قسط: 30
اپنے کہے کہ مطابق رات کو عدیل دیا کہ گھر پہنچ چکا تھا اور کھانے کی ٹیبل پر بیٹھا اس کے بنائے گئے کھانوں کی تعریف ہی کیے جا رہا تھا – اسے واقعی ہی یقین نہیں تھا کہ یہ سب کچھ دیا نے خود بنایا ہے-
عدیل اور دیا کھانا کھانے کے ساتھ ساتھ اپنی یونیورسٹی کے قصے بھی چھیڑ کر بیٹھ گئے تھے جبکہ اس دوران بالاج بالکل ایسے بیٹھا تھا جیسے وہ یہاں پر ہو ہی نہ – وہ دونوں ایک دوسرے سے باتوں میں اتنے مگن تھے کہ انہیں بالاج کا دھیان بالکل بھی نہیں رہا جبکہ ان دونوں کے یوں خود کو اگنور کرنے اور دیا کے عدیل سے کر باتیں کرنے پر بالاج بے حد جیلس ہوتا پانی پر پانی پی جا رہا تھا –
ارے بالاج اپ بھی کچھ لیں نا – دیا کا دیہان جب بالاج کی طرف گیا تو اس کی خالی پلیٹ دیکھ وہ فورا بریانی کی ٹرے اٹھا کر اس کی پلیٹ میں بریانی ڈالتی بولی جبکہ اس کے خود کی طرف متوجہ ہونے پر بالاج نے اسے آنکھیں چھوٹی کیے دیکھا تھا – اگیا تمہیں یاد کہ ایک عدد شوہر بھی تمہارا یہاں بیٹھا ہے ؟ بلاج نے تنزیہ انداز میں پوچھا تو دیا ہنس پڑی –
سوری خان میں باتوں میں اتنی مگن ہو گئی تھی کہ مجھے دھیان ہی نہیں رہا – وہ تھوڑی شرمندہ ہوتی بولی جبکہ بالاج سر جھٹکتا اپنے کھانے کی پلیٹ کی طرف متوجہ ہوا تھا – اپ کھانا کھائیں میں تب تک عدیل کو فروا کے کمرے میں لے جاتی ہوں – دیا اسے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور ساتھ عدیل کو لیے اس کمرے کی طرف چل پڑی جہاں پر فروا تھی –
عدیل کو نہیں پتا تھا کہ وہ کس کے کمرے میں لیجانے کی بات کررہی ہے اس لیے وہ اس کے پیچھے نہ سمجھی اور حیرانگی کے ساتھ چل پڑا – عدیل یہ فروا ہے بلاج کے ایک دوست کی بہن – دیا اسے کمرے میں لے جاتی فروا کی طرف اشارہ کرتے بولی جب کہ عدیل نے جیسے ہی فروا کی جانب دیکھا وہ پلکیں جھپکنا بھول گیا تھا –
وہ انکھیں بند کیے لیٹی ہوئی بالکل سلیپنگ بیوٹی لگ رہی تھی لیکن جب عدیل کا دھیان اس کے اس پاس موجود مشینز پر گیا تو وہ حیران ہوا تھا – کیا ہوا ہے اسے ؟؟ عدیل نے دیا سے پوچھا – دیکھو عدیل پہلے تو میں تمہیں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ مجھے اور بالاج کو تمہاری مدد کی ضرورت ہے دراصل ہمیں فروا کے لیے کسی قابل اعتماد ڈاکٹر کی ضرورت ہے اور میرے خیال سے تم سے بہتر اور کوئی نہیں ہو سکتا اس کام کے لیے –
تم بتاؤ اگر تم فروا کا علاج کر سکتے ہو تو میں تمہیں ابھی فروا کی ساری کنڈیشن بتاتی ہوں لیکن اگر تم نہیں کر سکتے تو سوری میں تمہیں نہیں بتا سکتی – دیا نے پہلے اس سے یہ کلیئر کرنا چاہا کہ وہ فروا کا علاج کرے گا یا نہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ بنا عدیل کی ہاں سنے وہ اسے فروا کے بارے میں بتا دیتی –
جو بھی تھا وہ خود ایک عورت تھی اور دوسری عورت کی عزت کو یوں ہی کسی کے سامنے نہیں اچھال سکتی تھی – تمہیں اور بالاج کو مدد کی ضرورت ہے تو پھر میں کیسے انکار کر سکتا ہوں – افکورس میں کروں گا مدد – تم مجھے یہ بتاؤ کہ اسے ہوا کیا ہے اخر ؟؟ عدیل نے اپنی نظریں فروا کے وجود پر جمائے دیا سے پوچھا –
وہ ریپ وکٹم ہے – دیا نے چھوٹے سے فقرے میں جیسے پوری ڈیٹیل بتا دی تھی جبکہ دیا کہ الفاظ سن عدیل کو لگا تھا اس کا دل کسی نے مٹھی میں قید کر لیا ہے – ر..ر..ریپ وی…کٹم ؟؟ عدیل کے منہ سے ٹوٹ ٹوٹ کر لفظ ادا ہوئے تھے – ہاں اور یہ پچھلے کچھ ماہ سے کوما میں ہے – پہلے تو یہ ہاسپٹل میں ہی ایڈمٹ تھی لیکن وہاں پر اس کی جان کو خطرہ تھا اسی لیے بالاج اسے یہاں لے ائے –
دیا کی بات پر عدیل نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے خود کو نارمل کرنا چاہا – اسے کیوں تکلیف ہو رہی تھی یہ جان کر کہ وہ خوبصورت لڑکی جو دنیا جہان سے بیگانہ ایک لمبی نیند کے سفر پر تھی اس کے ساتھ اتنا برا ہوا ہے –
تم بے فکر ہو جاو دیا میں روز ایا کروں گا اور یہ میرا وعدہ ہے کہ بہت ہی جلد میں اس لڑکی کو اس لمبی نیند سے جگا دوں گا – عدیل نے دیا سے وعدہ کیا تو وہ خوش ہو گئی تھی جبکہ بالاج جو کھانا ختم کرتا خود بھی ان کے پیچھے ایا تھا عدیل کے الفاظوں پر اسے بھی سکون ایا تھا –
زبرش سامان پیک کر لو ہم گاؤں واپس جا رہے ہیں – زبرش کمرے میں بیٹھی تھی کہ تبھی زوریز ا کر اسے بولا – زوریز کے الفاظ پر زبرش کا دل دھک سے رہ گیا تھا – وہی ہوا تھا جس کا اسے ڈر تھا – وہ پھر سے اسے واپس اسی جہنم میں لے کر جا رہا تھا –
خیر زندگی تو اس کی یہاں پر بھی جہنم ہی تھی لیکن کم سے کم اسے یہاں یہ فکر تو نہیں تھی کہ اس کے بچے کی زندگی خطرے میں ہے – لیکن ہم تو ڈلیوری کے….. ! تم سے جتنا کہا ہے اتنا کرو زیادہ زبان لڑانے کی ضرورت نہیں ہے – جاؤ اور جا کر پیکنگ کرو رات کو نکل جائیں گے ہم یہاں سے –
زوریز نے سختی سے کہا تو زبرش خاموش ہوگئی جبکہ تبھی کمرے کا دروازہ کھٹکھٹاتی اقرا اندر ائی تھی- کوئی مجھے بھی تو بتائے کہ کہاں جانے کی بات ہو رہی ہے ؟؟ اقرر جو شاید. زوریز کی اخری جانے والی بات سن چکی تھی اس لیے حیرانگی سے پوچھنے لگی جبکہ زبرش خاموشی سے ڈریسنگ روم میں چلی گئی پیکینگ کرنے – گاؤں جا رہے ہیں ہم –
زوریز نے جواب دیا تو اقرا جو صوفے پر بیٹھی ہی تھی فورا سیدھی کھڑی ہوتی اور اس کے پاس ائی تھی – کیا مطلب واپس گاؤں جا رہے ہیں ؟؟ اپ نے وعدہ کیا تھا کہ جب تک زبرش کی ڈلیوری نہیں ہو جاتی اپ گاؤں نہیں جائیں گے – اپ اب اپنا وعدہ توڑ رہے ہیں بھائی – اقرا نے پریشانی سے زوریز سے کہا – دیکھو اقرا میری جان میں کبھی بھی تم سے کیا وعدہ نہ توڑتا لیکن اس وقت گاؤں جانا بہت ضروری ہے –
کچھ دن کی بات ہوتی تو میں انتظار کر لیتا لیکن ابھی اور چار مہینے انتظار نہیں کر سکتا – چچا کا اچھے سے چیک اپ کروانا ہے کسی اچھے ڈاکٹر سے وہاں جا کر – میرا ارادہ تو انہیں یہیں شہر لے کر انے کا تھا لیکن چچی کسی طرح نہیں مان رہیں – ان کا کہنا ہے کہ ان کا شوہر ان کی نظروں کے سامنے رہے گا تو ہی انہیں سکون رہے گا –
اس لیے میں نے اپنے ایک بہت اچھے دوست سے بات کی ہے جو وہاں گاؤں جا کر چچا کا چیک اپ کرے گا وہ وہاں رہنے کے لیے بھی تیار ہے – لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہاں پر کوئی اور مرد نہیں ہے اس لیے میرا وہاں ہونا بہت ضروری ہے – زوریز نے اسے گاؤں جانے کی وجہ بتائی جبکہ اقرا کسی طرح بھی ماننے کو تیار نہیں تھی –
تو اپ چلے جائیں نا زبرش کو میرے پاس چھوڑ جائیں – ہمارا گھر بہت بڑا ہے زبرش کے لیے بہت جگہ ہے ہمارے گھر میں لیکن میں اسے اپ کے ساتھ گاؤں نہیں جانے دوں گی – مجھے چچی پر بالکل بھی بھروسہ نہیں ہے – اقرا نے اسے زبرش کو یہیں چھوڑ جانے کا مشورہ دیا لیکن زوریز زبرش کو چھوڑ کر جانے کے لیے تیار نہیں تھا –
نہیں اقرا پہلے ہی مجھے فکر ہو رہی ہے کہ تمہاری رخصتی کے بارے میں جان کر چچی نہ جانے کتنا وویلا مچائیں گی – ایسے میں زبرش کو یہاں چھوڑ کر میں بالکل نہیں جا سکتا اور تم فکر نہ کرو زبرش وہاں سے بلکل سیف ہوگی – زوریز نے اسے یقین دلایا تھا – وعدہ کریں ! اقرا نے ہافھ آگے کرتے اس سے وعدہ مانگا تو زوریز نے فورا اس کا بڑھایا ہوا ہاتھ تھام لیا تھا –
پکا وعدہ – زوریز نے ہاتھ ملانے کے ساتھ زبان سے بھی کہا – لیکن یاد رہے اپ وہاں پر جا کر زبرش سے کسی کو بھی کسی قسم کا مس بھی ہیو نہیں کرنے دو گے – نہ ہی زبرش وہاں جا کر کوئی کام کرے گی – میں بتا رہی ہوں اپ کو بھائی اگر وہاں پر اپ نے جا کر زبرش کا خیال نہ رکھا تو بھول جائیے گا کہ اقرا نام کی اپ کی کوئی بہن تھی –
اقرا نے زبرش کا خیال رکھنے کا کہتے ساتھ دھمکی بھی دے ڈالی تھی جس پر زوریز ہنس پڑا تھا – سردار زوریز خان افریدی کا وعدہ ہے اپنی بہن سے کہ وہ وہاں پر زبرش کو بالکل بھی کام نہیں کرنے دے گا اور نہ ہی کسی کو اسے کچھ کہنے دے گا – زویز نے اقرا کی پریشانی اور کم کرنے کے لیے اچھے سے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا جس پروہ مطمئین ہو گئی تھی –
رات اٹھ بجے وہ گاؤں کے لیے نکلے تھے اور تقریبا 11 بجے وہ حویلی میں داخل ہو چکے تھے –
سب اس وقت سو رہے تھے اس لیے وہ دونوں بھی کمرے میں جا کر سو گئے تھے – زبرش کو تو لگا تھا اسے یہاں پر ا کر پھر سے سٹور روم میں رہنا پڑے گا لیکن زوریز جس نے گاڑی سے نکلتے ہی اس کا ہاتھ تھام لیا تھا یوں ہی اس کا ہاتھ تھامے اسے اپنے کمرے میں لے گیا تھا اور زبرش کافی حیران ہوئی تھی زوریز کے یوں اسے اپنے کمرے میں لانے پر –
اسے لگا تھا وہ یہاں حویلی ا کر اسے کسی بیکار فالتو چیز کی طرح پھر سے سٹور روم میں ہی پھینک دے گا لیکن نہیں وہ تو اسے اپنے کمرے میں لے گیا تھا اور یہ بات زبرش کو کچھ ہضم نہ ہوئی تھی –
صبح ناشتے کی ٹیبل پر چچی اور فرح بیٹھی ناشتہ کر رہی تھیں کہ تبھی زوریز انہیں سیڑھیوں سے اترتا نظر آیا تھا – زوریز کو دیکھ دونوں ماں بیٹی حیران ہوئی تھیں – انہیں نہیں علم تھا کہ رات زوریز واپس ا چکا ہے –
زوریز تم کب ائے ؟؟ چچی نے حیران ہوتے پوچھا – بس سچی رات کو ہی واپس ا چکا ہوں – زوریز انہیں بتاتے اپنے لیے سربراہی کرسی کھینچتا بیٹھ چکا تھا – اقرا اور زبرش کہاں ہیں ؟؟ چچی نے اقرا اور زبرش کا پوچھا – زبرش آ رہی ہے نیچے اور اقرا نہیں آئی واپس – زوریز خود کو چچی کے سوالوں کے لیے تیار کرتا بولا –
کیوں بھلا اقرا کیوں نہیں ائی ؟؟ وہ وہاں کس کے پاس ہے ؟؟ چچی نے پھر سے پوچھا – جب کہ فرح خاموشی سے اپنی ماں اور زوریز کی گفتگو سن رہی تھی – دراصل اقرا کا جس میرے دوست سے میں نے نکاح کروایا تھا وہ اس کا پروفیسر بھی ہے اور اب جب مجھے حویلی انا تھا تو اقرا کی سٹڈی کا مسئلہ بن رہا تھا اس لیے میں نے سادگی سے ہی اس کی رخصتی کر دی وہاں –
زوریز نے انہیں سچ ہی بتایا تھا جب کہ اس کی بات سن چچی غصے سے اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھیں – یہ کیا بول رہے ہو تم ؟؟ بنا کسی سے کوئی مشورہ کیے بنا مجھے بتائے تم کیسے اقرا کی رخصتی کر سکتے ہو؟؟ چچی غصے سے بولیں – چچی اقرا میری بہن ہے اور اپنی بہن کی رخصتی کے لیے مجھے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے – چچی کے غصے پر زوریز بھی تھوڑا سخت انداز میں بولا تھا –
اس سے پہلے کہ چچی پھر سے اسے کچھ بولتیں ان کی نظر زبرش پر پڑی تھی جو سیڑھیاں نیچے اترتی اپنے دھیان میں اپنا دوپٹہ صحیح سے اپنے جسم کو کور کرنے کے لیے پھیلا رہی تھی – زبرش کو دیکھ چچی اقرا والی بات تو بھول ہی گئی تھیں کیونکہ زبرش کی پریگننسی کو پانچواں مہینہ تھا اور اس کے جسم کے خدوخال اب یہ بات بیان کرتے تھے کہ وہ ماں بننے والی ہے –
چچی بھی اسی لیے اس کر دیکھ حیران ہوئی تھیں – لیکن حیرانگی سے زیادہ انہیں غصہ ایا تھا – یہ ! یہ ونی یہ ماں بننے والی ہے ؟؟ چچی نے زبرش کی طرف اشارہ کرتے زوریز سے غصے سے پوچھا جب کہ ان کے یوں غصہ کرنے پر زبرش کو خوف ایا تھا – جی بالکل وہ میرے بچے کی ماں بننے والی ہے –
زوریز نے اپنے ہاتھ سینے پر باندھتے کرسی کی بیک سی ٹیک لگا کر چچی کو دیکھتے کہا جبکہ اس کے اتنے کہنے کی دیر تھی کہ چچی تو پاگل ہونے کے در پر ہو گئی تھی – حیران تو فرح بھی ہوئی تھی لیکن اسے غصہ بالکل بھی نہیں ایا تھا –
ہاں اگر وہ پہلے والی فرح ہوتی جو اپنی ماں کی باتوں میں اتی تھی تو ضرور وہ بھی اپنی ماں کی طرح واویلا مچاتی لیکن ابھی وہ اچھے سے سمجھتی تھی کہ زبرش بھی زوریز کے نکاح میں تھی اس کی بیوی تھی تو یہ بات بالکل بھی غصہ کرنے والی اور لڑنے والی نہیں تھی کہ وہ ماں کیوں بننے والی ہے –
اب ہمارے خاندان کا وارث اس ونی سے پیدا ہوگا ؟؟ کبھی نہیں میں بالکل بھی ایسا نہیں ہونے دوں گی – وہ غصے بولتی ہوئیں زبرش کی طرف بڑھی تھیں جبکہ ان کے خود کی طرف بڑھنے پر زبرش نے گھبرا کر اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھتے اپنے قدم پیچھے لیے تھے – اپنی ماں کے زبرش کی طرف بڑھنے پر گھبرا تو فرح بھی گئی تھی اس لیے وہ بھی فورا اپنی جگہ سے پریشان ہو کر کھڑی ہوئی تھی –
اس سے پہلے چچی زبرش کے پاس پہنچ کر اسے دھکا دیتیں وہاں پر زوریز کی گرجدار اواز گونجی تھی – بس ! بہت ہو چکا خبردار جو اپ نے زبرش کو ہاتھ بھی لگایا تو – وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر زبرش کے سامنے ڈھال بن کر کھڑا ہوتا بولا – جبکہ زبرش جو خوف سے کانپ رہی تھی اس نے خود کو گرنے سے بچانے کے لیے پیچھے سے زوریز کے کرتے کو تھامتے اس کی پشت سے سر ٹکاتے خود کو جیسے سہارا دیا تھا –
تم ایسا کیسے کر سکتے ہو زوری ؟؟ تم بھول گئے اس کے بھائی نے تمہارے کزن کو مارا ہے اور تم اسی کی بہن کے ساتھ کیسے تعلق بنا سکتے ہو کیسے اس سے اپنا بچہ پیدا کر سکتے ہو ؟؟ چچی غصے سے پاگل ہوتی بولیں – سب جانتا ہوں میں کچھ نہیں بولا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اپ زبرش کو نقصان پہنچائیں گی – اس کی کوکھ میں میری اولاد ہے سردار زوریز خان فریدی کی اولاد –
اور زوریز خان اپنی اولاد پر بری نظر ڈالنے کی اجازت کسی کو نہیں دیتا – اگر کسی نے میری اولاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اس انسان کا اس دنیا میں اخری دن ہوگا – پھر چاہے وہ انسان اپ ہی کیوں نہ ہوئیں –
زوریز چچی کو وارن کرتا بولا – جبکہ چچی تو انکھیں پھاڑے اس کا یہ انداز دیکھ رہی تھیں – تم اپنی چچی سے زبان لڑا رہے ہو ؟؟ اپنی چچی کو دھمکی دے رہے ہو ؟؟ چچی نے اپنے سینے پر انگلی رکھتے زوریز سے پوچھا – معاف کریے گا چچی یہاں تک نوبت بھی اپ ہی لائی ہیں –
زوریز انہیں کہتا زبرش کو گود میں اٹھا چکا تھا – کیونکہ زبرش کے خوف سے کانپنے پر وہ اچھے سے سمجھ چکا تھا کہ وہ بالکل بھی نہیں چل سکے گی اسی لیے کسی کی پرواہ کیے اسے گود میں اٹھا کر سیڑھیاں چڑھتا وہ اسے اپنے کمرے میں لے گیا تھا – دیکھا تم نے دیکھا کیسے میرے ساتھ بلند اواز میں بات کر رہا تھا –
نہ جانے اس لڑکی نے کیا جادو کیا ہے اس پر – چھوڑنے والی تو میں بھی نہیں ہوں اس لڑکی کو – چچی زوریز کے وہاں سے جاتے ہی فرح کو دیکھتی ہوئی بولیں جس پر فرح نے تاسف سے سر ہلایا تھا – امی غلطی اپ کی ہی ہے اپ کون ہوتی ہیں زبرش اور اس کے بچے کو نقصان پہنچانے والی ؟؟ وہ زوریز کی بیوی ہے اور اس کی اولاد کو پیدا کرنے والی ہے – زوریز کا غصہ کرنا بنتا ہے –
فرح نے ماں سے کہا تو انہوں نے حیران ہوتے اپنی بیٹی کو دیکھا تھا جو پہلے ان کی ہر بات میں ہاں میں ہاں ملاتی تھی لیکن اج انہیں غلط کہہ رہی تھی – تمپاگلہو گئی ہو ؟؟ تمہیں غصہ نہیں آرہا ؟؟ تمہارا منگیتر چھین رہی ہے وہ – اور دوسری بات بیوی نہیں ہے وہ بلکہ ونی میں ائی ہوئی ہے –
انہوں نے اس کو پہلے ڈانٹتے بعدمیں اس کی غلط فہمی دور کرنی چاہی – میرامنگیتر ہے تو اس کا شوہر ہے اور چاہے ونی میں ائی ہے لیکن مت بھولیں کہ وہ اس کے نکاح میں ہے اور اسلام میں نکاح میں بیوی ہی ہوتی ہے-
فرح ان کی بات کا جواب دیتی خود بھی وہاں سے چلی گئی تھی جبکہ پیچھے چچی نے غصے سے ٹیبل پر پڑا کانچ کا گلاس اٹھا کر زور سے فرش پر پھینکا تھا – چھوڑوں گی نہیں تمہیں زبرش – وہ خیال ہی خیال نفرت سے زبرش سے مخاطب تھیں جبکہ ان کے اندر ک ی کا غصہ اور نفرت کسی طرح سے ختم نہیں ہو رہی تھی – اب نہ جانے ان کے اندر کی بے وجہ نفرت کیا رنگ لانے والی تھی –
تم ٹھیک ہو ؟؟ زوریز نے کمرے میں ا کر زبرش کو بیڈ پر لٹاتے اس کے پیلے پڑتے چہرے کو دیکھ کر پریشانی سے پوچھا – زوریز وہ ابھی میرے بچے کو مار دیتیں –
زبرش نے زوریز کو دیکھتے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھتے کہا جبکہ لہجے میں ابھی بھی خوف تھا جیسے اسے ابھی بھی ڈر ہو کہ چچی ائیں گی اور پھر سے اس کے بچے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گیں –
کچھ نہیں ہوا میں ہوں نا ڈونٹ وری کوئی تمہیں کچھ نہیں کہے گا – وہ اس کے پاس بیٹھتا اس کا سر اپنے سینے سے لگاتے اسے بولا جبکہ ساتھ ہی اس نے اسے اپنے ہونے کا مان بھی دیا تھا –
یوں ہی اس کے سینے سے لگے اپنا ڈر کم کرتے زبرش کب سو گئی اسے پتہ ہی نہ چلا جب کہ زبرش کے اہستہ اہستہ سانس لینے پر زوریز نے سر جھکائے اسے دیکھا تو اسے سوتا دیکھ اس نے ارام سے اسے سیدھا کرتے بیڈ پر لٹایا تھا – اس پر کمفرٹر اچھے سے دیتے وہ اپنے موبائل پر کوئی نمبر ڈائل کرتا کمرے سے نکل گیا تھا –