Hook

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 32

کیا سچ میں میں مامو بننے والا ہوں ?? زوریز کو بہرام کی کال ائی ہوئی تھی جبکہ اس کی بات سن زوریز تو بہت زیادہ خوش ہو گیا تھا – ظاہر سی بات ہے یار میں سچ ہی بولوں گا جھوٹ تو کہنے سے رہا –
بہرام نے اگے سے اس کی بات کا جواب دیا تو زوریز ہنس پڑ -ا اقرا کیسی ہے ؟؟ اسے اقرا کی فکر ہوئی – ہاں وہ بالکل ٹھیک ہے بلکہ بہت زیادہ ایکسائٹڈ ہے – ابھی سے لسٹ بنانے بیٹھ گئی ہے بے بی کی شاپنگ کی –
بہرام نے بیڈ پر بیٹھی اقرا کو دیکھتے زوریز کو بتایا جبکہ اقرا ابھی بھی بیٹھی سوچ سوچ کر بے بی کی چیزیں لکھ رہی تھی – تم اؤ اقرا کو لے کر ملوانے کے لیے کسی دن- یار سچ میں بہرام میں بہت ہی زیادہ خوش ہوں کہ میں مامو بننے والا ہوں – یہ احساس بہت خوبصورت ہے –
زوریز بہرام سے اپنی خوشی شیئر کرتا بولا جبکہ زبرش جو بالکنی میں کھڑی اس کی ساری باتیں سن رہی تھی اس نے اپنے انسوؤں کو بے دردی سے صاف کیا تھا – اخر کیوں نہ آتے آنسوں آنکھوں میں ؟؟
اس شخص نے اپنی اولاد کی مرتبہ تو ایک سمائل بھی نہ دی تھی بلکہ سیدھا اس کو ختم کرنے کی بات کر دی تھی اور اب کس طرح وہ خوش ہو رہا تھا – زبرش نے اپنا چہرہ جھکاتے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا –
ڈونٹ وری مما کی جان مما آلویز لو یو اور اپ کے مامو بھی اپ سے بہت پیار کرتے ہیں ہم انشاءاللہ بہت جلد ان کے پاس ہوں گے – وہ اپنے بچے سے بات کرتی بولی اب یہی تو ایک سہارا تھا اس کا جس سے وہ اپنے دل کی ہر بات شیئر کر لیتی تھی –
بالاج عدیل ادھر ائیں دونوں اور دیکھیں فروا کے ہاتھ موومنٹ کر رہے ہیں – دیا جو فروا کے کمرے میں اس کی ڈرپ چیک کرنے گئی تھی کہ تبھی اس کا دھیان فروا کے ہاتھوں کی انگلیوں کی طرف گیا جو اہستہ اہستہ موومنٹ کر رہی تھیں –
فروا کے ہاتھوں کی موومنٹ دیکھ دیا نے خوشی سے بالاج اور عدیل کو بلایا تھا جبکہ اس کی اواز پر وہ دونوں بھی بھاگے ہوئے ائے تھے – دیکھو عدیل ابھی فروا نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو حرکت دی تھی – دیا نے عدیل کا دھیان فروا کے ہاتھ کی طرف کرتے کہا کہ تبھی فروا نے پھر سے اپنے ہاتھ کو ہلانے کی کوشش کی تھی –
اس کی اتنے سے ہی رسپانس کرنے پر وہ تینوں بے حد خوش تھے – وہ رسپانس کرنا چاہتی ہے اسی لیے رسپانس کر پا رہی ہے – میں نے کہا تھا نا اسے زندگی کی طرف لائیں گے تو وہ زندگی کی طرف ائے گی – انشاءاللہ تعالی ایک یا دو ہفتے تک بالکل ٹھیک ہو جائے گی فروا ؛ عدیل سکھیتوسکوپ سے فروا کی ہارٹ بیٹ چیک کرتا دیا اور بالاج سے بولا جس پر ان دونوں نے انشاءاللہ کہا تھا –
##################################
زبرش فرح کہ کمرے میں موجود تھی – وہ اس کے ساتھ اس کی شادی کی شاپنگ جو چچی کر کء لائی تھیں اسے سیٹ کرتے الماری میں رکھ رہی تھی کہ تبھی اسے الماری میں کسی لڑکی کی تصویر نظر ائی – فرح یہ کون ہے ؟؟ زبرش نے وہ تصویر اٹھا کر فرح سے پوچھا – یہ ؟؟
یہ کائنات ہے زوریز کی بہن اور میری بہت اچھی دوست تھی یہ – مگر اس کی ڈیتھ ہو گئی ہے – فران نے اس کے ہاتھ میں کائنات کی تصویر دیکھتے دکھ ہی لہجے میں اسے بتایا تو زبرش کے دماغ میں فورا زوریز کی وہ باتیں ائی تھیں جس میں وہ کہہ رہا تھا کہ بالاج نے میری بہن مجھ سے چھین لی اس کی وجہ سے اس کی بہن نے موت کو گلے لگایا – کیا ہوا تھا اسے ؟؟
زبردست ایک اور سوال پوچھا جبکہ اس کے سوال پر فرح کچھ نہ بولی تھی – کیا باتیں لے کر بیٹھ گئی ہو زبرش ادھر بیٹھو بیڈ پر مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے – فرح اس کے ہاتھ سے تصویر پکڑ کر واپس رکھتی اس کے ساتھ بیڈ پر بیٹھی تھی – تم مجھے یہ بتاؤ تمہیں بالکل برا نہیں لگ رہا کہ میری شادی زوریز سے ہو رہی ہے ؟؟
فرح نے اس سے پوچھا تو زبرش نے اس کی بات پر اس کو خالی نظروں سے دیکھا تھا – مجھے کیوں برا لگے گا بھلا ؟؟ مجھے بالکل بھی برا نہیں لگ رہا وہ تمہارے بچپن کے منگیتر ہیں ایک نہ ایک دن تو تم دونوں کی شادی ہونی ہی تھی –
زبرش کی بات پر فرح نے اسے گھور کر دیکھا تھا جبکہ کوئی اور بھی تھا جو باہر کھڑا ان کی گفتگو سن رہا تھا – تم پاگل ہو زبرش میں اس کی منگیتر ہوں لیکن تم اس کی بیوی ہو منگیتر اور بیوی میں بہت فرق ہوتا ہے –
تم چاہو تو تم روک سکتی ہو یہ شادی مگر تمہیں تو کوئی واسطہ ہی نہیں ہے جیسے – فرح نے اس کی عقل پر افسوس کرتے کہا – مجھے نہیں روکنی یہ شادی ویسے بھی تمہاری اور زوریز کی جوڑی بہت اچھی لگے گی –
زبرش نے مسکرا کر اسے دیکھتے کہا جب کہ تبھی زوریز جو باہر کھڑا ان کی باتیں سن رہا تھا اندر ایا تھا – فرح تم ذرا باہر جاؤ مجھے بات کرنی ہے زبرش سے – زوریز فرح سے بولا جبکہ نظریں اس کی زبرش پر ہی ٹکی ہوئی تھیں – زوریز کے کہنے پر فرح فورا کمرے سے باہر چلی گئی تھی جب کہ اس کے باہر جاتے ہی زوریز نے زبرش کو دونوں کندھوں سے تھاما تھا –
کیا کہہ رہی تھی تم ابھی ؟؟ تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا میرے اور فرح کی شادی کرنے سے ، تم پر سوتن پڑنے سے – زوریز نے اپنی گھورتی نظریں اس کے چہرے پر جمائے سختی سے پوچھا تو زبرش نے بنا اس کی گھورتی نظروں کی پرواہ کیے اس کے برابر انکھوں میں انکھیں ڈالیں تھیں اور اپنے کندھوں سے اس کے ہاتھ ہٹائے تھے –
جی بالکل میں نے یہی کہا کہ مجھے فرق نہیں پڑتا اور فرح تو کیا اپ جس سے مرضی شادی کریں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا – رہی بات سوتن کی تو میں ونی میں ائی ہوئی لڑکی ہوں اور ونی پر کبھی سوتن نہیں پڑتی – زبرش نے بنا ڈرے اس کی بات کا جواب دیا تھا جبکہ اس کی بات پر زوریز کو اور غصہ ایا تھا –
کیوں نہیں پڑتا تمہیں فرق ؟؟ تمہیں فرق پڑنا چاہیے اخر تم میری بیوی ہو نکاح میں ہو میرے میرے بچے کی ماں بننے والی ہو – اگر تم مجھے کہو کہ میں یہ شادی نہ کروں تو میں ابھی روک بھی سکتا ہوں یہ شادی – زوریز کو یہ بات غصہ دلا رہی تھی کہ زبرش کو کیوں فرق نہیں پڑتا تھا اس کے اور فراح کی شادی پر –
اس لیے وہ بے چین ہو رہا تھا – فرق وہاں پڑتا ہے سردار جہاں محبت ہوتی ہے جہاں کسی کو کھونے کا ڈر ہوتا ہے اور مجھے نہ تو اپ سے محبت ہے نہ ہی اپ کو کھونے کا ڈر اور میں کیوں کہوں اپ سے کہ اپ شادی نہ کریں میں بالکل بھی نہیں کہوں گی کہ اپ یہ شادی نہ کریں بلکہ میری طرف سے اپ فرح سے شادی کریں یا کسی اور سے مجھے کوئی لینا دینا نہیں ہے –
زبرش اس کی انکھوں میں انکھیں ڈال کر مضبوط لہجے میں کہتی اس کی سائیڈ سے ہو کر گزرتی کمرے سے نکل گئی تھی جبکہ پیچھے زوریز کا بس رہی چل رہا تھا وہ کمرے کی ساری چیزیں تہس نہس کردے –
بابا کی جان کیسی ہے ؟؟ اس نے ایک نظر محبت سے اپنی سوئی ہوئی بیوی کو دیکھا اور پھر اس کے پیٹ پر ہونٹ رکھتا بولا – اسے بہت ہی زیادہ بے چینی تھی کہ کب اس کی اولاد دنیا میں ائے گی اور کب وہ اسے گود میں اٹھائے گا –
یار بابا کی جان جلدی سے اس دنیا میں ا جاؤ نا تمہاری ماں بہت ہی زیادہ چالاک ہے بالکل بھی اسے تمہارے باپ کی قدر نہیں ہے اور نخرے تو تمہاری ماں کے سانس ہی نہیں لیتے – اس لیے اب جلدی سے اس دنیا میں ا جاؤ تاکہ بابا کی ٹیم میں ا سکو- ویسے یار ایک بات ہے مجھے یہ تو بتاؤ اپ میرے پرنس ہو یا میری پرنسز ہو ؟؟
بابا کو تو بتا دو نا تاکہ بابا کوئی پیارا سا نام سوچ سکے اپ کے لیے اور پھر ہم نے روم بھی تو ڈیکوریٹ کروانا ہے اب کا – وہ اس کے پیٹ پر کان رکھتا ہلکی آواز میں بول رہا تھا جیسے اس کی اس کی اولاد اسے جواب دے گی –
اس کا لہجہ بہت آہستہ تھا کہ کہیں اس کی بیوی کی نیند نہ خراب ہو جائے جبکہ اس کا انداز بالکل ایسے تھا جیسے اندر پل رہا وجود اس سے باتیں کر رہا ہوں – اچھا چلو مجھے لگتا ہے اپنی ماں کی طرح تم بھی سو رہے ہو اور تمہارا باپ ہی ہے جو رات کو الوں کی طرح جاگ رہا ہے –
چلو پھر میں بھی سو جاتا ہوں خدا حافظ میرا پیار بچہ – وہ اپنی بیوی کے پیٹ پر ہونٹ رکھتا بولا اور پھر خود بھی بیڈ پر لیٹتا تھوڑا اگے ہو کر اپنی کل کائنات کو کس کر ہگ کرتا انکھیں بند کر گیا -ڈجبکہ اس کی بیوی کے چہرے پر مسکراہٹ ائی تھی – وہ صرف سونے کا بہانہ کر رہی تھی درحقیقت تو اس کی ساری گفتگو سن رہی تھی جو وہ اپنی اولاد سے کر رہا تھا –
زبرش کی پریگننسی کو ساتواں مہینہ لگا ہوا تھا – فرح اس کا بہت زیادہ خیال رکھتی تھی – اسے یہاں ا کر اقرا کی کمی تو بہت محسوس ہوئی لیکن فرح نے اس کمی کو پورا کرنے کی پوری کوشش کی تھی –
زبرش کبھی کبھی حیران ہو جاتی فرح کا رویہ دیکھ کر کہ اخر وہ اتنی کیسے بدل گئی لیکن جو بھی تھا وہ یہ بات دل سے تسلیم کرتی تھی کہ فرح دل کی بہت اچھی ہے – ایک ہفتے بعد زوریز اور فرح کا نکاح تھا – وہ کہتی تو تھی کہ نہیں پڑتا فرق پر اسے پڑتا تھا فرق –
بہت زیادہ پڑتا تھا مگر وہ چپ تھی ، بے حس بنی تھی – وہ لاؤنج میں بیٹھی تھی کہ تبھی پیاس کی طلب ہونے پر اس نے کچن کا رخ کیا تھا – کچن کی جانب جاتے ہوئے وہ فرش پر گرا ہوا پانی نہ دیکھ سکی جو شاید ملازمہ سے گرا تھا – فرش کافی سلپری تھا جب کہ پانی گرنے کی وجہ سے اور زیادہ سلپری ہو گیا تھا بے دھیانی میں زبرش اسی جگہ سے گزرنے لگی تھی کہ اس کا پاؤں بری طرح سے سلپ ہوا اور وہ کمر کے بل نیچے گری تھی –
اگلے ہی لمحے پوری حویلی اس کی درد سے بھری چیخوں سے گونج اٹھی تھی – زوریز جو خدا کی کرنی سے ابھی حویلی میں ہی تھا اس کی چیخوں پر بھاگتے ہوئے کمرے سے باہر نکلا تھا – زرتیز کے نیچے پہنچنے تک فرا اور چچی بھی اپنے کمروں سے باہر ا گئی تھی – فرح نے بھاگ کر زبرش کو تھاما جو درد سے بے ہال ہو رہی تھی –
جلدی ائیں زوریز مجھے لگتا ہے ہمیں ابھی اسی وقت زبرش کو ہاسپٹل لے کر جانا ہوگا – فرح درد سے تڑپتی زبرش کو سنبھالتی بولی جب کہ زریتز نے زبرش کے پاس پہنچتے ہی اسے گود میں اٹھا لیا تھا – میرا بچہ زوریز میرا بچہ ! اتنی تکلیف میں ہونے کے باوجود زبرش کو اس وقت صرف اپنے بچے کی فکر تھی جب کہ زوریز اور فرح کے تو ہاتھ پاؤں ہی پھولے ہوئے تھے –
چچی بس خاموش تماشائی بنی وہیں لاؤنج وہیں کھڑی رہی تھیں لیکن فرح بھاگ کر زوریز کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ زوریز کے ساتھ کسی اور کا ہونا بہت ضروری ہے –
ہاسپٹل جاتے ہی ڈاکٹر نے زبرش کو ایڈمٹ کر لیا تھا – ان کے مطابق زبرش کا ابھی اپریشن ہونا تھا جبکہ زوریز اور فرح کافی پریشان تھے کیونکہ ابھی تو ساتواں مہینہ چل رہا تھا اور ایسے میں زبرش کا گر جانا اور اوپر سے اپریشن –
وہ دونوں بس دعا ہی کیے جا رہے تھے کہ زبرش اور بچے دونوں میں سے کسی کو کچھ نہ ہو – ڈاکٹر کے کہنے پر کانپتے ہاتھوں سے زوریز نے فارم فل کرتے ان پر سائن کیے تھے جبکہ فرح نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے اسے تسلی دی تھی –
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial