قسط: 17 پارٹ 1
“ہاتھ اٹھائے خاموش آنسوؤں کے ساتھ اپنی عرضی رب کے حضور پیش کرتے وہ وہی پلر کے ساتھ ٹیک لگائے اپنی دعا قبول ہونے کا انتظار کرنے لگا وہ جس ذات سے امید لگائے بیٹھا تھا وہ رب تو ستر ماؤں سے زیادہ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے جو الغفور الرحیم ہے جو دلوں کا حال بخوبی جاننے والا ہے۔
“آزر کی دعا کو بھی شرف قبولیت بخش دی گئی تھی طوبیٰ کو ہوش آنے لگا تھا وہ رسپانس دینے لگی تھی۔
ڈاکٹر نے آکر آریان صاحب کو بتایا کہ طوبیٰ کی حالت اب
خطرے سے باہر ہے اور اب طوبیٰ کا اپریشن نا گزیر ہے جس پر آریان صاحب نے اجازت دے دی تھی۔
”جس کے بعد آریان صاحب فوری آزر کو کال ملائی جو اس نے پہلی بیل پر اٹھالی۔
”جی انکل.! طوبیٰ کو ہوش آیا ڈاکٹر نے کچھ بتایا.؟۔ کال ریسیو کرتے ہی پوچھا۔
”ازر بیٹا.! اللّٰہ پاک نے تمھاری سن لی طوبیٰ کی حالت اب خطرے سے باہر ہے، ڈاکٹر اسے آپریشن کیلئے لے گئیں ہیں۔ آریان صاحب نے آزر کو بتایا جس پر آزر کی آنکھوں سے تشکر کے آنسوں بہہ نکلے۔
”انکل.! میں آرہا ہوں.! ازر نے کال ڈیسکنیٹ کی
اپنے رب کے حضور سجدہ شکر ادا کرتے اپنے رب کا شکر ادا کیا۔
” کیسی ہے طوبیٰ.؟ واپس آتے ہی فکرمندی سے پوچھا۔
”بیٹا.؟ ابھی اسے پوری طرح ہوش نہیں آیا لیکن ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ پہلے سے بہتر ہے، ڈاکٹر اسے آپریشن کیلئے لے کر گئیں ہیں۔ آریان صاحب نے فون پر کی بات دہرائی سائرہ جائے نماز بچھائے اپنی بیٹی کی زندگی کے لیے دعا گو تھی۔
”وہ وہی چیئر پر بیٹھ گیا نظریں آپریشن تھیٹر کے باہر لگی سرخ بتی پر ٹکی جو بند ہوئی تو ڈاکٹر چہرے سے ماسک اتار ہوئے باہر آیا جس کی اور آزر لپکا
ڈاکٹر کیسی ہے میری وائف.! کیا میں اسے مل سکتا ہوں.؟۔ آزر کی بیچینی عروج پر تھی۔
”جی ہم نے آپریٹ کر کے کانچ نکل دیا ہے لیکن کانچ نے کافی اندر تک ڈیمنج کیا ہے، خون بھی بہت ضائع ہو گیا ہے اگلے کچھ گھنٹے ہمیں اُنہیں under observation رکھنا ہو گا۔ ڈاکٹر نے پرفیشنل انداز میں اطلاع دی۔
کیا ہم مل سکتے ہیں۔ آریان صاحب نے استفسار کیا۔
”ابھی انہیں ہوش نہیں آیا.؟
” ڈاکٹر.! میں بس دور سے دیکھوں گا پلیز..! ازر نے ایک امید سے پوچھا تھا۔
اچھا ٹھیک ہے صرف دور سے دیکھ سکتے ہیں، نرس انھیں لے جائیں۔ ڈاکٹر نے اجازت دیتے ہوئے تاکید کی اور نرس کو ہدایت دی۔
”محسوس لباس پہنے منہ پر ماسک لگائے آزر دروازے کو دھکیلتے ہوئے آئی سی یو میں داخل ہوا جہاں سامنے وہ دشمن جاں مریضوں کے محسوس نیلے لباس میں مشینوں میں جکڑی زرد مائل صدیوں کی بیمار لگ رہی تھی آزر خان بھاری قدموں سے اسکی اور بڑھا۔
”میں نے تو کبھی سوچا نہیں تھا کے میں کسی کو اتنا چاہ سکتا ہوں.! میں تو بس اسے اپنی پسندیدگی سمجھ رہا مجھے لگا تھا کہ بس تمھارا ساتھ اچھا لگتا ہے مگر آزر خان کسی سے اتنی شدید محبت کرے گا یہ تو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا، شاید اسی کو محبت کہتے ہیں، جو بھی ہے آج ایک بات کا اندازہ تو ہو گیا کہ یہ آزر خان تمھارے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔اسکے چہرے کو نظروں کے حصار میں لیے وہ اپنی محبت کا اظہار کر رہا تھا۔
طوبیٰ میں تم سے بہت ناراض ہوں ایک بار تم ٹھیک ہو جاؤ پھر میں تم سے گن گن کر سارے بدلے لو گا۔ ازر نے اپنے انسوں صاف کیے
”اور ہاں اس بار میں تمہاری ایک نہیں سنو گا
آئی ہیٹ یو.! طوبیٰ تم بہت بری ہو.! بہت بری! اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میرا کیا ہوتا سوچا ہے تم نے، تم کیوں سوچوں گی تم تھوڑی ناں محبت کرتی ہو، محبت نہ بھی سہی شوہر ہو تمھارا اور کوئی اپنے ہی شوہر کے ساتھ ایسا کرتا ہے بھلا بولو.؟ بولو ناں.! اب بولتی کیوں نہیں.! ہذیانی انداز میں سوال کرتے ہوئے وہ کوئی پاگل لگ رہا تھا۔
”تم بہت بری ہو طوبیٰ آئی ہیٹ یو.!
آئی ہیٹ یو.! طوبیٰ.! ماتھے پر لب رکھتے ہوئے
کہا اور کتنی دیر وہ طوبیٰ کے پاس بیٹھا یونہی اسے باتیں کرتا رہا۔
جی اب آپ باہر جائے اور پیشنٹ کو آرام کرنے دیں۔ نرس نے آکر کہا تو ناچاہتے ہوئے بھی کو باہر جانا پڑا۔
”انکل.! آنٹی.! آپ لوگ گھر جا کر تھوڑا آرام کر لیں تھک گئیں ہوگے میں ہو یہاں جیسے ہی ہوش آئے گا تو میں آپ کو بتا دونگا۔سہولت سے پیشکش کی۔
”نہیں بیٹا ہم پہلے ہی بہت لاپروائی برت چکے ہیں اب اور نہیں.! آریان صاحب نے جانے سے انکار اور سائرہ بھی بہ ضد تھی کہ طوبیٰ کے ہوش میں آنے تک وہ کہی نہیں جائے گئی۔
اچھا پھر آپ لوگ بیٹھیں میں آپ لوگو کیلئے کچھ کھانے کو لے کر آتا ہوں۔ آزر نے ان کی بات کا مان رکھا۔
” نہیں بیٹا ہمیں کچھ نہیں چاہیے تم تھوڑی دیر گھر جاکر آرام کر لو.! اسکی حالت کے پیش نظر سائرہ نے کہا
”نہیں انکل میں کہی نہیں جاؤنگا پلیز.! آزر نے صاف انکار کر دیا۔
ایک نئی صبح نے انگڑائی لی تو سورج نے اپنی کرنیں ہر سو بکھیری جو پردوں کی اوٹ سے کمرے میں داخل ہونے کی تگ و دو میں تھی۔
جس پر لائبہ کی آنکھ کھلی تو خود کو وہاج کی بانہوں میں قید پا کر اسے رات وہاج کی قربتیں شدتیں اور پیار یاد آیا لائبہ کے چہرے پر حیا کے رنگ بکھیرے اپنا چہرا وہاج کے سینے میں چھپا لیا تھا۔
”وہاج کی بھی آنکھ کھلی تو لائبہ کا کاری گری دیکھ اسے کے چہرے پر شریر مسکراہٹ ابھری جس کے چلتے وہ اسے گرد گھیرا تنگ گیا۔
گڈ مارننگ.! مسسز وہاج.! کان کی لو کو لبوں سے چھوتے گھمبیر شوخ سرگوشی کی جس وہ جو اسے سویا ہوا جان رہی تھی۔ فوراً سے پیچھے ہوئی مگر تب تک بہت دیر ہوچکی تھی وہ کروٹ لے کر اسکے اوپر آگیا تھا
”مجھے نیند آرہی ہے۔وہاج کو پھر سے پٹری سے اترتا دیکھ بہانہ تراشا جبکہ اسکی قربت سے گھبراتے دل زور شور سے دھڑک رہا تھا جس پر ایک مبہم سی مسکان ابھری تھی۔
کتنی نیند آتی ہے تمھیں مگر اب کوئی بہانہ تمھیں مجھ سے بچا نہیں سکتا۔وہاج نے شوخی بھری شرارت سے کہتے کمفرٹ اوپر کر لیا لائبہ اور وہاج پھر سے ایک دوسرے میں کھونے لگے ۔
“وہاج.! بس بھی کر دیں کوئی آجائیں گا؟۔اسکی بڑھتی جاسرتوں پر دھڑکتے دل کے ساتھ لائبہ کو فکر ہوئی۔
کسی میں اتنی جرات نہیں کہ وہ بنا اجازت وہاج ملک کو ڈسٹرب کرے سو بی کوئیٹ اینڈ فیل دا مؤمنٹ ذرا اٹھ کر اسے وارن کرتے وہ پھر سے جھکا تھا کہ درازے کی آواز نے وہاج کا بد مزہ کیا جبکہ لائبہ کے چہرے پر شریر مسکراہٹ نمودار ہوئی
“بی کوئیٹ اینڈ اینڈ فیل دا مؤمنٹ وہاج.! اسکی الفاظ دہراتے لائبہ نے شوخی سے اسکی گردن کے گرد بازوں حائل کیے تو دروازے پر دستک تیز ہوئی۔
تم یہی رکو یہ ضرور کسی کی شرارت ہے میں ابھی آیا۔ وہاج اٹھا تو لائبہ جلدی سے اٹھ کر واشروم بھاگی تھی اور وہاج منہ بناتے غصّے سے دروازا کھولا۔
“کون.! وہ جو کزنز کی شرارت سمجھ رہا تھا سامنے فرحانہ بیگم کو حیران رہ گیا
“ماما.! آپ.؟
”وہاج بیٹا لائبہ اٹھ گئی۔ وہاج کی خفت کو سمجھتے فرحانہ نے سوال کیا۔
“جی ماما وہ فریش ہو رہی ہے۔ جلدی سے بتایا۔
”بیٹا جلدی سے تیار ہو کر نیچے آؤ.! مجھے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔ وہ ہدایت دیتی جاچکی تھی وہ کندھے اچکتے واپس دروازا بند کر گیا
“لائبہ جلدی کرو ماما نیچے بلا رہی ہیں۔ بلند آواز سے ماں کا پیغام پہنچایا
کچھ ہی دیر میں فریش ہو کر واشروم سے نکلی تھی۔
جائیں آپ بھی جلدی کریں۔ لائبہ نے ٹاول سے بال خشک کرتے ہوئے کہا اور ڈریسنگ کے سامنے کھڑی ہو گئی تھی اور جلدی جلدی سے تیار ہو ہوئے لگی لائٹ پنک کلر کے گھیر دار فراک کے ساتھ شوکنگ پنک کلر کا ڈوپٹہ زیب تن کئے بہت پیاری لگ رہی تھی جس پر ایک بھرپور نظر ڈالتے وہ واشروم میں بند ہو گیا
“لائٹ میک اپ اور بالو کو سٹریٹ کر کھلا چھوڑے بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
اتنے میں وہاج بھی وائٹ کڑتا پجاما میں ہلکی سی بریڈ میں بالوں کو خشک کرتے واشروم سے نکلا تھا کہ وہاج کی نظریں لائبہ پر ٹھہر گئی تھی۔
لائبہ تمہیں جب بھی دیکھو تم مجھے پہلے سے ذیادہ حسین لگتی ہو.! ایسا کیا طلسم کیا ہے کہ تمھیں دیکھنے سے دل ہی نہیں بھرتا۔ پر شوخ نظروں سے دیکھتے ہوئے قریب آیا۔
آکر بتاؤ گی ابھی چلے نیچے آنٹی انتظار کر رہی ہیں۔اسکی لو دیتی نظروں سے گھبراتے دھیان دیلایا۔
”سورج کی کرنوں نے یہاں بھی روشنی بکھری تھی مگر سب کی قسمت ایک سی نہیں ہوتی۔
”آئزہ کی آنکھ کھلی تو خود کو دیکھ اسے حیرت ہوئی وہ ارحم کا انتظار کرتے کب سو گئی کچھ خبر ہی نہ ہوئی اٹھ کر بیٹھتے اسکی نظر ارحم پر گئی جس کو دیکھ کر حیران ہوئی تھی
”یہ کب آئیں.؟ میں سو گئی تھی کیا سوچ رہے ہو گے میرے بارے میں۔ آئزہ شرمندہ ہوئی تھی اور آرام سے اٹھ کر سائڈ نیچے اتری تھی
تھوڑی دیر ارحم کے اٹھنے کا انتظار کرنے کے بعد آئزہ فریش ہونے چلی گئی آئزہ واشروم سے نکلی تو ارحم ابھی تک سو رہا تھا۔
آئزہ وائٹ کلر کے گھیر دار فراک کے ساتھ نیوی بلو کلر کے ڈوپٹے میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔
”آئزہ نے وال کلاک پڑ ٹائم دیکھا تو آٹھ بج رہے تھے آئزہ نے ارحم کو اٹھانے کا سوچ کر ارحم کے پاس گئی تھی اور جھک کر ارحم کو اٹھانے لگی تھی کے ارحم کی آنکھ کھل گئی اور آئزہ کو اپنے اوپر جھکا ہوا دیکھ کر وہ فورا سے اٹھ گیا تھا۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے۔ اسے خود سے دور کرتے بے رخی دیکھائی
”وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔“ میں ۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو اٹھا رہی تھی۔ آئزہ نے جھجھکتے ہوئے بتایا۔
تو یہ کون سا طریقہ ہیں اٹھانے کا۔ روکھائی س کہتے ارحم بیڈ سے نیچے اترا۔
“ابھی تمہارا شوق پورا نہیں ہوا جو پھر سے دلہن بن گئی ہو.؟ اسی انداز میں تنقید نظر ڈالی تو آنکھوں سے دو آنسوں ٹوٹ کر گال پر پھسلے گیے۔
”یہ رونا دھونا مجھے بالکل نہیں پسند ٹھیک ہے ناں.! اسلئے یہ ڈرامے بازیاں میرے سامنے کرنے کی ضرورت نہیں، تم کوئی میری من چاہی دلہن نہیں ہو جو میں تمھارے ناز نخرے اٹھاتا پھروں.! کاٹ دار لہجے میں اسکی ساری امیدوں پر پانی پھیرتے اٹھ کر واشروم کی جانب بڑھا
اور میرے باہر نکلنے سے پہلے اپنا حلیہ درست کروں.؟ رک کر تحقیر آمیز لہجے میں تنبیہ کرتے وہ وہاں رکا نہیں تھا۔
آئزہ پیچھے آنسوں بہاتی فوراً سے چینج کرکے ایک سادہ کاٹن سوٹ زیب تن کیا اور ڈریسنگ کے سامنے کھڑی ہو کر بالو میں برش کر رہی تھی ارحم باہر نکلا تھا ایک تیکھی نگاہ آئزہ پر ڈالتے اپنے بال خشک کرتے وائٹ کلر کے شلوار قمیض میں ہلکی سی بریڈ کے ساتھ وہ وجیہہ شخصیت کا مالک تھا ماتھے پر بکھرے بال اسے اور بھی خوب رو بنا رہے تھے جس بے نیاز وہ اپنی دھن میں مگن تھا۔
“اب یہ میک اپ کرنے مت بیٹھ جانا کیونکہ تم کچھ بھی کر لو پھر بھی میرے دل میں جگہ بنا نہیں پاؤ گی۔ بالوں میں برش کرتے وہ جانے آئزہ سے کس بات کا بدلہ لے رہا تھا جس پر وہ بنا کچھ کہے سر ہلا گئی ڈھیروں خواب لیے اسنے اپنی نئی زندگی میں قدم رکھا تھا مگر اسکے سارے خوابوں وہ بے دردی اس طرح اپنے قدموں میں رونگ دیگا یہ اسنے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔
“اب چلو نیچے..! برش کو پھیکنے کے انداز میں رکھتے وہ اسے خیال کی دنیا سے باہر لا کر پٹخہ۔
”اسلام علیکم آنٹی.!! سلام کرتے ہوئے سر ذرا جھکایا۔
”وعلیکم اسلام بیٹا.! آؤ بیٹھوں میرے پاس۔ سلام کا جواب دیتے فرحانہ بیگم نے اپنے پاس بیٹھنے کو کہا جبکہ چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے
”میں بھی آپ کا ہی کچھ لگتا ہوں.؟ نروٹھے پن سے دھیان دلایا۔
”وہاج بیٹا.! تم بھی آؤ میرے پاس بیٹھوں مجھے تم دونو سے بات کرنی ہے۔ سنجیدگی سے کہتے اسے اپنے دوسری جانب بیٹھنے کا کہا۔
”جی ماما کیا ہوا سب خیریت ہے ناں.؟ آپ مُجھے کُچھ پریشان لگ رہی ہیں۔وہ بھی سنجیدہ ہو۔
”بیٹا.! آریان صاحب کی کال آئی تھی۔ وہ الفاظ ترتیب دینے لگی۔ آریان کا نام سنتے لائبہ پوری طرح متوجہ ہوئی۔
”لائبہ بیٹا تمھارے لیے یہ خبر تکلیف دے ہوگی مگر گھبرانے کی بات نہیں اب وہ ٹھیک ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیسے بتائیں۔
”آنٹی.! آپ مجھے ڈرا رہی ہیں کیا ہوا ہے، کھل کر بتائیں، ابو جی.! تو ٹھیک ہیں ناں.! امی جی.! کو تو کچھ نہیں ہوا۔ وہ فکر مند ہوئی۔
”بیٹا وہ دونو تو ٹھیک ہیں مگر طوبیٰ ہاسپیٹلاز ہے۔ فرحانہ بیگم کے بتانے پر لائبہ کو حیرت کا جھٹکا لگا وہی وہاج بھی پریشان ہوا۔
”کیا ہوا آپی کو وہ کیوں ہاسپیٹلاز ہیں لائبہ کی آنکھوں سے انسوں بہہ نکلے۔
“اصل بات کا تو وہاں جا کر ہی علم ہوگا آریان صاحب نے تو بس اتنا ہی بتایا کہ وہ کہی گر گئی جس کی وجہ اسے گھہری چوٹ آئی ہے، ایسا کرو تم دونو چلے جاؤ میں گھر میں مہمانوں کو دیکھتی ہوں۔ متانت سے بتاتے ہوئے اجازت دی۔
”چلیں وہاج.! لائبہ نے فوراً سے اپنی جگہ سے اٹھی۔
”آئزہ ارحم کی معیت میں نیچے آئی تو سب ڈائنگ ٹیبل گرد موجود
”اسلام علیکم ماما.! کیسی ہیں آپ.؟کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے رسمی سلام دعا کے بعد حال احوال پوچھا۔ جس کا جواب دینے کے بجائے قدسیہ بیگم کی نظریں آئزہ پر ٹھہر گئی۔ جو سلام کرتے ہوئے ارحم کے ساتھ والی کرسی کھینچ کر بیٹھی تھی
آئزہ کو اپنے پاس بیٹھتا ہوا دیکھ کر ارحم فورا سے اٹھا تھا۔
”ارے تم کہا جا رہے ہو.؟ قدسیہ بیگم کے ساتھ بیٹھی شزہ ٹوکا۔
”میرا ہو گیا آپ لوگ کنٹوینو کریں۔ سپاٹ انداز میں کہتے اسنے جانے کے لیے قدم بڑھائے آئزہ نے ایک نظر ارحم کو دیکھا جو اسکی ذات سے لاپروا بنا ہوا تھا۔
”مامی.! آج تو ہمارے گھر سے ناشتہ آنا تھا.؟. بے دلی سے اپنے لیے چائے نکالتے ہوئے استفسار کیا۔
”ہاں.! بیٹا رسم تو یہی پر وہ تمھاری ناہنجار اپاہج بہن ہے ناں اسے کہاں برداشت ہوتی ہیں تم دونو کی خوشیاں وہ اپاہج رات سے ہاسپیٹل میں داخل ہے منحوس اپاہج کہی کی۔ ناگواری بتاتے انکے لہجے میں حقارت عیاں تھی۔
”کیا ہوا طوبیٰ کو.! اس قبل کے آئزہ کچھ کہتی ارحم طوبیٰ کے ذکر پر اسکے باہر جاتے قدم تیزی واپس پلٹ آئیں، آئزہ تو بس ارحم کو دیکھ کر رہ گئی تھی جو ارحم صبح سے بات کرنا گوارا نہیں کر تھا اب طوبیٰ کا نام سنتے ہی کیسے تڑپ اٹھا تھا
“ارے.! تم کیوں پریشان ہو رہے ہو.؟، اس اپاہج کا عاشق رات سے اس کے پاس ہے۔شزہ نے اسکے علم میں اضافہ کیا۔
وہ عاشق نہیں شوہر ہیں.! آئزہ نے تصحیح کی۔
”لیکن تڑپ تو تمہارا شوہر رہا ہے اس اپاہج کیلئے۔ شزہ نے دو و بد طنز کیا۔
”شزہ پلیز مائنڈ یور لینگویج۔! آئزہ نے سختی سے ٹوکا
تم چل رہی ہو ساتھ یا پھر یہاں فضول بحث میں وقت برباد کرنا ہے۔ آئزہ کی طرف تیکھی نظروں سے دیکھتے پوچھا
“میں بھی ساتھ چل رہی ہوں.! اٹھتے ہوئے آئزہ نے ایک سرد نگاہ مامی اور شزہ ڈالتے ارحم کے پیچھے نکلی تھی
“اللہ کرے مر جائے یہ اپاہج.! جان چھوٹے میرے آزر کی۔ شزہ نے ہاتھ اٹھا کر سر اٹھائے دعا کی تو قدسیہ بیگم نے بھی ساتھ ہی آمین کہا تھا۔
” آئی سی یو سے نرس نکلی جس دیکھ آزر تیزی سے قریب آیا۔
”کیسی ہے میری وائف ہے۔ آزر کا بس ایک ہی سوال تھا۔
“آپ کی دعائیں قبول ہو گئی ہیں، آپ کی وائف کو ہوش آگیا ہم انھیں روم میں شفٹ کر رہے ہیں پھر آپ مل سکتے ہیں۔ پرفیشنل انداز میں اطلاع دی جس پر خوشی سے تشکر کے آنسوں چھلک پڑے۔
”آپ سچ کہہ رہی ہے ناں.! مذاق تو نہیں کر رہی.؟ اسے اپنے کانوں پر یقین نہ ہوا۔
”جی سر.! میں بالکل سچ کہہ رہی ہوں، تھوڑی دیر تک آپ ان سے مل بھی سکیں گے۔ نرس نے یقین دہانی کروائی تو وہ خوشی سے نہال ہوتے آریان سائرہ کو بتانے بھاگا۔
”انکل.! آنٹی.! طوبیٰ کو ہوش آگیا ہے۔ آزر نے آریان صاحب اور سائرہ کو خوشی سے بتایا تھا۔
یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے تو نے ہماری بیٹی کو نئی زندگی بخشی۔ آریان اور سائرہ نے اللہ کا شکر ادا کیا تھا۔
اتنے میں لائبہ اور وہاج جو ابھی پہنچے تھیں آزر کی بات سن انھیں بھی تسلی ہوئی تھی۔
امی جی! یہاں اتنا کچھ ہوگیا اور آپ نے ہمھیں بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا کیا بیٹیاں اتنی جلدی پرائی ہو جاتی ہیں۔ لائبہ نے آگے بڑھ کر اپنی ماں کے گلے لگتے شکوہ کیا۔
”بیٹا ایسی کوئی بات نہیں، ہمیں تو اپنی ہوش نہیں تھی تم لوگوں کو کیا بتاتے بس اللّٰہ پاک کا شکر ہے کہ اب سب ٹھیک ہے۔ الگ ہوتے ہوئے تفصیل بتاتے سائرہ بیگم کے لہجے دکھ و نمی کے ساتھ خدا کا تشکر بھی شامل تھا۔
وہاج نے آگے بڑھ کر آریان صاحب تفصیل پوچھی تو انھوں نے ساری بات جو انھیں معلوم تھی بتائی جس پر
وہاج نے آزر کو دیکھا اور بنا کچھ کہے آزر کے گلے لگا تھا۔
”آزر تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا ایک کال ہی کر دیتے
تم نے تو پرایا ہی کر دیا یار.! اسکی حالت دیکھ وہاج کو دکھ ہوا تھا۔
”نہیں یار مجھے تو خود سمجھ نہیں آرہی تھی کیا کرو.؟ کہاں جاؤ کس طرح طوبیٰ کو لے کر یہاں پہنچا کچھ پتا نہیں۔ طوبیٰ کی حالت کا سوچ آزر کا دل ڈوبنے لگا تھا۔
“آپ لوگ اب پیشنٹ سے مل سکتے ہیں.؟ نرس نے آکر اطلاع دی تو سب طوبیٰ کے روم کی طرف بڑھے تھے لیکن ازر کے پاؤ وہی منجمند ہو گئے تھے۔
”کیا ہوا آزر تم نہیں آرہے.؟۔ آزر کو اپنی جگہ ساکت دیکھ وہاج نے جاننا چاہا آزر نفی میں سر ہلا کر وہی بیٹھ گیا تھا۔
سب روم میں موجود تھے طوبیٰ نے اپنی آنکھیں کھولی تو اپنے سامنے آریان اور سائرہ کو دیکھا جو آنکھوں میں آنسو لیے ہوئے تھے اور دوسری طرف لائبہ اور وہاج لائبہ کی آنکھیں بھی سرخ ہو رہی تھی۔
“طوبیٰ بیٹا ہمیں معاف کر دو ہم اپنی دو بیٹیوں کی خوشیوں میں اس قدر کھو گئے تھے کے تمھیں اور تمھاری خوشیوں کو بھول ہی گئیں، بھول ہی گئیں کہ تمھیں بھی ہماری اتنی ضرورت ہے جتنی باقی دونوں کو۔ اریان صاحب نے روتے ہوئے ہاتھ جوڑے تو طوبیٰ نے نہ میں سر ہلاتے کنولا لگے ہاتھ سے باپ کے ہاتھوں تھام لیا۔
”پلیز.! یہ سب کہہ کر مجھے گناہگار نہ کریں، پہلے ہی میں آپ سب کو پریشان کرنے پر شرمندہ ہوں خوامخواہ میری وجہ سے آپ سب کی خوشیاں ماند پڑ گئی۔ ماسک لگے وہ نکاہت زدہ لہجے میں کہتی آبدیدہ ہوئی۔
”آپی.!! ایسا کچھ نہیں ہے، نادم تو ہم ہونا چاہیے جو اپنی خوشیوں، میں آپکو بھول گئے آپ کو کچھ ہو جاتا ہم تو کبھی بھی خود سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہتے۔ اپنی خودغرضی پر ملال ہوا۔
”تم.! نظریں ملانے سے کترا رہی ہو اور کسی نے اُسکے بارے میں سوچا ہے، جو باہر دیوانہ بنا بیٹھا ہے وہ تو جیتے جی مر جاتا۔ وہاج نے آزر کی جانب دھیان دلایا طوبیٰ نے ارد گرد نظریں دوڑاتے ہوئی کسی کو تلاشنے کی کوشش کی۔
”ابو جی.؟“ طوبیٰ نے دھیرے سے پکارا۔
”جی بیٹا۔!اسکی جانب متوجہ ہوئے۔
ابو جی.! مجھے یہاں کون لے کر آیا.؟“ طوبیٰ نے کسی خدشے کے تخت پوچھا تھا۔
”کون لا سکتا ہے وہی جسے دنیا میں اپنی محبوبہ بیوی کے سوا اور کوئی دیکھائی نہیں دیتا مطلب کے تمھارا شوہر نامدار پلس عاشق.؟ اسے قبل آریان صاحب کچھ بتاتے وہاج نے زبان نے تیزی دیکھائی مگر آریان صاحب کی نظر خود پر دیکھ فوراً گڑبڑاتے نظریں یہاں وہاں کی۔
انکل.؟ وہ تو میں بس۔۔۔!! وہاج نے سر کھجاتے ہوئے وضاحت دینی چاہی تو سب کے چہروں پر مسکراہٹ ڈور گئی۔
آئزہ اور ارحم نے جیسے ہی روم میں قدم رکھا تو سب کو خوش دیکھ کر ایک پل کے لیے تو آئزہ حیران رہ گئی تھی۔
لیکن جب نظر طوبیٰ کی طرف گئی فوراً سے آگے بڑھی تھی۔
”آپی.! کیا ہوگیا میں تو آپ کو تو میں تیار کر کے گئی تھی اور آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ ابو جی کے ساتھ آئے گئی پھر یہ سب.؟ آئزہ نے متفکرانہ انداز میں استفسار کیا۔
آئزہ کے پیچھے ارحم خاموشی سے کھڑا طوبیٰ کو دیکھ رہا تھا۔
مگر طوبیٰ کی نظریں جس ستم گر کی منتظر تھی وہ کہیں نہیں تھا۔
”چلے سب باہر جائیں اور پیشنٹ کو آرام کرنے دیں ابھی انکا ذیادہ بات کرنا صحیح نہیں ہے۔نرس نے آتے ہی سب کو جانے کا کہا تو سب باہر آگئیں۔
”انکل میری ڈاکٹر سے بات ہوگئی ہے انکا کہنا ہے کہ طوبیٰ کی حالت پہلے سے کافی بہتر ہے، تو میں سوچ رہا تھا آپ دونوں گھر جا کر تھوڑا آرام کر لیں ساری رات بھی نہیں سوئے تھک گئے ہونگے۔ سب کو ڈاکٹر کی طرف سے آگاہ کرتے آریان صاحب کو تجویز دی۔
”اور بھائی..! آپ بھی تو رات بھر جاگتے رہے ہیں آپ بھی جا کر تھوڑا آرام کر لیں ،آپی کے پاس میں رک جاتی ہوں ۔ اسے قبل آریان صاحب کچھ کہتے آئزہ مداخلت کی۔
”جب تک طوبیٰ ٹھیک ہو کر گھر نہیں جائے گی میں یہاں سے کہی نہیں جانے والا، نہ ہی مجھے کوئی فورس کرے،، ویسے بھی تم یہاں کیسے رک سکتی ہو تم دونوں کا تو شام کو ریسیپشن ہے۔؟ ویسے بھی اب وہ میری رسپانس بلٹی ہے۔ اٹل انداز میں انکار کرتے آزر نے دھیان دلانے کے ساتھ آخر میں اپنا حق ملکیت جتائی، جس پر آریان صاحب نے خاموشی اختیار کرنا ہی بہتر سمجھا کیونکہ وہ رات آزر کی حالت سے واقف تھے۔
”لیکن پھوپھا.؟ یہ کیسے رک سکتا ہے ابھی ان کی رخصتی بھی نہیں ہوئی؟ لوگ کیا سوچیں گیں۔ ارحم کو آزر کی بات بالکل پسند نہیں آئی تبھی اعتراض اٹھایا۔
”رخصتی نہیں ہوئی سے کیا مراد ہے تمھارا وہ کوئی شوقیہ اسکے ساتھ نہیں رہنا چاہ رہا ہے، ویسے بھی اصل چیز تو نکاح ہوتا جو ان دونوں کا ہوچکا ہے اسلئے کسی کو کچھ کہنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا ۔ آریان صاحب نے ارحم کی اعتراض کو حاطر میں نہ لاتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا جس پر ارحم سلگ کر رہ گیا تھا۔
”میں جا رہا ہوں اگر تمھیں چلنا ہے تو آجاؤ.! آریان صاحب کی بات کا برا مناتے ہوئے ارحم نے آئزہ کو چلنے کا حکم جاری کیا جس پر خاموشی سے عمل کرتی اس کی معئیت میں چل پڑی۔
“شام کو ملاقات ہوتی ہے۔ سب کے جانے کے بعد وہاج نے بھی اجازت لی تھی۔
”میں تو نہیں آسکتا جس کے لیے پیشگی معزرت خواہ ہوں، البتہ ہماری دعائیں تم دونوں کے ساتھ ہیں۔ آزر نے بلگیر ہوتے خوش دلی سے کہا جس پر وہاج نے ہماری پر متعجب نظروں سے دیکھتے نفی میں سر ہلایا۔