قسط: 17 پارٹ 2
پانی.!
وہ جو دوائیوں کے زیرے اثر تھی گلا خشک ہونے پر نکاہت سے بڑبڑائی جس پر پاس بیٹھا آزر متوجہ ہوتے جگ سے گلاس میں پانی انڈیلتے اسکا سر اٹھا کر گلاس لبوں سے لگایا آشنا لمس پاتے مندھی مندھی آنکھیں واں کی اپنے سامنے آزر کو دیکھ آنکھیں فوری میچ گئی جس پر ایک مبہم زخمی سی مسکان آزر کے چہرے کو چھو کر گزری۔
”مجھے پتا ہے تم جاگ رہی ہو اب جلدی سے آنکھیں کھولو شاباش.!۔ پانی کا گلاس واپس رکھتے آزر نے پیار سے کہا تو طوبیٰ اپنی آنکھیں سختی سے بند کئے نفی میں سر ہلا گئی۔
”امی جی.! کہاں ہیں؟“کسل مندی سے پوچھتے ہوئے آنکھیں بنوز بند تھی۔
”میں نے انھیں گھر بھیج دیا ہے، ویسے بھی تمہیں اکیلے رہنا پسند ہے ناں تو میں نے ان سے کہا آپ گھر جا کر آرام کریں پھر شام کو لائبہ آئزہ کا ولیمہ ہے تمھاری ٹینشن نہ لیں تم یہاں آرام سے ہو۔ گلاس واپس رکھتے اسکے چہرے پر نظریں مرکوز کیے آزر کے لہجے میں طنز تھا۔ طوبیٰ کے حلق میں گٹھلی ابھر تھی۔
”آزر میں نے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا۔ نظریں ملائے بنا اپنی صفائی پیش کرتی اسکے نکاہت زدہ لہجے میں نمی گھل گئی تھی
ہونہہ..! جس کے جواب میں ازر نے بس اتنا ہی کہنے پر اتفاق کیا۔
”یہ سوپ پی لو.! بیڈ اٹھا کر اسکے پاس بیٹھتے ہوئے اپنائیت سے کہا وہ اب تک نظریں ملانے سے گریزاں تھی۔
”منہ کھولو شاباش.! چمچ منہ کے پاس لیجاتے ہوئے بچوں کی مانند پچکارا۔
”مجھے نہیں پینا۔۔۔۔“
جلدی کرو طوبیٰ پھر میڈیسن بھی لینی ہیں۔ آزر نے اسی کی بات کو ان سنا کرتے اپنی بات دہرائی۔
”مجھے نہیں پینا.! نا ہی مجھے کوئی میڈیسن لینی ہے، آپ بھی چلے جائیں جیسے باقی سب مُجھے تنہا چھوڑ کر چلے گئیں، آپ بھی جائیں۔ اپنے آنسوں کا گلا گھونٹتے بمشکل خود کو رونے سے روک پائی تھی۔
”کوئی تمھیں چھوڑ کر نہیں گیا میں نے بھیجا ہے انکل آنٹی کو گھر اور ویسے بھی تو تمھیں اکیلے رہنا ہی پسند ہے تو سوچا اسی بہانے ہمیں کچھ وقت ساتھ گزارنے کا مل جائے گا، چلو اب شاباش یہ سوپ پی لو.! سپاٹ انداز میں کہتے آخر میں شوخی در آئی تھی جس سے انجان طوبیٰ کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور وہ چیخ پڑی تھی
نہیں پینا۔۔۔۔” نہیں پینا۔۔۔۔۔“ نہیں پینا۔۔۔۔“
بلکہ آپ کو کہا کس نے تھا کہ آپ مجھے بچائے، آپ نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ کیوں بچایا مجھے، مر جانے دیا ہوتا تو ایک ہی بار میں قصہ تمام ہو جاتا۔
طوبیٰ.! تم نے اب تک صرف میرا پیارا دیکھا ہے مجھے وہ کرنے پر مجبور نہ کرو جو میں کرنا نہیں چاہتا۔ اسکی بات سن آزر دھک سے رہ گیا تبھی سختی سے ٹوکا تھا۔
”جو کرنا ہے کر لیں مجھے آپکی کسی دھمکی سے ڈر نہیں لگتا، آپ بس میری ایک بات کا جواب دیں کہ آپ نے کیوں بچایا مجھ اپاہج کو.! آپ کو نہیں جانتے کسی پر بوجھ ہونے کا احساس کتنا اذیت ناک ہوتا ہے، اپنی وجہ سے کسی کی خوشیاں خراب کرنے کا احساس آپ کو ہر پل اندر سے توڑ دیتا ہے، کب تک آپ مجھ اپاہج کے پیچھے اپنی زندگی خراب کریں گے، کب تک آپ مجھ پر ترس کھائے گے مرنے کیوں نہیں دیتے آپ مجھے۔ ہذیانی انداز میں بولتے ہوئے وہ اندر سے پوری طرح ٹوٹ گئی تھی
”مجھے سکون چاہئے آزر اور وہ شاید مرنے کے بعد ہی ملے گا، مجھ سے لوگو کی باتیں برداشت نہیں ہوتی میں مرنا چاہتی ہوں، ویسے بھی میرے ہونے نہ ہونے سے کسی کو فرق نہیں پڑتا بوجھ ہوں میں سب پر اور اب آپ پر بھی۔ مزید اسی انداز میں کہتے دل برداشتہ ہوئی آنکھوں سے آنسوں روا ہوئے جنھیں دیکھ آزر تڑپ کر رہ گیا۔
”پاگل لڑکی.! کیا کیا سوچتی رہتی ہو.؟ کس نے کہا تمھارے ہونے نہ ہونے سے کسی کو فرق نہیں پڑتا؟“ سوپ کا باؤل ایک طرف رکھ کر آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لگانا چاہا جس پر کنولا لگے ہاتھ سے اسے پرے دھکیلنے کی کوشش جسے وہ ناکام بناتا اپنے حصار میں لیا۔
”آپ بھی دور رہے مجھ سے میں آپ کے لائق نہیں اپاہج ہو میں آپ کی خوشیاں بھی خراب کر دونگی جیسے اپنی بہنوں کی کر دی،اب سب میرے بارے میں کیا سوچیں گیں کہ مجھ سے اپنی بہنوں کی خوشیوں برداشت نہیں ہوئی اور ان سے حسد میں ہاسپیٹل اڈمیٹ ہوگئی ہوں۔ اسکے حصار سے نکلنے کی کوشش میں ہلکان ہوتے اسکی سسکیاں بندھ گئی تھی۔
”طوبیٰ پلیز۔۔“ چپ ایک دم چپ ایک لفظ اور نہیں، کون کیا سوچتا ہے کیا نہیں اسے مجھے فرق نہیں پڑتا ہاں مگر تم انکی وجہ سے خود کو تکلیف پہنچاؤ یہ میں ہر گز برداشت نہیں کروں گا۔ طوبیٰ کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتے اسنے سختی سے تنبیہ کی جس پر اسنے جھکی پلکیں اٹھائی تو نظریں آزر کی نظروں سے ٹکرائی بکھرے بال سرخ آنکھیں قمیض پر لگا جگہ جگہ خون وہ کہی سے اسے وہ شخص نہیں لگا جسے اسنے پہلی بار دیکھا تھا۔
”آپ کو کیا ہوا ہے؟ آزر کی بکھری حالت پر طوبیٰ اپنا دکھ بھلائے آنسوں کے ساتھ اٹکتے پوچھا۔
”کچھ نہیں میں دوسرا سوپ لےکر آتا ہوں.! اسکے پوچھنے پر فوراً سے اٹھتے آزر نے نظریں چرائی تو طوبیٰ نے کنولا لگے ہاتھ سے اسکا ہاتھ پکڑ لیا جبکہ آزر اپنے اندر چلتے خلفشار کو چھپانے کی تگ و دو میں منہ دوسری جانب کر گیا تھا۔
”طوبیٰ سوپ ٹھنڈا ہو گیا ہے میں دوسرا لے کر آتا ہوں پھر میڈیسن بھی لینی ہے۔ ازر نے پیار سے طوبیٰ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ الگ کیا وہ اپنی وجہ سے اسے مزید دکھ نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔
”ریسیپشن کی تقریب کے بعد دونوں بہنیں اپنے اپنے گھر جانے سے قبل طوبیٰ سے ملنے ہاسپٹل آئی تھی۔
”صبح ہوئی عزت افزائی کے باوجود آئزہ کے زریعے آزر کو وہاں سے بھیج کر خود رکنے کی کوشش کی جسے آزر نے ان سنا کر دیا۔
”میں اور لائبہ روک جاتے ہیں تم گھر جا کر چینج کر آؤ اتنا تو کر ہی سکتے ہو یا نہیں۔ آزر کے ضدی مزاج کو مدنظر رکھتے وہاج نے پیشکش کی جس وہ مسترد کر گیا۔
”آزر بیٹا کیوں ضد کر رہے ہو اس طرح تو تم خود بیمار پڑ جاؤ گے، بھروسہ رکھو تمھاری تمھاری وائف کا اچھے سے خیال رکھوں گی۔ سائرہ بیگم نے یقین دہانی کروائی مگر وہ اپنی بات سے ٹس سے مس نہ ہوا۔
”آنٹی اگر رکنا چاہتی ہیں تو رک سکتی ہیں مگر میں یہاں سے کہی نہیں جا رہا میں نے اپنے کپڑے منگوا لیے میں چینج کر لونگا آپ سب میرے لیے پریشان نہ ہو.! آزر صاف انکار کیا تھا۔
اور پھر آزر کی ضد کے سامنے سب ہار مانتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئیں۔