قسط: 18
”گھر واپس آنے کے بعد کافی دیر تک یونہی بیٹھی اسکی راہ تکتی رہی جب کسی کے انے کی امید نہ رہی تو بے دلی سے بیڈ سے نیچے اتری اور کبرڈ سے اپنے لیے سمپل سا ڈریس نکال کر چینج کرنے چلی گئی تھی۔
”ارحم لان میں بیٹھا سگرٹ پی رہا تھا۔
”بیٹا.! تم یہاں کیا کر رہے ہو آئزہ تمہارا انتظار کر رہی ہوگی۔ قدسیہ جو کسی کام سے اس طرف آئی تھی ارحم کو یہاں دیکھ کر حیران ہوئی۔
”وہ میرا کیوں انتظار کر رہی ہوگی.؟ اگر کر بھی رہی ہے تو میں کیا کرو.؟ میں نے آپ سے کہا تھا میں آئزہ سے شادی نہیں کرنا چاہتا مجھے۔۔۔۔۔۔“
”بس اس سے آگے ایک اور لفظ نہ نکلے تمھاری زبان سے۔۔!!اور چلو جاؤ اپنے کمرے میں یہاں کھڑے ہو کر اپنے ساتھ ساتھ میرا تماشا مت بناؤ۔ اسکی بات مکمل ہونے سے قبل قدسیہ بیگم ہاتھ اٹھا کر اسے سخت گیر نظروں سے دیکھتے تنبیہہ کرتے تاکید کی۔
”میں نہیں جاؤنگا.! آپ کے مجبور کرنے پر شادی تو کرلی مگر اسے نبھانے کے لیے آپ مجھے فورس نہیں کر سکتی۔ وہ بھی سلگتے ہوئے تنک کر بولا۔
“ارحم.! آئزہ بہت پیاری بچی ہے ایک دن تم اس بات کو ضرور مانو گے، چلو اب اسے پہلے مہمانوں کے سامنے کوئی تماشا کریئٹ ہو! جاؤ اپنے کمرے میں۔ ارحم کو بگڑتا ہوا دیکھ قدسیہ بیگم نے پینترا بدلا۔
”ارے خالا آپ یہاں ہیں، آپ کو اندر سب ڈھونڈ رہے ہیں۔
شزہ جو قدسیہ بیگم کو ڈھونڈنے آئی تھی وہ سب سن چکی تھی۔
”ارحم.! رات بہت ہو گئی باقی باتیں صبحِ کریں گے ابھی تم جا کر آرام کرو۔ ارحم کو ہدایت کرتے قدسیہ بیگم وہاں سے جا چکی تھی۔
”یہ کیا ارحم.! تم اپنی نئی نویلی دلہن کو چھوڑ کر یہاں مجنوں بننے بیٹھے ہو.! اور جس کی خاطر تم یہ سب کر رہے ہو اسے تمہاری پروا تک نہیں۔ شزہ نے مصنوعی ہمدردی جتاتے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا
”شزہ پلیز۔۔۔۔!!“میرا موڈ پہلے ہی خراب ہے تم اور خراب نہ کرو.! ناگواری سے اسکا ہاتھ جھٹکتے اسکی اور پلٹا تو وہ سلگ کر رہ گئی مگر ظاہر نہ کیا۔
”ارحم یہ ٹائم موڈ خراب کرنے کا نہیں بلکہ اٹس ٹائم ٹو ایکشن.! اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے معنیٰ خیز لبوں لہجے میں گویا ہوئی تو اسکی بات کا مفہوم سمجھتے ارحم کی آنکھیں چمکی تھی۔
”تمہارا مطلب ہے۔۔۔۔۔ کہ۔۔۔۔۔۔“ اسکی جانب دیکھتے وہ فوراً سے گلے لگا۔
”تم تو کافی سمجھ دار ہوگئے ہو.! مبہم سی مسکراہٹ کے ساتھ اسکے گرد بازوں حائل کئے۔
”تھینکس.! شزہ تم بہت اچھی ہو.! اسے الگ ہوتے ارحم نے دل سے کہا اور وہاں سے تیزی سے چلا گیا جبکہ وہ وہی کھڑی پر سوچ انداز دیکھتے اسکے چہرے پر ایک مبہم سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
”ارحم کمرے میں آیا تو آئزہ چینج کر کے شیشے کے سامنے کھڑی اپنے بالوں میں برش کر رہی تھی ارحم کو دیکھ برش وہی رکھتی فورا سے بیڈ کی طرف بڑھی
”ارے اتنی بھی کیا جلدی ہے سونے کی اور یہ تم نے چینج کیوں کیا.؟“تیزی سے آگے بڑھ کر اسکی کلائی تھامتے سوال کیا جس پر اسنے خفگی سے اسکی اور دیکھا۔
”آپ ہی تو صبح ناراض ہو رہے تھے، مجھے لگا کہ اب پھر کہیں آپ کو برا نہ لگے.؟ خفگی سے کہتے اپنا ہاتھ چھڑوانا چاہا جس پر وہ اپنی گرفت مضبوط کرتے اسے اپنے قریب کر گیا۔
”اپنی محبت سے بھی کوئی ناراض ہوتا ہیں بھلا.! دوسرے ہاتھ سے اسکا بال کان کے پیچھے اڑیستے انگوٹھے سے اسکا گال سہلایا آئزہ میں طوبیٰ نظر آنے لگی تھی ارحم کے لمس پاتے ہی آئزہ کے روح پے میں سکون اترتا ہوا محسوس ہوا تو بے ساختہ اسکے سینے سے لگ گئی ارحم نے اسے کے گرد بازوں حائل کر لیے
میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں بہت بس اب تم وعدہ کرو کہ کبھی مُجھے چھوڑ کر نہیں جاؤ گی۔الگ ہوتے ارحم نے آئزہ کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا جس پر وہ اثبات سر ہلا گئی جس پر ارحم خوشی سے نہال ہوتے جھک کر اسے اٹھا کر بیڈ پر لیٹاتے آئزہ کو طوبیٰ سمجھ کر اس پر جھکا اپنی محبت لٹانے لگا آئزہ اسے بے خبر اسے اپنا آپ سونپ گئی تھی۔
کوئی نہیں جانتا تھا اس یک طرفہ محبت کا کیا انجام ہونے والا تھا۔
”ایک نئی صبح نے انگڑائی لی تو سورج نے اپنی کرنیں ہر سو بکھیری پرندوں کی چہچہاہٹ نے صبح کی نوید سنائی۔
طوبیٰ کی آنکھ کھلی تو آزر کو کرسی پر طوبیٰ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے نیم دراز سویا ہوا پایا جسے دیکھ اسکے دل نے بے ساختہ اس ساتھ کو ہمیشہ برقرار رکھنے کی خواہش کی تھی۔
آرام سے اٹھ کر بیٹھتے اپنا ہاتھ بنوز آزر کے ہاتھ میں قید دیکھ کر طوبیٰ کے دل نے بیٹ مس کیا چہرے پر ہلکی سی سمائل نمودار ہوئی جو فوراً ہی غائب ہوگئی۔
“اتنی محبت نہ کریں میں آپ کے لائق نہیں۔ بینڈچ لگے ہاتھ سے آزر کے ماتھے پر بکھرے بالوں پیچھے کرتے دکھ سے سوچا۔
کیا ہوا طوبیٰ کچھ چاہیے.؟ ہلکی سی آہٹ پر آزر فوراً سے بیدار ہوتے متفکرانہ انداز میں پوچھتے اسکی جانب متوجہ ہوا۔
”نہیں۔۔! سپاٹ انداز میں یک لفظی جواب دیا۔
پھر کہی درد ہو رہا ہے تو ڈاکٹر کو بلاؤ۔۔؟“
نہیں۔۔!
”پھر تم اٹھ کیوں گئی تمہیں آرام کی ضرورت ہے آرام کرو.!
“میں ٹھیک ہوں آپ وہاں صوفے پر جا کر آرام کر لیں۔ دھیمے مگر سپاٹ انداز میں بولی۔
”طوبیٰ.! تم میری فکر نہیں کرو، بس.! تم ٹھیک ہو جاؤ تمہیں دیکھ کر میں خود ٹھیک ہو جاونگا۔ محبت پاش نظروں سے دیکھا جسے گھبراتے وہ نظریں جھکا گئی۔
ہم ۔۔۔۔۔ گھر۔۔۔۔۔ کب۔۔۔۔ جائیں۔۔۔۔۔۔ گیں آزر.؟ اسکی جانب دیکھے بغیر استفسار کیا۔
”جب تم کہوں.؟
مطلب۔۔۔۔؟
”جب میری جان.! کہے گی میں ٹھیک ہو ہم گھر چلیں گیں۔چوٹکی بجاتے مسئلے کا حل پیش کیا۔
”میں ٹھیک ہوں ابھی چلیں۔۔؟
ابھی نہیں میری جان.! ایک مرتبہ ڈاکٹر سے بات کر لوں پھر میں اپنی جان کو گھر لیکر چلوں گا۔ اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔
آزر کی بات سن کر طوبیٰ نے سر تکیہ پر رکھ دیا تھا اور چھت کو گھورنے لگی۔
”کیا سوچ رہی ہوں جان.!
کچھ نہیں.!
”سو جاؤ اتنا مت سوچو زیادہ سوچنا تمھاری صحت کیلئے مفید نہیں.!
ہممممم نیند نہیں آرہی.!
”پھر باتیں کرو مجھ سے یو تمہاری خاموشی اچھی نہیں لگتی.؟
”کیا بات کرو کوئی بات ہی نہیں ہے۔؟“طوبیٰ کی آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کر بہہ نکلے تھیں۔
”کچھ بھی کہوں چاہو تو مُجھ سے لڑ لو جھگڑ لو کچھ بھی مگر یو چپ مت رہوں۔طوبیٰ کی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی وہ پہلے بھی کم گو تھی مگر اب جیسے اسے چپ سی لگ گئی تھی نہ کچھ بولتی تھی نہ کھاتی تھی نہ پیتی تھی بس خالی نظروں سے چھت کو گھورتی رہتی تھی۔
”طوبیٰ کے کہنے پر آزر اس وقت ڈاکٹر کے کیبن میں بیٹھا اسے گھر لے جانے کی بات کر رہا تھا۔
آپ کی وائف ٹھیک ویسے تو اب ٹھیک ہیں آپ انھیں گھر لے جاسکتے ہیں مگر.! یاد رکھیئے گا کہ انکی مینٹل ہیلتھ صحیح نہیں جس کا آپ کو خاص خیال رکھنا پڑے گا چھوٹی سے چھوٹی بات بھی انکے لیے بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے ذرا سی ٹینشن بھی لی تو انھیں برین ہمریج بھی ہو سکتا جو ان کی جان بھی لے سکتا ہے۔ ڈاکٹر نے پیشہ ورانہ انداز میں محتاط کیا تھا۔ تو وہ پر سوچ انداز میں اثبات میں سر ہلا گیا۔
ڈسچارج پیپر بنواتے ہوئے آزر آگے کا لائحہ عمل طے کر چکا تھا اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کے غرض سے آزر نے آریان کا نمبر ڈائل کیا جو پہلی بیل پر اٹھا لیا گیا۔
جی انکل آپ آرہے ہیں.؟ رسمی سلام دعا کے بعد آزر نے کال کرنے کا مدعہ بیان کیا۔
”جی بس راستے میں ہوں، سب خیریت ہے ناں.؟ انھیں فکر لاحق ہوئی۔
”جی سب خیریت ہے آپ آجاۓ پھر بات کرتے ہیں۔ آزر نے کہہ کر فون رکھا تھا۔
”ارحم کی صبح آنکھ کھلی تو آئزہ کو اپنی بانہوں میں دیکھ کر حیران رہ گیا ساتھ ہی گزری رات کے لمحات آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی مانند چلنے لگے۔
“یہ کیا ہو گیا مجھ سے، میں کیسے طوبیٰ سے بے وفائی کر سکتا ،میں تو طوبیٰ سے محبت کرتا تھا۔ اپنے بال نوچتے ہوئے خود کو ملامت کرتے وہ اٹھ کر واشروم میں بند ہو گیا۔
”لگتا ہے آج ارحم جلدی اٹھ گئے ہیں۔ مندھی مندھی آنکھیں مسلتے اٹھی تو نظروں نے ارحم کو تلاشنا چاہا جسے نہ پا کر وہ سوچتے ہوئے اٹھ کر بیٹھی گزری شب کے ارحم کی گستاخیاں یاد آنے پر اسکا چہرہ حیا سے گل نار ہوا اتنے میں وہ ٹاول سے بال خشک کرتے واشروم سے نکلا ارحم کو دیکھ اسکے چہرے پر بکھری لالی میں اضافہ ہوا جسے ارحم نظر انداز کر گیا تھا۔
”میں نیچے جا رہا ہوں.! تم بھی فریش ہو کر آجاؤ.! بالوں میں برش کرتے روکھے پن سے کہتے اسکی جانب دیکھے بغیر وہ کمرے سے جا چکا تھا۔
پیچے آئزہ تعجب زدہ نظروں سے دیکھتی رہ گئی تھی۔
”طوبیٰ پلیز.! تھوڑا سا کچھ کھا لو پھر میڈیسن بھی کھانی ہے۔ چمچ اسکے منہ کے سامنے کیے آزر نے اصرار کیا۔
”مجھے بھوک نہیں.! پلیز آپ کھا لیں۔ اپنے منہ کے سامنے سے چمچ ہٹاتے اسنے منا کیا۔
”اگر تم نہیں کھاؤ گی تو پھر میں بھی نہیں کھا رہا، اور جو میرے پاس تمھارے لیے سرپرائز ہے وہ بھی نہیں بتا رہا؟۔ آزر نے چمچ باؤل میں رکھتے مصنوعی خفگی دیکھائی۔
”کیا باتیں ہو رہی ہیں.؟ روم میں داخل ہوتے آریان صاحب نے پوچھا جن کے ہمراہ وہاج و لائبہ بھی تھیں۔
“کچھ نہیں آنکل.!بس آپ کی بیٹی کو ناشتہ کروانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ آزر نے اٹھتے ہوئے بتایا۔
”میری بیٹی، پکی بات ہے ناں.! تمھاری تو کچھ نہیں لگتی، اب بس اپنی بات پر قائم رہنا۔ آریان صاحب نے بظاھر سنجیدگی سے استفسار کرتے تائید چاہی تو ایک پل کو سوچ میں پڑ گیا طوبیٰ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری اور پھر مدھم ہو گئی۔
”ابو جی.! مجھے گھر جانا ہے مجھے یہاں کچھ اچھا نہیں لگا رہا۔ آزر کے کچھ کہنے سے قبل طوبیٰ نے اپنی پریشانی بیان کی۔
”جی انکل.! میں بھی آپ کو یہی بتانے والا تھا ڈاکٹر نے طوبیٰ کو گھر لیجانے کی اجازت دیدی ہے۔ طوبیٰ کی بات پر آزر نے آگاہ کیا۔
”یہ آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟ طوبیٰ نے خفگی سے اس کی اور دیکھا۔
”کیونکہ مجھے انکل سے کچھ بات کرنی ہے اسلیے میں ان کے آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ اسنے تمہید باندھی۔
”کیا بات ہے بیٹا کوئی پریشانی کی بات تو نہیں.؟ فکر ہوئی۔
”انکل.! فکر کی کوئی بات نہیں مگر.! انکل میں چاہتا ہوں کہ طوبیٰ کو یہاں سے میں اپنے ساتھ گھر لیکر جاؤنگا اگر طوبیٰ کو کوئی اعتراض نہ ہو تو.! متانت سے کہتے ہوئے طوبیٰ کی اور آس بھری نظروں سے دیکھا۔
”لیکن بیٹا.! ایسے کیسے؟ آزر کی بات سن کر آریان صاحب کو حیرت ہوئی تھی۔
”انکل پلیز میں طوبیٰ کو ایک پل کے لیے خود سے دور نہیں کر سکتا پلیز انکل پلیز.! ضدی مگر اٹل انداز میں منت کی۔
اگر طوبیٰ راضی ہے تو پھر ٹھیک ہے ہم یہاں سے ہی رخصت کر دیتے ہیں اپنی بیٹی کو.! لیکن اگر تم کہوں کہ میں اپنی بیٹی کی مرضی کے خلاف جا کر ایسا کرو اور تم بعد میں اسے خود منا لو گیں تو ایسا ہر گز نہیں ہوگا۔تھوڑی دیر سوچنے کے بعد آریان صاحب نے اپنی رضامندی طوبیٰ کی رضا سے مشروط کی تو آزر کی طرح باقی سب کی نظریں بھی طوبیٰ کی جانب گئی جو کسی بھی قسم کے جذبات یا احساس سے عاری نظر آرہی تھی۔
”پلیز.!منا مت کرنا۔ آزر کے دل نے شدت سے دعا کی تھی۔
”طوبیٰ تم کسی کہ بھی دباؤ میں آئیں بغیر اپنا فیصلہ لے سکتی ہو.! میں وعدہ کرتا ہوں کوئی تمھیں پریشرائز نہیں کرے گا۔ وہاج بھی آریان صاحب کی حمایت کرتے طوبیٰ کو یقینی دہانی کروائی۔
”جب پہلے کسی معاملے میں میری رضا کی پروا نہیں کی گئی تو اب بھی اس فارملیٹی ضرورت نہیں، ویسے بھی نکاح تو وہ جو ہے ہوگیا ہے، اب میں یہاں رہوں یہاں وہاں کیا فرق پڑتا ہے۔ بے تاثر انداز میں کہتے خالی نظروں سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا جو آنکھوں میں امید کے جگنو لیے اسکے جواب کا منتظر تھا اور اسکی بات سنتے ہی وہ چمک ماند پڑنے لگی تھی۔
”یہ کوئی فارملیٹی نہیں ہے طوبیٰ.! میں سچ میں چاہتا ہوں تم یہ بات دل سے اپنی نئی زندگی شروع کرو نہ کہ کسی کے لحاظ یا دباؤ میں، اگر تمھاری خوشی میرے ساتھ جانے میں نہیں تو ائی پرومس میں تمھیں فورس نہیں کرونگا۔ اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے آزر نے متانت سے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے یقین دہانی کروائی تو طوبیٰ کے سامنے وہ سارے مناظر آئیں تھے جب جب وہ ٹوٹ کر بکھری تو بغیر کسی سوال کے اسنے اسے سمیٹ لیا تھا۔
”اگر میں نے اپنے دل کی کہی تو یہاں موجود کسی کو وہ بات پسند نہیں آئے گی، آپ سب کو جو بہتر لگتا آپ کریں مجھے کسی بات پر کوئی اعتراض نہیں آپ جہاں لیجانا چاہے میں جانے کے لیے تیار ہوں۔ پہلی بات دل میں کہتے دوسری بات دھیمے مگر سپاٹ انداز بولی تھی جس پر آزر کے لبوں کو مبہم سی مسکراہٹ چھو کر گزری۔
”آریان صاحب نے آگے بڑھ کر طوبیٰ کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی اللّٰہ پاک میری بیٹی کو ہمیشہ خوش رکھے اور تمھارے دامن خوشیوں سے بھر دے۔
”بیٹا کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم طوبیٰ کو گھر لیجائے تو پھر تم وہاں سے آکر لے جاؤ.؟ طوبیٰ کو دیکھتے ہوئے آریان صاحب اپنے فیصلے پر متزلزل کا شکار ہوئے۔
”انکل طوبیٰ.! کیلئے اتنا سفر کرنا صحیح نہیں ہے، ورنہ میں آپ کو یہاں آنے کا نہ کہتا بلکہ میں طوبیٰ کو لیکر گھر آ جاتا۔
”چلو ٹھیک جیسے تمھیں بہتر لگتا ہے ویسا کر لو.! آریان صاحب عجیب سی کشمش سے دو چار تھے۔
وہسے میں جانتا ہوں تمھیں کہنے کی ضرورت نہیں ہے پھر بھی باپ ہونے کے ناطے کہہ رہا ہوں ازر بیٹا.!میری بیٹی بہت حساس ہے اگر اس سے کوئی غلطی ہو جائے تو معاف کر دینا۔رسان سے کہتے ہوئے آریان صاحب کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تو آگے بڑھ آزر کو گلے لگایا۔ طوبیٰ سب سے لاتعلق بننی بیٹھی تھی۔
”انکل آپ فکر نہیں کریں میں خود سے بڑھ کر خیال رکھوں گا آپکو کبھی شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔الگ ہوتے ہوئے آزر نے تسلی دی۔
”بلیک مرسیڈ سڑک پر متواتر میں رفتار سے چلتی ہوئی اپنی منزل کی جانب گامزن تھی جس کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی طوبیٰ پشت سے سر ٹیکائے آنکھیں بند کی ہوئی تھی۔
ڈرائیونگ کرتے آزر کی نظریں وقفے وقفے سے اپنے ساتھ بیٹھی طوبی پر جارہی تھی جو آسمانی رنگ کے سادہ سوٹ کے ساتھ سفید دوپٹہ سلیقے سے اوڑھے ہوئے براؤن اون کی شال کندھوں کے گرد لے رکھی تھی جس کا چہرہ کسی بھی قسم کے جذبات سے عاری ایک دم ویران تھا۔
”گاڑی سگنل پر رکی، بریک لگنے سے طوبیٰ نے اپنی آنکھیں واں کی تو خالی نظروں سے اطراف کا جائزہ لیتے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی ایک بچہ بھاگتا ہوا آزر کی جانب آیا۔
”صاحب.! صاحب.! یہ لے لو میڈم کے لیے۔ دو موتیے کے پھولوں کے گجرے جس کے آخر میں ایک سرخ گلاب پرویا گیا تھا۔
آزر نے ایک نظر اپنے ساتھ بیٹھی طوبی کو دیکھا جو اس سب سے لاتعلق بننی کھڑکی سے باہر دیکھنے میں مگن تھی۔
”صاحب لے لو ناں.! بیگم صاحبہ کے ہاتھوں میں بہت اچھے لگے گیں صاحب.! اللّٰہ پاک تمھیں ڈھیروں خوشیاں دیگا تم دونوں کی جوڑی ہمیشہ بننی رہے ۔ بچے نے اصرار کیا بچے کی آواز سن کر طوبیٰ اس جانب متوجہ ہوئی خستہ حالت میں وہ اس ٹھٹھرتی سردی میں گجرے بیچ رہا تھا جسے دیکھ ناجانے کیوں اسکے دل میں ہوک اٹھی تھی۔
”اگر وہ اتنا کہہ رہا ہے تو لے لیں.؟ ایک نظر آزر پر ڈالتے روکھے پھیکے انداز میں بولی جس پر آزر کی نظریں گجروں پر گئی اور کچھ سوچتے اسکی آنکھوں میں چمک آئی تھی۔
”اب تو آپ کی وائف نے بھی کہہ دیا ہے صاحب اب تو لےلو.؟
”اگر تم پہنوں گی تو ہی لونگا.؟ آزر نے طوبیٰ کو دیکھتے ہوئے شرط رکھی۔ آزر جان گیا تھا وہ صرف بچے کی حالت کے پیشے نظر کہہ رہی ہے۔
جلدی بولو.؟ اسے پہلے کہ سگنل کھل جائے.؟ اسے خاموش پا کر استفہامیہ نظروں سے اسکی اور دیکھا۔
”میں تو بچے کی خاطر کہہ رہی تھی مگر لگتا آپ میری بات کا غلط مطلب لے بیٹھے ہیں، اگر میرے لیے لینے ہیں تو ضرورت نہیں ہے۔ اسی روکھائی سے کہتی واپس اپنا رُخ باہر کی طرف کر گئی جس پر آزر کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
”یہ لو بیٹا.! پیسے تمھاری میڈم بہت سنگ دل ہے۔ کچھ پیسے نکال کر اسے دیتے آزر نے بچے کے سر پر ہاتھ رکھا۔
”شکریہ صاحب جی.؟ یہ میری طرف سے میڈم صاحبہ کو دے دیجیے گا۔ بچہ وہ گجرے اسکے جھولی میں رکھتے وہاں سے جا چکا تو گجروں کو دیکھتے ہوئے مبہم مسکراہٹ کے ساتھ گجرے اسکی سمت بڑھائے مگر اسے یوں لاتعلق دیکھ
آزر کے دل کو کچھ ہوا تھا لیکن وہ جانتا تھا طوبیٰ کو ٹائم چاہئے اس سب کے لیۓ جس کیلیے آزر تیار تھا۔
گجرے سامنے ڈیسک بورڈ پر رکھ دیے۔
تھوڑی دیر میں طوبیٰ نے سر سیٹ کے ساتھ ٹیکا لیا اور آنکھیں ایک بار پھر موند لی دونوں ہاتھوں کو جھولی میں دھرے وہ اپنے اندر چلتے خلفشار سے لڑنے کی تگ و دو میں مصروف تھی جو آزر کی نظروں سے مخفی نہیں تھی۔
ازر نے طوبیٰ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اپنی انگلیاں طوبیٰ کے ہاتھ میں پیوست کرتے اسے اپنے ہونے کا احساس دلایا طوبیٰ کو اپنی ہاتھ پر آزر کا لمس بخوبی محسوس ہوا جسے وہ انجان بننی رہی۔
اُس کے کوئی ردعمل نہ دینے پر آزر نے اسکا ہاتھ یونہی ہی اپنے ہاتھ میں لیے اس پر لب رکھے تو اس کا لمس بجلی کی مانند اسکے جسم میں دوڑ گیا تھا۔
”دیکھے.! میں آپ کو کچھ کہہ نہیں رہی اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں، آپ کا جو دل کرے گا آپ کریں گیں۔ تیکھی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بے دردی سے اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے آزاد کراونے کی کوشش کی جو ناکام ٹھہری۔
”جان.! میں نے یہ ہاتھ چھوڑنے کیلئے تھوڑی ناں تھاما ہے۔ محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے گھمبیر انداز گویا ہوا تو وہ اسے محض دیکھ کر گہرا سانس لیتے خود کو کسی بھی قسم کے سخت الفاظ کہنے سے روکا۔
”آزر میں ابھی اس سب کیلئے تیار نہیں ہوں.؟ خود پر ضبط کرتے اسکی آنکھیں چھلکنے کو تیار تھی جس پر آزر نے فوراً سے پیشتر گاڑی روک دی۔
”کیا ہوا جان.! تم رو کیوں رہی ہو.؟اسکی آنکھوں میں آنسوں دیکھ وہ تڑپ کر رہ گیا تھا۔
کچھ نہیں.! اسکی گرفت ڈھیلی پڑنے پر فوراً سے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے کھنچتے منہ دوسری طرف کیا تھا
”طوبیٰ میں جانتا ہوں.! سب بہت جلد بازی میں ہوا ہے جس کے لیے تم ابھی بالکل تیار نہیں تھی، مگر میرا یقین کرو میں کبھی تمھیں کسی بات کیلئے پریشرآئز نہیں کرونگا جب تک تم نہیں چاہو گی ہم اپنے نئے رشتے کی شروعات نہیں کریں گے، میرے طرف سے تمھیں کبھی کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ اسکا کا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ اپنی طرف کرتے سنجید مگر نرم انداز میں کہتے اسکے گال پر بہتے ہوئے آنسوں کو نرمی سے صاف کرتے اسکی نظر ڈیسک بورڈ پر رکھے گجروں پر گئی۔
”میں یہ پہنا دوں.؟ گجروں کی اور دیکھتے ہوئے دریافت کیا تو اس جھکی ہوئی نظروں سے اثبات سر ہلایا جس پر آزر کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
”اگر تم چاہتی ہو کے ہم اس رشتے کو ٹائم دیں تو پھر تُمہیں مجھ سے بات کرنی ہوگی، اس طرح چپ رہنے سے کام نہیں چلے گا۔ ازر نے طوبیٰ کی کلائی میں گجرے پہناتے ہوئے کہا تھا جس پر طوبیٰ کی جھکی ہوئی پلکیں اٹھی اور ناسمجھی سے اسکی اور دیکھا۔
کیا بات.؟
”کچھ بھی جو تمھارے دل میں ائے بلا جھجک مجھ سے کہہ سکتی ہو.! چاہو تو لڑو جھگڑوں مگر چپ مت رہو، مجھے میری جان.! بولتی ہوئی ہنستی مسکراتی زندگی سے بھرپور نظر آنی چاہیے۔ واپس اسکے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے وہ گاڑی اسٹارٹ کر گیا تھا جبکہ وہ محض اسے دیکھ کر رہ گئی تھی۔
”آئزہ.! میں طوبیٰ کو دیکھنے ہاسپیٹل جا رہا ہوں تم نے جانا ہے۔؟ ارحم نے ناشتے سے فارغ ہوکر اٹھتے ہوئے پوچھا۔
”آپی.! تو ڈسچارج ہو گئی ہیں۔ بریڈ کا بائٹ لیتے ہوئے اطلاع دی۔
”اچھا تو پھر گھر چلتے ہیں.؟ کیا سوچیں گیں سب ہمارے بارے میں طوبیٰ ڈسچارج بھی ہوگئی اور ہم خیریت دریافت کرنے بھی نہ آسکے۔فوراً ہی دوسری راہ نکالی۔
”ارحم آپی گھر نہیں ہیں، اُن کو آزر بھائی رخصت کروا کر اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ سادہ لہجے بتاتے ہوئے اس گویا بمب پھوڑا تھا ارحم کے سر پر۔
ارحم کی طرح باقی دونوں بھی یہ خبر سن کر دنگ رہ گئیں تھیں۔
”کیا مطلب آزر بھائی اپنے ساتھ لے گئیں.؟ ایسے کیسے وہ لیجا سکتا ہے، اور طوبیٰ.! طوبیٰ چلی گئی۔ یہ خبر اسکی انا کو گراں گزری تھی تبھی وہ اپنے جزبات پر قابو نہ رکھ سکا۔
”آپ مجھ پر کیوں غصّہ کر رہے ہیں.! مجھے تو لائبہ نے بتایا وہ گئی تھی، آزر بھائی کے اصرار کرنے پر آپی کی رضامندی سے ابو جی.! نے اجازت دیدی اس میں برا مانے والی کیا بات ہے وہ ان کی شرعی و قانونی بیوی آج نہیں تو کل آزر بھائی کے ساتھ ہی جانا تھا تو آج ہی سہی.! آئزہ کو ارحم کا یو برہم ہونا سمجھ نہیں آیا تبھی وضاحت دے ڈالی۔ارحم تو غصے سے لال ہو گیا تھا اور فوراً سے پیشتر وہاں سے واک آؤٹ کر گیا تھا
”ان کو کیا ہوا ہے.؟ ناسمجھی سے اسے جاتا دیکھ کر رہ گئی تھی۔