ادھورے خواب

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 20

“وقت کا پہیہ اپنی تدار پر چلنے لگا اور دن ہفتوں میں بدلنے لگے۔
”آزر کی بے لوث محبت و کیئر یا پھر اس پاک رشتے کی کشش تھی جو طوبیٰ کو اپنی جانب راغب کرنے لگی تھی پر اسنے جو اپنے آپ پر خود ترسی اور سرد مہری کا خول چڑھا رکھا تھا وہ اسے آگے بڑھنے سے روکے ہوئے تھا، مگر کب تک ایک نہ ایک دن تو اس خول نے ٹوٹنا ہی تھا اس کی شروعات بھی ہو چکی تھی آزر کی محبت اس خول میں دراڑیں ڈالنے کامیاب رہا بس اب انتظار تھا کہ کب وہ خول چٹخ کر ٹوٹے اور طوبیٰ اپنی زندگی میں آنے والی خوشیوں کو کھولے دل سے قبول کرے۔
”پہلی بار آزر کو ناشتے سے مناں کرنے پر جس طرح وہ اٹھ کر گیا تھا دوبار انکار کی ہمت نہ ہوئی پہلے جو وہ کبھی وقت کچھ کھاتی پیتی نہ تھی اب آزر کے خیال رکھنے اپنائیت کا احساس دلانے اسے یہ احساس دلانے پر کے وہ اس کے لیے کتنی اہم طوبیٰ بھی اسکی بات ماننے لگی تھی برائے نام ہی مگر اسکے سامنے کچھ کھا پی لیتی مگر اسکے آگے پیچھے ہوتے ہی لاپروائی برتنے سے گریز نہ کرتی لیکن آزر بھی یہ سب سمجھتا تھا مگر فل حال وہ اس پر کسی قسم کی کوئی سختی نہیں کرتا بلکہ اگر وہ کبھی تلخ ہو بھی جاتی تو آزر مسکرا کر ٹال جاتا اور یہی بات طوبیٰ کو آزر کی قریب کرنے لگی تھی۔
انہی سوچوں میں پراگندہ تھی کہ دروازے پر ہوتی دستک نے طوبیٰ کو خیالوں کی دنیا سے باہر لائی تو اسنے اجازت دی۔
”بہو رانی.! آپ نے صبح سے کچھ کھایا نہیں اگر آپ کہے تو کچھ بنا دو۔ ایک موعمر خاتون نے اندر داخل ہوتے مؤدبانہ انداز میں پوچھا جس پر طوبیٰ کے چہرے پر مبہم سی مسکراہٹ نمودار ہوتے یک دم غائب ہوگئی کیونکہ وہ جانتی تھی بوا یہی پوچھنے آئی ہونگی اور کس کے کہنے پر آئی ہیں یہ بھی وہ اچھی طرح جانتی تھی۔
”آپ کے صاحب کو اوفس میں بیٹھ کر بھی چین نہیں ہے۔؟ بوا کے بات کا جواب دینے کے بجائے الٹا سوال کیا۔
”جس کی آپ جیسی اِتنی معصوم اتنی خوبصورت بیوی ہو تو اس کا دل بھلا کسی اور کام میں کہاں لگے گا۔ طوبیٰ کے حیسن چہرے کو دیکھتے بوا وجہ بتائی۔
”اور اپاہج بھی۔!! تلخی سے ٹکڑا جوڑا۔
”بہوں رانی.! مایوسی بھری باتیں کیوں کرتی ہیں.! اپنی اس معمولی سی کمی کو لیکر آپ نے زندگی سے منہ موڑ لیا ہے، جبکہ اللّٰہ پاک نے آپکو ان گنت نعمتوں سے نواز ہوا ہے کبھی ان کی طرف نظر کرینگی ناں تو کبھی اس طرح شکوہ نہیں کرینگی اللّٰہ پاک ناراض ہوتے ہیں ایسی باتوں سے۔ طوبیٰ کی بات بوا کو ناگور گزری تھی تبھی خود کو روک نہ پائی۔
”معمولی سی کمی.! بوا آپکو یہ کمی معمولی لگتی ہے، آپ جانتی بھی ہے کتنا تکلیف دہ ہوتا چھوٹے سے چھوٹے کام کیلئے کسی دوسرے پر منحصر کرنا، یہ محتاجی یہ بےبسی آپ کو معمولی لگتی ہے، جس کی باعث میں اپنے ہی ماں باپ پر بوجھ بن گئی اور وہ مجھے کسی کے سامنے لیجاتے ہوئے بھی شرم محسوس کرتے تھے، اور کون سی انگنت نعمتیں۔۔۔۔۔۔.!!
”نہ بہوں رانی نہ۔۔! ایسے کلمات ادا نہ کریں جن کا کفارہ ناگزیر ہو.! مانتی ہوں کہ یہ کمی اتنی بھی معمولی نہیں مگر ذرا اس طرح بھی تو سوچیں کے آپ اپنی ضرورت بتا تو سکتی ہیں، آپکو صحیح غلط کا شعور تو ہے، اللّٰہ نے بولنے کو زبان، سننے کو کان، دیکھنے کو آنکھیں، سمجھنے کو دماغ دیا اور بھی کتنی ہی نعمتیں جن کا اگر آپ شمار کرنے لگے تو گنتی کم پڑ جائے۔ مستحکم انداز بولتے ہوئے پل بھر کو سانس لینے کو رکی انھیں دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کے وہ گھر میں کام کرنے والی ملازمہ ہے۔
لیکن آپ وہ سب دیکھنا نہیں چاہتی آپ بس وہی دیکھ رہی جو نہیں ملا، جو ملا، کبھی ان پر نظر کرکے تو دیکھے، اور جہاں تک بات ہے ماں باپ کی تو ضروری تو نہیں کے وہ آپکو کسی کے سامنے اس لئے نہیں لیکر جاتے کہ انھیں شرم محسوس ہوتی ہے، ہوسکتا ہے کہ وہ آپ کو شرمندگی سے بچانے کی خاطر ایسا کرتے ہو، اگر وہ واقعی آپکو بوجھ سمجھتے نہ بٹیا تو آپ کو اتنا بڑا نہ کرتے، بچپن میں ہی انھیں بہت سے مواقع ملے ہونگے، لیکن انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا، مگر آپ کو ابھی یہ سب باتیں سمجھ نہیں آئیگی جب آپ خود ماں بننے گی ناں تب سمجھ آئیگی آپ کو میری باتیں۔ وہ جو پورے انمہک سے بوا کی باتیں سن رہی تھی انکی آخری جملے پر طوبی نے اپنی نم پلکوں کی جھالر اٹھائی تھی۔
ماں..!! دل میں ایک خواہش نے انگڑائی لی تھی۔
”بہوں رانی.! دل چھوٹا نہیں کرتے اللہ پاک جن کو پسند کرتا ہے ناں اُنہی کو آزماتا ہے، اور ویسے بھی خدا تو ستر ماؤں سے زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اگر وہ کچھ لیتا ہے نہ تو اسے دس گنا زیادہ عطا بھی کرتا بس ہم اسکی مصلحت کو سمجھ سے قاصر ہیں۔ طوبیٰ کی آنکھوں میں نمی دیکھ بوا نے بات کو سمیٹا۔
”اچھا آپ مجھے ایک گلاس جوس بنا دیں اور اب اگر آپ کے صاحب کی کال آئے تو کہہ دیجئے گا کہ میں۔۔۔۔ گلو گیر لہجے میں کہتے انگلی کے پوروں سے اپنی آنکھوں میں آئی کو صاف کی۔
”جی بہو رانی میں ابھی لاتی ہوں.! لیکن میں نے جو کہا اس پر غور ضرور کیجیے گا۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛
”وہ لان میں بیٹھی وہ پورے لان کو ستائشی نظروں دیکھ رہی تھی بوا کی باتوں کا اثر تھا کہ اتنے دنوں میں پہلی مرتبہ وہ اپنے کمرے سے نکل کر لان آئی میں جہاں ہر طرح کے پھول پودے لگے ہوئے ایک جانب لائن سے کھجور درخت لگے ہوئے تھے دور تک پھیلی ہریالی آنکھوں کو تازگی بخش رہی تھی۔
”آج اتنے دنوں کے بعد طوبیٰ نے تازہ ہوا میں سانس لیتے اسے فرحات بخش احساس ہوا جس اپنے اندر اتارتے وہ آنکھیں موندے آہستہ آہستہ سے چلتی ہوا کو محسوس کرنے میں اتنی مگن ہوگئی کہ اسے کسی کے آنے کی خبر تک نہ ہوئی، پتا تب چلا جب کسی مانوس لمس کو اپنی آنکھوں پر محسوس کیا جس پر چونکہ کر فوراً طوبیٰ نے وہ ہاتھ پکڑ ہٹایا۔
”آپ ہیں.! میں تو ڈر گئی تھی.! آزر کو دیکھ اسنے شکر کا سانس لیا جو کسی اجنبی کے خیال سے اندر تک کانپ گئی تھی۔
”تو تم کیا سمجھی میری بیوی کو میرے ہی گھر میں کو کوئی غیر آکر چھو بھی سکتا ہے.؟ آفس بیگ ٹیبل پر رکھتے کرسی کھنچ کر بیٹھتے سوال کیا۔
”ایک تو آپ کی بیوی پتا نہیں کون سی حور ہے.؟ آزر کی بات پر ناگواری سے نظریں پھیر گئی تھی۔
”ہاں.! تو کسی حور سے کم بھی نہیں ہے.! گہری نظر سے دیکھتے اسکے چہرے پر دل فریب سی مسکراہٹ نمودار ہوئی جو طوبیٰ کو خوش اور مطمئن دیکھنے سے آئی تھی۔
”اپ کا لان بہت پیارا ہے. بات بدلی۔
”اچھا مجھے تو اپنی بیوی کے علاوہ کچھ نظر ہی نہیں آرہا میں کیسے بتا سکتا ہوں۔ لہجے میں شوخی سموئے نظریں اسکے چہرے پر مرکوز تھی۔
”آزر میں آپ سے کیا کہہ رہی ہوں.! طوبیٰ اسکی نظروں سے نے پزل ہوئی تھی۔
”ہاں تو میں بھی تمہاری بات کا جواب دے رہا ہوں۔آزر نے معصوم شکل بنائی
”آزر۔۔!!”
”جی آزر کی جان..! پر تپش نظروں سے دیکھتے ہوئے گھمبیر انداز گویا ہوا جس پر طوبیٰ کے دل نے بیٹ مس کیا اس طرح پکارنے پر پہلی مرتبہ طوبیٰ کی دل دھڑکن منتشر ہوئی تھی اور چہرے پر حیا کے رنگ بکھرے جس پر متزلزل ہوتے نظریں چرا گئی۔
”وہ میں کہہ رہی تھی کہ یہاں اگر جھولا ہوتا تو کتنا اچھا لگتا۔ متذبذب ہوتے بات کا رخ بدلا۔
”تمھیں پسند ہے جھولا.؟ اسکی حالت سے محظوظ ہوتے آزر نے سوال کیا۔
”نہیں میں تو بس ویسے ہی بات کر رہی تھی۔ اسنے سرسری انداز میں کہتے کندھے اچکائے۔
”دیکھیں باتوں باتوں میں آپ نے مجھے بھولا دیا کے آپ ابھی اوفس سے آئیں ہیں، رکیں میں بوا سے کہہ کر آپکے لیے چائے بنواتی ہو تب تک آپ چینج کر لیں۔ اپنی وہیل چیئر کو پیچھے کرتے وہ اندر جانے لگی اور وہ اسکے اس بدلے ہوئے انداز میں پر خوش گوار حیرت میں مبتلا ہوا تھا۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛
”آئزہ۔۔۔۔!!“ آئزہ۔۔۔۔!!“کہاں مر گئی ہو.!!“ ارحم کی دھاڑ نے پورے کمرے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
”کیا ہوا کچھ چاہیے ارحم آپ کو۔۔؟؟“ ارحم کی آواز پر وہ جو کچن میں کچھ کام کر رہی تھی ترکیب اً بھاگتی ہوئی آئی تھی۔
”میری یہ شرٹ پریس کیوں نہیں ہوئی.!! تمہیں پتا ہے نا آج میری ایک امورٹنٹ میٹنگ ہے اور مجھے یہی پہن کر جانا تھی مگر مجال ہے کہ تم کوئی کام وقت پر کر دو.! اسے دیکھ وہ مزید مشتعل ہوتے شرٹ اسکے منہ پر ماری تھی اس قدر ہتک پر آئزہ کی آنکھوں سے آنسوں روا ہوئے تھیں۔
”میں نے پریس کی تھی پھر یہ کیسے۔۔۔؟؟ ہاتھ سے اپنے چہرے سے شرٹ کو ہٹاتے اسے شرٹ کو دیکھ وہ حیرت ہوئی تھی اسے اچھے سے یاد تھا وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی پریس کر کے ہینگ کر کے گئی تھی۔
”یہ بھی صحیح ہے پہلے غلطی کرو اور پھر یہ ٹسوے بہا کر معصوم صورت بنا کر کہہ دوں میں نے تو کی تھی پھر یہ کیسے۔ اسی انداز میں تحقیر آمیز لہجے گویا ہوا۔
” پتا نہیں کیا نظر آیا تھا ماما کو تم میں جو یہ عذاب میرے سر پر مسلط کر دیا۔ جھٹکے سے آئزہ کو دھکا دیتے وہ زہر خند لہجے میں نشتر چلاتے اسکے دل کو چھلنی کرتے وہ جا چکا تھا۔
”پیچھے آئزہ اپنی قسمت پر آنسوں بہانے کے سوا کر بھی کیا سکتی تھی آخر یہ اسکی اپنی ضد تھی۔
”آپی۔۔!! آئی ایم سوری.! کاش میں نے آپ کی بات مان لی ہوتی تو آج یہ سب مجھے فیس نہ کرنا پڑتا پلیز آپی مجھے معاف کر دیں۔صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھتے وہ اپنا منہ ہاتھوں میں دے کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی
💛💛💛💛💛💛💛💛
”آریان صاحب.! ہمارا گھر کتنا سونا سونا ہوگیا ہے، ہماری بیٹیاں تو اپنے گھروں کی ہوگئی ہیں, مگر ہمیں اکیلا کر گئیں ہیں۔۔ لان میں بیٹھ کر چائے پیتے ہوئے سائرہ بیگم نے تبصرہ کیا۔
”بات تو صحیح کہی تم نے سائرہ.! یہ بیٹیاں ناں بالکل چڑیوں کی طرح ہوتی ہیں باپ کے آنگن میں چہچہاتے ہوئے کب بڑی ہوتی ہیں پتا ہی نہیں چلاتا اور ایک دن یہ اپنے چڑے کے ساتھ اپنا آشیانہ بنانے پھر سے آڑ جاتی ہیں۔ آریان صاحب اپنی بیٹیوں کو یاد کر کے آبدیدہ ہوگئے تھے۔
”کیوں ناں تینوں کی دعوت کریں اسی بہانے ہم اپنی بیٹیوں سے بھی ملے گیں۔ آریان صاحب کو اداس دیکھ سائرہ بیگم نے خیال ظاہر کیا۔
”آئیڈیا تو اچھا ہے مگر لائبہ تو وہاج کے ساتھ گئی ہے وہ آ جائے پھر میں بات کرتا ہوں، آزر اور ارحم سے تاکہ پھر تینوں ٹائم نکال کر بتا دیں۔ آریان صاحب کو بھی سائرہ کا خیال پسند آیا تھا۔
”یہ کیا بات ہوئی.! اب ہمھیں اپنی ہی بیٹیوں سے ملنے کیلئے کسی اور سے پوچھنا پڑے گا اور پھر وہ ٹائم نکال کر بتائے گے کہ وہ ہم سے ملنے آسکتی ہیں یا نہیں۔ آریان صاحب کی بات سن کر سائرہ بیگم کو تنک کر بولی۔
”وہ کسی اور نہیں ہماری بیٹیوں کے شوہر ہیں انکی عزت و وقار اب انہی سے ہے، اور اب ان کے ایک نہیں دو دو گھر ہیں جس کے ساتھ ہی ہماری بیٹیوں کی ذمےداریاں بھی بڑھ گئی ہیں، تو پھر اب ہمیں ہی سوچنا پڑے گا کہ ہم اپنی بیٹیوں پر کوئی اضافی بوجھ نہ ڈالے جس پر انکی پریشانی ہو۔ نرمی سے سمجھایا جس پر انھوں نے اثبات سر ہلایا۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛
” ایک نیا سورج طلوع ہو کر اپنے عروج کو پہنچا مگر اسے قبل کے وہ ڈھل کر غروب ہوتا اسے گھنے بادلوں نے گھیرا لیا تھا اور شام ہونے سے قبل لان میں ہلکی ہلکی ہوا چلنے لگی تھی۔
بوا. میں لان میں جا رہی ہوں.! آپ ذرا پکوڑے تو بنا دیں میرا دل چاہ رہا ہے۔ باہر کا موسم دیکھ وہ باہر نکل آئی تھی۔
”بہو رانی پکوڑے تو میں بنا دوں لیکن آپ باہر کہاں جا رہی ہیں باہر تو موسم خراب ہے۔ بوا نے طوبیٰ کو روکنا چاہا۔
”بوا ایسے موسم کو خراب نہیں بلکہ خوشگوار کہتے ہیں دیکھے ایسا لگ رہا ہے جیسے ابھی چھم چھم سے بارش شروع ہو جائے گی۔ لان میں آکر جھولے پر بیٹھتے اسکے روم روم سے خوشی چھلک رہی تھی اور وہیل چیئر کو خود سے دور کر دیا تھا
”یہ اتنا خوبصورت سا جھولا آزر خان اپنی بیوی کیلئے لیکر آیا تھا جھولے کے چاروں طرف گلاب کے پھول لگے ہوئے تھیں۔
طوبیٰ جھولے پر بیٹھی ہولے ہولے سے جھولا جھولنے لگی۔ یونہی جھولا جھولتے آزر کے خیالوں میں کھو گئی بہت ہی کم عرصے میں آزر اسے زندگی کی طرف واپس لے آیا تھا۔
”طوبیٰ اپنی ہی سوچو میں پراگندہ تھی چہرے پر ایک الگ سا سکون تھا۔
”کیا بات ہے آج ہماری جان بہت خوش لگ رہی ہے۔ آزر جو ابھی آفس سے آیا تھا طوبیٰ کو لان میں دیکھ کر ادھر ہی چلا آیا تھا۔
”آزر کی آواز پر طوبیٰ نے ایک نظر آزر خان کو دیکھا اور پھر سے آنکھیں بند کرکے جھولا جھولنے لگی اب کہ طوبیٰ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری تھی جو اسکی خوبصورتی کو مزید چار چاند لگا گئی تھی جس دیکھ ایک پل کو تو آزر محوت ہوکر رہ گیا تھا اور بنا کچھ کہے وہ بھی اسکے ساتھ آکر بیٹھ گیا
”کیا بات ہے جان مجھے بھی تو بتاو.! ذرا سا جھک دھیمے لہجے میں سوال کیا جس کا جواب دینے کے بجائے دھیرے سے اسکے کندھے پر سر رکھ گئی اس غیر متوقع عمل پر آزر چونکے بنا نہیں رہ سکا تھا۔
”آج موسم کتنا سوہانہ ہے ناں.؟
موسم تو بہت سوہانہ ہے ہی لیکن تُمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی مُجھے۔ اس کے یوں پاس آنے پر چوٹ کی جبکہ آنکھوں میں شرارت رقصاں تھی۔
جس پر طوبیٰ نے آزر کو گھوری سے نوازا تو آزر بے ساختہ ہنس دیا۔
اتنے میں بوا پکوڑے اور چائے لے آئی۔
”آج تو سچ میں موسم بہت خوشگوار لگ رہا ہے۔ پکوڑوں کی پلیٹ دیکھ آزر نے فوراً سے اٹھا لی تھی۔
”یہ میں نے اپنے لیے بنوائے ہیں.! طوبیٰ نے منہ بناتے ہوئے بتایا ۔
”تم کھاو یا میں، بات تو ایک ہی ہے جان.! ازر نے طوبیٰ کے آگے پکوڑوں کی پلیٹ کرتے ہوئے چڑایا۔
طوبیٰ فورا سے پلیٹ اچکلی تھی۔
”مجھے بھی کھانا ہے آزر نے معصوم صورت بنائی۔
”یہ لیں آپ بھی کیا یاد کریں گے۔ طوبیٰ نے آزر کی جانب پلیٹ بڑھاتے احسان عظیم کیا۔
”تم اپنے ہاتھ سے کھلاو.؟ فرمائش کی جس پر طوبیٰ نے کچھ سانیہ اسکی اور دیکھا اور پھر ایک پکوڑا اٹھا کر اسکی جانب بڑھایا بائٹ لیتے آزر نے طوبیٰ کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور اس پر اپنے لب رکھ دیے تھے جس پر حیا کے رنگ بکھر گئے فوراً سے اپنا ہاتھ کھینچا تھا لیکن آزر کی گرفت مضبوط تھی طوبیٰ نے نظریں جھکا لی تھی۔
یک دم بدل زور سے گرجے تھے۔
”لگتا ہیں بارش ہونے والی ہے آزر.! اسکی لو دیتی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسنے بات بنائی۔
”جب بدل گرجتے ہیں، تو اکثر لڑکیاں ڈر کر اپنے ہزبینڈ کے گلے لگ جاتی اور ایک تم ہو ڈر تو دور کی بات تمھیں ذرا سا فرق بھی نہیں پڑا.؟ آزر نے شرارتاً پوچھا
۔
ہاں تو ہوتی ہوگی وہ ڈرپوک لڑکیاں میں ان کی طرح ڈرپوک تھوڑی ہوں.؟۔ طوبیٰ نے تنک کر جواب دیا۔
” ہاں.! ہاں.! میری بیوی تو سوپر ویمن ہے، اچھا چلو اندر چلیں اسے پہلے کہ بارش شروع ہو.! وہ اپنی جگہ سے اٹھا جس پر طوبیٰ نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔
“کیا جان.! بارش کبھی بھی شروع ہو سکتی ہے۔ آزر نے دھیان دلایا۔
”مجھے نہیں جانا معصومیت سے کہا تو وہ واپس اسکے پاس بیٹھ گیا ایک بار پھر طوبیٰ نے آزر کے کندھے پر سر دیا
چھم چھم سے تیز بارش شروع ہوگئی جس میں دونو بھیگ گئے تھیں۔
”آزر آپ کبھی بارش میں بانہیں پھیلا کر گول گھومتے ہوئے بھیگے ہیں.؟ذرا سا سر اٹھا کر اسکی اور دیکھا آزر کو اسکی آنکھوں میں ایک حسرت نظر آئی تھی۔
”جس پر آزر بنا کچھ کہے ایک دم سے کھڑا ہوا اور طوبیٰ کے سامنے اپنی کشادہ ہتھیلی پھیلائی اور دوسرے ہاتھ سے اپنے بالوں میں انگلیاں پھنسائے بال پیچھے کئے جس پر طوبیٰ نے نہ سمجھی سے اسے دیکھا۔
کم اون.! آزر نے ہمت بڑھائی طوبیٰ افسردگی سے نفی میں سر ہلایا۔
”آزر نے جھک کر خود ہی اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر جھٹکے سے طوبیٰ کو اپنے سامنے کھڑا کیا جس پر وہ لڑکھڑائی تو آزر نے دوسرا ہاتھ اسکی کمر میں ڈال کر اپنے ساتھ کھڑا کیا تھا طوبیٰ نے اسکی گردن کے گرد بازوں ڈال کر خود کو پوری طرح اسکے سپرد کرتے پلکوں کی جھالر جھکی ہوئی تھی۔
”آزر نے طوبیٰ کو کمر سے مضبوطی سے تھام کر اٹھا کر اوپر کیا جس پر طوبیٰ کے منہ سے بے ساختہ چیخ نکلی تھی۔
”آہ میں گر جاؤنگی آزر…!!
”نہیں گرو گی ٹرسٹ می۔۔!! آزر نے بھی اسی طرح چلا کر کہا۔تو آزر کی بات سن کر اسے تسلی ہوئی تو آسمان کی جانب منہ کرتے طوبیٰ نے بانہیں پھیلا دی تیزی سے برستی بارشِ طوبیٰ کے چہرے پر سے آزر پر گرنے لگی تھی۔
”آزر۔۔۔!! آزر۔۔۔!! آزر۔۔۔!! چہرے پر پڑتی بارش بوندیں ایک الگ ہی لطف دیں رہی تھی۔
”ازر نے آہستہ سے نیچے کیا تو ایک مرتبہ پھر گردن کے گرد بازوں حائل کر لیے آہستہ سے نیچے آتے ہوئے طوبیٰ کا چہرا ازر کے چہرے کے ساتھ مس ہوا دونوں کے درمیان فاصلہ نا ہونے کے برابر تھا دونوں کے بیچ چند حسین لمحات کا تبادلہ ہوا
”آزر۔۔!! آپ کچھ بھول گئیں ہیں۔.؟ شرم و حیا سے سرخ پڑتے وہ اسے کے سینے میں منہ چھپاتے ٹھنڈ سے ہولے ہولے سے کانپنے لگی تھی۔
”مجھے سب یاد ہے، تمھیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں مجھے اپنے وعدوں کا پاس رکھنا آتا ہے۔ اسکا اشارہ جس طرف تھا اچھے سمجھ گیا تبھی جھک کر برائڈل سٹائل میں گود میں اٹھا کر کمرے میں لے آیا تھا۔
اسے صوفے پر بیٹھا کر کبرڈ سے اسکے لیے سادہ سوٹ نکال ایک طرف رکھا اور لائٹ اوف کرتے چینج کرنے میں ہیلپ کی، اسکے بعد ٹاول سے بال خشک کرتے اب وہ اپنے کپڑے لیے چینج کرنے چلا گیا چند لمحوں میں وہ چینج کر کے نکلا۔
”بوا.! دو کپ کافی بھیج دیں اور ساتھ کچھ کھانے کے لیے بھی۔ آزر نے انٹر کوم سے بوا کو کہہ کر طوبیٰ کی جانب واپس آیا جو بغور اسے ہی دیکھے جا رہی تھی۔
طوبیٰ کو اپنی بانہوں میں اٹھا کر بیڈ پر لیٹاتے ہوئے کمفرٹ دیا تھا کچھ لمحے پہلے جو ان کے درمیان پیش رفت ہوئی تھی اسے سوچ کر طوبیٰ کی دھڑکنیں منتشر ہوئی۔
”لگ گئی ناں ٹھنڈ اب روکو ابھی تمھیں میڈیسن دیتا ہوں.!۔ اسکے نیلے پڑتے ہونٹوں کو دیکھ اسے فکر ہوئی آزر کا پروا کرنا طوبیٰ کو اچھا لگنے لگا تھا۔
تھوڑی ہی دیر میں بوا کافی لے آئی تھی۔
”چلو اٹھو اور یہ کافی پیو تاکہ تمھاری سردی کچھ کم ہو.! طوبیٰ کو اٹھا کر اسکے پیچھے تکیہ رکھتے اس کے ہاتھ میں مگ دیا اور ساتھ ہی ایک پیسٹری نکال کر اسے کے سامنے بیٹھ کر اسے کھلائی۔
اور یہ میڈیسن بھی لو.! ابھی تم پوری طرح ٹھیک نہیں ہوئی پلیٹ اور مگ واپس رکھتے ازر نے مصنوعی غصے سے کہا تھا آج ازر کا اپنے منہ زور جذبات پر کنٹرول مشکل تر ہو گیا تھا مگر وہ جانتا تھا طوبیٰ کو تھوڑا اور وقت چاہیے۔
”اب تم آرام سے سو جاؤ مجھے سٹڈی میں کام ہے۔اسکے ہاتھ سے گلاس لے کر واپس رکھ کر اسنے طوبیٰ پر کمفرٹ درست کرتے جانے لگا تھا کہ طوبیٰ نے ازر کا ہاتھ پکڑ لیا ازر مجھے نیند نہیں آرہی دنیا جہاں کی معصومیت چہرے پر در آئی تھی۔
”آج اگر تم نے مجھے روکا تو پھر میں خود کو نہیں روک پاؤ گا، اسلئے ابھی مجھے مت روکو.! ازر نے معانی خیز لہجے میں پیشنگوئی کی۔
”آزر پلیز.! آپ نے ہی میری عادتیں خراب کی ہیں، اب مجھے نیند نہیں آرہی تو میں کیا کرو ہاں.! وہ بھی آج ٹلنے کے موڑ میں بالکل نہیں تھی۔
اور ویسے بھی آپ کو یہ سب پرومس کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔ آنکھوں میں شرارت رقصاں تھی جس پر آزر کے چہرے پر مبہم سی مسکراہٹ ابھری۔
”ویسے یہ ظلم ہے، مُجھے انداز نہیں تھا کہ میری جان اتنی ظالم ہوگی.؟ اسکی ضد کے سامنے ہتھیار ڈالتے وہ اسکے پہلو میں آکر لیٹتے اسکے چہرے پر آئی چند لٹو کو کان کے پیچھے اڑیستے معنیٰ خیز انداز میں شکوہ کیا جسے خاطر میں لائے بنا وہ پورے استحقاق سے اسکے سینے پر سر رکھ گئی تو آزر نرمی سے اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا تو آہستہ آہستہ وہ نیند کی وادی میں اتر گئی، اسے خوش اور مطمئن دیکھ آزر کو بھی دلی سکون پہنچا آہستہ سے اسکے ماتھے پر لب رکھتے وہ بھی آنکھیں موند گیا تھا۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial