The Creature’s Love

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 27

زارا ازمیر کے روم میں داخل ہوئی۔۔۔ازمیر ڈریسنگ ٹیبل کے پاس کھڑا تھا جیسے ہی مڑ کر دیکھا تو۔۔۔ارے زارا ماما آئیں نا وہاں کیوں کھڑی ہیں۔۔۔وہ میں تمہیں بلانے آئی تھی عرشیہ کے روم میں کھانا رکھا ہے آکر کھا لو۔۔۔جی بس پانچ منٹ میں آیا۔۔۔لیکن بیٹا عرشیہ تو دو منٹ بھی رکنے کو تیار نہیں ہے اسے روک کر کر آئی ہوں کہتی اگر دو منٹ میں تم نہ آۓ تو میں شروع کر لوں گی۔۔۔جاؤ خود بھی کھا لو اور اسے بھی کھلا دو۔۔۔ہاہاہا وہ بھی نہ بھوک کی کچھ زیادہ ہی کچی ہے۔۔۔چلیں اور ازمیر زارا کے ساتھ ہی چل پڑا۔۔۔عرشیہ کے روم کے باہر رک کر۔۔۔تم چلو میں چاۓ لے کر آتی ہوں۔۔۔جیسے ہی ازمیر روم میں داخل ہوا تو عرشیہ کی نظریں دروازے پہ ہی اٹکی ہوئی تھیں۔۔۔ازمیر کو دیکھ کر اس نے دونوں ہاتھ دعا کی صورت میں منہ پر پھیرے تو ازمیر ہنسنے لگا۔۔۔لگتا ہے میری ڈول کو کچھ زیادہ ہی بھوک لگی ہوئی ہے ازمیر نے کھانا اٹھا کر بیڈ کی طرف لے جاتے ہوئے کہا تو عرشیہ نے اپنے دونوں ہاتھ کھول کر بتایا کہ اتنی ساری بھوک لگی ہے۔۔۔ہمم چلو پھر آں کرو ازمیر نے روٹی کا نوالہ بناتے ہوۓ کہا عرشیہ نے وہ نوالہ کھاتے ہوئے اسے سمجھایا کہ میں خود ہی کھا لوں گی۔۔۔آپ کھا لو۔۔۔ہمم ٹھیک ہے۔۔اور دونوں ہلکی پھلکی باتوں میں کھانا کھانے لگے جس میں باتیں تو صرف ازمیر ہی کر رہا تھا عرشیہ تو بے چاری اشاروں میں ہی سمجھ اور سمجھا رہی تھی۔۔۔جس کو محسوس کرتے ہوئے ازمیر کا دل تڑپ رہا تھا۔۔۔میرا دل کرتا ہے جن لوگوں نے تمہاری یہ حالت کی ہے ان کو قبر سے نکال کر دوبارہ سے سزا دوں۔۔ازمیر دل ہی دل میں کیا اور غصّے میں اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔۔۔عرشیہ نے اچانک اس کی طرف دیکھا تو اس کے چہرے کی سختی دیکھ کر ڈر گئی۔۔۔اسے لگا کہ شاید اس سے کوئی غلطی ہو گئی ہے جو بالکل نارمل بیٹھے بیٹھے کو غصّہ آ گیا۔۔۔ازمیر نے یونین سوچتے ہوئے عرشیہ کو دیکھا تو اس کے چہرے پہ خوف دیکھتے ہوئے خود کو کوسا اور خود کو نارمل کیا۔۔ارے کیا ہوا میری کرسٹل ڈول کو ایسے ڈری ہوئی کیوں ہو؟ آپ غصّے میں کیوں ہیں اس نے ڈرتے ڈرتے ہوۓ اشارے سے پوچھا۔۔ازمیر مسکرانے لگا۔۔۔ارے نہیں میں اپنی سویٹ ڈول پہ غصّہ نہیں کر رہا تھا تم ٹینشن نہیں لو۔۔یہ سن کر عرشیہ نے گہرا سانس لیا۔۔چلو اب میڈیسن کا ٹائم ہو رہا ہے کہاں ہیں میڈیسن؟ آپ کے پاس تھیں۔۔او ہاں میں ابھی لے کر آتا ہوں اور ازمیر اٹھ کر میڈیسن لینے چلا گیا۔۔۔ہیلو کزن شایان شہیر فیروز صنم عائزہ اور عریشہ سب ہی اس کے روم میں ٹپک پڑے۔۔ارے تمہیں پتا ہے اب ہمیں کوئی باتیں سنانے والا نہیں ہے۔۔پہلے تو بہت پٹر پٹر زبان چلتی تھی نہ اب ہم تمہیں اتنا کچھ کہا کریں گے اور تم کچھ نہیں کہہ سکتی شایان نے اسے چھیڑا۔۔۔تمہیں پتا ہے یہ جو تم ہم بزرگوں کے آگے اتنی لمبی زبان چلاتی تھی نا اس کی سزا ہے۔۔۔اور ہم سے بھی تو اتنے پنگے لیتی تھی صنم بولی۔۔اب میں ہوں نا اس کی زبان۔۔ازمیر جو کہ دوائی لے کر آ رہا تھا ان کی باتیں سن کر جواب دیا۔۔۔ارے یہ لو اسے تو ہم بھول ہی گئے۔۔عرشیہ سے تو دس باتیں سنتے تھے اس سے تو بیس سننیں پڑیں گی۔۔فیروز نے کہا۔۔۔میری ایک ہی بیس کے برابر ہوگی۔۔ہاں یہ بھی ہے۔۔ابھی وہ کچھ اور بحث کرتے عرشیہ نے ہاتھ اٹھا کر سب کو چپ کروایا اور خود پیپر اور پین اٹھا کر کچھ لکھنے لگی اور ازمیر کو دیا کہ ان سب کو پڑھ کر سنائے۔۔۔ازمیر نے پیپر پکڑا اور اونچی آواز میں پڑھنے لگا جس میں لکھا تھا کہ اگر میں بول نہیں سکتی تو کیا ہوا آپ سب کی سن کر میں لکھ کر آپ لوگوں کو جواب دیا کروں گی اور پھر سونے پہ سہاگہ کہ آپ لوگ خود اپنے ہی منہ سے خود کو برا بھلا کہا کرو گے۔۔ہاہاہاہا ویلڈن میری شیرنی ازمیر نے قہقہہ لگاتے ہوۓ اسے ایک بازو کے حصار میں لیتے ہوۓ اسے اپنے ساتھ لگایا۔۔۔ارے یہ کتنی تیز ہے اس کے پاس تو ہر چیز کا سلیوشن ہے شہیر نے کہا تو عرشیہ نے فرضی کالر جھاڑا اور پھر سب لوگ ہی ہنسنے لگے۔۔۔عرشیہ ہماری دعا ہے کہ تم جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ تاکہ ہم دوبارہ سے زبان درازی کا مقابلہ کر سکے کہ کس کی زبان کتنی لمبی ہے باتیں سنانے میں۔۔۔۔عریشہ نے کہا تو سب نے مل کر آمین کہا۔۔۔اور پھر ہماری شادی پہ ڈانس بھی تو کرنا ہے کیوں شہیر فیروز نے کہا تو شہیر نے بھی ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ہاں ہاں بالکل۔۔ان دونوں کی بات سن کر صنم اور عائزہ سرخ پڑیں جسے دیکھ کر عرشیہ ہنسی اور آنکھوں کے اشارے سے شہیر لوگوں کو دکھایا تو سب نے ان کی طرف دیکھ کر قہقہہ لگایا۔۔۔اف کتنا شرماتی ہو تم دونوں عریشہ نے کہا تو شایان نے اس کی طرف دیکھا کیوں تم نہیں شرماتی۔۔اس کے اچانک پوچھنے پہ عریشہ کا منہ کھل گیا پھر جلدی سے خود کو سنبھال کر۔۔ن نہیں تو میں میں نہیں شرماتی۔۔۔اچھا چلو دیکھیں گے۔۔۔شایان کے معنی خیزی سے کہنے پر عریشہ کو اپنے کان جلتے ہوئے محسوس ہوۓ۔۔۔اور باقی سب بھی دبی دبی ہنسی ہنسنے لگے۔۔عریشہ نے خود پر سو صلواتیں بھیجی کہ اس نے ایسی بات ہی کیوں کی۔۔۔عرشیہ یہ لو میڈیسن کھاؤ ازمیر نے عریشہ کی حالت دیکھتے ہوئے سب کا دھیان بھٹکایا۔۔عرشیہ نے چپ چاپ میڈیسن لی اور کھا لی۔۔چلو بھئ سب لوگ اٹھو اور کہیں اور جا کر ڈیرہ جماؤ میری بیوی کا اب آرام کا ٹائم ہو رہا ہے۔۔ازمیر نے سب کو کہا۔۔۔ازمیر بھائی آپ کتنے بے مروت ہیں کیسے سب کو بھگا رہے ہیں۔۔۔ہاں میں عرشیہ کے معاملے میں بدتمیز, بے مروت, بد اخلاق, سب کچھ ہوں۔۔۔اب آپ لوگ پلیز جائیے یہاں سے ازمیر نے کہا تو سب عرشیہ کو باۓ بولتے اس کے روم سے نکل گئے اور ازمیر نے اسے لیٹنے کا کہا اور لیٹنے میں اس کی مدد کرتے ہوۓ اس کا کمبل ٹھیک کیا۔۔چلو سو جاؤ اب اوکے۔۔تو عرشیہ نے بھی ہاں میں سر ہلا کر آنکھیں بند کر لیں کیونکہ تھکاوٹ کی وجہ سے وہ خود بھی سونا چاہتی تھی۔۔ازمیر نے زیرو پاور لائٹ آن کی اور باقی لائٹس بند کر دی تاکہ وہ سکون سے سوئی رہے خود نیچے آیا۔۔۔زارا ماما۔۔ازمیر نے زارا کو آواز دی۔۔۔جی بیٹا وہ ازمیر کے پاس آئیں۔۔۔ماما عرشیہ سو گئ ہے لیکن آپ اس کے پاس چلی جائیں وہ سوتے ہوۓ ڈر جاتی ہے اور پینک ہونے لگتی ہے اس لیے ہر وقت اس کے پاس کسی نہ کسی کا ہونا ضروری ہے۔۔۔ٹھیک ہے بیٹا میں چلی جاتی ہوں اور زارا کچن میں ثمینہ کو سارا کام سمجھانے کے بعد خود عرشیہ کے روم میں چلی گئی اور آہستہ سے اس کے ساتھ ہی لیٹ گئی۔۔۔
💫💫💫
ازمیر اب مصطفیٰ کے روم میں جاتا ہے دروازہ ناک کرتے ہوئے اندر کی جانب بڑھتا ہے ارے آؤ آؤ برخوردار میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا۔۔۔اور سناؤ کیسے ہو؟ جی میں تو ٹھیک ہوں لیکن آپ بہت کمزور لگ رہے ہیں خیریت۔۔۔ہاں تمہارے جانے کے بعد بس طبیعت ٹھیک نہیں رہتی۔۔اچھا اب مجھے اصل بات بتاؤ کہ لندن میں کیا ہوا؟ اور مجھے صرف سچ سننا ہے کیونکہ مجھے پتا ہے عرشیہ نے جو بتایا وہ سب جھوٹ ہے۔۔۔ازمیر ان کی بات سن کر گہری سانس خارج کرتا ہے۔۔۔اور الف تا ے ساری روداد سنا دیتا ہے کہ کیا کیا ہوا ان کے ساتھ اور سب سے برا تو عرشیہ کے ساتھ ہوا ہے جو کہ ابھی بھی اسی حادثے کی زد میں ہے۔۔۔یہ سب سن کر مصطفیٰ صاحب کو بہت دکھ ہوا اور عرشیہ کے لیے تو ان کا دل بہت دکھا۔۔۔اب ڈاکٹر کیا کہتے ہیں؟ ڈاکٹر نے میڈیسن دی ہے اور کہا ہے یہ میڈیسن کھانے کے ایک ماہ بعد دوبارہ سے ایک ٹیسٹ ہوگا جس سے پتا چلے گا کہ آواز بنا آپریشن کے آسکتی ہے یا آپریٹ لازمی ہے۔۔۔اور چلنے کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ جیسے جیسے دوائی کا اثر ہوگا اس کے ساتھ ساتھ کسی فزیو تھراپی کا بھی انتظام کرنا ہوگا تو بہت جلد افاقہ ہوگا۔۔۔ٹھیک ہے میں کسی بیسٹ فزیو تھراپی کا پتا کرتا ہوں تم ٹینشن نہ لو سب ٹھیک ہو جاۓ گا مصطفیٰ صاحب نے اس کے کندھے کو تھپتھپاتے کہا تو ازمیر نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔چلیں دادا جانی میں مام ڈیڈ سے بھی مل لوں وہ کب سے میری راہ دیکھ رہے ہوں گے۔۔۔ہاں ہاں ماں تمہاری نے تو خود کو رو رو کے ہلکان کر لیا تھا۔۔۔جاؤ ملو ان سے۔۔۔ازمیر اٹھ کر اپنی مام ڈیڈ کے روم کی طرف بڑھتا ہے کمرے کے سامنے رک کر دروازہ بجاتا ہے۔۔کم ان ارتضیٰ کی آواز آتی ہے۔۔۔ازمیر اندر کی طرف جھانکتا ہے۔۔۔ہیلو مام ڈیڈ۔۔ارے ازمیر آؤ نا باہر کیوں کھڑے ہو۔۔۔وہ میں سوچ رہا تھا کہ کہیں ڈیڈ رومینٹک موڈ میں نہ ہوں اور میں خوامخواہ کباب میں ہڈی بن جاؤں جس کی وجہ سے ڈیڈ مجھے گالیاں دے رہے ہوں۔۔۔ازمیر کی بات سن کر جہاں عائشہ کے کانوں سے دھواں نکلنے لگا وہیں ارتضیٰ کا جاندار قہقہہ برآمد ہوا کہاں برخوردار تمہاری ماں بہت ظالم ہو گئی ہے۔۔۔عائشہ نے ارتضیٰ کو گھورا شرم نہیں آتی آپ کو یوں اپنی اولاد کے سامنے چھچھورا پن دکھاتے ہوۓ اور ازمیر کا کان پکڑتے ہوئے شرم تو نہیں آتی تمہیں اپنے ڈیڈ سے الٹی سیدھی بکواس کرتے ہوئے۔۔۔آؤچ مام میرا کان نہ اتار دینا پھر اتنا ہینڈسم لڑکا بنا کان کے کیسا لگے گا۔۔۔پھر عائشہ نے ازمیر کو خود میں بھینچا۔۔بیٹا آئندہ ہمیں یوں چھوڑ کر مت جانا اگر آئندہ تم مجھے چھوڑ کر گئے تو میرا مرا ہوا منہ دیکھو گے۔۔اوہو مام ایسی باتیں نہیں کرو میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔۔۔اور شاید یہ سب جو ہمارے ساتھ ہوا یہ آپ لوگوں کا دل دکھانے کی ہی سزا ملی ہے۔۔۔نہیں بیٹا ایسا نہیں بولتے کچھ چیزیں آزمائشیں بھی ہوتی ہیں جو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اتارتا ہے ہمیں آزمانے کے لیے کہ ہم کتنے صابر اور ثابت قدم رہتے ہیں۔۔۔ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہم اللّٰہ تعالیٰ کی دی ہوئی آزمائش پر پورا اتریں تاکہ وہ ہمیں آزمائش کے بعد اعلیٰ انعام سے نوازے۔۔۔تھینک یو مام آپ نے میرے دل کا بوجھ ہلکا کردیا۔۔ازمیر نے اپنی ماں کو خود کے ساتھ لگا کر ان کے بالوں کو چوما تو وہ ہنس پڑی۔۔۔اور بیٹا آدھا انعام تو تمہیں مل ہی چکا ہے۔۔۔ارتضٰی نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر کہا تو ازمیر سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھنے لگا کہ کون سا انعام تو ارتضیٰ نے مسکرا کر بولے بیٹا جانی جیسے عرشیہ نے آج تمہارا ساتھ دیا نہ وہ انعام ہی تو ہے حالانکہ اصل بات تو کچھ اور ہی ہے۔۔۔جو تم لوگ بتانا نہیں چاہتے لیکن خیر جو بھی ہوا لیکن تم لوگ صحیح سلامت واپس آ گئے ہمارے لیے یہی کافی ہے۔۔۔تو ازمیر حیران نظروں سے ان کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔بیٹا اتنا حیران نہ ہو میں باپ ہوں تمہارا تم نہیں۔۔۔تو ازمیر ہنسنے لگا یو آر گریٹ ڈیڈ اور ازمیر ان کے گلے لگ گیا۔۔۔یس آئ ایم انہوں نے ہنستے ہوئے کہا
💫💫💫
عرشیہ اور ازمیر کو آۓ ہوۓ تقریباً ایک ماہ ہو گیا تھا سب اس کا بہت خیال رکھ رہے تھے اس کے لیے ایک فزیوتھراپسٹ کا انتظام بھی کر لیا تھا جو روز آکر اس کی تھراپی کرتی تھی۔۔کچھ دنوں بعد ازمیر نے اس کے وہ سارے ٹیسٹ کرواۓ جو لندن کے ڈاکٹر نے کہے تھے اور انہیں فارورڈ کر دیے۔۔۔اور ڈاکٹر کے ریپلائے کا ویٹ کر رہا تھا۔۔۔تقریباً دو دن بعد ڈاکٹر نے پوری طرح تسلی کرنے کے بعد اور اپنے سنئیرز سے مشورے کے بعد ازمیر کو خوشخبری دی کہ وہ بہت جلدی ٹھیک ہو جاۓ گی جسے سن کر ازمیر کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔۔۔ازمیر نے سارے گھر والوں کو یہ خبر دی اور لندن جانے کے تیاریوں میں لگ گیا۔۔۔اس نے یہ بات عرشیہ کو نہیں بتائ تھی ابھی۔۔۔رات کو سب اکٹھے بیٹھے ہوۓ تھے۔۔۔میں سوچ رہا ہوں کہ شہیر اور فیروز کی شادی کردی جاۓ گھر میں رونق بھی لگ جاۓ گی کیا خیال ہے سب کا مصطفیٰ صاحب نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔۔۔ویری گڈ آئیڈیا عریشہ نے کہا۔۔۔ٹھیک ہے بابا سائیں جیسے آپ کو مناسب لگے ویسے بھی اب عائزہ اور صنم کی سٹڈی بھی کمپلیٹ ہوگئ ہے تو میرے خیال سے یہ بہتر رہے گا مرتضیٰ نے مصطفیٰ صاحب کی تائید کرتے ہوئے کہا۔۔۔صنم اور عائزہ تو اٹھ کر اپنے اپنے روم میں چلی گئیں۔۔ادھر بڑے سب ڈیٹ فکس کرنے لگے تو ایک ماہ بعد کی ڈیٹ فکس ہوگئی۔۔اب نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی تو سائرہ کچن کی طرف گئی سب کے لیے چاۓ بنا کر ساتھ میں مٹھائی بھی منگوا لی اور سب کا منہ میٹھا کروایا۔۔
💫💫💫
شادی کی تیاریاں زور و شور سے چل رہی تھیں سب بزی تھے سواۓ عرشیہ کے اسے رہ رہ کر اپنی حالت پہ رونا آ رہا تھا۔۔۔کیا ہوا؟ وہ نیچے ہال میں ہی افسردہ بیٹھی ہوتی ہے جب ازمیر اسے دیکھتے ہوئے بولا تو وہ اور زیادہ رونے لگتی ہے۔۔اسے روتا دیکھ سب اس کی طرف آتے ہیں۔۔۔کیا ہوا میری بیٹی کو ایسے کیوں رو رہی ہے؟ عادل نے گھبراتے ہوئے پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ شادی انجوائے نہیں کر سکتی اور سب رشتے دار اس پہ ترس کھائی ہوئ نظروں سے دیکھیں گے۔۔۔میں کمرے سے باہر ہی نہیں نکلوں گی۔۔۔ازمیر اس کے پاس بیٹھا تمہیں پتا ہے کہ ایک ماہ کے بعد کا ٹائم کیوں رکھا۔۔کیونکہ ہم لوگ پرسوں لندن جا رہے ہیں تمہارے گلے کا چھوٹا سا آپریشن ہوگا جس سے تمہاری آواز واپس آجاۓ گی اس کے بعد کچھ ہی میڈیسن لینے بعد تم پہلے کی طرح چلنا شروع کر دو گی۔۔۔تو عرشیہ حیران نظروں سے ازمیر کو دیکھتی ہے تو وہ ہاں میں سر ہلاتا اس کے آنسو صاف کرتا ہے۔۔اب نہیں رونا بالکل بھی سمجھی؟ عرشیہ وہ ہاں میں سر ہلاتے ہوئے چپ کر جاتی ہے اور مسکرانے لگتی ہے
اگلے دن ہی ازمیر لندن جانے کی ساری تیاری کر رہا ہوتا ہے۔۔زارا ماما عرشیہ کی پچھلی ساری رپورٹس بھی دے دیں مجھے۔۔۔ٹھیک ہے بیٹا میں ابھی لے کر آئ۔۔زارا عرشیہ کی ساری رپورٹس وغیرہ لے کر آتی ہے اور ازمیر کو دیتی ہے۔۔ماما اس کی ساری پیکنگ وغیرہ کر دیں تاکہ نکل ہم لوگ ٹائم سے نکل جائیں اور کوئی چیز بھول نہ جائیں۔۔ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔عادل پاپا نے تیاری کر لی اپنی۔۔۔ہاں انہوں نے بھی ساری تیاری کر لی ہے۔۔۔ہمم گڈ ہو گیا۔۔۔اگلے دن عادل اور ازمیر سب سے مل کر لندن جانے کے لیے نکلتے ہیں سب عرشیہ کو دعاؤں میں رخصت کرتے ہیں جبکہ زارا تو باقاعدہ رو رہی ہوتی ہے۔۔۔عرشیہ ان سے مل کر ان کے آنسو صاف کرتی ہے اور ان کے گلے لگتی ہے۔۔۔زارا اس کا منہ چومتے ہوۓ اس زور سے گلے لگاتی ہے۔۔۔عادل نے آکر اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔۔۔بس کرو کیوں بچی کو پریشان کر رہی ہو دیکھنا جب ہم واپس آئیں گے تو یہ بول بول کر تمہارا سر کھا لے گی اور تم کہو گی پہلے ہی ٹھیک تھی۔۔ اللّٰہ نہ کرے کیسی باتیں کر رہے ہیں تو سب ہنستے ہیں اور وہ لوگ گاڑی میں بیٹھ کر ائیر پورٹ کے لیے نکل جاتے ہیں
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial