The Creature’s Love

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 26

دن یونہی تیزی سے گزر گۓ جو کہ عرشیہ کو لگ رہا تھا کہ دن بہت آہستہ سے گزر رہے ہیں۔۔آخر اللّٰہ اللّٰہ کرکے اتوار بھی آ ہی گیا ازمیر نے اپنی اور عرشیہ کی پیکنگ رات میں ہی کر لی تھی۔۔۔اتوار کو دوپہر ایک بجے کی فلائٹ تھی عرشیہ تو ہواؤں میں اڑ رہی تھی خوشی اس کے چہرے سے صاف چھلک رہی تھی۔۔۔جب سے وہ یہاں آئ تھی ازمیر نے ایک دن بھی اسے اتنا خوش نہیں دیکھا تھا جتنا وہ آج واپس جانے کے لیے ہو رہی تھی۔۔۔ہو گئ تیار؟ ازمیر نے آکر پوچھا۔۔۔عرشیہ نے ہاں میں گردن ہلائی۔۔۔اور ازمیر نے سرا سامان گاڑی میں رکھوایا اور عرشیہ کو اٹھا کر گاڑی میں بٹھایا اور خود بھی ساتھ میں بیٹھ گیا اور ڈرائیور کو چلنے کے لیے کہا۔۔۔وہ انہیں ائیر پورٹ کے لیے نکل گۓ ڈرائیور انہیں وہاں چھوڑ کر واپس ہو گیا۔۔کچھ ہی دیر میں فلائٹ کی اناؤسمنٹ ہو گئی اور وہ لوگ پاکستان کے لیے روانہ ہو گئے۔۔۔وہ لوگ آٹھ گھنٹے کی لمبی فلائٹ کے بعد پاکستان پہنچ چکے تھے۔۔ ازمیر نے اپنی آمد کا ٹائم گھر والوں کو نہیں بتایا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ عرشیہ کو ائیرپورٹ پہ کوئی اس حالت میں دیکھے۔۔۔اس نے کیب کروائی اور گھر کے لیے روانہ ہو گیا۔۔۔کچھ ہی دیر میں وہ گھر کے گیٹ کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔بیل دینے پہ گارڈ نے گیٹ کھولا اور خوش ہوتے سلام کیا جس کا جواب ازمیر نے مسکراتے ہوئے دیا۔۔۔وہ دروازے پہ کھڑا تھا ساتھ میں وہیل چئیر پہ عرشیہ تھی۔۔عرشیہ نے سر اٹھا کر ازمیر کی طرف دیکھا اور آنکھوں کے اشارے سے تسلی دیتے ہوئے دروازہ کھولنے کے لیے کہا ازمیر نے جیسے ہی ہاتھ بڑھا کر دروازہ کھولا تو سب ہی سامنے ہال میں بیٹھے ہوۓ تھے دروازہ کھلنے کی آواز پہ جب ادھر دیکھا تو خوشی سے سب کھڑے ہوگئے۔۔۔اور جلدی سے ملنے کے لیے اٹھے لیکن جیسے ہی عرشیہ کو وہیل چئیر پہ بیٹھے دیکھا تو شب شاکڈ ہو گئے اور وہیں پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگے۔۔۔سب سے پہلے زارا کو ہوش آیا وہ بھاگ کر عرشیہ کی طرف آئ یہ کیا ہو گیا میری بیٹی کو کیسے ہوا یہ سب؟ وہ روتے ہوئے عرشیہ کا چہرہ ہاتھوں میں پکڑ کر بول رہی تھی۔۔۔وہ زارا ماما اس سے پہلے ازمیر کچھ بولتا کہ عرشیہ نے ازمیر کا چپکے سے سب کی نظروں سے بچا کر ہاتھ پکڑ کر دبایا۔۔۔ازمیر نے اس کی طرف دیکھا تو عرشیہ نے نہ میں گردن ہلائی اور ایک کاغذ ان کے سامنے کر دیا۔۔وہ کاغذ جلدی سے عادل نے پکڑ کر اونچی آواز میں پڑھا جس پہ لکھا تھا۔۔۔میرا اور ازی کا بہت سیریس ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا۔۔۔جس میں ازی کوما میں چلے گئے۔۔اور میری آواز کے ساتھ ساتھ ٹانگیں بھی پیرا لائز ہو گئیں۔۔تقریباً دو سے تین ماہ تک ازی ہاسپٹل میں رہے اور میں بھی ہوش اور بے ہوشی کی حالت میں رہی جب ازی کو ہوش آیا تو وہ پہلے میری طرف آۓ اور اپنی طبیعت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مجھے سنبھالنے لگے۔۔۔اور دن رات ایک کرکے مجھے ٹھیک کرنے میں لگے رہیں نہیں تو میں بالکل ژندہ لاش بن کے رہ گئ تھی۔۔جو ہل بھی نہیں سکتی تھی۔۔جیسے جیسے عادل خط پڑھ رہا تھا سب کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے سب ہی رو رہے تھے۔۔۔ہمارے بچے اتنی تکلیف میں تھے اور ہمیں کچھ بھی پتا نہ تھا ان سن نے ازمیر اور عرشیہ کو گھیرے میں لیا اور بہت روۓ۔۔۔میں نے کہا بھی تھا میرا دل بہت گھبرا رہا ہے بچوں کو پتا کرواؤ لیکن کوئی سنے تو تب نا۔۔۔عائشہ نے روتے ہوئے کہا۔۔۔اور مجھے بھی برے برے خواب آتے تھے تو سب کہتے کہ وہم ہے تمہارا اب پتا چلا کہ ماں کو کچھ وہم نہیں ہوتا بچے کو تکلیف ہو تو سات سمندر پار بیٹھی ماں کو اپنے بچے کی تکلیف کا احساس ہو جاتا ہے۔۔۔مصطفٰی صاحب جو کہ کب سے خاموش تھے اٹھے اور ازمیر کو خود میں بھینچا اور عرشیہ کو بھی پیار کرتے ہوئے رو رہے تھے۔۔۔آئم سوری بیٹا میری وجہ سے تمہیں اتنی تکلیف ہوئی اگر میں روک لیتا تو شاید یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔۔تو عرشیہ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور نفی میں سر ہلایا۔۔۔ماما عرشیہ کے لیے زیادہ بیٹھنا ٹھیک نہیں ہے پہلے ہی اتنا لمبا سفر کرکے آئی ہے اور اب بھی آپ لوگوں نے سزا دی ہوئی ہے۔۔۔ازمیر نے مذاق کرتے ہوئے کہا تو سب ہنس دیے ہاں ہاں کیوں نہیں چلو تم جاؤ میں عرشیہ کو اس کے روم میں لے جاتی ہوں۔۔۔نہیں مام آپ ہمارے لیے کھانا بھجوا دیں میں اسے اوپر لے جاتا ہوں میں نے آپ ے روم میں بھی تو جانا ہی ہے۔۔تو سب اس کی چالاکی پہ ہنس پڑے۔۔۔جاؤ لے جاؤ ازمیر عرشیہ کی وہیل چئیر دھکیلتا ہوا اوپر لے گیا۔۔۔کمرے میں لے جا کر اسے اٹھا کر بیڈ پہ بٹھایا اور خود بھی پاس بیٹھ کر اسے گلے سے لگالیا۔۔۔۔تھینک یو سو مچ مائ کرسٹل ڈول۔۔موسٹ ویلکم۔۔تم نے جھوٹ کیوں بولا؟ ازمیر نے پیچھے ہوکر اسے دیکھا۔۔۔آپ میرا اتناااااا سارا خیال رکھ سکتے ہیں تو کیا میں آپ کا ساتھ دیتے ہوئے جھوٹ نہیں بول سکتی؟ عرشیہ نے ازمیر کا موبائل لے کر اسے ٹائپ کرکے کہا تو وہ ہنسنے لگا۔۔۔ہاؤ سویٹ آف یو۔۔اس کا گال کھینچتے ہوئے ازمیر نے کہا تو عرشیہ بھی مسکرانے لگی چلو میں اپنے روم میں جاتا ہوں فریش ہو لوں میں بھی بہت تھک گیا ہوں۔۔اور ویسے بھی اب میں سکون سے آرام کروں گا اور سوؤں گا بھی اب تم پہ میری ذمہ داری تھوڑی کم ہو گئی ہے بلکہ یہ کہہ لو کہ نہ ہونے کے برابر کیونکہ اب زارا ماما لوگ سب خود ہی تمہارا خیال رکھ لیں گے تو عرشیہ نے گھور کر اس کے بازو پہ تھپڑ لگایا۔۔۔عرشیہ کی اس حرکت سے ازمیر خوشی اور حیرانگی کے ملے جلے تاثرات سے دیکھنے لگا۔۔۔وہ یہاں آکر بہت خوش تھی اور ازمیر اس کی خوشی میں خوش تھا۔۔۔کچھ ہی دیر میں زارا عرشیہ اور ازمیر کے لیے کھانا لے کر آئ۔۔وہ عرشیہ کے روم میں آئ تو کھانا رکھ کر ۔۔۔ازمیر کہاں ہے عرشیہ؟ تو عرشیہ نے اشارے سے بتایا کہ وہ اپنے روم میں ہے۔۔۔بیٹی کو اشاروں میں بات کرتے ہوئے دیکھ کر زارا کی آنکھیں ایک دفعہ پھر سے نم ہو گئیں تو عرشیہ نے باہیں پھیلا کر انہیں اپنے پاس بلایا تو زارا نے اسے گلے سے لگایا کتنی ہی دیر عرشیہ کو بازوؤں میں لے کر روتی رہی۔۔عرشیہ آہستہ سے الگ ہو کر اس کے آنسو صاف کرتی ہے اور ناں میں گردن ہلا کر رونے سے منع کرتی ہے۔۔۔زارا جلدی سے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے میں میں ازمیر کو بلاتی ہوں پھر دونوں اکٹھے کھانا کھا لینا۔۔تو وہ اثبات میں سر ہلاتی ہے اور زارا جلدی سے اٹھی اور ازمیر کے روم کی طرف بڑھی۔۔۔اور اسے کھانے کے لیے بلایا

Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial