قسط: 22
”اسلام علیکم آپی.! طوبیٰ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی تو آئزہ تیزی سے اٹھ کر اسکی اور لپکی
”وعلیکم اسلام کیسی ہو آئزہ.! آئزہ کو دیکھ اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔ جبکہ قدسیہ بیگم اور شزہ تو طوبیٰ کو اس طرح دیکھ کر جل بھن گئی تھی اور دوسری طرف سنگل صوفے پر بیٹھا ارحم طوبیٰ کو دیکھ سیدھا ہوا تھا۔
”میں ٹھیک ہو آپی.! آپ سنائیں.! اسی انداز میں سوال کیا۔
”اوو ہو.! آپی آپ کو تو آزر بھائی نے پوری طرح اپنے رنگ میں رنگ لیا ہے۔ طوبیٰ کی تیاری دیکھ آئی برو اچکاتے ہوئے چھیڑا تو دلکش مسکراہٹ نے احاطہ کیا۔
”اچھا۔۔! کیوں تمھیں نہیں رنگا ارحم نے اپنے رنگ میں.؟ طوبیٰ دو بدو ہوئی۔
”اوو.!! آپ کو تو بھائی نے بولنا بھی سیکھا دیا۔ اسکے چہرے سے چھلکتی خوشی دیکھ وہ بھی چہک اٹھی۔
”ہم بھی ساتھ ہی آئیں ہیں.؟ وہ دونوں جو ایک دوسرے سے باتوں مگن تھی ارحم کی آواز پر انکی جانب متوجہ ہوئی۔
”اسلام علیکم.! چہرے پر مسکراہٹ لیے وہ انکی جانب آئی تو آئزہ بھی آکر صوفے پر بیٹھی۔
بوا آپ سب کیلئے چائے لے آئیں.!رسمی سلام دعا کے بعد طوبیٰ نے بوا سے کہا تو وہ اثبات میں سر ہلاتی وہاں چلی گئی۔
”ارحم کی نظریں تو طوبیٰ پر ٹھہر سی گئی تھی آج پہلی بار اس نے طوبیٰ کو یوں سجا سنوار اور اتنا خوش دیکھا تھا۔
”آپی کہی ہم غلط وقت پر تو نہیں آگئیں..؟ آپ شاید کہی جانے کے تیار ہوئی تھی۔ آئزہ نے استفسار کیا۔
”نہیں میں تو بس.!
”اسنے کہاں جانا ہے،ضرور ارحم نے بتا دیا ہوگا کہ ہم آرہے ہیں.! تو یہ اپاہج فورآ تیار ہو گئی ہوگی ،آخر پرانا یارانہ جو رہا ہے سوچا ہوگا موقع اچھا ہے۔ اسے قبل کے وہ اپنی بات مکمل کرتی قدسیہ بیگم نے تحقیر آمیز لہجے میں زہر اگلا جس پر ارحم کے چہرے پر مکروہ مسکراہٹ نمودار ہوئی جو طوبیٰ کو ایکسرے لیتی نظروں سے دیکھنے لگا تھا۔
”واقعی کیا تم میرے لیے تیار ہوئی ہو.؟ ارحم نے گہری نظروں سے دیکھتے بظاھر انداز مذاق کرنے کا تھا۔
جی نہیں.! مجھے تو پتا ہی نہیں تھا کہ آپ لوگ آرہے ہیں میں تو۔۔۔!!
بس۔۔۔!!بس۔۔۔!! زیادہ وضاحتیں دینے کی ضرورت نہیں، جیسے میں جانتی نہ ہو تو کیا ہے اور کیا نہیں، میں تو بس اتنا کہہ رہی ہو اب یہ اوچھے ہتھکنڈے چھوڑ دے، اگر تجھ اپاہج کو کسی نے ترس کھا کر اپنا نام دے ہی دیا تو اسکے نام کی اور اپنے باپ کی عزت کی لاج رکھ، اگر تیرے یہی کرتوت رہے تو وقت دور نہیں جب تو یہاں سے اپنا منہ کالا کروا کر نکلے گی،اسلیے سمجھا رہی ہوں اب تیری شادی ہو گئی ہے، شادی سے پہلے جو کرنا تھا کر لیا، اب یہ سب اچھا نہیں لگتا، ارحم اب تمہاری بہن کا شوہر ہے، اور تو بھی کسی کی بیوی ہے.!۔ قدسیہ بیگم کی باتیں طوبیٰ کے دل میں کسی خنجر کی مانند پیوست ہوئی تھی اپنے لیے اتنی گھٹیا باتیں سن کر اسکا دل چاہ رہا تھا کہ یہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے کچھ دیر قبل جن آنکھوں نے خواب بننا شروع کئے تھیں اب وہ آنسوں سے لبالب بھر گئی تھیں۔
”مامی.! آپ غلط۔۔۔۔۔!!
خبر دار.!! جو میرے سامنے زبان کھولی، میں بالکل لحاظ نہیں کرونگی اور تیری کھینچی کی طرح چلتی زبان گدی سے کھنچ کر تیرے ہاتھ پر رکھنے میں ایک منٹ لگے گا، اوقات سے بڑھ کر مل گیا ہے تو اپنی اوقات بھول گئی ہے، لیکن میں اچھی طرح جانتی ہوں تجھ ناہنجار اپاہج کو.! اسنے اپنی صفائی میں کہنے کو لب کھولے ہی تھے کہ قدسیہ بیگم کراہت و تحقیر آمیز لہجے کہتے سر جھٹک گئی آنکھوں میں نفرت تھی طوبیٰ کا ضبط جواب دینے لگا ضبط۔
”ارحم۔۔۔!! آئزہ نے ارحم کو مامی کو روکنے کا اشارہ کیا۔
”ماما چھوڑے ناں آپ کیوں اپنا خون جلا رہی ہیں۔ سرسری انداز میں منا کیا تو کچھ پل کے لیے ڈرائنگ روم میں سناٹا چھا گیا تھا۔
”ویسے آپ کا گھر تو بہت خوبصورت ہے اور اس سے کہی زیادہ خوبصورتی سے سجا گیا بھی ہے، کاش تم بھی اس قابل ہوتی۔ گھر کو ستائشی نظروں سے دیکھتے گھر کی تعریف کرتے ہوئے طوبیٰ پر طنز کیا۔
ہمم۔۔۔!!وہ جو خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی شزہ کی بات سن اسکے گلے میں گولا سا بن گیا تھا۔ آئزہ نے سختی گیر نظروں سے ارحم کو خاموش دیکھ کر نفی میں سر ہلایا۔
”لائبہ سے بات ہوئی آپکی.؟ آئزہ نے بات بدلتے ماحول میں چھائج ہوئی سنجیدگی کو زائل کرنے کی کوشش کی۔
وہ اپنا ہنی مون انجوائے کر رہی ترکی میں بار بار کال کرنا اچھا نہیں لگتا اسلئے میں زیادہ تنگ نہیں کرتی۔ عام سے انداز میں بولی۔
”پھر تو شاید آپ یہ بھی نہیں جانتی ہونگی کہ آپ خالا بننے والی ہیں.؟
”واقعی یہ کب ہوا.؟ یہ خبر سن کر اسے خوشگوار حیرت ہوئی۔
کل میں نے کال کی تو بتا رہی۔۔۔۔!!!
”ذرا سوچو طوبیٰ کے بچے کیسے ہونگے طوبیٰ کی طرح اپاہج، آزر.! بیچارا پہلے اپنی بیوی کو سنبھالے گا اور پھر بچو کو.! آئزہ کی بات کو کاٹتے ہوئے شزہ نے تمخسرا اڑایا شزہ کی بات پر ضبط سے اپنی مٹھیاں بھنچے نظریں باہر کی جانب اٹھی تھی
”ویسے تم اپنی بہنوں کی شادی میں کیوں نہیں آئی تمھیں پتا ہے وہاں سب مجھے آزر کی وائف سمجھ رہے تھیں، اب لوگوں کو تو معلوم نہیں تھا کہ اس کے نصیب میں ایک اپاہج ہے، جسے لوگوں سے چھپا کر رکھا جاتا۔ سوال کرتے ہوئے آخر تاسف سے بتایا۔
“اسی لیے وہ تمہیں خاموشی سے رخصت کروا کر لے آیا، تاکہ نہ اپنے جاننے والوں کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے، نہ ہی لوگو کو بتانا پڑے کہ ایک اپاہج سے شادی کیوں کی۔
ارحم بولا تو آئزہ ارحم کو دیکھ کر رہ گئی تھی اسنے کبھی سوچا نہیں تھا کے ارحم طوبیٰ کیلئے ایسا کہہ گا مگر طوبیٰ کو ارحم کی بات سن کر کچھ خاص خیرت نہیں ہوئی تھی۔
”بوا دو اور ملازموں کے ساتھ چائے کے ساتھ بہت سے لوازمات لے کر آئی تھی۔
اور تو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے بہو رانی.!سب کچھ ٹیبل پر لگوانے کے بعد بوا نے دریافت کیا۔
”نہیں کسی چیز کی ضرورت نہیں۔! دوسری طرف منہ کر کہ اپنے آنسوں انگلی کے پوروں سے صاف کرتے بولی۔
”خالا.! بہو رانی تو دیکھیں اپاہج بہو رانی..! شزہ نے قدسیہ بیگم کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے تسخیر آمیز انداز میں کہتے قہقہہ لگایا۔
“ویسے آزر کو شادی کرنے کا کچھ زیادہ فائدہ تو نہیں ہوا ہوگا، البتہ نقصان ہی ہوا ہوگا پہلے صرف گھر کو سنبھالنے کے لیے ملازم رکھنے پڑتے تھے اب گھر کے ساتھ بیوی کو سنبھالنے کے لیے بھی۔ مزید اسی انداز میں گویا ہوئی تو آئزہ اپنی جگہ سے اٹھی۔
”ہمیں اب چلنا چاہیے.! طوبیٰ کے ساتھ آئزہ کا ضبط بھی جواب دے گیا تھا۔
”اتنی بھی کیا جلدی ہے، آئزہ.! دیکھوں تمہاری بہن نے کتنا اہتمام کیا ہے،اگر ہم ایسے ہی چلے جاۓ گے تو تمہاری بہن کو برا لگے گا۔ ارحم نے آئزہ کا ہاتھ کھینچ کر واپس بیٹھایا تھا۔
”ویسے طوبیٰ! آزر خان جیسی پرسنلٹی کے ساتھ تو میرے جیسی خوبصورت اور سٹائلش لڑکی ہی سوٹ کرتی ہے، تم آزر سے بات کرو.! میں آزر کی دوسری بیوی بن کو تیار ہوں،
تم گھر سنبھالنا اور میں آزر کو!۔ سنجیدگی سے کہتے آخر میں شرارت سے آنکھ دبائی اسکی بات سن کر طوبیٰ دل برداشتہ ہوئی تھی
دوسری جانب شزہ کی بات پر آئزہ کی طنزیہ ہنسی ہنسی تھی ۔
“ازر بھائی کا ٹیسٹ اب اتنا بی خراب نہیں ہے شزہ کہ وہ تم سے شادی کریں.! آئزہ نے تنک کر کہا تو شزہ نے اس گھور کر دیکھا تھا۔
“جب اس اپاہج سے کر سکتا ہے، پھر میں تو لاکھ درجے بہتر ہوں اسے اور خوبصورت بھی، سب سے بڑھ کر اس کی طرح اپاہج نہیں ہوں.! تندو تیز لہجے میں کہتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
”آزر آپ کہاں رہ گئے ہیں، میں نے کہا بھی تھا جلدی آجائیگا۔ ضبط کے مارے مٹھیاں بھنچے بڑی شدت سے آزر کی کمی محسوس ہوئی تھی
”اب ہمیں چلنا چاہیے میرے خیال سے اتنی عزت افزائی کافی ہے۔ آئزہ کو دیکھتے ہوئے سلگ کر بولی۔آئزہ بھی فورا سے اٹھ گئی تھی۔
”اچھا آپی اب اجازت دیں، اور اس سب کے لیے معذرت بھی۔ آئزہ طوبیٰ کے گلے لگتی دل سے شرمندہ ہوئی
”ہممم.! آگے کچھ کہنے کی ہمت ختم ہو گئی تھی۔
”ارحم کو بھی نہ چاہتے ہوئے بھی اٹھنا پڑا تھا۔
”اچھا بھائی جیسے تم لوگوں کی مرضی، میں تو سوچ رہا تھا آج ڈنر ساتھ ہی کرینگے مگر۔۔۔۔.! سرسری انداز میں کہتے طوبیٰ کی طرف دیکھ کر مکاری سے ایک آنکھ دبائی تو طوبیٰ ناگواری سے منہ پھیر گئی تھی۔
”بات سن.! لڑکی اب تیری شادی ہوگئی ہے، اب میرے بیٹے کا پیچھا چھوڑ دے، اگر ازر نے تجھ جیسی بدکردار ناہنجار لڑکی کو اپنا نام دے ہی دیا ہے تو اپنے آپ کو کنٹرول کر ایسی ادائے دیکھا کر میرے بیٹے پر ڈورے ڈالنا چھوڑ کمبخت ماری.! قدسیہ بیگم نے باقی سب کے جاتے ہی طوبیٰ کا چہرا دبوچتے پھنکارتے ہوئے جھٹکا اور باہر نکل گئی
ان سب کے جاتے ہی طوبیٰ کو اپنے سر میں شدید درد محسوس ہوا تھا۔
”اووو.! ہو.! لگتا ہے میں اپنا فون اندر ہی بھول گیا ہوں۔ سب گاڑی میں بیٹھ گئے تو ارحم بولا تھا۔
طوبیٰ اپنے دونوں کانوں پر ہاتھ رکھے اپنے سر میں اٹھتی شدید تکلیف کو کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ
”ابھی بھی میری محبت صرف تمھارے لیے ہے، آج بھی آئزہ کو ایک بیوی کی جگہ نہیں دے پایا،تم ایک بار میری محبت کو اپنا کر تو دیکھوں، کسی کو پتا نہیں چلے گا ارحم نے آگے پیچھے دیکھ کر وہیل چیئر کے دونوں بازوں پر ہاتھ رکھے جھک کر چہرے کے پاس جھکتے ہوئے مکاری سے بولا وہ آنکھیں موندے اپنا درد کم کرنے کی کوشش کر رہی ارحم آواز پٹ سے آنکھیں کھولی۔
”شٹ اپ.! جسٹ شٹ اپ.!
میں مر جاؤ گی لیکن آزر کو دھوکا نہیں دو گی سمجھے۔ اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر پوری قوت سے اسے پیچھے دھکا دیا
”اچھا اگر تم اسے دھوکا نہیں دو گی، تو پھر میں کیا کر سکتا تم سوچ بھی نہیں سکتی، اس لیا میں جو کہہ رہا ہو وہ کرو ازر سے طلاق لو اور اپنے گھر جا۔۔۔۔۔۔!!!!
”تمھیں جو کرنا ہے شوق سے کرو آئی ڈونٹ کیر.!
ماں کہتی ہے میرے بیٹے سے دور رہو.! اور بیٹا مجھے میرے ہی شوہر سے طلاق لینے کے مشوارہ دے رہا ہے، کسی کو میرے شوہر سے دوسری شادی کرنی ہے ، مطلب تم سب نے سمجھ کر کیا رکھا ہے، تمھارے باپ کی جاگیر ہو جو جس جو مرضی دل چاہے اکر اپنی من مانی کرتا پھرے،اب میں وہ پہلے والی ڈر پوک طوبیٰ نہیں ہوں سمجھے۔۔۔!! نکلو میرے گھر سے۔ وہ پھٹ پڑی تھی
”اب تم یہاں سے جا رہے ہو یا میں گارڈ کو بلاؤ.! خود کو مظبوط ثابت کرتے ہوئے دھمکی دی۔
”میں دیکھ لو گا تمھیں۔!! ارحم نے باہر نکلتے ہوئے وارن کیا جس پر بہتی آنکھوں سے اسنے نفی میں سر ہلایا تھا۔
”سب کے جانے کے بعد طوبیٰ کمرے میں آئی تو اسے خود سے وحشت ہونے لگی تھی سر درد سے پھٹنے لگا، مامی کی کہی باتیں کسی ہتھوڑے کی مانند لگ رہی تھی، کلائیوں میں پہنے گجرے بےدردی سے اتار پھینکے اور ہونٹوں پر لگی ہلکی سی گلوس جو پہلے ہی مٹ چکی تھی اسے مزید ہاتھ کی پشت سے رگڑ کر صاف کرتے آنسوں تواتر بہے چلے جا رہے تھیں
ہر گزرتے لمحے اسے اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہونے لگی، اتنی ٹھنڈ میں بھی اسے ٹھنڈے پسینے آنے لگے اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ خود کی جان لے لے انہی سوچوں میں گم وہ کب واشروم گئی اور کب شاور اون کیا اسے کچھ خبر نہیں تھی آنکھوں سے بہتے آنسوں میں مزید تیزی آئی تھی۔
”اگر تیرے یہی کرتوت رہے تو وقت دور نہیں جب تو یہاں سے اپنا منہ کالا کروا کر نکلے گی۔
اوقات سے بڑھ کر مل گیا ہے تو اپنی اوقات بھول گئی ہے، لیکن میں اچھی طرح جانتی ہوں تجھ ناہنجار اپاہج کو.!
”جیسے تم اپاہج ویسے ہی تمہارے بچے بھی اپاہج ہونگیں۔
”تم آزر سے طلاق لے لو.!
ٹھنڈا پانی سر پر گر رہا تھا لیکن نہ اسکے سر درد کی شدت میں کمی آرہی تھی نہ دل کے درد میں ،کتنی دیر خود کو شاور کے نیچے پر سکون کرنے کی کوشش ہلکان ہوتی ہمت ہار کر واشروم سے نکل کر ایک نظر کمرے کو دیکھا جسے اسنے کتنے ارمانوں سے سجایا اور کیا کچھ نہیں سوچا تھا اپنی آنے والی زندگی کو لیکر مگر شاید اسکی قسمت میں خوشیاں لکھی ہی نہیں تھی دل برداشتہ دل لیے وہ کمرے سے نکل گئی تھی۔
اپنے کمرے سے نکل کر پینٹگ والے کمرے میں آئی
اپنی ساری پینٹنگز جنھیں اسنے بڑے پیار اور چاہ سے اپنی محبت کے رنگوں سجایا تھا انھیں اپنے ہی ہاتھوں سے تہس نہس کر دیا۔
”ازر میں آپ کے لائق نہیں ہوں، میں آپ کو کبھی اولاد کی خوشی آپ کی بیٹی نہیں دونگی، اگر سچ میں وہ بھی میری طرح ہوئی تو پھر۔۔۔۔!!!
”نہیں نہیں.! ایسا نہیں ہو سکتا میں اس پہلے اپنی جان لے لونگی.!
ازر میں آپ سے محبت کرتی ہوں، پر یہ بات آپ کو کبھی نہیں پتا لگے گی۔.! وہ دل ہی دل میں فیصلہ کر گئی تھی۔
” آزر آپ مجھے معاف کر دینا میں آپکو آپکا حق کبھی نہیں دونگی پلیز آپ مجھے معاف کر دیجیے گا اگر آپ معاف کر دینگے تو اللّٰہ پاک بھی معاف کر دینگے۔ اپنے آنسوں صاف کرتے وہ وہی فرش پر گر گئی گیلے کپڑوں میں ٹھنڈے فرش پڑی سسک رہی تھی۔
میں آپ کے لائق نہیں ہوں، آزر میں بدکردار ہوں۔
”صبح سے بیک ٹو بیک میٹنگز میں ایسا مصروف ہوا کہ کب شام سے رات ہوئی پتا ہی نہ چلا اب بھی وہ ایک میٹنگ اٹینڈ کر کے تھک ہار کر اپنے آفس میں داخل ہوا اپنی ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے اپنی چیئر پر ڈھتے پشت پر سر ٹیکائے آنکھیں بند کرتے خود کو پُرسکون کرنے کی کوشش کی۔
”ازر.! آج آپ اوفس سے جلدی آجائے گے.؟ یکا یک خیال آیا تو فوراً سے آنکھیں کھولتے وال کلاک پر نظر گئی جو رات کے دس بجا رہی تھی آزر کا ہاتھ بے ساختہ اپنے فون کی اور بڑھا ارادہ گھر جانے کا تھا فون کی سکرین اون ہوتے ہی سامنے دشمن جاں کا نام جگمگاتا ہوا نظر آیا تو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا پہلی بار تو کچھ کہا تھا اسنے۔
”آزر کی جان.! آزر کی منتظر ہے، امید ہے آپ زیادہ انتظار نہیں کروائے گیں اپنی جان کو.! آزر نے طوبیٰ کا میسج اوپن کیا تو اسکی پک کے ساتھ ہی میسج موصول ہوا جسے دیکھ آزر کی ساری تھکان ہوا ہوئی اور چہرے کو ایک دلکش مسکراہٹ نے چھوا ساتھ ہی ندامت نے آن لیا جس کے چلتے وہ لمحے کی تاخیر کیے بنا تیزی سے گاڑی کی کیی اور موبائل اٹھا کر آفس سے نکلا۔
”یہ راستہ اسنے کیسے طے کیا یہ وہی جانتا تھا۔
”اسکی گاڑی پورچ میں آکر رکی دل میں عجیب ہی ہلچل مچی تھی جہاں طوبیٰ کی جانب سے پیش قدمی پر وہ خوش تھا وہی دوسری طرف لیٹے ہونے پر پریشانی بھی تھی۔
”پہلی بار جان نے جلدی آنے کا کہا اور آج ہی لیٹ ہو گیا. جلدی سے گاڑی سے اتر کر تیزی سے اندر داخل ہوا دل عجیب ہی طرح دھڑک رہا تھا گھر کی ساری لائٹس اوف جس پر اسے مزید تشویش ہوئی۔
”آج تو خیر نہیں میری.! دھڑکتے دل کے ساتھ اسنے دروازے کی نوب پر ہاتھ رکھ کر سوچتے ہوئے نوب گھمائی توقع کہ برعکس دروازا کھلتا چلا گیا گلاب کے پھولوں کی بھینی بھینی خوشبوں نے اس کا استقبال کیا تو وہ کچھ سنبھلا مگر اگل ہی پل کمرہ خالی پا کر اسے مایوسی ہوئی۔
”یہ کہاں گئی.؟ طوبیٰ کمرے میں نظر نہ آئی تو وہ پر سوچ انداز میں باہر نکلا
بوا۔۔۔۔!!! بوا۔۔۔۔.!! آزر نے آواز لگائی۔
”جی آزر بیٹا.! بوا فورا حاضر ہوئی تھی.
”بوا۔! آپ کی بہوں رانی کہاں ہے؟ آج تو بہت ناراض ہوگی آپ کی بہو رانی.! طوبیٰ کا پوچھتے ہوئے جاننا چاہا۔
”بیٹا ناراضگی کا تو پتا نہیں، پر آج بہوں رانی کے مہمان آئیں تھیں اور ان کے جانے کے بعد بہوں رانی نظر نہیں آئی ہمیں۔ بوا کے بتانے پر آزر کو تشویش ہوئی۔
”کمرے میں بھی نہیں ہے، میں لان میں دیکھتا ہوں.! ضرور جھولا جھول رہی ہونگی آپ کی بہوں رانی۔ آزر انداز لگاتے وہ لان کی جانب بڑھا۔
”ازر لان میں آیا تو طوبیٰ یہاں بھی نہیں تھی جس پر اب اسکی تشویش میں مزید اضافہ ہوا۔
”یہ کہاں گئی آزر نے پریشان ہوتے ہوئے سوچا تھا۔