ادھورے خواب

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 16

”سارے مہمان آگئیں تھیں جھل مل کرتی لڑکیاں تتلیوں کی مانند یہاں سے وہاں آڑ رہی تھی بچے اپنی دھن میں مگن تھیں۔دونو باراتیوں کا پرتپاک استقبال کیا گیا جس میں آزر نے بھائی اور بیٹے ہونے بھرپور حق ادا کیا۔
جس کے بعد لائبہ کا نکاح خوش اصلوبی سے سر انجام پایا جس کے بعد وہ ایک خوبصورت رشتے میں بندھ گئی تھی۔
ان سب کے درمیان آزر کئی مرتبہ آریان صاحب سے طوبیٰ کا پوچھا چکا جسے وہ ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے بات ٹالتے رہے مگر جب آزر باز نہ آیا آریان صاحب نے یہ کہہ کر ٹال دیا تھا کے طوبیٰ کی طبیعت ٹھیک نہیں۔
یہ جان کر کے طوبیٰ کی طبیعت ٹھیک نہیں اسکی تشویش مزید بڑھ گئی اب اسکا اس تقریب سے دل اُچاٹ گیا۔
ایک طرف سارے کزنز شور کر رہے تھے کے دوھ پیلائی کی رسم کون کرے گا کیونکہ کے لائبہ اور آئزہ دونو ہی دلہن بنی بیٹھی تھی۔
”آپ کر لیں یہ رسم.؟ وہ کہتی ہوئی پاس آئی
جی آپ.؟ ذرا دور رہ کر بات کرینگی اور مجھ نہیں شوق فضول رسموں کا۔ وہ کہے کر ایک طرف سے نکلنے لگا تھا کہ وہ پھر راستے میں حائل ہوئی جب سے آئی تھی بات کرنے کا موقع ڈھونڈ رہی تھی۔
”آپ اتنا غصّہ کیوں کر رہے ہیں آپ کی وائف نہیں آئی اس لیۓ کہہ رہی تھی. شزہ نے بات بنائی جس پر تیکھی نظروں سے اسے دیکھا جو بال ایک جانب کیے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
”اب آپ کی وائف کو آپ کی قدر نہیں تو ہم کیا کہہ سکتے ہیں، وہ کہتے ہیں نہ جب سب کچھ بن مانگنے مل جائے تو قدر نہیں ہوتی، تبھی اتنے ہینڈسم ہذبینڈ کو اکیلا چھوڑ ہوا ہے کسی قدر دان کا دل آگیا تو پچتاتی رہ جائے گی۔ اداؤں کے جال بنتی وہ نزدیک ہوتی اسکا کالر درست کرنے لگی۔
”دیکھ مس.! جو بھی نام ہے آپ کا، یہ ہمارا پرسنل میٹر ہے اور میں نہیں چاہتا کہ کوئی ہمارے پرسنل معاملات میں مداخلت کرے، تو بہتر یہی ہوگا کہ آپ اپنے کام سے کام رکھیں۔ ازر نے شیزہ کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کڑی نظرو سے دیکھتے باور کروا کر جانے کے لیے آگے بڑھنے لگا
شزہ نے آزر کا ہاتھ پکڑ لیا اور آزر کے سامنے آگئی تھی۔
آپ تو برا ہی مان گئے آزر میں تو بس مذاق کر رہی تھی، ویسے بھی یہاں کون سا آپ کی وائف جسکے دیکھنے کے ڈر سے آپ مجھے دیکھ تک نہیں رہے۔اسکی بات کو ہؤا میں اڑاتے شزہ نے آزر کے گلے میں اپنی بانہوں کا ہار ڈالنا چاہا جسے وہ بے دردی سے جھٹک گیا
”میں تمھیں وارن کر رہا ہو مجھ سے دور رہو.؟ ورنہ اپنے نقصان کی ذمےدار تم خود ہو گی۔ آپ سے تم پر آتے شعلہ برساتی نظروں سے ازر نے چنگھاڑتے بازو سے دبوچتے سامنے کیا
”اور تمھاری یہ حرکت برداشت کرنے کا ہر گز مقصد تمھیں بڑھاوا دینا نہیں، بلکہ میں یہاں تماشا کریئٹ نہیں کرنا چاہتا اس لیے پیار سمجھا رہا ہوں اپنی ادائے جا کر کسی اور کو دیکھاؤ ، میں ان سب میں پھنسنے والوں میں سے نہیں ہوں۔سختی سے باور کرواتے ازر نے شزہ کو بری طرح جھٹکا تھا کہ وہ گرتی گرتی بچی تھی وہ بنا اسکی پروا کیے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
ہنہہ۔۔!! تمھیں تو میں دیکھ لونگی سمجھتے کیا ہو خود کو ایسا بدنام کرو گی کہ اپنا منہ چھپاتے پھرو گے۔ خود کو سنبھالتے اپنے بازو کو مسلتے ہوئے اپنی تزلیل پر تیش و تنفر سے بڑابڑئی ۔
”کیوں اتنی بیچینی ہو رہی ہے مجھے.؟۔ ازر نے اپنی شال اتار کر اپنی گاڑی میں پھینکتے کالر کے بٹن کھولے۔
آزر کو اپنا سانس روکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا اندر ابھی رسمے چل رہی تھی مگر اسکا دھیان تو کہی اور ہی تھا۔
بات جانے یا نہ جانے کی نہیں ہے آزر.! بات احساس کی کسی کو میرا احساس نہیں، نہ ہی کسی کو میری ضرورت ہے میرا وجود بوجھ بن گیا جسے ہر کوئی جان چھڑانا چاہتا ہے مگر میری بد قسمتی تو دیکھے موت بھی نہیں آتی مُجھے ۔ یکایک اسکے کہے لفظوں کی باز گشت سنائی دی۔
”نہیں طوبیٰ ایسا نہیں مجھے تمھاری ضرورت تمھارا وجود بوجھ نہیں ہے میرے لیے میں خود لے کر آؤنگا تمھیں، میں یوں تمھیں خود کو اذیت پہنچانے نہیں دونگا۔ ازر نے سوچتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی اور گاڑی زن سے دھواں اڑاتی آگے بڑھ گئی۔
💛💛💛💛💛💛💛💛
”آزر گھر پہنچا تو طوبیٰ کو ساتھ لے جانے کے غرض سے لمبے لمبے ڈاگ بھرتا اس کے کمرے کی اور بڑھا۔
”آج بھی میڈم نے رو رو کر برا حال کیا ہوگا۔ آزر نے سوچتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھ کر دروازا کھولا سامنے کا منظر دیکھ کر ازر کو دھنگ رہ گیا تھا۔
کمرے کی بکھری حالت دیکھ کر کچھ غلط ہونے خدشہ ہوا تھا
آزر بوجھل قدموں سے آگے بڑھا
”نہیں طوبیٰ تم ایسا کچھ نہیں کرسکتی اگر تم نے اپنے ساتھ کچھ ایسا ویسا کیا ناں تو میں کبھی تمھیں معاف نہیں کروں گا۔زیرے لب بڑبڑاتے ہوئے وہ بھاری قدموں سے آگے بڑھا
آزر کی نظریں جیسے ہی طوبیٰ پر پڑی وہ بھاگنے کے انداز میں اس تک پہنچا اور گھٹنوں کے بل اسکے پاس بیٹھتے اسے سیدھا کیا تو خون سے لت پت چہرا سامنے آیا جس پر آزر کو لگا جیسے اسکی دل کسی نے مٹھی میں بند کر لیا ہو۔
”نہیں طوبیٰ..! تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی طوبیٰ پلیز آنکھیں کھولو.؟ طوبیٰ پلیز طوبیٰ تم مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتی۔ ازر نے اسکا سر اپنی گود میں رکھتے ملتجی انداز میں کہتے ہوئے طوبیٰ کے سینے میں دھنسی ہو کانچ کی نظر آئی اور طوبیٰ کا بازو بھی بری طرح زخمی تھا۔
”طوبیٰ.! آنکھیں کھولو دیکھو میں تمھیں لینے آیا ہوں میں نے کہا تھا ناں آج میں تمھیں لے کر جاؤنگا، لائبہ اور آئزہ تمھارا انتظار کر رہی ہیں طوبیٰ پلیز آنکھیں کھولو طوبیٰ.! آزر کی آنکھوں سے انسوں بہہ رہے تھے
تمھیں مجھ پر ترس نہیں آرہا طوبیٰ میں تمہاری ایک نظر کا منتظر ہوں طوبیٰ تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی۔ آزر نے طوبیٰ کو خود میں بینچ لیا تھا
ازر کو محسوس ہوا کے طوبیٰ کی سانسیں چل رہی ہیں۔ ازر نے طوبیٰ کے سینے پر ہاتھ رکھ تو مدھم ہی سہی مگر دل دھڑکن چل رہی تھی۔
“یا اللہ تیرا شکر ہے.! خدا کا شکر ادا کرتے جلدی سے طوبیٰ کو اٹھایا اور کمرے سے نکلا جلدی سے اسے اٹھائے فرنٹ سیٹ کا دروازا کھول کر احتیاط اسے بیٹھا کر سیٹ بیلٹ لگاتے وہ ڈرائیونگ سیٹ سنھبال چکا تھا
کب سوچا تھا کے طوبیٰ اس کے ساتھ یوں بیٹھے گی آزر کی آنکھوں سے انسوں نکلنا شروع ہو گئے تھے۔
کچھ نہیں ہوسکتا میری طوبیٰ کو میں تمھیں کچھ نہیں ہونے دونگا۔۔ گاڑی سٹارٹ کرتے وہ پورچ سے گاڑی نکالتے نظریں طوبیٰ کے چہرے پر مرکوز تھی۔
ابھی تو تم نے میرے ساتھ جینا ہے،ابھی تو تمھیں میرا ہونا ہے ابھی تو بہت سے حساب بنتے ہیں میرے تمھاری طرف۔ڈرائیونگ کرتے آزر طوبیٰ سے ایسے باتیں کر رہا تھا گویا وہ اسے سن رہی وہ کوئی مجنوں لگ رہا تھا کوئی نہیں کہہ سکتا تھا یہ اتنے بڑے امپائر کا اکلوتا وارث ہے۔
ریش ڈرائیونگ کرتے ہوئے ازر ہاسپٹل پہنچا تھا اور طوبیٰ کو اٹھا کر اندر لایا
”ڈاکٹر۔۔۔۔!! ڈاکٹر….!! کوئی ہے یہاں۔ گود میں اٹھائے طوبیٰ کو آزر نے آواز لگائی اور سٹریچر پر طوبیٰ کو لیٹایا ڈاکٹر بھی آگئیں تھیں،آپ ہٹیں ہمیں اپنا کام کرنے دیں طوبیٰ کو آئی سی یو لے جاتے ہوئے ڈاکٹر نے کہا تھا ازر کو باہر ہی رکنے کا کہہ کر ڈاکٹر اندر چلے گئے تھے۔
۰
”نرسسز اندر باہر ہو رہی تھی ایک افرا تفریح مچی ہوئی تھی
”کافی دیر ہو گئی تھی لیکن کوئی کچھ نہیں بتا رہا تھا
ازر کا فون مسلسل بج رہا تھا مگر یہاں ہوش کسے تھی آزر تو بس اپنی زندگی کی دعاے مانگ رہا تھا۔
”منہ سے ماسک ہٹاتے ہوئے آئی سی یو سے ڈاکٹر باہر آئے تو آزر فوراََ سے آگے آیا تھا۔
کیسی ہے میری وائف.؟ کوئی خطرے کی بات تو نہیں.؟ وہ ٹھیک تو ہو جائے گی؟ازر نے ایک ساتھ کئی سوال کیے تھے۔
”گھر میں کچھ ہوا ہے.؟ ڈاکٹر نے اسکی باتوں کا جواب دینے بجائے سوال کیا تو چپ ہو گیا۔
کیوں آپ کیوں پوچھ رہے ہیں۔۔؟ وہ متعجب ہوا۔
”آپ کی وائف نے کسی بات کی ٹینشن لی ہے جس کی وجہ سے آپ کی وائف کا نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے۔ ڈاکٹر نے پروفیشنل انداز میں اطلاع دی۔جو آزر پر بجلی بن کر گر تھی۔
اور وہ کافی زخمی بھی ہیں اور ان کا بازو بھی فیکچر ہوا ہیں، اگلے چوبیس گھنٹے بہت اہم ہیں۔ بات جاری رکھی۔
ہم آپ کو کسی بھی غلط فہمی میں نہیں رکھنا چاہتے لیکن جو کانچ ان کے سینے میں لگا ہے وہ ان کی جان بھی لے سکتا ہے، ہمیں ان کا اپریشن کرنا پڑے گا لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ اس کے لیے انکا ہوش میں آنا بہت ضروری ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں آپ دعا کریں.! مزید اسی انداز میں کہتے اسے سکتے میں چھوڑ ڈاکٹر واپس جا چکا
ڈاکٹر کی بات سن آزر دیوار سے جا لگا تھا اور وہی زمین پر بیٹھتا چلا گیا تھا۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛
یہاں لائبہ اور آئزہ اپنی آپی کا انتظار کر رہی تھی انھیں یقین تھا کہ وہ ضرور آئے گی ۔کتنی بار آریان صاحب سے پوچھا تھا۔
”ابو جی آپی.! نہیں آئی.؟ آئزہ نے پوچھا۔
“وہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں اس لیے گھر میں آرام کر رہی ہے۔اریان صاحب نے وہی جواب دیا جو وہ پہلے بھی دے چکے تھے اور نظریں جھکا کر اسٹیج سے نیچے آگئیں کیا جواب دیتے کے آج پھر قدسیہ بیگم کی وجہ سے طوبیٰ کو لیکر نہیں آئے۔
”اب ہمیں اجازت دیں.؟ فرحانہ بیگم نے رخصتی کی اجازت چاہی۔
“جی بس.! وہ آزر آجاۓ۔ آریان صاحب نے کہا تھا
“جی انکل پتا نہیں اچانک سے کہاں چلا گیا ہے میں بھی کب سے کال کر رہا ہوں۔ وہاج نے فکر مندی سے بتایا۔
”اب کیا ہمیں آزر کا انتظار کرنا پڑے گا. قدسیہ بیگم نے برہم ہوئی۔
“لگتا ہے وہ کسی کام میں پھنس گیا ہے نہیں تو وہ اتنا لاپروا بالکل نہیں۔ فرحانہ نے طرف داری کی۔
”اچھا پھر چلیں مہمان انتظار کر رہے ہیں۔
آریان صاحب اور سائرہ نے آئزہ اور لائبہ کو دعاؤں کے سائے میں رخصت کیا تھا۔
اس کے برعکس کوئی نہیں جانتا تھا کے آزر پر کیا قیامت گزر گئی تھی۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛
وہاج کے گھر میں لائبہ کا گرم جوشی سے استقبال کیا گیا جس کے بعد دونوں کو لاؤنچ میں بیٹھا کر رسمیں کر رہے تھے۔
وہاج کی بے تاب نظریں لائبہ پر ہی تھی جو دلہن بنی بہت پیاری لگ رہی تھی۔
وہاج و لائبہ کو ایک دوسرے کو دیکھتا ہوا پا کر کزنز نے شور مچا دیا تھا جس پر لائبہ نے شرم سے نظریں جھکا لی وہاج اٹھ کھڑا ہوا
”ماما اور کتنی دیر لگے گی میں تھک گیا ہوں۔ منہ بصورتے بیچارگی سے بولا لائبہ ہلکا سا مسکرائی تھی. مگر نظریں نہ اٹھائی۔
”چلو.! تم بھی کیا یاد کروگے، تم جاکر آرام کرو بھابھی یہی ہمارے ساتھ ہی رہے گی، ہم نے تو چلے جانا ہیں بھابھی تو یہی ہیں تم آرام سے باتیں کر لینا۔ ایک کزن وہاج کو تنگ کرنے کیلئے اس طرح کہا جیسے کوئی احسان عظیم کیا ہو۔
ایسے ہی یہ یہاں رہے گی، میری بیوی ہے اور میں لے کر جا رہا ہوں کسی میں ہمت ہے تو روک کر دیکھائے۔ وہاج کہتے ساتھ لائبہ کو برائڈل سٹائل میں اٹھا لیا تھا اس غیر متوقع عمل پر جہاں سب حیران ہوئے وہی لائبہ بیچاری شرم سے پانی پانی ہو گئی تھی۔
اسکے بعد وہاج اپنے کمرے میں آکر ہی رکا تھا پیچھے سارے کزنز بوٹنگ کرتے رہ گئیں تھیں۔
وہاج نے لائبہ کو نیچے اتارا لائبہ نے شرم سے نظریں جھکائی ہوئی تھی پورا کمرہ سرخ گلاب کے پھولوں سے سجایا گیا تھا جہاں کینڈلز کی بھینی بھینی خوشبو ماحول پر سو خیز بنا رہی تھی۔
درواز لوک کیے وہاج نے اسکی جانب پیش قدمی کی تو اسکی قربت سے گھبراتے لائبہ کے دل کی دھڑکن منتشر ہوئی آہستہ سے اپنے قدم پیچھے لینے لگی تھی کہ وہاج نے لائبہ کا ہاتھ پکڑ کر جھٹکے سے اپنی اور کھینچا تو وہ کسی ٹوٹی ہوئی ڈال کی مانند وہاج کے سینے سے آلگی نظریں بنوز جھکی ہوئی تھی اور دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اسکی آواز اسے اپنے کانوں میں سنائی دینے لگی۔
”جانتی ہو میں نے اس دن کا کتنی بے صبری سے انتظار کیا جب پورے استحقاق سے میں تمھیں اپنا کہہ سکوں.! ٹھوڑی سے اسکا چہرہ اوپر کر پر شوخ نظروں سے دیکھتے گویا ہوا تو لائبہ نے ڈھرکتے دل کے ساتھ پلکوں کی جھالر اٹھائی نظریں ملی کچھ پل یونہی محویت سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے وہاج نے لائبہ کے ماتھے پر لب رکھے اور پھر دونو آنکھوں کو اپنے لمس سے مہکاتے اسے نئی زندگی سے روشناس کروایا تھا۔
من چاہا ساتھ ملنے پر دونو خوش تھیں مگر یہ خوشی ہر کسی کی قسمت میں کہاں ہوتی ہے۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛
”قدسیہ بیگم کے گھر میں آئزہ کا ویلکم سادگی سے ہوا جس کے بعد آئزہ کو شزہ کے ساتھ کمرے میں پہنچا دیا گیا۔
آئزہ دلہن بنی کافی دیر تک ارحم کا انتظار کرتی رہی مگر انتظار اتنا طویل ہو گیا کہ آئزہ کی آنکھ لگئی۔
ارحم جب کمرے میں آیا تو آئزہ سو چکی تھی اور شاید ارحم بھی اسی انتظار میں تھا تبھی وہ اتنا لیٹ آیا بنا اپنی نئی نویلی دلہن پر ایک نظر ڈالے آرام سے واشروم گیا اور چینج کر کے آکر آرام سے بیڈ کی ایک سائیڈ پر لیٹ کر لائٹ بند کر کے سو گیا تھا۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛
”سب کے جانے کے بعد آریان صاحب نے ایک بار پھر سے آزر کو کال ملائی تھی آخر جو شخص صبح سے شام تک انکے ساتھ یوں اچانک کہا غائب ہو گیا۔
آزر کی نظر اپنے فون پر گئ تو اس نے ہمت کر کے اپنے آنسو صاف کرتے کال رسیو کی۔
جی..! فون کان سے لگائے سرد سپاٹ انداز میں گویا ہوا۔
”بیٹا کہاں ہو.؟ یوں اچانک کہاں چلے گئے کچھ بتایا بھی نہیں، ہم کتنی دیر تک تمھارا انتظار کرتے رہے اور پھر اکیلے ہی لائبہ اور آئزہ کی رخصتی کر دی۔ آریان صاحب اپنی ہی کہے جا رہے تھے
”انکل ……….. وہ …………. طوبیٰ …………… ہاسپٹل میں ہے۔ ازر نے اٹکتے ہوئے بتایا ازر کی بات سن کر آریان صاحب کے سر پر بجلی بن کر گری تھی۔
”کیا ہوا طوبیٰ کو.؟ کہاں ہو تم لوگ؟ سب خیریت تو ہے ناں؟ایک ساتھ ہی کئی سوال کر ڈالے۔
”انکل.! میں آپکو لوکیشن سینڈ کر رہا ہوں اگر دونوں بیٹیوں سے فرصت مل جائے تو اکر اپنی اس بیٹی کو دیکھ لیں اسے پہلے کے دیر ہو جائے۔ نا چاہتے ہوئے بھی اسکے لہجے میں تلخی گھل گئی تھی جس پر اسنے دوسری جانب کی بات سننے بغیر کال ڈیسکنیٹ کر دی تھی۔
ایک بار پھر ڈاکٹرز کی پھر سے آئی سی یوں میں دوڑیں لگ گئی تھی ازر تیزی سے جاننے کے لیے آگے بڑھا۔
کیا ہوا؟ کیسی میری وائف؟ سب ٹھیک تو ہے؟۔ آزر نے فکرمندی سے پوچھا جس کا جواب دیے بغیر نرس چلی گئی تھی اتنے میں ایک ڈاکٹر آئی سی یوں سے باہر نکلا تھا
ڈاکٹر کیسی ہے میری وائف.؟ کوئی مجھے کچھ بتا کیوں نہیں رہا ہے.؟ ۔ازر کے انداز میں غصّہ کے ساتھ غم کی آمیزش تھی۔
”دیکھے مسٹر آزر.! آپ کی وائف کو اگر ایک گھنٹے میں ہوش نہیں آیا تو ہمیں آپ کی وائف کو وینٹیلیٹر پر شفٹ کرنا ہوگا, آپ وائف کی حالت کافی کریٹیکل ہے وہ کسی بھی میڈیسن کا رسپانس نہیں دے رہی ہیں ایسا لگ رہا ہے جسے وہ جینا ہی نہیں چاہتی ایسے میں ہم بھی کچھ نہیں کر پائے گیں۔۔ ڈاکٹر کے پرفشنل انداز میں بتانے پر آزر کو لگا جیسے کسی نے اسکا دل نوچ نکال لیا ہو۔
”ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں آپ دعا کریں، ڈاکٹر کہہ کر جا چکا تھا
آریان صاحب جو ابھی ابھی پہنچے تھے ڈاکٹر کی بات سن کر آریان صاحب اور سائرہ کے پیرو کے نیچے سے زمین نکل گئ تھی آریان صاحب تو وہی ڈھے گئے تھے سائرہ ان کو سہارا دے رہی تھی سائرہ کی انکھوں سے انسوں نکلنا شروع ہو گئے تھے۔
”ہم لائبہ اور آئزہ کی خوشیوں میں اس قدر کھو گئے کہ ہمیں یاد ہی نہیں رہا ہماری ایک اور بھی بیٹی ہے جسے ہماری اتنی ہی ضرورت ہے جتنی باقی دونوں کو۔ آریان صاحب کو اپنی غلطی کا احساس ہوا مگر اب شاید اسکے لیے بہت دیر ہوچکی تھی۔
آزر خود کو سنبھالتے آگے بڑھ کر دونو کو سہارا دیا پانی کی بوتل آریان صاحب کی جانب بڑھائی جو انھوں نے پیچھے کر دی۔
یہ سب میری وجہ سے ہوا میں نے لوگوں کی باتوں سے گھبرا کر اپنی بیٹی کو اکیلا چھوڑ دیا تھا یہ سب میری غلطی ہے اگر اسے کچھ ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔“
”نہیں انکل اسے کچھ نہیں ہوسکتا اسے جینا ہوگا میں اسے اتنی آسانی جانے نہیں دے سکتا، اس قبل کے آریان صاحب اپنی بات مکمل کرتے آزر نے جنونی انداز میں کہا جبکہ آنکھوں سے آنسوں بہہ نکلے تھے۔
”انکل.! انٹی.! آپ دونوں خود کو سنبھالیں اگر آپ دونو ایسے کریں گیں تو میرا کیا ہوگا، میرے پاس تو طوبیٰ کے علاو کوئی اور ہے بھی نہیں، ایک طوبیٰ ہی تو ہے جسے میں اپنا کہہ سکتا ہوں جو میری کل کائنات ہے۔اسکے آنسوؤں میں روانی آئی
انکل پلیز دعا کریں میری طوبیٰ کو کچھ نہ ہو، اگر اسے کچھ ہو گیا تو میں بھی جی نہیں پاؤ گا،انکل میں طوبیٰ کو نہیں کھو سکتا میرے ماما بابا بھی مجھے چھوڑ کر چلے گئے
انکل.! پلیز آپ دعا کریں ناں انکل.! پلیز میں طوبیٰ کو نہیں کھونا چاہتا۔ ازر کسی چھوٹے بچے کی مانند ضدی لہجے میں کہتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تو آریان صاحب کا بھی صبر جواب دینے لگا ازر کو گلے لگا لیا تھا۔
”چپ بیٹا کچھ نہیں ہو گا طوبیٰ کو اسے جینا ہوگا، تمھارے لیۓ ہمارے لیے۔ خود سے الگ کرتے اپنے ساتھ بیٹھاتے ہوئے تسلی دی۔
”ازر.! بیٹا تم تو بہت بہادر ہو.! بیٹا ہمت کرو اللہ سے دعا کرو وہ تمہاری ضرور سنے گا ان شاءاللہ طوبیٰ کو کچھ نہیں ہوگا بھروسہ رکھو وہ ہمیں ہمارے برداشت سے زیادہ نہیں آزماتا۔اریان صاحب نے نرمی سے سمجھایا تو
ازر نے فوراً سے اپنے آنسوں صاف کیے اور جلدی سے باہر نکلا تھا آزر سیدھا مسجد گیا اور با وضو ہو کر نماز کے لیۓ کھڑا ہوگیا دو رکعت نماز پڑھ کر ازر نے دعا کے لیۓ ہاتھ اٹھائے تھے لیکن منہ سے ایک لفظ ادا ہونے سے انکاری ہوئے آنکھوں نے اپنی فریاد آنسؤں پیش کی،رب حضور وہ خاموشی سے آنسوں بہاتا رہا۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial