نازک ہاتھ تھام کے انہیں پھولوں پر ہم قدمی کرتے سٹیج پر چھڑے اور وہاں کھڑے عروشہا نے کیک کو دیکھا جس پر اسکا بڑا سا نام لکھا ہوا تھا
کیک کاٹوں گٸی یا پھر نہیں یا پھر ارحام سلطان کو بھوکے مارنے کا ارادہ ہے میں ناشتہ بھی نہیں کر أیا
وہ عروشہا کو روتا دیکھ کے اس کے چہرہ کے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے معصومنہ چہرہ بناۓ کہہ رہا تھا کہ عروشہا کی اسے دیکھ ہنسی نکل گٸی
عروشہا نے کیک کاٹا اور ارحام کو کھلایا اور اس نے عروشہا کو
اور پھر کپل ڈانس کرنے لگٸے تھے
عروشہا أے لو یو کبھی چھوڑ کے تو نہیں جاٶ گٸی نہ مجھے پلیز ایسا نہیں کرنا ورنہ میں مر جاٶں گا تمھارے بغیر میں نے جو رویہ رکھا تمھارے ساتھ اسلیٸے تم جو بھی کہو گٸی میں وہ سب کرنے کے لیے تیار ہوں
عروشہا تم سوچ بھی نہیں سکتی کہ تم میرے لیے کیا ہو — میری ہر ایک چلتی سانس تمھاری معتاج ہے — تم میری روح ہو – اور جب روح جسم سے جُدا ہوتی ہے نہ تو جسم کا کوٸی وجود نہیں رہتا — تمھارے جُدا ہونے کے نام سے بھی مجھے ڈر لگتا ہیں میں قاتل نہیں ہوں — تمھارے ارحام نے کبھی کسی بے گناھ کو نہیں مارا میرا یقین کرو —
وہ اس کی کمر میں ہاتھ رکھے اس خود کے سینے سے لگاۓ کہہ رہا تھا اس کی اواز بھیگی تھیں عروشہا نے اس کے سینہے سے سر اٹھا کر ارحام کو دیکھا کیا وہ اس حد تک اس کو چاہتا تھا اج عروشہا کو ارحام کے جزبات کا سہی اور گہراٸی سے احساس ہوا تھا
وہ أنکھیں موندہ ہوا تھا پیاسے کو پانی مل گیا ہو وہ اس طرح اسے میں کھویا ہوا تھا
ارحام أپ مجھ پر غصہ کرتے ہیں اور أپ کا غصہ بہت خطرناک ہوتا ہے
وہ اس کے سینے پر سر رکھے معصومیت سے اسکے گلے لگ اس ہی کی شکایت کر رہی تھی وہ فوراً اسکی بات پر انکھیں کھول گیا تھا اور عروشہا کی تھوڑی کو اوپر کرتے اسکی جھیل سی أنکھوں میں دیکھ مسکرایا
میرے غصے سے ڈر لگتا ہے میرے پیار سے تو نہیں نہ
وہ شرارت سے اس کی أنکھوں میں دیکھتے بولا اس کی أنکھوں میں سمندر جیسے جزبات دیکھ عروشہا کو اپنا گلا خشک ہونے لگا تھا
ارحام پلیزز نہیں نہ أج میرا برتھڈے ہے اور أپ کو میری ہر بات مانی چاہیے أج
وہ اس کو باہوں میں لیے ھوٹل کے کمرے کی جانب بڑھ رہا تھا عروشہا روہانسی ہوٸی تھی
جی وہی کر رہا ہوں مس عروشہا ارحام سلطان تم ہی نے خود کہا ابھی کہ میرے غصہ سے تمھیں ڈر لگتا ہے لیکن میرے پیار سے تو نہیں اسلیٸے اب سے تم پر غصہ نہیں کروں گا بلکہ پیار کی برسات کروں گا
وہ اس کی جھیل سی أنکھوں میں دیکھ شرارت سے بولا تھا
وہ اسکی أنکھوں میں دیکھ اسکے ارادے جان گٸی تھی وہ اور زیادہ ڈر گٸی –وہ اسے کمرے میں لاکر ارام سے بیڈ پر لیٹایا پورا کمرا موم بھتیوں سے سجایا گیا تھا بیڈ پر گلاب کے پھولوں سے دل بنایا ہوا تھا وہ دروازہ لاک کرتے کمرے کی لاٸٹ اف کر گیا تھا
موم بھتیوں کی دھیمی سی روشنی پورے کمرے کا دلکش منظر دیکھا رہی تھی
ارحام نہیں —وہ ایک ایک قدم اس کی طرف بڑھا رہا تھا وہ اسکی أنکھوں میں جنون دیکھ کے تڑپ اٹھی تھی
وہ اس کی ایک نہیں سن رہا تھا اور دھیرے دھیرے اسے اپنے حصار میں لے گیا
شام کے تقریباً چار بچ رہے تھے وہ دونوں کورٹ کے اندر جج کے سامنے بیٹھے تھے
جی تو أپ دونوں کو طلاق چاہیے
جج صاحب نے ان دونوں کو جاچتی نظروں سے دیکھ کے پوچھا
جی — ان دونوں نے یک زبان میں کہا
وجہ کیا ہے طلاق لینے کی — جج نے دوسرا سوال کیا
وجہ یہ ہیں جج صاحب کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے
شایان نے کہا —
اچھا تو کیا أپکی بیوی أپ کو کھانا بنا کر نہیں دیتی
جج صاحب نے ترچی نظروں سے ملی کو دیکھ شایان سے پوچھا
شکر ہے کہ یہ مجھے کھانا بنا کے نہیں دیتی ورنہ اس ہی کھانا میں زہر ملا کے مجھے دنیا سے رُخصت کر دیں
شایان مایا کو گھور کے دل میں سوچنے لگا
جی نہیں ایسا کچھ نہیں ہے بس ہمھیں طلاق چاہیے
ملی نے دانت پیستے گھوروں سے جج صاحب کو نوازہ
تو کیا یہ أپ کو منتھلی کرچہ نہیں دیتا جو أپ ان سے طلاق چاہتی ہیں
اب کے بار جج صاحب نے ملی سے سوال کیا
دیکھیں!! جج صاحب بس ہمھیں طلاق چاہیے اور کچھ نہیں چاہیے مہربانی کرکے ہمھیں طلاق دیجٸے
شایان نے تپ کر کہا
أپ کی شادی کب ہوٸیں ہے — بس یہ بتاٸیں پھر ڈساٸیڈ کروں گا میں کہ أپ دونوں کو طلاق ملے گٸی کہ نہیں
جج صاحب نے ملی شایان کا چہرہ غصہ سے لال دیکھ کے ایک اور سوال کیا—- ملی کا دل کیا کہ سامنے بیٹھے جج کے سینے میں دو تین گوکیاں پیوست کردو لیکن مجوراً وہ اپنے غصے کو بامشکل ضبط کر رہی تھی
کل — شایان نے جیسے ہی جج صاحب کو بتایا جج کا زور دار قہقہ کورٹ میں گھونجا
تم دونوں پہلے ایسے کپل ہو جن کا کل نکاح ہوا ہے اور أج طلاق چاہتے ہیں
جج صاحب ان دونوں کو دیکھ کر ہنستے ہوۓ ان کا مزاق اوڑھانے لگا
ملی شایان بہت ہی ضبط سے خود کو کچھ بُرا کرنے سے روک رہے تھے
بس ہمھیں طلاق چاہیے جج صاحب — شایان نے خود کو محفوظ کیا
نہیں ہوسکتا أپ کا طلاق میں تو کیا أپ کا طلاق پوری دنیا کے جج بھی نہیں کرا سکھتے یہ قانونی اصول ہے جب تک شوہر بیوی چھ ماہ ایک ساتھ نہیں رہتے تب تک أپ دونوں کا طلاق نہیں ہوسکتا اب أپ دونوں یہاں سے اپنے گھر تشریف لیں جا سکتے ہیں
جج کی بات پر ان کے سر پر بم پھوٹا تھا– کیا چھ ماہ
شایان کا صدمے سے بُرا حال ہوا تھا جس لڑکی کو وہ ایک منٹ برداش نہیں کر سکتا تھا اس کے ساتھ چھ ماہ گزارنا مطلب موت کے برابر تھا
وہ چیخ کے بولا
یہی در عمل ملی کا بھی تھا وہ شایان کو دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتی تھی اس کے ساتھ چھ ماہ یانے روز زہر کا گھونٹ پینے کے برابر تھا
جی ! چھ ماہ اور اگر أپ دونوں الگ رہے اور چھ ماہ ہوگٸے پھر بھی أپکا طلاق نہیں ہوگا کیونکہ أپ دونوں ساتھ رہے ہی نہیں ہوگٸے
اور جیسے أپ دونوں کی شادی کو چھ ماہ گزرے گٸے اور پھر بھی أپ دونوں کو طلاق چاہیے ہوگٸی تو ہوجاٸیں گٸی تب لیکن ابھی نا ممکن ہے
شایان ملی کو کچھ سمجھ نہیں أیا اور پھر مایوس ہوکے کورٹ سے باہر نکل أۓ تھے
یہ سب تمھاری وجہ سے ہوا ہے نکاح کا تمھیں ہی نے کہا تھا نہ- کاش میں کبھی لگور تمھاری بات نہ مانتی تو کم سے کم تم جیسے انسان کی شکل تو روز دیکھنے سے بچ جاتی
ملی شایان کو کھا جانے والی نظروں سے گھورتی دیکھ کے کہا
ہاں تو اب مجھے کیا پتا تھا کہ چھ ماہ کے بعد طلاق ہوگا میں کون سا روز طلاق لیتا ہوں– جو مجھے معلوم ہوتا — تمھاری شکل کون سا مجھ سکون دیتی ہے جس کو روز دیکھنا پسند کروں گا بلی — تم دنیا کی أخری لڑکی بھی ہوگٸی نہ تو بھی میں مرنا لاکھ بار پسند کروں گا لیکن بھول کر بھی تم سے شادی نہیں کرنا پسند کروں گا
وہ بھی بھڑک اٹھا تھا ملی کی باتوں سے وہ دونوں کے بیچ میں تھوڑا سا فاصلا تھا ایک دوسرے کو نفرت سے دیکھ رہے تھے
اب اگٸے کیا کرنا ہے — ملی نے با مشکل غصے کو ساٸیڈ پر رکھ کے شایان سے پوچھا
چھ ماہ ساتھ رہنا ہے نہ چاہتے ہوۓ بھی مجبوراً — بالوں کو ہاتھ پھیرتے ٹھنڈی أہ بھر کے کہا
ایک شرط پر میں تمھارے ساتھ رہوں گٸی — ملی نے فوراً شرط کا مظاہرا کیا شایان کو دو منٹ کے لیے اپنے سامنے کھڑی لڑکی کی دماغ حالت پر شہبہ ہوا تھا کون سا یہ شادی شایان کی مرزی سے ہوٸی تھی جو وہ اس کے اگٸے شرط رکھ رہی تھی
بولو – وہ سرد طیش لہجے میں ملی کو گھورتے کہا
تم میرے قریب نہیں أٶں گٸے–
تمھارے وجود میں ایسا خاص کیا ہے جو شایان چوہدری تمھیں حاصل کرنے کی چاہ رکھے گا
وہ ایک قدم اسکی طرف بڑھاتے مٹھیوں کو ضبط سے بند کرتے خونخوان نظروں سے ملی کو دیکھ کچا چبا جانے والے انداز میں بولا
رب کا پھر تو میں اس بات پر لاکھ شکر ادا کرتی ہوں —- وہ بھی طیش میں کہہ رہی تھی
دو رکات نفل ادا کر لینا پھر تو — شایان نے بھی اس ہی کے انداز کا جواب اس کو دیا
یا اللہ پاک میں نے ایسا کیا گناھ کیا تھا کہ مجھے یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے– شایان أسمان کی جانب دیکھ افسوس لہجے میں کہنے لگا تھا