قسط: 31
عدیل اپنے کیے گئے وعدے کے مطابق روز فروا ٹریٹمنٹ کے لیے ا جاتا تھا لیکن ایسا بھی اس نے صرف چار دن کیا تھا کیوں کہ پانچویں دن وہ اپنا بوریا بستر اٹھا کر بالاج کے گھر ہی اگیا تھا – اس کے یوں اپنا ساز و سامان سمیٹ اس کے گھر انے پر بالاج کافی حیران ہوا تھا – اسے تو وہ پہلے ہی ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا اوپر سے وہ ان کے گھر ہی اگیا تھا رہنے کے لیے –
بالاج کا دل تو کیا کہ وہ اس کے منہ پر انکار کردے کہ بھائی ہمارا گھر پہلے ہی بہت چھوٹا سا ہے تو جاؤ اپنے عالی شان گھر میں رہو لیکن مروت کے مارے کچھ نہ بولا – کچھ عدیل نے تنگ بھی نہیں کیا تھا وہ صحن میں ہی اپنی چارپائی بچھا کر سو جاتا تھا – ایک ہفتہ ہو گیا تھا عدیل کو بالاج کے گھر ہی رکے ہوئے اور اس ایک ہفتے میں بالاج کا نظریہ واقعی بدل گیا تھا اس کو لے کر –
اب تو ان دونوں میں کافی اچھی دوستی ہو گئی تھی لیکن ان کی یہ دوستی دیا کے لیے بالکل بھی اچھی ثابت نہیں ہوئی تھی – وہ دونوں میں مل کر دیا کو اتنا تنگ کرتے کہ وہ بیچاری رونے والی ہو جاتی تھی – کبھی کبھی تو وہ اسمان کی طرف منہ کر کے اللہ تعالی سے شکایت بھی کرتی کہ اسے اس کا ایک عدد بھائی کیوں نہ دیا جو اس کی ٹیم میں ہو کر اس کا ساتھ دیتا –
اس کی دعا پر بالاج اس کے سامنے عدیل کو کر دیتا کہ یہ دیکھو تم ہی تو کہتی ہو یہ تمہارا بھائی ہے جس پر دیا عدیل کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتی تھی – اس جیسا بھائی نہیں مانگا میں نے جو خود اپ کے ساتھ مل کر مجھے تنگ کرے میں نے ایک ایسا بھائی مانگا ہے جو میری ٹیم میں ائے اور مجھے سپورٹ کرے –
دیا منہ چڑھا کر کہتی تو بالاج اور عدیل ایک دوسرے کو دیکھ کر پھر سے ہنس پڑتے – ان کی لائف اچھی جا رہی تھی اور تین چار دن سے تو وہ اور بھی زیادہ خوش تھے کیونکہ اب تو ان کی زندگی میں ایک ننھے مہمان کا بھی اضافہ ہونے والا تھا – بالاج کے تو پاؤں ہی نہیں زمین پر ٹکتے تھے جب اس نے یہ خبر سنی کہ وہ باپ بننے والا ہے مگر اسے اس موقع پر زبرش بہت یاد آئی تھی –
خوش تو دیا بھی بہت تھی جب کہ انور ملک کو جب یہ بات پتہ چلی تو وہ بے تحاشہ تحائف لے کر دیا سے ملنے ائے تھے – ان کا ارادہ تھا وہ دیا کو اپنے ساتھ لے جائیں تاکہ وہ بے بی کے پیدا ہونے تک وہیں ملک مینشن میں رہے – مگر دیا نے خود ہی انہیں جواب دے دیا تھا –
اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے گھر ہی رہے گی کیونکہ اس ٹائم پیریڈ میں بہت سی یادیں بنتی ہیں اور وہ وہ تمام یادیں اپنے اسی گھر میں بنانا چاہتی ہے – عدنان ایک دو بار اپنا گیٹ اپ چینج کر کے خود پر نظر رکھنے والے ادمیوں سے بچتا بچاتا فروا کو دیکھنے ایا تھا – اور خوش بھی تھا کہ یہاں اس کے ٹریمنٹ میں بلکل کوتاہی نہیں ہو رہی تھی –
ان سب کی بس یہی دعا تھی کہ فروا جلدی سے صحت یاب ہو جائے جبکہ عدیل بھی کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا تھا فروا کو ٹھیک کرنے کی – وہ اس کے پاس بیٹھا کئی کئی گھنٹے ڈھیروں باتیں کرتا اور اس سے اپنے جذبات شیئر کرتا تھا – اسے پتہ تھا فروا اسے سن سکتی ہے اس لیے وہ اس کے ساتھ کافی باتیں کرتے اس سے یہ بتاتا کہ وہ کتنی اہمیت رکھتی ہے اس کے لیے اس کے بھائی کے لیے –
ان سب باتوں کا مقصد ایک ہی تھا کہ فروا زندگی کی طرف لوٹے کیونکہ جب تک وہ خود کوشش نہیں کرتی وہ کبھی بھی اپنی بیماری سے لڑ کر کوما سے باہر نہیں ا سکتی تھی –
زوریز کا دوست عثمان حویلی اگیا تھا زوہیب خان کے چیک اپ کے لیے لیکن جب سے وہ حویلی ایا تھا تب سے چچی کو سکون نہیں تھا –
انہیں تو یہ فکر ستائے جا رہی تھی کہ اگر زوہیب خان کو ہوش اگیا تو ساری سچائی سب کے سامنے ا جائے گی لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ عثمان نے زوہیب خان کی میڈیسن چینج نہیں کیں تو ان کی یہ فکر ختم ہو گئی تھی کیونکہ پچھلے ڈاکٹر جو ان کے ساتھ ملے ہوئے تھے انہوں نے وہ دوائیاں لکھ کر دیں جن سے انسان کا دماغ کام کرنا بند کر دیتا ہے جس کی وجہ سے وہ کوما کی حالت سے باہر نہیں ا سکتا –
اس ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ چاہے جتنا مرضی ٹریٹمنٹ ہو جائے جب تک یہ دوائیاں زوہیب خان کو ملتی رہیں گی وہ کبھی بھی کوما سے باہر نہیں ائیں گے – اسی لیے تو انہیں سکون مل گیا تھا یہ دیکھ کر کہ دوائیاں بدلی نہیں گئیں – یعنی یہ ڈاکٹر بھی بس نام کا ڈاکٹر تھا اسے کوئی سوچ سمجھ نہیں تھی اس معاملے کی –
ان کا کل ایک ہی مشن تھا وہ تھا زبرش اور اس کے بچے کو نقصان پہنچانا – وہ نت نئے طریقے سوچتیں لیکن اس پہلے وہ اپنی سازش میں کامیاب ہوتی فرح یا زوریز کسی نہ کسی طرح زبرش کو بچا لیتے تھے – ایک بار انہوں نے زبرش کی چائے میں زہر ڈال دیا تھا جس سے زبرش کو زیادہ نقصان نہ ہوتا لیکن اس کا بچہ ضرور ختم ہو جاتا پر اصل میں یہی تو اس کا نقصان تھا –
لیکن اس سے پہلے کہ زبرش وہ چائے پیتی فرح کا ہاتھ لگنے سے وہ کپ زمین پر گر گیا تھا – ایسے ہی ایک دو بار انہوں نے اور کوشش کی لیکن ہمیشہ زبرش بچ جاتی – ابھی بھی وہ اپنے کمرے کے ساتھ والے کمرے میں بیٹھیں سوچ رہی تھیں کہ وہ زبرش کے بچے کو کیسے اس دنیا میں انے سے پہلے ہی ختم کریں کہ تبھی زوریز ان کے پاس ایا تھا – کیسی ہیں چچی ؟؟
زوریز نے ان کے پاس بیڈ پر بیٹھتے پوچھا مجھ سے کیوں ا کر اب حال چال پوچھ رہے ہو ؟؟ جاؤ نا اس زبرش کے پاس جاؤ اس کے پاس بیٹھو جس کی خاطر تم میرے سامنے اونچی اواز میں بات کرتے ہو میری عزت کرنا بھول جاتے ہو – چچی نے اس سے اپنا منہ پھیرتے ہوئے کہا –
دیکھیں چچی میں یہی بات اپ سے کلیئر کرنے ایا ہوں کہ میں بھی اس بچے کو دنیا میں لانے کے حق میں بالکل بھی نہیں لیکن یہ ضروری ہے کیونکہ جب بچہ دنیا میں ائے گا تو ہم اس کے ذریعے زبرش کو تکلیف پہنچا سکتے ہیں اور جب زبرش تکلیف میں ہوگی تو اس کا بھائی بالاج خود بخود تکلیف میں ہوگا –
بس یہی وجہ ہے کہ میں خود بھی چاہتا ہوں کہ یہ بچہ دنیا میں ائے – اپ خود سوچیں کیا یہ ہمارے لیے بہتر نہیں ہوگا ؟؟ اولاد عورت کے پاؤں کی بیڑیاں ہوتی ہے اور یہی بیڑیاں ہمیں زبرش کے پیروں میں ڈالنی ہیں – زوریز کی بات پر چچی بھی سوچ میں پڑ گئی تھیں – بات تو تمہاری صحیح ہے –
یہ میں نے کیوں نہیں سوچا پہلے – چچی نے پرسوچ انداز میں کہا – لیکن میں کیسی یقین کر لوں تم پر کہ تم سچ کہہ رہے ہو ؟؟ چچی نے اچانک زوریز پر شک کرتے کہا – آپ کو کس طرح کا ثبوت دوں کہ میں سچ کہہ رہا ہوں ؟؟ زوریز نے انہیں دیکھتے پوچھا –
تم نے کہا تھا کہ تم ایک سال بعد فرح سے شادی کرو گے لیکن اب تمہیں فرح سے جلدی شادی کرنی ہوگی کیونکہ مجھے بالکل بھی بھروسہ نہیں ہے تم پر اور اس ونی پر – کیا پتا تم اس زبرش کے زلفوں کے اسیر بن کر میری بیٹی فرح سے شادی ہی نہ کرو – چچی کی بات پر زوریز کچھ پل خاموش ہو گیا تھا –
ٹھیک ہے مجھے منظور ہے دو مہینے بعد فرح کی رخصتی کر دیجئے گا – زوریز نے چچی سے کہا تو چچی خوش ہو گئی تھی جبکہ باہر دروازے کے پاس کھڑی زبرش جس نے ان کی ساری باتیں سن لی تھیں اس کا اپنے پاؤں پر کھڑے ہونا محال ہوا تھا – کیسا انسان تھا وہ ہر بار اس کی تکلیف کا سبب بنتا تھا –
وہ جب جب سوچتی کہ زوریز ٹھیک ہو گیا ہے تب تب وہ اسے غلط ثابت کرتا لیکن اب وہ کمزور نہیں پڑے گی اور اب وہ زوریز کی باتوں میں نہیں ائے گی – زبرش نے بھی خود سے وعدہ کیا تھا –
اقرا کی اج صبح سے طبیعت ٹھیک نہیں تھی – اسے تو بہرام نے کہا تھا کہ وہ اج چھٹی کر لے لیکن وہ پھر بھی یونیورسٹی ائی تھی – اپنی کلاس میں جا کر بیٹھتے ہی اس کی طبیعت اور زیادہ خراب ہونے لگ گئی تھی کیونکہ کلاس میں پھیلی مختلف پرفیوم کی خوشبووں سے اس کا دل عجیب ہو رہا تھا –
وہ کلاس سے باہر جانے کا سوچتے اٹھ کر کلاس کے دروازے تک ہی پہنچی تھی کہ اس کا سر بری طرح سے چکرایا تھا – اس سے پہلے کہ وہ دیوار کا سہارا لیتی خود کو سنبھالتی وہ پوری طرح سے اپنے ہوش کھوتی زمین پر بے ہوش ہو کر گر گئی – اس کے بے ہوش ہو کر گرنے پر ساری کلاس بھاگ کر پریشانی سے اس کے پاس پہنچی تھی –
او نو اسے کیا ہو گیا ؟؟ اقرا ! اقرا ہوش کرو ! کلاس کی ایک لڑکی اس کے پاس بیٹھتی اس کا چہرہ تھپتھپاتی بولی – بینش ایسا کرو اس کے چہرے سے نقاب ہٹاؤ اور منہ پر پانی کے چھینٹے مارو – کلاس کی کسی اور لڑکی نے اسے مشورہ دیا جس پر اقرا کے پاس بیٹھی بینش لڑکی نے کلاس کے لڑکوں کو دیکھا تھا –
اس کے دیکھنے کا مطلب سمجھتے تمام لڑکے خاموشی سے کلاس سے باہر نکل گئے تھے – لڑکوں کے جاتے ہی بینش نامی لڑکی نے اقرا کے چہرے سے نقاب ہٹاتے اس کی منہ پر پانی کے چھینٹے مارے تھے مگر اقرا کو ہوش نہ آیا – سب لڑکیاں پریشان تھیں سوائے ہما کے –
اس نے تو جب اقراء کے چہرے سے نقاب ہٹنے پر اس کا چہرہ دیکھا اقراء سے اور جلن ہونے لگی کیونکہ وہ تو سمجھتی تھی وہ کلاس کی سب سے پیاری لڑکی ہے لیکن تب اس نے اقرا کا چہرہ جو نہیں دیکھا تھا – کرن بھاگ کر جاؤ اور ڈسپنسری سے میں عظمی کو بلا کر لاؤ –
بینش نے کرن کو دیکھتے کہا تو وہ بھاگتے ہوئے فورا ڈسپنسری کی طرف گئی تھی – تھوڑی ہی دیر بعد میم عظمی اپنے ساتھ ڈاکٹر باکس اٹھائے کلاس میں داخل ہوئی تھیں – اٹس اوکے یہ سب کچھ نارمل ہے ہوجاتا ہے ایسی حالت میں – وہ پریگننٹ ہے نا اس لیے یوں چکر انے کے سبب بے ہوش ہو گئی –
خیر میں انہیں انجیکشن لگا رہی ہوں تھوڑی دیر تک انہیں ہوش ا جائے گا – میم عظمی اقرا کا چیک اپ کرتی بولی جبکہ ان کی بات سن ساری لڑکیاں صدمے میں اگئی تھیں – یہ پریگننٹ ہے ؟؟ مگر اس کی تو ابھی تک شادی نہیں ہوئی ہما کی دوست میم کے جاتے ہی حیرانگی سے بولی – میم کا ارادہ اقرا کے ہوش میں آنے پر جانے کا تھا مگر پرنسپل کی کال پر انہیں جانا پڑا –
میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ یہ ہے ہی کریکٹر لیس – ہما نے نفرت سے اقرا کو دیکھتے کہا جسے ابھی ہوش ا رہا تھا – اپنے چکراتے سر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑے وہ اٹھ کر بیٹھی تو کلاس کی ساری لڑکیوں کو اپنے ارد گرد جمع پایا –
وہ میں اچانک پتہ نہیں کیسے بے ہوش ہو گئی – اس نے شرمندگی سے کہا -خیر اب جب ایسے گل کھلاؤ گی تو یوں ہی بے ہوش ہی ہوگی – ہما نے حقارت سے کہا تو اقرا نے حیران ہوتے اسے دیکھا –
کیا مطلب ؟؟ اقرا نے نہ سمجھی سے پوچھا – مطلب میں تمہیں بتاؤں ؟؟ تم اچھے سے جانتی ہو کہ میں کس بارے میں بات کر رہی ہوں – نہ جانے کس طرح کی لڑکی ہو تم بنا شادی کے ہی ماں بننے والی ہو – توبہ توبہ بڑی پارسا بنی پھرتی ہو یہ ہے تمہاری پارسائی – ہما نے کان کو ہاتھ لگاتے کہا جبکہ اس کی بات سن اقرا نے بے ساختہ اپنے ہاتھ اپنے پیٹ پر رکھے تھے. –
میں ماں بننے والی ہوں ؟؟ اقرا نے حیران ہوتے پھر سے پوچھا – ہاں بالکل ماں بننے والی ہو تم مگر نہ جانے کس کے ناجائز بچے کی – ہما نے پھر سے کہا تو اب کی بار اقرا نے اس کا لہجہ نوٹ کیا تھا – کیا بکواس کیے جا رہی ہو تم ؟ اقرا نے غصے سے کہا جب کہ اس کے غصہ کرنے پر ہما نے تالیاں بجائیں تھیں –
باقی ساری لڑکیاں بس ان دونوں کی گفتگو سن رہی تھیں خاموشی سے – تمہیں کیا لگتا ہے تم یہ غصہ کر کر چپ کروا دو گی مجھے ؟؟ جانتی ہوں میں تم جیسی دو ٹکے کی لڑکیوں کو – تم تو یونیورسٹی اتی ہی اس لیے ہونا تاکہ امیر لڑکوں کو پھنسا سکو –
ابھی بھی نہ جانے تم نے یونیورسٹی میں کتنے لڑکوں کو پھسایا ہوگا نہ جانے تم جیسی غریب لڑکیوں کو یونیورسٹی میں ایڈمیشن دیتا کون ہے – ہما اس کی بے عزتی کرتی بولی جب کہ اپنے کردار پر بات انے پر اقرا نے بنا اگلے لمحے کی دیر کیے اس کے چہرے پر رکھ کر تھپڑ لگایا تھا – بکواس بند کرو ! تم جانتی کتنا ہو میرے بارے میں ؟؟
تم جیسی کو میں یوں چٹکیوں میں اپنے سامنے جھکا سکتی ہوں اتنی میری اوقات ہے – کیا کہا تم نے کہ مجھے یونیورسٹی میں ایڈمیشن کس نے دیا تو تمہیں بتاتی جاؤں کہ یہ جس یونیورسٹی میں تم پڑھ رہی ہو نا اس یونیورسٹی کے ادھے شیئر میرے بھائی کے پاس ہیں –
15 گاؤں کا سردار ہے میرا بھائی نہ جانے کتنی فیکٹریاں ہیں میرے بھائی کی جو مختلف شہروں میں چل رہی ہیں اور تم مجھے غریب کہہ رہی ہو – اور جو تم میرے کردار پر بات لا رہی ہو تمہیں بتاتی چلوں کہ میں تم جیسی نہیں ہوں جو جہاں خوبصورت لڑکا دیکھا وہاں اس کے پیچھے پیچھے منڈلانے لگی –
اقرا نے بھی اچھے سے ہما کی کرتے اسے اس کی اوقات دکھائی تھی جبکہ وہ تو حیران رہ گئی تھی اس کے اتنا امیر ہونے کا سن – تم گھٹیا لڑکی.. ! کیا ہو رہا ہے یہاں ؟؟ اس سے پہلے کہ ہما اقرا کے تھپڑ مارتی کلاس میں سرخان کی غصے سے بھری اواز گونجی تھی – کچھ نہیں سر بس ہما اور اقرا کی اپس میں لڑائی ہو گئی تھی –
ہما کی دوست نے جلدی سے بات سنبھالنے کے لیے ادھا سچ بتایا تھا جب کہ بہرام تو زمین پر بیٹھی اقرا کو دیکھ رہا تھا جو انکھوں میں انسو لیے اسے دیکھ رہی تھی – وہ تو اپنے افس سے باہر نکلا تو کلاس کے سب لڑکوں کو باہر کھڑا دیکظ اسے حیرت ہوئی تو اس نے ان سے وجہ پوچھی جس سے اسے پتا چلا کہ اقرا بے ہوش ہو گئی ہے –
اقرا کے بے ہوش ہونے کا سن کر بہرام بنا کوئی دوسری بات سنیں فورا کلاس کی طرف بھاگا تھا مگر یہاں ا کر تو اسے کچھ اور ہی نظر ا رہا تھا – وہ ہما کی دوست کی بات اگنور کیے اقرا کے پاس ا کر گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا – کیا ہوا ہے طبیعت کو تمہاری ؟؟ کہا بھی تھا چھٹی کر لو –
اس نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھتے پوچھا جب کہ اس کے یوں اقرا سے بات کرنے اس کی فکر کرنے پر ساری کلاس حیرت سے انکھیں پھاڑے کبھی انہیں دیکھتی تو کبھی ایک دوسرے کو –
سر وہ…. ! اقرا کال می بہرام – اقرا جو اسے سر کہتی بات کو رفع دفع کرنے کی خاطر جھوٹ بولنے لگی تھی مگر اس کے خود کو بہرام پکارنے کا کہنے پر اس کی انسو انکھوں سے نکلتے چلے گئے – بہرام یہ ہما میرے کردار پر بات کر رہی ہے مجھے گھٹیا کہہ رہی ہے ہمارے بچے کو ناجائز کہہ رہی ہے –
اقرا نے روتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ہما کی شکایت لگائی تھی – ساری کلاس حیران ہو گئی تھی اقرا کے الفاظوں پر جبکہ اقرا کی بات سن بہرام کو جہاں ہما پر بے تحاشہ غصہ ایا تھا وہیں اس کی اخری بات سن اس نے حیرت سے اسے دیکھا تھا – کیا وہ باپ بننے والا تھا ؟؟
اس نے خوشی سے سوچا مگر ابھی اسے ساری کلاس کے سامنے اپنا رشتہ واضح کرنا تھا – اس نے گردن موڑے خون خوار نگاہوں سے ہما کو دیکھا تو وہ ڈر کر دو قدم پیچھے ہوئی تھی – ان دونوں کی باتوں سے کلاس کی لڑکیاں کافی حد تک سمجھ گئی تھیں ان کے رشتے کو –
مس ہما دوسروں کے کردار پر بات کرنے سے پہلے خود پر بھی ایک نظر ڈال لیجئے گا- یہ مت سوچیے گا کہ میں نہیں جانتا کہ اپ کس طرح کی لڑکی ہیں – اپ ایک لڑکی ہیں اس لیے یہاں پر صحیح سلامت کھڑی ہیں اور اپ کی زبان ابھی بھی بولنے کے قابل ہے ورنہ بہرام خان اپنی بیوی کے بارے میں غلط بولنے والوں کی زبان کاٹ کر ان کے ہاتھوں میں پکڑا دینا جانتا ہے اور یقینا اتنی بکواس کے بعد میں محض زبان کاٹنے پر اتفاق بالکل نہ کرتا –
اقرا میری بیوی ہے اور ہماری شادی بہت پہلے کی ہو چکی ہے کلاسزز سٹارٹ سے پہلےکی – امید کرتا ہوں دوبارہ کبھی اپنی زبان سے کسی قسم کی گھٹیا گفتگو نہیں نکالیں گی ورنہ اگلی بار لڑکی ہونے کا لحاظ بھی نہیں کروں گا – بہرام نے بے حد غصے سے ہما بولا –
یہ تو وہی جانتا تھا کہ اس نے کس طرح سے خود پر کنٹرول کیا ہوا تھا یہ سوچ کر کہ اس کے سامنے ایک لڑکی ہے اگر وہ لڑکا ہوتی تو یقینا اس وقت ہاسپٹل میں موجود ہوتی – ہما سے اپنی نظریں ہٹاتے اس نے اپنے سینے سے لگی اقرا کو دیکھا -وہ انکھیں جن میں پہلے غصہ تھا وہاں اب نرمی تھی اور پھر وہ بنا کسی کی پرواہ کیے اقرا کو گود میں اٹھاتا کلاس سے باہر نکل گیا –
یونیورسٹی پوری کے سامنے اقرا کو گود میں اٹھا کر لے جاتے بہرام کو بالکل بھی شرمندگی اور ڈر نہیں تھا کیونکہ اب وہ اپنے اور اقراء کے رشتے کو چھپا کر نہیں رکھ سکتا تھا – اس لیے اسے کوئی ڈر نہیں تھا کہ کوئی ان کے بارے میں کیا سوچتا ہے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ کل صبح تک پوری یونیورسٹی میں یہ بات پھیل چکی ہوگی کہ اقرا سرخان کی بیوی ہے –
اس کے کلاس سے باہر جاتے ہی پیچھے کلاس میں لڑکیوں کی پھر سے سرگوشیاں شروع ہو گئی تھیں جب کہ ہما کا تو لڑکیوں کے سامنے اپنی نظریں اٹھانا بھی محال ہوا تھا اس لیے وہ کلاس سے باہر چلی گئی –