قسط: 39
ازی آج میں کالج نہیں جاؤں گی۔۔۔اور کیوں نہیں جاؤ گی۔۔۔آج میرا موڈ نہیں ہے جانے کا۔۔۔کیوں موڈ نہ ہونے کی کوئی خاص وجہ۔۔۔ازی پلیز نہ۔۔۔نو۔۔کالج تو ہر حال میں ہی جانا پڑے گا۔۔ازی آپ میری کوئی بات نہیں مانتے اور پھر کہتے ہیں جیسا تم چاہو گی ویسا ہوگا عرشیہ نے ازمیر کی نقل کرتے ہوئے کہا۔۔۔ازمیر کو اس کی حرکت پہ ہنسی آئی لیکن روک گیا کہ اگر عرشیہ نے ہنستے ہوۓ دیکھ لیا تو وہ اور بھی ضد پہ آ جاۓ گی۔۔۔ہاں صرف وہی باتیں مانوں گا جو ماننے والی ہوں گی۔۔۔ایسی فضول کی باتیں ماننے کی امید نہ رکھنا۔۔۔ازمیر نے لہجہ سنجیدہ کرتے ہوۓ کہا۔۔۔عرشیہ چپ کر گئی۔۔۔ویسے چھٹی کیوں کرنی ہے کوئی خاص وجہ؟
ایسے ہی میرا دل نہیں کر رہا آج جانے کو لیکن یہاں میرے دل کی پرواہ ہی کسے ہے؟ عرشیہ نے آنکھیں ٹیڑھی کرکے ازمیر کی طرف دیکھا اور اموشنل بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔۔۔ہاں نہیں ہے پرواہ چلو اب جلدی سے ریڈی ہو جاؤ نہیں تو پھر لیٹ ہو جائیں گے۔۔۔ازی میری کسی فرینڈ نے نہیں آنا آج۔۔۔تو؟ ازمیر نے بھنویں سکیڑ کر کہا۔۔۔تو میں بھی نہیں جا رہی بس۔۔۔وہ اب ضدی ہوتے بولی۔۔۔تم خود تیار ہوگی یا میں کروں تمہیں تیار۔۔۔چوائس از یورز۔۔۔جو بھی ہو میں نہیں جاؤں گی۔۔۔ٹھیک ہے مجھ سے بات مت کرنا جو مرضی کرتی پھرو۔۔۔ازمیر اسے کہتا باہر نکل گیا اور عرشیہ یہ سوچ کر دوبارہ سے بستر میں لیٹ گئی کہ فی الحال سو جاتی ہوں۔۔بعد میں منا لوں گی۔۔۔ازمیر ناشتہ کرکے آفس چلا گیا اور عرشیہ لمبی تان کے سو گئی۔۔۔وہ تقریباً دوپہر میں اٹھی تھی اور نیچے آکر اپنی ماما کے پاس گئی۔۔۔ماما مجھے بھوک لگ رہی ہے۔۔تو کچن سے جاکر کچھ کھا لو مجھے کیا کہتی ہے۔۔۔ماما پلیز نا پہلے بھی تو آپ ہی دیتی ہیں کھانا آج کیوں ایسے بیہیو کر رہی ہیں آپ؟ جب تم نہیں کیونکہ بات مانتی تو ہم کیوں مانیں۔۔تم اپنی ضدیں پوری کرو لیکن اپنے کام خود کرو۔۔۔اوہ تو ازی آپ لوگوں سے کہہ کر گیا ہے۔۔۔ٹھیک ہے نہیں دینا کھانا تو نہ دیں میں بھوکی رہ سکتی ہوں وہ غصّے سے دوبارہ روم میں جا کر لاک ہو گئ۔۔۔ازمیر نے صبح آفس جاتے ہوۓ کہا تھا کہ عرشیہ کو کہنا کہ اپنے کام خود کرے تاکہ نیکسٹ ٹائم کوئی بھی فضول سی ضد نہ کرے۔۔۔عرشیہ شام تک باہر نہیں آئی۔۔ازمیر آفس سے آیا تو زارا نے اسے بتایا کہ عرشیہ نے صبح سے کچھ نہیں کھایا اور خود کو کمرے میں بند کیا ہوا ہے۔۔۔اتنا سننا تھا کہ ازمیر غصّے سے روم کی طرف گیا اور روم ان لاک کرتا اندر جاتا ہے۔۔۔عرشیہ یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔میں نے کیا کیا اب؟ زارا ماما نے بتایا کہ تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا اور کمرے میں بند ہو۔۔۔پھر آپ کو کیا مسئلہ ہے آپ نے ہی کہا تھا زارا ماما سے کہ اسے کچھ نہیں دینا۔۔۔میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ خود بھی نہ کھانا۔۔۔بس میری مرضی میں خود سے کھاؤں یا نہ کھاؤں آپ کو اس سے کیا آپ لگائیں پابندیاں۔۔۔اگر میں نے چھوٹی سی ضد کر بھی لی تھی کون سی قیامت آگئی تھی لیکن نہیں نا یہاں تو بس اپنی بات ہی منوانی ہے اگر نہ مانی گئی تو سزا سنا دی جاتی ہے مسٹر ازمیر کی عدالت میں عرشیہ تو جیسے آج سارے حساب کلئیر کرنے کے در پہ تھی۔۔کچھ زیادہ ہی بولنے لگ گئی ہو۔۔۔ہاں بولوں گی۔۔۔چپ بالکل چپ ازمیر نے غصّے سے غراتے ہوئے کہا۔۔۔تو عرشیہ ڈر کر چپ کر گئی۔۔اور منہ پھیر کر بیٹھ گئ۔۔۔ازمیر نے اپنا ماتھا مالا اور آہستہ آہستہ چلتے ہوۓ عرشیہ کے پاس بیٹھ گیا اور اس کا چہرہ پکڑ کر اوپر کیا جو کہ رو رہی تھی۔۔۔سوری ازمیر نے عرشیہ کے آنسو صاف کرتے ہوئے سوری بولا۔۔۔کوئ ضرورت نہیں ہے سارا دن بھوکا رکھا اوپر سے اتنا سارا ڈانٹا بھی اور اب سوری بول کر ساری بات ختم۔۔۔میں نہیں مانتی آپ کے سوری کو۔۔۔اچھا پھر کیسے مانو گی مجھے بتاؤ میں تمہیں ویسے منا لوں گا۔۔۔مجھے آپ آج باہر سے ڈنر کروائیں شاپنگ کروائیں لانگ ڈرائیو پہ لے کر جائیں آئسکریم کھلائیں اور پھر کوئی گفٹ بھی دلوائیں۔۔۔اتنی ساری ڈیمانڈز؟ ہاں جی اگر اس میں سے ایک بھی نہیں پوری ہوئی تو کوئی سوری نہیں ہوگی۔۔۔ازمیر مسکراتے ہوئے ٹھیک ہے جلدی سے تیار ہو جاؤ میں بھی چینج کر لوں پھر چلتے ہیں۔۔۔عرشیہ نے ازمیر کی طرف دیکھا اور خوش ہوتے ہوۓ ازمیر کو گلے سے لگا لیا۔۔۔ازمیر نے بھی بلا تاخیر اسے اپنے حصار میں لے لیا۔۔
شہیر مجھے نا گول گپے کھانے ہیں پلیز مجھے گول گپے لا دیں۔۔۔اچھا تو میری جان ایسا کرتے ہیں دونوں چلتے ہیں گاڑی میں اس طرح تمہاری آؤٹنگ بھی ہو جاۓ گی اور تم گول گپے بھی کھا لینا۔۔۔نہیں میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی آپ ادھر ہی لا دیں۔۔وہ ہی تو کہہ رہا ہوں کہ تمہاری طبیعت بھی ٹھیک ہو جاۓ گی۔۔۔نہیں نا آپ پلیز لا دیں مجھے۔۔۔اوکے میں لا دیتا ہوں اور شہیر کچھ ہی دیر میں گول گپے لے آیا صنم خوش ہوتے ہوئے گول گپے بنا کر کھانے لگی ابھی اس نے دو سے تین گول گپے کھاۓ تھے کہ اس کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی شہیر اس کی حالت دیکھ کر گھبرا گیا۔۔۔شہی شہیر ماما ماما کو بلاؤ صنم نے بمشکل اپنی بات مکمل کی۔۔۔شہیر بھاگتا ہوا اپنی ماما کے پاس گیا اور انہیں صنم کی طبیعت کے بارے میں بتایا تو وہ بھاگتی ہوئی اوپر گئیں دیکھا کہ صنم درد سے بلبلا رہی ہے سائرہ جلدی سے آگے بڑھی اور شہیر کی مدد سے اسے گاڑی تک لے کر آئیں ساتھ انہوں نے عائشہ کو بھی لے لیا اور زارا کو گھر عائزہ کے پاس چھوڑ گئے۔۔۔ہسپتال پہنچے تو ڈاکٹر نے چیک کرتے ہوئے اسے آپریشن تھیٹر میں لے گئیں اور دو سے تین گھنٹے کے آپریشن کے بعد ڈاکٹر مسکراتے ہوۓ باہر آئی مبارک ہو اللّٰہ نے آپ کو بیٹے کی نعمت سے نوازا ہے۔۔۔تو ان سب نے شکر کیا۔۔۔ڈاکٹر صنم کیسی ہے؟ شہیر نے پوچھا۔۔۔وہ بھی بالکل ٹھیک ہے ابھی اسے روم میں شفٹ کردیا جاۓ گا پھر آپ لوگ مل سکتے ہیں۔۔اوکے تھینک یو ڈاکٹر اور پھر صنم کو روم میں شفٹ کر دیا گیا اس کے بعد سب اس سے ملنے آۓ۔۔۔عریشہ نے بے بی کو اٹھایا اور اسے چومنے لگی شایان ہنستے ہوئے اس کے قریب آیا اور اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے فکر نہ کرو جانم بہت جلد ہمارا بھی ایک ایسا پیارا سا بے بی ہوگا شایان کی سر گوشی پہ عریشہ کا رنگ سرخ ہوتا ہے اور وہ بچے کو واپس کارٹ میں لٹا دیتی ہے۔۔۔
ازی عرشیہ ازمیر کے کان کے قریب ہو کر اسے مدھم آواز سے بلاتی ہے۔۔۔ہمم۔۔ازی مجھے بھی ایسا بےبی چاہیے دیکھو نا صنم آپی اور عائزہ آپی کے پاس کتنے پیارے پیارے بےبی ہیں آپ کو نہیں لگتا کہ ہمارے پاس بھی ہونا چاہئے۔۔عرشیہ کی آواز سن کر ازمیر کو اپنی کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے اپنی ہنسی کنٹرول کرتے اس کا چہرہ سرخ ہو جاتا ہے۔۔۔وہ عرشیہ کا ہاتھ پکڑ کر ایکسکیوز کرتا باہر آتا ہے اور گاڑی تک لاتے ہوئے اپنا ضبط کھو دیتا ہے اور ایک دم سے قہقہہ لگا کر ہنستا ہے۔۔۔عرشیہ سچ میں تمہیں بےبی چاہیے؟ اس میں اتنا ہنسنے والی کیا بات ہے؟ عرشیہ برا منا کر کر کہتی ہے۔۔۔یار تم تو ابھی خود کو نہیں سنبھال سکتی تو بےبی کو کیسے سنبھالو گی دوسری بات ازمیر اس کے قریب ہوتے ہوۓ میرا حق دیتے ہوئے تم گھبراتی ہو میرے قریب آنے سے ڈر جاتی ہو تو پھر بےبی کہاں سے آۓ گا؟ ازمیر کی بات سن کر عرشیہ کا سانس لینا دو بھر ہو جاتا ہے۔۔۔کیا ہوا اب چپ کیوں ہو بولو بھی۔۔۔ازی میرا کل پیپر ہے تو گھر چلیں۔۔۔ازمیر اسے بات بدلتے دیکھ مسکراتا ہے چلو اور دونوں گاڑی میں بیٹھ کر گھر آ جاتے ہیں۔۔۔کیسے ہو رہے ہیں پیپرز؟ اچھے ہو رہے ہیں۔۔۔ہمم میرٹ بن جاۓ گا نہ؟ ہاں جی بن جاۓ گا۔۔۔گڈ۔۔۔
عرشیہ کا رزلٹ اچھا آنے کی وجہ سے اسے میڈیکل کالج میں با آسانی ایڈمشن مل گیا تھا۔۔۔عریشہ بھی امید سے تھی۔۔ازمیر نے دادا جانی کو اپنے ساتھ اپنے آفس میں مصروف کر لیا تھا یہ کہہ کر کہ میں ابھی سی ایس او کے لیے پرفیکٹ نہیں ہوں آپ ابھی میرے ساتھ چلیں آہ سے سیکھ کر پھر میں اس قابل بن سکوں گا اور انہیں زبردستی اپنے ساتھ شامل کر لیا تھا۔۔مجھے خوشخبری کب سنا رہے ہو ازمیر؟ مصطفیٰ کے سوال پر ازمیر نے مسکراتے ہوئے ان کی طرف دیکھا۔۔۔بہت جلد۔۔ہمم مصطفیٰ صاحب نے ہنکارا بھرا اور پھر بزنس کی باتیں کرنے لگے۔۔۔
جب سے عریشہ پریگننٹ ہوئی تھی عرشیہ اس کے آگے پیچھے منڈلاتی رہتی اور اسے تنگ کرتی رہتی عریشہ آپو آپ کی ڈیلیوری میں کرواؤں گی بلکہ ایسا کروں گی کہ اپنی فرینڈز کو بھی بلا لوں گی ان کا بھی ڈیلیوری کا تجربہ ہو جاۓ گا۔۔کیا کہتی ہیں ٹھیک ہے نا؟ عرشیہ چپ کر جا کتنا فضول بولتی ہو کوئی نہیں مانے گا کہ تم میڈیکل کی سٹوڈنٹ ہو اور ڈاکٹر بن رہی ہو۔۔۔جو نہیں مانے گا اس کے میں انجکشن لگا دیا کروں گی ہاہاہا۔۔۔اف یا خدا۔۔مجھے تو امیر بھائی پہ ترس آتا ہے کیسے جھیلتے ہیں تمہیں۔۔۔پیار کرنے والے جھیل لیتے ہیں آپ جیسوں کو ہی باتیں آتی ہیں عرشیہ نے اترا کر کہا۔۔۔ہاں تمہاری فضول گوئیوں سے بھی ان کا پیار کم نہیں ہوا حیرت ہے۔۔۔آپ کیوں جیلس ہوتی ہیں۔۔۔اچھا چھوڑیں یہ بتائیں کون سا منتھ ہے آپ کا؟ ساتواں عریشہ نے جواب دیا۔۔۔مطلب ابھی تین ماہ رہتے ہیں۔۔تب تک میرا ایک سال تو ہو ہی جاۓ گا میڈیکل میں مطلب آپ کی ڈیلیوری کرواسکتی ہوں۔۔۔ماما۔۔عریشہ زارا کو آوازیں دینے لگی۔۔۔زارا عریشہ کی آواز سن کر بھاگتی ہوئی آئیں۔۔۔کیا ہوا عریشہ بیٹا تم ٹھیک تو ہو نا۔۔۔ماما میں ٹھیک ہوں لیکن اگر یہ پانچ منٹ یہاں اور رہی تو میں پاگل ہو جاؤں گی عریشہ عرشیہ کی طرف اشارہ کرکے بولتی ہے۔۔۔عرشیہ کیوں تنگ کر رہی ہو بہن کو دیکھ نہیں رہی اس کی حالت کیسی ہے۔۔۔لو جی ماما میں کہاں تنگ کر رہی ہوں انہیں یہ تو ایسے ہی سب سے تنگ رہتی ہیں۔۔۔عرشیہ نے منہ بنا کر کہا۔۔ماما پلیز اسے لے جائیں میں تھک گئی ہوں اور یہ مجھے آرام نہیں کرنے دے رہی۔۔۔چلو آؤ عرشیہ نیچے سب بیٹھے ہیں تم بھی آجاؤ۔۔چلیں جی آجائیں لیکن ہو میری بات یاد رکھنا وہ جاتے ہوۓ بھی اسے چھیڑنے سے باز نہیں آئ۔۔۔دفع ہوجا کمینی عورت اور عرشیہ ہنستے ہوئے چلی جاتی ہے۔۔تبھی شایان روم میں آ جاتا ہے اور عریشہ کا موڈ آف دیکھتے ہوئے اس کے پاس بیٹھ جاتا ہے۔۔۔کیا ہوا میری جان کو اتنا موڈ کیوں خراب ہے؟ کیا کروں عرشیہ بہت تنگ کرتی ہے وہ روہانسی ہوتے بولتی ہے۔۔۔اوہو تم غصّہ نہ کیا کرو وہ ہم سب کو تنگ نہیں کرے گی تو کسے کرے گی ویسے بھی سب سے چھوٹی ہے نا تو سب کی لاڈلی بھی ہے۔۔۔اس کی باتوں کا برا نہ منایا کرو شایان کی بات پر عریشہ چپ کر جاتی ہے۔۔۔چلو اب لیٹ جاؤ اور آرام کرو۔۔۔جی اور شایان بھی اس کے پاس ہی بیٹھ جاتا ہے اور اپنا کام کرنے لگتا ہے۔۔۔
عرشیہ۔۔۔ازمیر عرشیہ کو مخاطب کرتا ہے۔۔جی۔۔یار میرا بھی دل کرتا ہے کہ اب میں بھی پاپا بن جاؤں۔۔۔ازمیر کی بات سن کر عرشیہ چہرہ جھکا لیتی ہے۔۔ازمیر ہولے ہولے قدم اٹھاتا اس کے قریب آتا ہے۔۔۔کیا خیال ہے اب ہمیں بھی سب کو گڈ نیوز دے دینی چاہیئے اب تو شایان کے بھی بیٹی ہو گئ ہے صرف ہم ہی رہتے ہیں تو کیا آج پھر اس کی شروعات کر لی جاۓ ازمیر نے عرشیہ کا چہرہ پکڑتے ہوۓ اس کے ناک سے ناک مس کرتے ہوئے کہا۔۔۔لیکن عرشیہ خاموش رہی۔۔۔کیا میں اس خاموشی کو رضامندی سمجھوں۔۔کیا مجھے اجازت ہے؟ تو عرشیہ نے شرماتے ہوئے اس کے سینے میں منہ چھپا لیا اور ہلکے سے سر کو خم کیا عرشیہ کے خود سپردگی کے انداز سے ازمیر اسے خود میں بھینچتا ہے اور اسے آہستہ سے خود سے الگ کرتا اسے بیڈ پہ لے جاتے اس کو اپنے پیار کی بارش میں پور پور بھگوتا ہے اور یوں آج ازمیر نے عرشیہ کو بہت پیار سے مکمل طور پر اپنا بنا لیا تھا۔۔۔ازمیر آج صبح اٹھا تو بہت خوش تھا اور اپنی بانہوں میں سوئی عرشیہ کی طرف دیکھا جو کہ ابھی بھی سو رہی تھی۔۔۔ایک تو اس لڑکی کی نیند نہیں پوری ہوتی۔۔۔ازمیر نے اس کے رخسار پر شدت سے کس کیا تو عرشیہ کسمسائ آٹھ جاؤ جاناں کالج نہیں جانا کیا۔۔۔نہیں آج چھٹی ہے۔۔۔وہنکس خوشی میں۔۔۔ہمارے پروفیسر کی بیٹی کی شادی ہے۔۔۔اوہ اچھا چلو پھر تم سوئی رہو میں آفس چلتا ہوں۔۔۔اوکے اور پھر ازمیر اس کے لبوں پہ سوفٹ کس کرتا تیار ہوتا آفس کے لیے نکل جاتا ہے
پانچ سال بعد
عرشیہ ایک کامیاب ڈاکٹر بن گئ تھی اور اللّٰہ تعالیٰ نے اسے جڑواں بیٹے عطا کیے لیکن اس کا خود کا بچپنا ابھی بھی ویسا ہی تھا اور اپنی ماں کی ابھی بھی سوتیلی بیٹی ہی تھی۔۔۔ازمیر کا بزنس بھی بلندیوں کو چھو رہا تھا اور اس نے اپنا بزنس ورلڈ وائڈ پھیلا لیا تھا لیکن عرشیہ کے لیے پیار پہلے سے بھی زیادہ ہو گیا تھا۔۔۔صنم کو اللّٰہ تعالٰی نے ایک اور بیٹے سے نوازا اور عائزہ کو بھی اللّٰہ نے ایک بیٹی عطا کی عریشہ بھی دوبارہ سے ماں بننے والی تھی جبکہ عریشہ دوبارہ سے ماں بننے والی تھی۔۔۔مصطفٰی صاحب بھی اب بہت بہتر ہو گۓ تھے۔۔۔شہروز اور شیراز نے بھی پاکستان میں سب کے ساتھ اکٹھے بزنس سنبھال لیا تھا۔۔۔ان سب مصروفیات کے باوجود بھی سب ایک دوسرے کے لیے بہت اہمیت رکھتے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بیٹھنا اور پھر پکنک کے پروگرام بنانا نہیں چھوڑا تھا۔۔۔اس اب کی وجہ صرف یہ تھی کہ کسی کے دل سے بھی ایک دوسرے کے لیے پیار کم نہ ہو اور ہمیشہ یونہی ایک دوسرے کے ساتھ رہیں۔۔۔اور پھر یونہی ہوا وہ کبھی ایک بھی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوۓ بلکہ ان کا پیار اور اہمیت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہی اور یہ بن گیا رائل مینشن سے بن گیا ہیپی فیملی مینشن۔۔
ختم شدہ
AZ Novels: فیس بک پیج