ادھورے خواب

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 19

”گاڑی خان مینشن کے احاطہ میں داخل ہوئی وسیع عریض راہداری کے دونوں اطراف کشادہ گارڈن تھا۔
”طوبیٰ تو خان مینشن کی شان و شوکت دیکھ کر ہی ساکت رہی گئی تھی اسے انداز تھاکہ آزر خان ایک نامی گرامی بزنس مین ہے پر اتنا بڑا اسنے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا وہ جو پہلے ہی آنے والے وقت کو لیکر گھبراہٹ کا شکار تھی اب اس میں مزید اضافہ ہوا تھا۔
”یہاں سب کیا سوچیں گیں اتنی شاندار و باوقار پرسنلٹی اور بیوی اپاہج.! کیا کیا باتیں بنائے گیں۔ خان مینشن کو دیکھتے ہوئے نظریں آزر کی جانب آئی وہ احساسِ کمتری کا شکار ہوئی تھی۔
گاڑی پورچ میں آکر رکی تو آزر اپنی طرف سے اتر کر طوبیٰ کی جانب آیا۔
وہیل چیئر پر بیٹھوں گی تو سب کیا سوچیں گیں۔ یہ خیال آتے ہی طوبیٰ نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھی۔
اسکی سمت کا دروازا کھول کر آزر نے بنا کچھ کہے آگے بڑھ اسے برائڈل سٹائل میں اٹھا لیا جس پر اپنی آنکھیں مزید سختی سے بند کرتی اسکی شرٹ کو کندھوں سے اپنی مٹھیوں میں دبوچ گئی تھی۔
”لوگ کیا سوچتے ہیں، اس سے مجھے فرق نہیں پڑتا لیکن تم کیا سوچتی ہو اس سے ضرور پڑے گا۔ بنا کہے اسکی اسکی دل کی بات جان لینے پر طوبیٰ نے حیرت سے اسکی اور دیکھا جو مبہم مسکراہٹ لیے سامنے دیکھتے اسے اپنی بانہوں میں اٹھائے اندر کی اور بڑھا جہاں دونوں اطراف میں لائن سے پھولوں کی پتیاں لیے کھڑے ملازمین نے ان دونوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنے لگے طوبیٰ کو یہ سب خواب سا لگا حیا و سبکی سے سرخ پڑتے اپنا چہرا ازر کی گردن میں چھپا گئی تھی۔
یونہی اٹھائے آزر اسے لیے کمرے میں داخل ہوکر دروازے کو پاؤ سے بند کیا اور طوبیٰ کو بیڈ پر بیٹھایا جو بنوز آنکھیں بند کیے ہوئے تھی۔
”اب تم اپنی آنکھیں کھول سکتی ہو.! کان کے پاس جھکتے ہوئے گھمبیر آواز میں سرگوشی نما کہا جس پر طوبیٰ کی دھڑکنیں منتشر ہوئی دھڑکتے دل کے ساتھ اپنی پلکوں کی جھالر اٹھائی تو آزر کو اپنے قریب دیکھ اسکی دھڑکن ساکت ہوئی تو فوراً سے اسے پیچھے ہوئی
نظریں گھما کر ارد گرد کا جائزہ لیا ایک ماڈرن طرز کے نہایت عمدہ وائٹ اور بلو کابینیشن سے آراستہ کمرے میں پایا جہاں ایک جانب وال پر آزر اور اپنی نکاح کی تصویر لگی ہوئی تھی تو دوسری سمت گلاس وال تھی جہاں سے لان کا منظر دیکھائی دے رہا تھا باقی بھی بہت خوبصورتی سے کمرا سجا ہوا تھا سائیڈ ٹیبل پر بھی طوبیٰ کی تصویر رکھی ہوئی تھی۔
”کیسا لگ ہمارا کمرہ۔؟ محویت سے اسے کمرے کو دیکھتے ہوئے دیکھ اسکے پہلوں میں بیٹھتے ہوئے استفسار کیا۔
“ہمممم۔! محض اتنا کہہ پائی تھی۔
”ائی نو تم نے سوچا ہوگا کہ جس طرح باہر پھولوں سے استقبال ہوا اسی طرح یہ کمرہ بھی سجا ہوا ہوگا، چاہتا تو یہی تھا پھر سوچا ابھی تم میری شدتیں سہہ نہیں پاؤ گی ویسے بھی ابھی تمھیں وقت چاہیے تو اسے لیے کچھ وقت کے لیے اپنی گولڈن نائٹ کو پوسپون کر دیا، صحیح کیا ناں۔ سنجیدہ تاثرات سے کہتے ہوئے آخر میں پوچھ کر اسے گڑبڑانے پر مجبور کر دیا جس پر وہ یہاں وہاں دیکھنے لگی۔
”لیکن اپنی گولڈن نائٹ پر تم دیکھنا میں اپنے سارے ارمان پورے کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں.! اسکی حالت سے محظوظ ہوتے شوخی در آئی تھی جبکہ نظریں اسکے چہرے کا احاطہ کئے ہوئے تھیں اس بےباکی پر حیا و سبکی سے سرخ پڑتے طوبیٰ کی آواز تو حلق میں ہی اٹک گئی تھی۔
”ہم کک کوئی…. اور بات کر سکتے ہیں.؟ با مشکل نظریں چراتے ہوئے پوچھا۔
”اچھا میں بوا کو بھیجتا ہوں، تم فریش ہو جاؤ میں تب تک خانساماں سے کہہ کر تمھارے لیے کچھ کھانے کو بنواتا ہوں۔ آزر بات بدلی۔
”لیکن میرے کپڑے.؟ اسے فکر ہوئی۔
”اوو یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں، ایسا کرو تم میرے کپڑے پہن لو؟ آزر نے کن انکھیوں سے دیکھتے ہوئے راہ نکالی۔
”آپ کے.؟ اسکی پریشانی مزید بڑھی۔
”او میری پاگل بیوی.! پریشان کیوں ہوتی ہوں تمھاری ضرورت و آسائش کی ہر چیز اس کبرڈ موجود ہے اسکی ناک کھنچتے ہوئے محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے کبرڈ کی طرف اشارہ کیا طوبیٰ اسکے چہرے کی مسکراہٹ میں کھو سی گئی۔
”اگر تم کہو تو بوا کو نہیں بلاتے یہ کام تو میں بھی بخوبی کرسکتا ہوں۔ بظاھر سنجیدگی سے پوچھتے اسکی آنکھوں میں شرارت رقصاں تھی جسے انجان طوبیٰ کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کس طرح آزر سے اپنی پریشانی بیان کریں یہی سوچتے اسکی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔
”کیا ہوا جان.! تم رونے کیوں لگی میں تو بس تمہیں کمفرٹیبل کرنے کیلئے کہہ رہا تھا اگر تمہیں میری کوئی بات بری لگی ہے تو ائی ایم سوری.! میرا مقصد تمھیں ہرٹ کرنا ہر گز نہیں تھا۔ اسکی آنکھوں میں آنسوں دیکھ کر تڑپ کر رہ گیا تھا۔
”مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی میں کیا کرو.! کیا کہوں.! کیا نہ کہوں.!۔ اپنی ہی کیفیت سمجھنے سے قاصر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
”کیا ہوا ہے جان بتاؤ تو سہی.؟ آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے نرمی سے استفسار کیا۔
”بوا.! اور باقی سب مُلازمین کیا سوچیں گیں، میں اپنے کام بھی خود نہیں کر سکتی آپ پر بوجھ……………!!“
”پاگل لڑکی.! کیوں یہ ساری فضول باتیں سوچ کر پریشان ہو رہی ہو.! اگر تم بوا کے ساتھ کمفرٹیبل نہیں تو میں ہوں نا تمھارا ذاتی خادم میرے ہوتے تمھیں کسی اور کیا ضرورت۔ آہستہ سے اسے خود سے الگ کر کے اسکا چہرہ تھام کر نرمی سے سمجھایا۔
💛💛💛💛💛💛💛
”آریان صاحب گھر سے نکلے تو طوبیٰ کو گھر لانے کے لیے تھے پر کیا خبر تھی کہ یو اچانک وہ بھی اس طرح انھیں اپنی بیٹی کو رخصت کرنا پڑ جائے گا پر جو بھی تھا اب وہ طوبیٰ کو لیکر مطمئن تھے یہی سب سوچتے وہ کب گھر میں داخل ہوئے کچھ پتا ہی نہ چلا۔
”کیسی ہے طوبیٰ.؟ سائرہ بیگم جو کچن سے نکلی تھی آریان صاحب کو دیکھتے سوال کیا۔
پہلے سے کافی بہتر ہے بلکہ اب تو ٹھیک ہے۔ صوفے پر بیٹھتے ہوئے جواب دیا۔
”کب تک چھٹی ہوگی اتنے دن ہو گئیں ہیں.؟ ان کے سامنے سنگل صوفے پر بیٹھتے اگلا سوال کیا۔
چھٹی.!
ہاں چھٹی.؟
”ہاں.! ہوگئی اور ہماری بیٹی اپنے گھر بھی چلی گئی۔ تاسف آمیز لہجے بولیں۔
کیا مطلب اپنے گھر چلی گئی.؟ آریان صاحب کی بات سن کر تشویش ہوئی۔
”آزر باضد تھا کہ وہ طوبیٰ کو اپنے ساتھ ہی لیکر جائیگا اور اسکی ضد کے سامنے مجھے ہار ماننی پڑی۔ اسی انداز میں مزید گویا ہوئے آریان صاحب کی بات سن کر سائرہ ساکت رہ گئی تھی۔
”یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ.؟ ایسے کیسے اسنے ضد کی اور آپ نے بنا سوچے سمجھے اسکی ضد پوری کر دی، لوگ کیا سوچیں گیں کہ ہم نے اپنے سر سے بوجھ اتار کر آزر کے سر ڈال دیا۔ انکی تشویش بڑھ کر غصے میں بدلنے لگی تھی۔
“آج تک ہم لوگوں کی باتیں ہی تو سنتے آئے ہیں، لیکن اب مجھے اس بات کی تسلی ہے کہ آزر کسی کی پرواہ نہیں کرتا اور تم نے اس کی حالت دیکھی تو تھی ہاسپیٹل میں، مجھ سے آزر کو منا نہیں کیا گیا اس لیۓ میں نے اللّٰہ کا نام لیکر طوبیٰ کو اس کے ساتھ بھیج دیا اب بس اللّٰہ سے یہی دعا ہے کہ اللّٰہ پاک میری بیٹی کی جھولی خوشیوں سے بھر دے۔ تاسف آمیز لہجے میں کہتے ہوئے آخر میں دعا کی تھی۔
”آپ کی بات اپنی جگہ درست ہے، مگر یہ بات لوگ تو نہیں سمجھتے وہ تو یہی کہیں گے ضرور لڑکی میں ہی کوئی عیب ہوگا جو اس طرح چھپ کر بیٹی کو رخصت کر دیا، لوگ تو باتیں کرنے سے باز نہیں آئیں گے اور اگر ہم لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کر بھی دیں تو قدسیہ بیگم باتیں بنائے گی ان کا کیا کریں گے۔ سائرہ بیگم تو سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛
جان.! بس یہ میڈسن کھا لو اس کے بعد میں کچھ نہیں کہوں گا۔ میڈیسن نکال کر اسکی اور بڑھائی۔
”آپ کیا ہاسپٹل سے مجھے اسلیے رخصت کروا کر لائے ہیں کہ اس طرح ٹارچر کر سکے۔ وہ جو تب سے اسکی ساری باتیں خاموشی سے مان رہی تھی اب زچ ہوئی تھی۔
”بس میری جان.! یہ دو چار ہی تو ہیں، پھر میں تمہیں چوکلیٹ بھی دونگا۔ اسکی بات پر ہنسی آئی جسے وہ چھپا کر بظاھر سنجیدگی سے اسے دیکھتے ازر نے کیسی چھوٹے بچے کی مانند پچکارتے ہوئے کہا جس پر نا چاہتے ہوئے بھی طوبیٰ کو میڈیسن لینی پڑی۔
”اب تم آرام کرو مجھے سٹڈی میں کچھ کام ہے میں وہ کر لو.؟ گلاس سائیڈ پر پر رکھتے طوبیٰ کو لیٹا کر اس پر کمفرٹ دے کر جانے لگا تھا۔
”آزر…!!
“جی جانِ آزر۔۔!!“ محبت پاش نظروں سے جواب دیا۔
”کچھ نہیں..! چند سانیہ یونہی اسے دیکھتے رہنے کے بعد نفی میں سر ہلایا تو آزر نے جھک کر اسے کے ماتھے پر محبت کی پہلی مہر ثبت کی جس پر طوبیٰ نے آنکھیں بند کیے اسکا لمس اپنے روح پے میں اترتا ہوا محسوس ہوا
”آزر جا چکا تھا مگر وہ کتنی دیر تک یونہی اس دلکش احساس کے تحت آنکھوں موندے رہی جسے اس روک لینا چاہتی ہو مگر ناجانے کیوں وہ اس سب کے لیے خود کو تیار نہیں کر پا رہی تھی اک انجانہ خوف تھا یا جانے لوگوں کا ڈر وہ خود بھی نہیں جانتی تھی یہی سب سوچتے کب وہ نیند کی وادی میں اتری خبر ہی نہ ہوئی
”رات گئے آزر کی واپسی ہوئی طوبیٰ کو پُرسکون سوتا ہوا دیکھ وہ بھی مطمئن ہوا آہستہ سے آکر اسکے پہلو میں لیٹتے طوبیٰ کو اپنے ساتھ لگا کر اسکے گرد بازوں حائل کئے جس پر وہ نیند میں کمسماتے اسکے سینے پر وہ پورے استحقاق سر ٹیکائے گئی اک دلفریب مسکراہٹ نے اسکے چہرے کا احاطہ کیا خود میں بھنچے وہ بھی آنکھیں موند گیا۔
💛💛💛💛💛💛💛
”ایک نئی صبح کا سورج طلوع ہوا ہر سو سورج نے اپنی کرنیں بکھیری پردوں کی اوٹ سے جھانکنے کی کوشش کرتی کرنوں نے طوبیٰ کی نیند میں خلل پیدا کیا جس پر کسمساتے ہوئے مندھی مندھی آنکھیں واں کی تو آزر کو اپنے سامنے پایا جسے وہ اپنا خیال جانتی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنی آنکھیں بند کر لی جیسا وہ اس خواب کی دنیا سے باہر نہ آنا چاہتی ہو یکا یک اسکا دماغ بیدار ہوا سب یاد آنے پر وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی اور ساری نیند بھک سے اڑ گئی تھی۔
خود کو آزر کی بانہوں میں مقید پا کر کر وہ ششدر رہ گئی تھی۔
بہت تگ و دو کے بعد بھی خود ازر کی آہنی گرفت سے نکالنے میں وہ ناکام ٹھہری اور ایسا اس لیے بھی تھا کہ وہ آزر کی نیند خراب نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے آہستہ سے خود کو ازر کی قید سے نکالنے کی کوشش تھی۔
”پتا نہیں کیا کھاتے ہیں.؟ جب ازر کی بانہوں سے نکلنا ناممکن لگا تو دل میں کہتے طوبیٰ کی نظریں آزر کے چہرے پر گئی اور وہی ٹھہر گئی اتنے پاس وہ پہلی بار آزر کو دیکھ رہی تھی کھڑے نین نقش گندمی رنگت ستو ناک گھنی مونچھوں تلے انابی ہونٹ وہ کسی بھی لڑکی کو اپنا گرویدہ بنا سکتا تھا۔
خود کو آزر کے اتنے نزدیک دیکھ کر اس کا دل الگ ہی ترنگ میں دھڑک رہا تھا اس پر مقابل کی قربت نے اس پر جیسے کوئی فسو پھونک دیا تھا جس کے تحت بے ساختہ اسکا آزر کے ماتھے پر بکھرے بالوں کی اور بڑھا جنھے نرمی سے ہٹاتے نگاہیں اسکے چہرے پر ٹکی تھی۔
”کتنی محبت کرتے ہیں آپ، کہ یقین کرنا مشکل ہوگیا ہے، ڈرتی ہوں کہ کہی یہ سب کوئی خواب نہ ہو میری آنکھ کھل اور یہ بھی میرے ادھورے خوابوں کی طرح یہ بھی ادھورا رہ جائے اور آپ مجھ سے کہی دور چلے جائیں۔ آزر کے چہرے پر نرمی سے ہاتھ رکھے وہ دل کی بات زبان تک لائے آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
”اسی فسو کے زیرے اثر بے ساختہ طوبیٰ نے ذرا سا اوپر ہو کر اسکے ماتھے پر لب رکھنے لگی تھی کہ آزر کی آواز نے اس کا فسو توڑا۔
پھر مجھ سے کوئی خطا سرزد ہوگئی تو تم مجھے مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتی۔ گھمبیر انداز میں جزبات کی تپش تھی جس پر خفت و سبکی کے مارے سٹپٹا کر جھٹکے سے دور ہوئی۔
”یہ تو غلط بات ہے جان.! ابھی تم اچھی بیوی کی طرح مجھے مارننگ کس دینے والی تھی اور اب مجھ سے دور جا رہی ہو۔ اسکے دور جانے پر کروٹ لے کر اسکے کمرے میں ہاتھ ڈال کر اپنے پاس کیا اپنی بےخودی پر طوبیٰ کو جی بھر کر غصّہ آیا تھا ہمیشہ ہی وہ اسکے سامنے جانے کیوں کمزور پڑ جاتی تھی اور اب تو اسکے دسترس میں تھی۔
”آپ نے وعدہ کیا تھا میری مرضی کے بغیر آپ اس رشتے کو آگے نہیں بڑھائے گیں۔ کچھ سمجھ نا آنے پر طوبیٰ نے معصوم شکل بنا کر اسکی ہی بات یاد دلائی تھی۔
”تو جان.! پہل تو تم نے ہی کی ہے۔ اسکے چہرے پر نظریں ٹکائے بالوں کو کان کے پیچھے اڑیستے آزر کی آنکھوں میں شرارت رقصاں تھی۔
“میں تو بس آپ کو اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ اسکی لو دیتی نظروں سے خفیف ہوئی تھی۔
اچھا نہیں کرتا کچھ لیکن ایک مارننگ کس تو بنتی ہے آخر آج ہماری نئی زندگی کی پہلی صبح ہے، تمھارے آنے سے دیکھوں یہ صبح کتنی خوبصورت ہوگئی ہے۔ جھک کر اسکے کانے سرگوشی کرتے ہوئے کان کی لو کو لبوں سے چھوا تو بندن میں بجلی سی دوڑ گئی تھی۔
”ازر پلیز.! آزر کی اتنی سی قربت گھبراتے ہوئے منت کی تھی جس پر آزر طوبیٰ کے ماتھے پر لب رکھے اور طوبیٰ کی ناک کے ساتھ اپنی ناک رب کرتے محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے مارننگ وش کی جس پر وہ اسے دیکھتی رہ گئی تھی
گڈ مارننگ جان.!
💛💛💛💛💛💛💛
”آزر کمرے میں ناشتہ کی ٹرالی دھکیلتے ہوئے داخل ہوا تو
نظریں طوبیٰ پر گئی جو کہ آئینے کے سامنے بیٹھی اپنے بالوں میں برش کر رہی تھی آزر کو دیکھتے ہی فوراً سے بالوں کو کیچر مقید کرتی ڈوپٹہ درست کر کے اپنی وہیل چیئر کا رخ اس جانب موڑا۔
”آپ نے تکلیف کیوں کی بوا سے کہہ دیتے وہ لے آتی۔ طوبیٰ کو یوں آزر کا ناشتہ لے کر آنا اچھا نہیں لگا تھا۔
”اس میں تکلیف کیسی اپنی جان کیلئے اتنا تو کر ہی سکتا ہوں.! ٹرالی کو ایک جانب کرتے وہ اسکی جانب متوجہ ہوا
”آزر مجھے اچھا نہیں لگتا کہ آپ اس طرح کام کریں، پلیز آپ یہ سب نہ کیا کریں.! اسکے انداز میں گلٹ تھا۔
”مطلب کہ ویسے میں اچھا لگتا ہوں.؟ اسکے قریب آتے پنجوں کے بل بیٹھ کر اسکی اور دیکھتے سوال کیا اس غیر متوقع سوال پر وہ نظریں چرا گئی جس پر وہ بنا کچھ کہے اٹھ کر اسکے پیچھے آتے اسکی وہیل چیئر کو دھکیلتے ہوئے صوفے کے پاس لایا اور اسکے سامنے سنگل صوفے پر بیٹھ گیا۔
”جان.! اگر تمھیں کوئی اعتراض نہ ہو تو کیا میں آج اوفس چلا جاوں؟ وہ کیا ہے ناں کچھ امورٹنٹ کام نکل آیا بٹ آئی پرومس میں جلدی واپس آجاؤں گا۔ نظریں طوبیٰ کے چہرے پر مرکوز کئے اسنے پلیٹ نکالی۔
“آپ مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں؟ آپ کا کام ہے، اپنا اوفس اپنا گھر ہے، میں بھلا کون ہوتی ہوں اعتراض کرنے والی جو آپ مجھے سے پوچھ رہے ہیں.؟ اسکی اور دیکھے بغیر ٹھنڈے ٹھار لہجہ سوالیہ تھا ساتھ ہی اسکے ہاتھ سے پلیٹ لی تھی۔
”کاش.! کے تم جان پاتی کے تم کیا ہو میرے لیے، جس دن جان جاؤگی ناں اس دن سوال کرنے کی نوبت پیش نہیں آئے گی۔ اسکے لفظ لفظ میں طوبیٰ کو اسکے جزبات کی حدت محسوس ہوئی تھی تبھی اسے نظریں ملانے سے گریز برتی تھی
”آپ چلے جائیں مجھے کوئی اعتراض نہیں.! نظریں ملائے بغیر اسے ناشتہ سرو کیا۔
”تم نے اپنے لیے تو کچھ لیا ہی نہیں، کچھ تو لو.؟ طوبیٰ کی خالی پلیٹ دیکھ فکر ہوئی۔
”ابھی میرا دل نہیں چاہ رہا تھوڑی دیر بعد کر لونگی۔ آزر کے لیے چائے نکالتے ہوئے بہانہ تراشا۔
”اگر تم نہیں کھا رہی تو پھر میں بھی نہیں کھا رہا۔ پلیٹ پیچھے دھکیلتے وہ اپنی جگہ سے اٹھا۔
لیکن۔۔۔؟؟
”میں چلتا ہوں.! مگر تم ناشتہ ٹائم سے کر لینا اور اپنی میڈیسن بھی یادی سے لینا، میں بوا کو کال کر کے اپ ڈیٹ لونگا۔ طوبیٰ کے ماتھے پر لب رکھ کر اسے ہدایت کرنے کے ساتھ تنبیہ کرتے وہ جا چکا تھا جبکہ وہ محض اسے دیکھ کر رہ گئی تھی۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial