The Creature’s Love

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 38

عرشیہ دلہن بنی بیٹھی کو بہت تھکن ہو رہی تھی لیکن اس کی ماں سختی سے منع کرکے گئی تھی کہ اگر ازمیر کے آنے سے پہلے چینج کیا یا تم لیٹی تو میں بہت بری طرح پیش آؤں گی اب وہ روہانسی ہو رہی تھی۔۔۔اللّٰہ جی آپ تو سب کچھ کر سکتے ہیں نہ تو یہ سسٹم بھی الٹا کر دیں آپ ایسا کر دیں کہ دلہے کو دلہن کا بیٹھ کر انتظار کرنا پڑے نا کہ دلہن کو آمین۔۔۔ازمیر جو کہ روم میں داخل ہو رہا تھا اس نے عرشیہ کی دوا سنی تو ہنسنے لگا۔۔۔اور ایسا کیوں کہہ رہی ہے میری کرسٹل ڈول؟ آپ آگۓ کتنی دیر لگا دی آپ نے میں کتنا تھک گئی ہوں اور یہ لہنگا بھی کتنا اریٹیٹ کر رہا ہے زرا بھی کمفرٹیبل فیل نہیں ہو رہا اور اوپر سے بیٹھ بیٹھ کر کمر اکڑ گئی۔۔۔عرشیہ نے ازمیر کو دیکھتے ہی شکایتوں کی پٹاری کھول لی۔۔۔اور وہ مسکراتے ہوئے اس کی ساری شکایات سن رہا تھا۔۔۔تو میری جان تم چینج کرکے لیٹ جاتی تم کیوں ان کمفرٹیبل ہو کر بیٹھی رہی۔۔۔جی جی بالکل وہ جو ہے نا آپ کی ساسو ماں اور میری جلاد ماں وہ مجھے سختی سے منع کرکے گئی تھیں اور پھر منع کرنے کے باوجود بھی دو دفعہ چیک کرنے آئی کہ کہیں میں نے ان کی نا فرمانی تو نہی نہیں کی۔۔۔ازمیر نے ہلکا سا قہقہہ لگایا۔۔۔اچھا اچھا بس کرو نا اب سوری یار جو تمہیں اتنا انتظار کرنا پڑا۔۔۔ہمم اچھا چلیں ٹھیک ہے اور ایکسیپٹڈ۔۔۔اوہ تھینک یو۔۔۔کیا اب میں چینج کر سکتی ہوں؟ ارے مجھے پہلے دل بھر کے دیکھنے تو دو اتنی پیاری سی بیوی کو۔۔۔عرشیہ منہ بنا کر بیٹھ گئی۔۔۔ازمیر نے اپنی پاکٹ سے ایک کیس نکالا اور عرشیہ کے سامنے کھول دیا۔۔اس میں بہت خوبصورت پینڈنٹ تھا ڈبل ہارٹ شیپ میں جس میں ڈبل اے لکھا ہوا تھا۔۔۔ارے واہ یہ تو بہت پیارا ہے۔۔ہاں پیارا تو ہوگا کیونکہ یہ میری عرشیہ کے لیے ہے نا تو پیارا ہی لینا تھا۔۔۔ہاں جی یہ بھی ہے۔۔۔چلو اب چینج کر لو پھر آکر سو کاؤ صبح کالج بھی جانا ہے۔۔۔ازمیر نے کالج والی بات جان بوجھ کر کی تھی اس کے ری ایکشن پہ۔۔۔کیاااااا؟ صبح کالج جانا ہے۔۔۔ازی آپ پاگل ہو گۓ ہیں کیا؟ ایک دن کی دلہن کو آپ کالج بھیج رہے ہیں۔۔۔ایسی کون سی دلہن ہے جو اپنی شادی کے اگلے ہی دن کالج جوائن کرتی ہے بتائیں مجھے زرا۔۔۔وہ ہے تو نہیں لیکن ہو گی مسز عرشیہ ازمیر۔۔۔ازمیر نے اس کے تاثرات سے محفوظ ہوتے کہا۔۔۔نو وے میں بھی نہیں جاؤں گی ویسے بھی صبح ولیمہ ہے تو میں تو قطعی نہیں جاؤں گی اور اگر آپ نے زیادہ فورس کیا تو میں دادا جانی کے پاس آپ کو شکایت کردوں گی اور اپنے سامنے آپ کی پٹائی کرواؤں گی کتنا مزہ آۓ گا نہ ایک دن کے دلہے کو اس کے ولیمے والے دن مار پڑ رہی ہوگی۔۔۔ہاہاہا عرشیہ تصور کرتے ہوۓ کھلکھلائ۔۔۔اب میں چینج کرکے آتی ہوں۔۔۔عرشیہ چینج کرنے گئ تو ازمیر گہرا سانس لیتے ہوۓ ایسے ہی بیڈ پہ ڈھے گیا۔۔۔کچھ ہی دیر میں عرشیہ چینج کرکے ہلکا پھلکا ڈریس پہن کر آگئ۔۔۔افف اب سکون آیا۔۔۔کتنا مشکل ہے نا دلہن بننا۔۔۔ویسے اگر اتنے ہیوی لہنگے لڑکوں کو پہننے پڑ جائیں تو کیسے لگیں گے۔۔۔وہ کھڑی سوچتے ہوئے بولی۔۔۔ازمیر اٹھ کر اس کے پاس آیا۔۔ان۔فضول سوچوں کو سوچ کر اپنے ذہن پہ زور مت دو۔۔ایویں زیادہ ہی خرچ نہ ہو جاۓ پھر ڈاکٹر کیسے بنو گی۔۔۔کوئ بات نہیں اگر زیادہ خرچ ہو گیا تو تھوڑا سا آپ سے لے لوں گی ویسے بھی آپ کے پاس وافر مقدار میں ہے۔۔۔چلیں میں تو سونے لگی ہوں۔۔۔مجھے میرا حق دیے بغیر ہی ازمیر نے اس کے کان میں سر گوشی کی۔۔۔ح حق کیسا حق؟ عرشیہ کی زبان لڑکھڑائ۔۔۔کیوں تمہیں نہیں پتا کہ کیسا حق؟ میاں بیوی کے کچھ حقوق ہوتے ہیں۔۔۔م می میں تو نہیں جانتی کسی بھی قسم کے حقوق کے بارے میں۔۔۔اچھا پھر تمہارے الفاظ کیوں ٹوٹ رہے ہیں اور زبان۔کیوں لڑکھڑا رہی ہے ازمیر کو عرشیہ کی حالت لطف دے رہی تھی۔۔۔عرشیہ چپ کر گئی اور گردن جھکا لی۔۔۔ازمیر مسکراتے ہوئے اس کا چہرہ تھوڑی سے پکڑ کر اوپر کرتا ہوا ہے لیکن عرشیہ کی نظریں جھکی ہوتی ہیں وہ آنکھیں نہیں اٹھاتی۔۔ازمیر اس کے ہونٹوں پہ ہلکی سی جسارت کرتے ہوۓ جاؤ سو جاؤ میں مذاق کر رہا تھا میں بھی چینج کر لوں۔۔۔عرشیہ جلدی سے بیڈ پہ لیٹ کر کمبل منہ تک تان لیتی ہے اس کی سپیڈ اور کمبل اوڑھتے دیکھ ازمیر کے چہرے پہ مسکراہٹ ابھرتی ہے اور وہ سر نفی میں ہلاتے ہوۓ ڈریسنگ روم میں جا کر چینج کرکے آتا ہے اور بیڈ کی دوسری سائیڈ پہ لیٹ کر عرشیہ کو کھینچتے ہوئے اپنے حصار میں لیتا ہے اور اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے۔۔۔عرشیہ خود کو پیچھے کرنے کے لیے مزاحمت کرتی ہے۔۔اوں ہوں سو جاؤ میری جان کچھ نہیں کہتا میں تمہیں۔۔۔تو کچھ ہی دیر بعد عرشیہ کے چھوٹے چھوٹے خراٹے سنائی دیتے ہیں اور ازمیر بھی مسکراتے ہوۓ سو جاتا ہے۔۔۔
💫💫💫
اگلے دن صبح پہلے ازمیر کی آنکھ کھلتی ہے تو وہ عرشیہ کو اٹھاتا ہے عرشیہ اٹھو نیچے سب انتظار کر رہے ہوں گے۔۔کیا ہے ازی کبھی تو سکون سے سونے دیا کرو۔۔ٹائم دیکھو کتنا ہو گیا ہے اور تم نے ولیمے کے لیے تیار نہیں ہونا کیا؟ بس آدھا گھنٹہ اور پلیززززز۔۔۔نو آدھا گھنٹہ کیا آدھا منٹ بھی نہیں۔۔۔چلو اٹھو شاباش۔۔۔وہ منہ بسورے اٹھتی ہے اور شکایتی نظروں سے ازمیر کو دیکھتی ہے۔۔ازی آپ بہت خراب ہو گئے ہیں سونے بھی نہیں دیتے۔۔وہ اٹھتی واشروم میں جا کر فریش ہوتی ہے لیکن بنا چینج کیے نیچے جانے لگتی ہے۔۔۔ایک منٹ رکو ازمیر اسے جاتے دیکھتا ہے تو اسے روکتا ہے۔۔۔اب کیا ہے؟ چلو پہلے ڈریس چینج کرو اپنا حلیہ درست کرو پھر میرا انتظار کرو جب میں آجاؤں تو پھر اکٹھے نیچے جائیں گے۔۔۔کیا ہے ازی اب صبح صبح کون اتنا تیار ہوتا ہے؟ وہ روہانسی ہوتی ہے۔۔۔سب دلہنیں ہوتی ہیں۔۔۔اور وہ اسے کندھوں سے پکڑ کر دھکا لگاتے ہوۓ ڈریسنگ روم میں دھکیلتا ہے جہاں اسے چار و ناچار چینج کرنا پڑتا ہے جب باہر آتی ہے تو ازمیر تیار بیٹھا تھا ازمیر اسے پکڑ کر ڈریسنگ ٹیبل کے پاس بٹھاتا اس کے بال سلجھا تا ہے پھر اسے پنک کلر کیونکہ اسٹک پکڑتا ہے کہ لگاؤ اسے وہ بے دلی سے پکڑ کر لگاتی ہے۔۔۔ہمم اب کاجل بھی لگاؤ۔۔۔کاجل لگانے کے بعد ہمم اب ٹھیک ہے۔۔۔چلو آؤ وہ اپنا بازو فولڈ کرکے اس کے آگے کرتا ہے جسے وہ تھام کر نیچے کو جاتے ہیں۔۔نیچے ناشتے پہ سب ان کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔۔۔اسلام و علیکم ازمیر سب کو مشترکہ سلام کرتا ہے اس کے بعد عرشیہ بھی سلام کرتی ہے۔۔آؤ بیٹا بیٹھو ناشتہ کرو۔۔۔دونوں بیٹھے ناشتہ کرنے لگتے ہیں۔۔عریشہ اور شایان تو پہلے سے وہاں موجود ہوتے ہیں۔۔۔ناشتے کے بعد ازمیر تو باہر اپنے سب کزنز کے پاس چلا جاتا ہے جو ولیمے کی تیاریاں کر رہے ہوتے ہیں جبکہ عرشیہ اور عریشہ دونوں صنم لوگوں کے پاس بیٹھ جاتی ہیں۔۔۔صنم ان دونوں کو ان کے ڈریسز دکھاتی ہے جو عریشہ کو تو بہت پسند آتا ہے لیکن عرشیہ دیکھ کر منہ ناک چڑھانے لگتی ہے۔۔۔کیا ہوا عرشیہ تمہیں پسند نہیں آیا ڈریس۔۔۔آپی کوئی کیجوئل ڈریس نہیں ہے پتا اتنا ہیوی ڈریس پہن کر اتنی دیر بیٹھنا پڑتا ہے مجھے بہت ایڑٹیشن ہوتی ہے۔۔۔اوہو پرنسس یہ تو دلہنوں کو پہننا پڑتا ہے۔۔۔کیا مصیبت ہے میرا بس چلے تو میں تو یہ قانون نکالوں کہ سب نے لائٹ ڈریس پہننے ہیں جس نے کامدار یا زیادہ ہیوی ڈریس پہنے دس سال کی جیل۔۔۔اس کی بات سن کر سب ہنسنے لگے پاگل ہو تم بھی۔۔
💫💫💫
عرشیہ اور عریشہ دونوں کو پارلر لے جاتے ہیں اور دلہے دونوں گھر پہ ہی تیار ہو رہے ہوتے ہیں۔۔ولیمہ شروع ہوتا ہے اور ان چاروں کو سٹیج کی طرف لایا جاتا اور رسمیں ادا کی جاتی ہیں۔۔۔ازی۔۔ہاں۔۔مجھے تو بھوک لگ رہی ہے۔۔رکو میں کھانا لے کر آتا ہوں۔۔۔ازمیر سٹیج سے اتر کر کھانے والی ٹیبل سے تھوڑا سا کھانا پلیٹ میں ڈالتا ہے۔۔۔ارے بھکڑ تھوڑا صبر کر لے۔۔فیروز اسے کہتا ہے۔۔۔میں تو کر لوں لیکن میری ڈول کو بھوک لگ رہی ہے اور میں اسے بھوکا نہیں رکھ سکتا۔۔۔اوہ اچھا۔۔۔ایک تو بہت بھوکی ہے تمہاری بیوی۔۔۔خبردار ایک لفظ بھی بولا اس کے خلاف نہیں تو بہت برا ہوگا۔۔۔اوکے بابا سوری سوری۔۔ہمم ٹھیک ہے۔۔۔ازمیر کھانا لے جا کر عرشیہ کے آگے رکھتا ہے اور عرشیہ جلدی سے کھانے لگتی ہے سب ان دونوں کو حیرانگی سے دیکھتے ہیں۔۔کیا ہے سب ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں اپنا اپنا کھانا کھاؤ نہ میرے کھانے پہ کیوں نظریں گاڑھ لیں عرشیہ کی بات سن کر سب لوگ کھانے میں مصروف ہو جاتے ہیں جبکہ زارا عرشیہ کی طرف آتی ہے۔۔عرشیہ یہ سب کیا ہے؟ کیا ہوا ماما عرشیہ معصومیت سے پوچھتی ہے۔۔۔تم میں تھوڑا بھی صبر نہیں ہے۔۔ماما پلیز مجھے بھوک لگ رہی تھی اور میں کھانا کھانے لگی یہ اتنی بڑی بات تو نہیں جو اتنا ایشو کر رہے ہیں۔۔زارا ماما صحیح کہہ رہی ہے آپ جا کر مہمانوں کو دیکھیں تو وہ نفی میں سر ہلا کر چلی جاتی ہیں۔۔۔عریشہ آپی آپ بھی کھا لو یہ سب تو ایسے ہی ہیں
۔۔نہیں مجھے بھوک نہیں ہے تم کھاؤ۔۔تو وہ کندھے اچکا کر پھر سے کھانے کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے۔۔۔ولیمے کا فنکشن ختم ہوتا ہے تو عریشہ اور عرشیہ کو انکے رومز میں چھوڑ آتے ہیں۔۔۔عرشیہ کمرے میں آکر فوراً ہی چینج کرنے لگتی ہے۔۔شکر ہے یہ سب ختم ہوا اور لیٹ جاتی ہے۔۔کچھ ہی دیر میں وہ سو جاتی ہے۔۔۔ازمیر کمرے میں آتا ہے تو اسے سوتا ہوا دیکھ مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلاتا چینج کرنے چلا جاتا ہے اور آکر ابھی وہ لیٹتا ہی ہے کہ آج پھر اس پہ اس کی پاورز حاوی ہو جاتی ہیں وہ جلدی سے عرشیہ کی طرف دیکھتا ہے وہ گہری نیند میں ہوتی ہے۔۔۔وہ خود پہ کنٹرول کرتے ہوئے اٹھتا ہے اور جلدی سے اپنی خفیہ بیسمنٹ میں چلا جاتا ہے اور وہاں چیزیں پٹخنے لگتا ہے اور زور زور سے چلاتا ہے تقریباً دو گھنٹے بعد اسے تھوڑا سکون ہوتا ہے۔۔اب اس کی پاورز کا اثر پہلے سے کافی حد تک کم ہو گیا ہوتا ہے لیکن ابھی پوری طرح سے زائل نہیں ہوتا۔۔۔اسے لگتا ہے کہ وہ اب کچھ ہی دیر میں نارمل ہو جاۓ گا اور خود پہ کنٹرول کر لے گا اسی سوچ کے تحت وہ بیسمنٹ سے اپنے روم میں آتا بیڈ پہ عرشیہ کے سرہانے بیٹھ کر اس کے چہرے کی طرف غور سے دیکھتا ہے۔۔عرشیہ کے نیم وا ہونٹ اسے اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں لیکن وہ خود پہ کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے۔۔لیکن کوشش زیادہ دیر کام نہیں کرتی اور خود پر سے ضبط کھوتے ہوۓ وہ عرشیہ کے ہونٹوں پہ جھک جاتا ہے اس اچانک افتاد پر عرشیہ کی نیند کھل جاتی ہے۔۔۔اور وہ مزاحمت کرنے لگتی ہے۔۔۔ازمیر اس کے مزاحمت کرتے ہاتھوں کو پکڑ کر تکیے سے پن کرتا ہے لیکن عرشیہ کی سانسوں کو آزادی نہیں بخشتا وہ اسے قطرہ قطرہ اپنے اندر اتارتا ہے یہاں تک کہ عرشیہ کی سانسیں مدھم ہونے لگتی ہیں۔۔۔جب ازمیر کو محسوس ہوتا ہے کہ عرشیہ کوئی حرکت نہیں کر رہی ہے تو جلدی سے پیچھے ہوتا ہے اور اسے اپنے ساتھ لگا کر اس کا سانس بحال کرتا ہے۔۔۔عرشیہ کی سانسیں بہت مدھم چل رہی ہوتی ہیں وہ ایک بار پھر اس پہ جھکتا ہے لیکن اس دفعہ اس کی سانسیں پینے کے لیے نہیں بلکہ اس کو سانسیں منتقل کرنے کے لیے جھکتا ہے اور کچھ دیر بعد جب عرشیہ کی سانس بحال ہوتی ہے تو عرشیہ اسے پیچھے دھکیلتی ہے۔۔۔ازمیر پیچھے ہوتا اسے دیکھ رہا ہوتا ہے۔۔۔لیکن۔عرشیہ بالکل خاموش ہوتی ہے۔۔ازمیر اسے اپنے سینے سے لگاۓ سوری یار مجھے پتا ہی نہیں چلا۔۔۔اس میں غلطی تمہاری ہے۔۔۔تو وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہوتی اسے گھورتی ہے کہ میری غلطی کیسے؟ تم لگ ہی اتنی پیاری تھی سوتے ہوئے کہ میرا خود پہ کنٹرول ہی نہیں رہا ازمیر اپنی پاورز والی بات چھپا لیتا ہے کہیں عرشیہ ڈر ہی نہ جاۓ۔۔۔اچھا مطلب اب میں سویا بھی نا کروں۔۔۔ایسا تو نہیں بولا میں نے۔۔آپ کا مطلب تو یہی ہے۔۔۔نہیں تو میں تو چاہتا ہوں کہ تم میرے حصار میں سویا کرو۔۔۔ازمیر کی بات سن کر عرشیہ چپ کر جاتی ہے۔۔۔چلو اب آجاؤ میں تمہیں سلاتا ہوں اور ازمیر اسے لے کر لیٹ جاتا ہے اور کچھ ہی دیر میں دونوں پہ نیند کی دیوی ان پہ مہربان ہو جاتی ہے۔۔۔
💫💫💫
شادی کے تیسرے دن ازمیر عرشیہ کو کالج کے لیے تیار کرتا ہے جبکہ وہ ضد کر رہی ہوتی ہے کہ نہیں جانا لیکن ازمیر اس کی ایک نہیں سنتا اور اسے زبردستی تیاری کرواتا ہے سب اس کی حالت پہ ہنس رہے ہوتے ہیں۔۔۔کیا یار کتنا ظالم شوہر ملا ہے لوگوں کے شوہر ان کو شادی کے بعد ہنی مون پہلے جاتے ہیں ایک میرا شوہر ہے مجھے کالج بھیج رہا ہے۔۔کیا قسمت ہے میری بھی۔۔۔سب اس کی دہائیاں سنتے اپنی ہنسی دباتے ہیں۔۔۔ارے اب تم ہو ہی ایک سٹوڈنٹ تو تمہیں کالج ہی بھیجیں گے نا۔۔عریشہ نے کہا تو عرشیہ اسے گھورنے لگی۔۔۔ہاں خود جو فارغ ہو اس لیے باتیں سنائ جا رہی ہیں۔۔۔چلو لڑنا بعد میں پہلے ناشتہ کرو ورنہ لیٹ ہو جائیں گے۔۔۔عرشیہ ناشتہ ختم کرتی ہے اور ازمیر اسے کالج ڈراپ کرنے چلا جاتا ہے۔۔۔
💫💫💫
سب کی زندگی کی مصروفیات بڑھ گئیں تھی سب اپنے اپنے کاموں میں مگن۔ہو گۓ تھے۔۔۔عائزہ کی ڈیلیوری کے دن قریب تھے بس دو چار دن ہی رہتے تھے۔۔۔اور صنم کا ابھی ایک ماہ رہتا تھا۔۔۔سب ہر ٹائم عائزہ کے آس پاس ہی رہتے تھے کہ نا جانے کب اسے سب کی ضرورت پڑجاۓ۔۔۔ابھی دو دن ہی گزرے تھے کہ اچانک ہی عائزہ کی طبیعت خراب ہو گئی۔۔اور وہ رونے لگی صد شکر کہ عائشہ اس کے پاس تھیں وہ جلدی سے سائرہ کو بلا کر لائیں۔۔۔اور وہ دونوں عائزہ کو لے کر ہسپتال پہنچی جاتے ہوۓ انہوں نے فیروز کو بھی کال کر دی تھی جو کہ آفس میں تھا وہ جلدی سے ہاسپٹل پہنچ گیا عائزہ کو لیبر روم میں لے کر گۓ ہوۓ تھے۔۔۔کچھ ہی دیر بعد ڈاکٹر باہر آئ۔۔مبارک ہو آپ لوگوں کو اللّٰہ نے بیٹا عطا کیا ہے۔۔۔ڈاکٹر میری بیوی کیسی ہے۔۔۔شی از فائن ڈاکٹر مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔تو فیروز نے سکھ کا سانس لیا۔۔۔تھوڑی دیر بعد عائزہ کو روم میں شفٹ کر دیا گیا تو وہ سب روم میں اکٹھے ہوگئے ۔۔جب گھر میں سب کو بیٹے کی اطلاع ملی تو سب ہی ہاسپٹل پہنچ گئے۔۔۔سب باری باری بچے کو اٹھا رہے تھے۔۔۔عائزہ آپی اس کا نام کیا رکھیں گی آپ؟ جو تم کہہ دو اس نے پیار سے کہا۔۔۔نہیں اس کا نام بابا سائیں رکھیں گے مرتضیٰ صاحب نے کہا تو سب مصطفیٰ صاحب کی طرف دیکھنے لگے۔۔۔اس کا نام ایمر فیروز رکھیں گے۔۔سب کو نام بہت پسند آیا۔۔۔ٹھیک ہے سن ہوگیا فیروز نے کہا۔۔۔بلو بچو اب آپ سب گھر چلے جاؤ یہاں پہ رش نہ لگاؤ اور پھر ادھر صرف فیروز اور عائشہ رک گۓ اور باقی سب گھر آگۓ اگلے دن عائزہ کو ڈسچارج کر دیا گیا۔۔ عائشہ اور فیروز عائزہ کو لے کر گھر آگۓ۔۔۔گھر میں ننھا مہمان آنے سے کافی رونق لگ گئی تھی سب بچے بڑے اب فیروز کے کمرے پاۓ جاتے تھے عرشیہ بھی جب کالج سے آجاتی تو عائزہ کے روم میں آ جاتی۔۔۔ازمیر عرشیہ کو بلانے آیا اور اسے لے کر روم میں گیا۔۔کیا یار تم ہر وقت عائزہ کے کمرے میں رہتی ہو۔۔۔انہیں بھی پرائیویسی چاہئیے جو کہ تم لوگ بالکل بھی نہیں سمجھ رہے خبردار اب تم اگر ادھر پائی گئی تو جب فیروز آفس میں ہو بس تب جایا کرنا اس کے بعد نہیں سمجھی تو عرشیہ نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔ہمم گڈ گرل
💫💫💫
شایان عریشہ کو سارے گھر میں ڈھونڈ رہا تھا کہ اچانک ازمیر بولا وہ فیروز کے روم میں ہوگی اسے سمجھاؤ کہ انہیں اکیلے بھی ٹائم سپینڈ کرنے دو کیا ہر وقت سب ادھر ہی مجمع لگاۓ رکھتے ہیں۔۔۔ہاں یار یہ تو ہے خیر میں اسے بلاتا ہوں اور سمجھاتا ہوں۔۔۔صنم تو خیر اپنی طبیعت کی وجہ سے اپنے روم میں ہی رہتی تھی۔۔۔صالحہ اور ابیہا بھی کم کم ہی جاتی تھیں وہ اپنے بچوں کے ساتھ مصروف رہتی تھیں۔۔۔بس ضرورت تھی تو عریشہ اور عرشیہ کو سمجھانے کی جنہیں ان کے شوہروں نے کافی اچھے طریقے سے سمجھا دیا تھا۔۔۔اب عائزہ کے روم میں کم کم ہی جاتے تھے سب جس کی وجہ سے فیروز بہت خوش تھا۔۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial