قسط: 28
وہ تینوں لندن پہنچے تو ائیرپورٹ پہ پہلے ہی ڈرائیور گاڑی لے کر کھڑا تھا کیونکہ ازمیر نے وہاں سب کو پہلے ہی انفارم کر دیا تھا تاکہ کسی قسم کا کوئی بھی مسئلہ پیش نہ آۓ۔۔گاڑی میں بیٹھتے ہوئے وہ لوگ ازمیر مینشن پہنچے ازمیر نے سب کا سامان ان کے کمروں میں رکھوایا اور پھر عادل کو ان کا کمرہ دکھاتے ہوئے کہا چھوٹے پاپا آپ فریش ہو جائیں میں تب تک کھانا لگواتا ہوں۔۔۔اوکے بیٹا۔۔ہانا پہلے ہی عرشیہ کو روم میں لے گئ تھی۔۔۔میم آپ کو پتا ہے آپ کے جانے کے بعد تو میں بہت اداس ہوگئ تھی اور ٹینشن بھی تھی کہ اب آپ کے جانے سے میری جاب بھی چلی جاۓ گی لیکن جب میں نے ازمیر سر سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ تم ادھر ہی رہو گی اور گھر کی دیکھ بھال کرنا۔۔تو مجھے سکون ہوا۔۔۔اب آپ دوبارہ آگئی ہیں تو میں بہت خوش ہوں۔۔۔عرشیہ مسکرانے لگی اور باتوں ہی باتوں میں ہانا نے عرشیہ کو فریش کرواتے ہوئے چینج کروا کے بیڈ پہ لٹانے میں ہیلپ کرنے لگی تو عرشیہ نے اشارے سے کہا کہ اب میں خود بیٹھ بھی سکتی ہوں اور لیٹ بھی۔۔۔رئیلی میم ہانا نے خوش ہوتے پوچھا تو عرشیہ نے مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔ہانا عرشیہ کو لے آؤ کھانا لگ گیا ہے۔۔وہ تینوں کھانا کھا رہے تھے۔۔ڈاکٹر کے ساتھ کتنے بجے کی اپائنٹمنٹ ہے کل؟ عادل نے پوچھا۔۔۔صبح دس بجے کی ہے پہلے وہ مکمل چیک اپ کریں گے اس کے بعد آپریشن کا ٹائم اور ڈیٹ بتائیں گے ازمیر نے تفصیلی بتایا۔۔۔ہمم ٹھیک ہے۔۔۔اس دوران عرشیہ آرام سے اپنے دھیان کھانا کھاتی رہی۔۔۔عرشیہ نے کھانا کھا لیا تو ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔۔کیا چاہئیے؟ ازمیر نے پوچھا۔۔۔اس نے ہانا کا پوچھا تو ازمیر نے آواز دی۔۔۔ہانا فوراً آئ۔۔۔یس سر۔۔۔تو عرشیہ نے اسے کہا کہ میں روم میں جانا چاہتی ہوں۔۔ہانا اسے لے جانے لگی لیکن ازمیر نے روک لیا روکو میے لے جاتا ہوں اسے میڈیسن بھی دینی ہے ازمیر اسے روم میں لے کر جاتا ہے اور اسے میڈیسن دینے کے بعد چلو اب آرام کر لو اتنا لمبا سفر کرنے کے بعد تھک گئی ہوگی اسے لٹاتے ہوۓ اس پہ بلینکٹ دے کر چلا جاتا ہے عادل بھی کھانا کھانے کے بعد اپنے روم میں آرام کرنے کے لیے چلا جاتا ہے۔۔۔ازمیر ہانا کو عرشیہ کے روم میں بھیج کر خود اپنے روم میں جا کر لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ جاتا اور اپنا کام ختم کرنے کے بعد آٹھ کر عرشیہ پہ ایک نظر ڈال کر اسے سوتا ہوا دیکھ خود بھی سونے کے لیے اپنے روم میں لیٹ جاتا ہے اور کچھ ہی دیر میں سو جاتا ہے ۔۔
چلو چلو جلدی سے تیار ہو جاؤ عرشیہ پھر چلیں ڈاکٹر کے پاس جانا ہے ازمیر عرشیہ سے بولتا خود بھی تیار ہونے چلا جاتا ہے۔۔۔میم کون سا ڈریس نکالوں ہانا پوچھتی ہے۔۔۔کوئ بھی نکال دو کیا فرق پڑتا ہے عرشیہ نے لکھا۔۔۔ہانا نے ایک مہرون کلر کا ٹاپ ساتھ میں بلیو جینز اور بلیو اینڈ مہرون کے امتزاج کا سٹالر نکالا اور عرشیہ کو پہنانے میں ہیلپ کرتے ہوۓ اس کی ٹیل پونی بنا کر ہلکا کہ گلوز لگا کر اسے نک سک سا تیار کردیا۔۔۔واؤ میم آپ تو اتنے میں ہی بہت پیاری لگنے لگی اگر فل تیار ہوں گی تو ازمیر سر تو پاگل ہی ہو جائیں گے۔۔۔ہانا کی بات سن کر عرشیہ مسکرانے لگی۔۔۔اتنی دیر میں ازمیر روم میں آیا اور جلدی میں پوچھنے لگا عرشیہ تیار۔۔۔جب عرشیہ کی طرف دیکھا تو سارے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے اور نظریں پلٹنا بھول گئیں۔۔۔ہانا چپکے سے باہر چلی گئی۔۔۔ازمیر آہستہ آہستہ سے اپنے مضبوط قدم اٹھاتے ہوئے عرشیہ کی طرف بڑھا اور پنجوں کے بل اس کے قریب بیٹھ گیا۔۔۔بیوٹیفل جسٹ لایک اے فیری۔۔۔اور اس کے ماتھے پہ لب رکھ دیے۔۔۔۔عرشیہ نے اس کی نظروں اور لمس کی تاب نہ لاتے ہوئے گھبرا کر اس کا کندھا ہلایا۔۔۔تو ازمیر ہوش میں آیا۔۔۔ہاں۔۔چلیں عرشیہ نے اشارہ کیا تو۔۔۔ہاں ہاں چلو میں تمہیں لینے آیا تھا لیکن تم تو میرے حواسوں پہ ہی چھا گئی آخری بات اس نے دل میں کہی اور خود پہ قابو پاتے ہوئے اس کی وہیل چئیر دھکیلتا ہوا اسے باہر کی طرف لایا جہاں عادل تیار کھڑا ان دونوں کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔ارے آگئی میری بیٹی۔۔تو عرشیہ نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا اور وہ تینوں گاڑی میں بیٹھتے ہوۓ ہاسپٹل کے لیے نکلے۔۔۔ہاسپٹل پہنچ کر ڈاکٹر کے کیبن میں گۓ۔۔۔ارے آئیں مسٹر ازمیر میں آپ لوگوں کا ہی ویٹ کر رہا تھا۔۔۔پلیز ہیو اے سیٹ۔۔۔ڈاکٹر نے مسکراتے ہوۓ کہا اور عرشیہ کو اپنے کیبن میں موجود بیڈ پہ لٹانے کا کہا۔۔۔ازمیر نے عرشیہ کو بیڈ پہ لٹایا اور خود پاس ہی کھڑا ہو گیا ڈاکٹر عرشیہ کا چیک اپ کرنے لگا۔۔۔تفصیلی۔چیک اپ کے بعد ڈاکٹر اپنی سیٹ پہ بیٹھ گیا اور ازمیر نے عرشیہ کو اپنے ساتھ والی چئیر پہ بٹھا دیا۔۔۔دیکھیں مسٹر ازمیر ہم نے بہت کوشش کی کہ ان کی آواز میڈیسن سے ہی آجاۓ لیکن ایسا ہو نہ سکا اس لیے اب ہمیں ان کا ایک چھوٹا سا آپریٹ کرنا پڑے گا جس میں ٪95 چانسز ہیں کہ ان کی آواز واپس آ جاۓ۔۔۔۔اور ٪5؟ ازمیر نے پوچھا تو ڈاکٹر نے لمبی سانس کھینچی پانچ فیصد چانسز نہ آنے کے ہیں۔۔۔ڈاکٹر کی بات سن کر عرشیہ نے گھبرا کر ازمیر کی طرف دیکھا تو ازمیر نے اس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ کے اسے تسلی دی۔۔۔بی پوزیٹو ڈول۔۔۔تم ٪95 کی طرف فوکس کرو نا۔۔۔کچھ نہیں ہوگا انشاء اللّٰہ سب ٹھیک ہوگا اور پھر یہ ڈاکٹر کونسا خدا ہوتے ہیں اصل کام تو اللّٰہ تعالیٰ کا ہے اور ہمیں اس پہ پورا بھروسہ ہے کہ وہ ہمیں مایوس نہیں کرے گا کیوں چھوٹے پاپا آخر میں ازمیر نے عادل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تو عادل نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔۔۔ازمیر بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے عاشو بیٹا تم صرف اللّٰہ پہ بھروسہ رکھو اور سب کچھ اسی پہ چھوڑ دو۔۔۔عرشیہ کو ان کی باتوں سے کچھ ڈھارس بندھی۔۔۔تو بتائیں ڈاکٹر کب آئیں ہم آپریشن کروانے کے لیے؟ ازمیر نے ڈاکٹر کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔اممم آج تھرسڈے ہے تو آپ ایسا کریں کے سٹرڈے کو آجائیں۔۔۔جی ٹھیک ہے۔۔۔اٹھتے ہوۓ ازمیر اور عادل ڈاکٹر سے ہاتھ ملاتے عرشیہ کو لے کر باہر نکلتے ہیں۔۔۔اب وہ لوگ آرتھوپیڈک ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔۔۔ڈاکٹر عرشیہ کی ٹانگوں کا مکمل معائنہ کرتا ہے۔۔۔ویل مسٹر ازمیر پہلے سے کافی اپروومنٹ ہے۔۔۔میں ان کی میڈیسن چینج کر رہا ہوں جس کے استعمال کے بعد آپ کو اور بھی زیادہ اپروومنٹ نظر آۓ گی۔۔۔ڈاکٹر کی بات سن کر عرشیہ کے چہرے پہ خوشی کی رمق ابھرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عادل اور ازمیر دونوں ہی خوش ہو جاتے ہیں۔۔۔تو ڈاکٹر سے پریسکرپشن لے کر باہر آجاتے ہیں۔۔۔عرشیہ آئسکریم کھاؤ گی؟ گھر جاتے ہوئے راستے میں ازمیر نے پوچھا تو عرشیہ نے زور و شور سے ہاں میں گردن ہلائی۔۔۔تو عادل اور ازمیر مسکرانے لگے چلو میں لے کر آتا ہوں۔۔۔ازمیر سب کے لیے آئسکریم لے کر آتا ہے۔۔۔آئسکریم ابھی ختم نہیں ہوتی کہ عرشیہ کو پزا ہٹ نظر آتا ہے تو اس نے عادل کا بازو ہلایا۔۔عادل نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے پزا ہٹ کی طرف اشارہ کیا۔۔ازمیر میری بیٹی نے پزا کھانا ہے۔۔۔اوکے چھوٹے پاپا۔۔۔اس نے گاڑی پزا ہٹ کے سامنے پارک کی اور اندر داخل ہوئے۔۔۔ازمیر نے پزا آرڈر کیا عرشیہ نے مزے سے پزا کھایا۔۔پھر سب لوگ گھر چلے گئے۔۔۔آگۓ آپ لوگ آئیں میم میں آپ کو کمرے تک لے جاؤں ہانا بھاگتے ہوئے آئ اور عرشیہ کو روم میں لے گئ۔۔۔اگلے دن ازمیر عادل کو لے کر اپنے آفس لے گیا اور انہیں اپنا آفس دکھایا سارے سٹاف سے متعارف بھی کروایا۔۔۔عادل ازمیر کی کامیابی دیکھ کر بہت خوش ہو رہا تھا۔۔۔اللّٰہ تمہیں اور زیادہ کامیاب کرے میں بہت خوش ہوں ازمیر کہ تم نے اتنے سے وقت میں کامیابیوں کی بلندیوں کو چھو لیا ہے اسے گلے لگاتے ہوۓ عادل نے کہا۔۔چلیں اب کچھ شاپنگ کر لیں پھر گھر چلیں عرشیہ ویٹ کر رہی ہوگی۔۔۔پھر ازمیر اور عادل نے بہت سی شاپنگ کی اور گھر چلے گئے۔۔۔یہ دیکھو عاشو میں تمہارے لیے کیا لایا ہوں عادل نے عرشیہ کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا اور اس کے لیے لائ ہوئی سب چیزیں دکھائیں۔۔۔
عادل نے گھر فون کیا اور زارا سے بات کی اس کے بعد سب سے بات کی اور ازمیر کے روم میں جا کر چلو ازمیر چلیں جی چھوٹے پاپا عرشیہ کو بھی لے آئیں میں آتا ہوں۔۔۔ٹھیک ہے وہ عرشیہ کو لے کر باہر آۓ اتنے میں ازمیر بھی آگیا اور ہاسپٹل لے آۓ۔۔۔عرشیہ گھبرائ ہوئی تھی۔۔۔ڈاکٹر اسے لیکر آپریشن تھیٹر میں لے گئے۔۔۔عادل اور ازمیر باہر کوریڈور میں کھڑے تھے اور تقریباً دو گھنٹے کے بعد آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلا تو وہ دونوں ڈاکٹر کی طرف بھاگے۔۔۔عرشیہ کیسی ہے ڈاکٹر۔۔تو ڈاکٹر نےاس کا کندھا تھپتھپاتے ہوۓ مبارک ہو آپریشن کامیاب رہا تو ازمیر خوشی سے عادل کے گلے لگ گیا۔۔۔لیکن ابھی اسے زیادہ بولنے مت دینا اور خیال رکھنا کینوہ اونچی آواز میں بالکل بھی نہ بولے اوکے۔۔۔اوکے ڈاکٹر ہم لوگ اس کا بہت خیال رکھیں گے۔۔۔میں گھر کال کر کے بتا کر آتا ہوں۔۔۔اور عادل گھر فون کرنے چلا گیا۔۔۔عرشیہ کو روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا تو ازمیر عرشیہ کے پاس چلا گیا۔۔۔عرشیہ ابھی غنودگی میں تھی ازمیر اس کے پاس بیٹھ گیا اور اسے دیکھنے لگا۔۔۔کچھ دیر بعد عادل بھی روم میں آگیا۔۔۔سو رہی ہے؟ جی ابھی سو رہی ہے۔۔۔مجھے تو بیتابی سے اس کے اٹھنے کا انتظار ہے کہ کب اٹھے اور میں اس کی آواز سن سکوں۔۔۔کان۔ترس گۓ اپنی بیٹی کی آواز سننے کو تو ازمیر نے عادل کو بٹھایا۔۔۔بس تھوڑی سی دیر اور پھر اس کی چٹر پٹر ہی سننی ہے۔۔تو عادل مسکرانے لگا۔۔۔اس کی چٹر پٹر ہی میں تو زندگی ہے عادل نے جواب دیا۔۔۔ہمم چلیں آپ بیٹھ جائیں ادھر ازمیر نے انہیں بٹھا کر خود بھی پاس بیٹھ گیا اور بزنس کی باتیں کرنے لگے لیکن دھیان سارا عرشیہ کی طرف ہی تھا۔۔۔کچھ دیر بعد عرشیہ کو ہوش آئ اور ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔۔عرشیہ میری بچی کو ہوش آگیا۔۔۔کیسی ہو ٹھیک تو ہو نا کہیں گلے میں درد تو نہیں ہو رہا نہ۔۔۔عرشیہ نے ان دونوں کی طرف دیکھا۔۔۔عرشیہ بولو مجھے پاپا بولو نا عادل اسے چھوٹے بچوں کی طرح کہہ رہا تھا۔۔عرشیہ نے بولنے کے لیے منہ کھولا لیکن آواز نہیں نکلی۔۔۔اس نے دوبارہ پھر کوشش کی لیکن بے سدھ۔۔۔وہ دونوں بہت پریشان ہو گئے۔۔۔عرشیہ دوبارہ کوشش کرو ازمیر نے اس کے قریب ہوتے ہوۓ کہا تو عرشیہ نے ایک بار پھر بولنے کے لیے منہ کھولا لیکن پھر بھی وہ نہ بول سکی۔۔۔می میں ڈاکٹر کو بلاتا ہوں ازمیر جلدی سے دروازے کی طرف لپکا۔۔۔پاپا۔۔۔ازی۔۔۔عرشیہ نے مسکرا کر کہا تو وہ دونوں اس کی طرف شاک کی حالت میں دیکھنے لگے۔۔۔ازمیر آہستہ آہستہ اس کی طرف آیا۔۔۔پھر سے بولو۔۔۔ازی۔۔۔تم کبھی نہیں سدھرو گی ہماری جان نکال دی تم نے ازمیر نے کہا۔۔۔تو وہ مسکرانے لگی۔۔۔عادل ابھی تک چپ کرکے بے یقینی کی حالت میں اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔کیا ہوا پاپا آپ ایسے کیوں کھڑے ہیں؟ وہ ابھی آہستہ آہستہ بول رہی تھی۔۔۔عادل نے آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لگایا۔۔۔میری بچی پتا میں ترس گیا تھا تمہارے منہ سے پاپا سننے کے لیے وہ نم آواز میں کہتے ہیں۔۔۔بس اب رونا نہیں پاپا اب تو میں نے پھر سے بول بول کے آپ کا سر کھا لیا کروں گی۔۔۔ہاں ہاں کیوں نہیں عادل نے عرشیہ کے ماتھے پہ بوسہ دیا۔۔۔۔چلیں اب آپ بیٹھیں اور عرشیہ اب تم نہیں بولو گی کیونکہ ڈاکٹر نے کہا ہے کہ ابھی زیادہ بولنا نہیں ہے ورنہ گلے میں تکلیف ہو سکتی ہے تو عرشیہ نے اثبات میں سر ہلایا اور چپ کرکے لیٹے گئی۔۔۔لیکن اسے سکون کہاں تھا پھر سے سر اوپر کیا۔۔ازمیر جو کہ اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔اب کیا ہے؟ مجھے بھوک لگ رہی ہے۔۔۔اس نے معصوم سی شکل بناتے ہوئے کہا۔۔۔رکو میں جوس لے کر آتا ہوں اور وہ جوس لینے چلا گیا۔۔ابھی دروازہ کھولا کہ ایک دفعہ پھر سے آواز آئ دو بوتل لانا۔۔۔ازمیر نے اسے گھوری سے نوازا تو وہ آنکھوں میں شرارت لیے ہنسنے لگی۔۔۔اور ازمیر بھی مسکراتے ہوئے چلا گیا۔۔