قسط: 23
”بوا۔۔! بوا۔۔!! طوبیٰ کہاں ہے میں جانتا ہوں کہ وہ مجھ سے ناراض ہے پر ہے کہاں.؟ لان میں بھی نہیں ہے۔ تیزی سے واپس آتے آزر کی تشویش اب پریشانی میں بدل گئی تھی۔
”بیٹا میں نے کہا ناں مہمانوں کے جانے کے بعد ہم نے بہو رانی.! نہیں دیکھا۔ بوا نے سابقہ جواب دیا۔
”کمرے میں ہی ہونگی آپ نے صحیح سے دیکھا نہیں ہوگا۔ بوا نے اندازہ لگایا۔ تو آزر برق رفتاری سے کمرے کی اور بڑھا۔
”طوبیٰ.! طوبیٰ.!! کہاں ہو جان.! پلیز سامنے آجاؤ میں مانتا ہوں مجھ سے غلطی ہوئی اور میں ہر طرح سے ازالہ کرنے کو تیار مگر اس طرح نہیں، دیکھو اس طرح مت آزماؤ مجھے، میرا دل بند ہو جائے گا۔ کمرے ہر جگہ دیکھتے آزر کو اپنا دل کسی مٹھی میں بند محسوس ہوا تھا نظریں ڈریسنگ ٹیبل پر بکھرے گجروں پر پڑی تھی جیسے بے دردی سے توڑ کر پھینکا گیا ہو ازر نے فورا سے آگے بڑھ کر ان بکھرے ہوئے پھولو کو اٹھایا تھا ازر کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا ویسی ہی بیچنی ہوئی جیسی آئزہ اور لائبہ کی شادی میں ہوئی تھی۔
“آزر فوراً سے کمرے سے نکلا تھا طوبیٰ…… طوبیٰ….. دیوانہ وار وہ اسے پورے گھر میں ڈھونڈھنے لگا جیسا کوئی انمول شے کھو گئی ہو۔
بس ایک مرتبہ سامنے آجاؤ آئیندہ ایسی غلطی نہیں کرونگا۔ تڑپ کر پکارا مگر جواب نادر۔
”پھر کچھ سوچتے ہوئے اسے طوبیٰ کی پینٹگ والے کمرے کا خیال آیا تو وہ فورا سے اس کمرے کی طرف بڑھا تھا۔
”طوبیٰ.! تم مجھے اتنی سی غلطی کی اتنی بڑی سزا نہیں دے سکتی۔کمرے کا دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھاتے آزر کے گلے گٹھلی ابھر کر معدم ہوئی تھی۔ ہمت مجتمع کرتے دروازہ کھولا تو پورا کمرا اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا دو آنسو ازر کی آنکھوں سے نکل کر بے مول ہوئے تھیں۔
“ازر نے لائٹ اون کی تو صبح جو پینٹنگز اپنی خوبصورتی پر نازاں تھی اب وہ فرش پر پڑی اپنی قسمت پر ماتم کناں تھی جہاں سے نظریں ہوتے ہوئے فرش پر پڑی طوبیٰ پر ٹھہری جس کو دیکھ برق رفتاری سے آگے بڑھا تھا طوبیٰ۔۔۔۔!!!
”ازر طوبیٰ کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ کر سیدھا کیا تو اسے احساس ہوا اس کے سارے کپڑے گیلے ہیں۔ سردی سے بری طرح کانپ رہی جبکی ہونٹ نیلے پڑ چکے تھے۔ فوراً سے اسے اپنی بانہوں میں اٹھا لیا۔
”بوا آپ ڈاکٹر کو کال کریں جلدی.! بوا کو تاکید کرتے وہ طوبیٰ کو کمرے میں لاکر بیڈ پر لیٹا کر اسکے پاس بیٹھا۔
”طوبیٰ۔۔۔!! جان.!! آنکھیں کھولو پلیز.! میں مانتا مجھے وقت پر آنا چاہیے تھا مجھے تمھاری بات ماننی چاہیے تھی، پر ہو گئی ناں غلطی مان تو رہا ہوں.! اور جب غلطی میری ہے تو سزا بھی مجھے ملنی چاہیے تم نے خود کو کیوں دی.! خود میں بیچنے وہ اپنی خود ساختہ غلطی پر نادم ہو رہا تھا۔
دوسری جانب سردی ٹھٹھرتے اسکی حالت غیر ہو رہی تھی آزر فوراً سے پیشتر اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے اٹھا کبرڈ سے طوبیٰ کے لیے دوسرا سمپل سا سوٹ نکلا تھا۔
”ازر نے طوبیٰ کے کپڑے چینج کرنے کو اس کے پاس آیا تھا۔
”میں کبھی بھی تمھاری مرضی کے بغیر کبھی آگے نہیں بڑھو گا۔ ازر نے خود سے کہا اور لائٹ اوف کر کے طوبیٰ کے کپڑے چینج کرتے طوبیٰ کو کمفرٹ دیا تھا۔
”میں تمھیں کچھ نہیں ہونے دونگا۔ واپس اسکے پاس بیٹھتے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا
دروازا نوک ہونے کی آواز نے آزر کو اپنی متوجہ کیا تو آزر اس پر کمفرٹ درست کیا۔
”آجائے بوا.! اپنی آنکھوں کی نمی صاف کی۔
“بیٹا ڈاکٹر صاحب آئیں ہیں۔ بوا نے بتایا تو آزر نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے آنے کی اجازت دی۔
ڈاکٹر نے طوبیٰ کو چیک کیا اور انجیکشن لگایا تھا۔
”ڈاکٹر کیا ہوا ہے میری وائف کو۔۔؟
گھر میں سب ٹھیک ہے.؟ آپ کا اپنی وائف کے ساتھ کوئی جھگڑا وغیرہ.؟ ڈاکٹر نے جواب دینے کے بجائے سوال کیا۔
جی سب ٹھیک ہے، لیکن آپ کیوں پوچھ رہے ہیں۔ آزر نے ناسمجھی سے ڈاکٹر کی طرف دیکھا۔
”آپ کی وائف نے کسی بات کی ٹینشن لی ہے جس وجہ انکی یہ حالت ہوئی ہے۔ ڈاکٹر نے وجہ بتائی۔
”ایسا کیسے ہوسکتا ہے ڈاکٹر صاحب.! بہوں رانی آج تو بہت خوش تھی۔ بوا نے مداخلت کی۔
” اب وہ تو میں نہیں بتا سکتا، لیکن ابھی انہوں نے کسی بات کو دل پر لیا جس کی وجہ سے ان کی یہ حالت ہوئی ہے، میں نے ابھی کے لیے انجیکشن لگا دیا ہے صبح تک ہوش آجائے تو صحیح نہیں تو ہمھیں انہیں ہاسپٹل لائیذ کرنا پڑے گا۔ ڈاکٹر نے پرفشنل انداز میں کہا آزر کی نظریں اپنی بےسدھ پڑی متاعِ جاں پر گئی۔
ڈاکٹر چند اور ہدایات دے کر جاچکا تھا اور وہ کتنے ہی لمحے اسے یونہی دیکھتا رہا پھر آہستہ سے چلتے ہوئے اسکے پہلو میں آکر لیٹ گیا تھا طوبیٰ کو اپنے سینے میں بینچ لیا جیسے کوئی قیمتی متاع ہو۔
”اگر مُجھے معلوم ہوتا کہ تم اتنی چھوٹی سی بات پر اپنا یہ حال کر لونگی تو میں کبھی تمھیں چھوڑ کر ہی نہیں جاتا، پلیز اسے میری پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر معاف کر دو.!اسے سینے سے لگائے ہوئے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معذرت خواہ تھا۔
”آئزہ گھر پہنچتے ہی خود کو کمرے میں بند کرلیا وہ جانتی تھی یہاں کسی سے کچھ بھی کہنے کا کوئی فائد نہیں۔
”آج تو مزا آگیا اس اپاہج کو اس کی اوقات یاد کروا کر.! میرا تو دل خوش ہو گیا خالا.! شزہ نے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔
”اس کا منہ دیکھنے والا تھا۔ قدسیہ بیگم تنفر سے بولی۔
”نہیں ماما ایسے نہیں، میں اس کے چہرے سے وہ چمک وہ غرور چھینا چاہتا ہوں جو آزر کی محبت نے دیا ہے،آج اس نے میرا ہاتھ جھٹکا، مجھے گھر سے نکلنے کو کہا صرف اور صرف اس آزر خان کی وجہ سے، میں اسے کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں چھوڑو گا، سمجھتی کیا ہے وہ خود کو، پہلے تو بڑے اچھے سے بات کرتی تھی لیکن جب سے آزر آیا ہے مجھ سے تو بات کرنا بھی اچھا نہیں سمجھتی۔ نحوت سے کہتے اپنے ارادے ظاہر کئیں۔
“میں ناں کہتی تھی وہ صرف شکل سے معصوم لگتی ہے، ہے نہیں، تمھیں ہی پتا نہیں کون سے سرخاب کے پر نظر آتے تھے اس اپاہج میں۔ قدسیہ بیگم تو یہی چاہتی تھی۔
”نہیں ماما.؟ وہ پہلے ایسی نہیں تھی، اس ازر نے میری طوبیٰ کو اپنے رنگ میں رنگ لیا ہے میں اس چھوڑو گا نہیں، میں اسے اپنے اور طوبیٰ کے بارے میں بتاؤ گا اسے بتاؤ گا کہ وہ میری ہے، اور وہ میری طوبیٰ کو زبردستی اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا، وہ صرف اور صرف میری ہے، اگر وہ میری نہیں ہوئی تو میں اسے کسی اور کا بھی رہنے نہیں دونگا۔ شروع میں اسکا دفاع کرتا وہ جنونی انداز میں کہتے گھٹیا پن کی ساری حدے پار کرنے پر تل گیا تھا۔
”اسے اچھی اور کوئی سزا ہو نہیں سکتی اس اپاہج کے لیۓ، اس نے میرے آزر کو مجھ سے چھینا ہے،ہم اسے اس دنیا میں کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں چھوڑے گیں۔ شزہ نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔ تو قدسیہ بیگم پر سوچ نظروں سے دونوں کو دیکھ کر ہنس دی۔
“میں بد.. کر…… دار……… نن…….. ہی….. ہو…….!
مم.. یں……. نن…. ہی ….ہو…. بد… کر….. دار……!!
طوبیٰ کی آواز پر آزر کی آنکھ کھلی کچھ لمحے قبل ہی جو اسکے پر سکون ہونے پہ لگی تھی۔
”میں یہی ہو تمہارے پاس ہوں.! پیار سے اسکے چہرے سے بال ہٹاتے ہوئے اپنے ہونے کا احساس دلایا۔
نن… ہی….. ہو.. میں…….. بد ۔.کر….. دار….! آزر کی موجودگی سے بے خبر وہ بہوشی میں صفائی دے رہی تھی طوبیٰ کی بات سن کر آزر پوری طرح بیدار ہوتے اٹھ کر بیٹھا۔
”کیا کہہ رہی ہو جان.! کس نے کہا تم سے یہ سب.! متفکرانہ انداز میں دریافت کیا مگر وہ ہوش میں کہاں تھی جو اسکی بات کا جواب دیتی۔
آپ.. مجھ سے…دور….. رہے می.ں لا..ئق نہی.ں ہوں آپ
کے می.رے طر..ح می.. رے. .بچ… ے…. بھ…ی… اپا…. پج.. ہو.نگے… ازر…… میرے….. پاس…… نہیں…. آنا۔ نیم بہوشی میں بڑاڑاتے وہ خود کو آزر سے دور کر رہی تھی جس پر آزر کے اعصاب تن گئیں
“کس نے کی یہ ساری بکواس.! اسکی بات کا مفہوم سمجھتے آزر کا غصّہ حد سے سوا تھا وہ جو خود کو طوبیٰ کا قصور وار سمجھ رہا تھا وہ تو تھا ہی نہیں خود پر سے کمفرٹ ہٹاتے وہ وقت کی پروا کیے بغیر سے کمرے سے نکلا تھا
بوا…….. بوا…… بوا……..!!“ ازر نے دھاڑتے آواز لگائی تو کچھ ہی لمحوں میں گھبراتے ہوئے ڈورتی ہوئی حاضر ہوئی ساتھ ہی باقی ملازم بھی جاگ گئیں تھیں آج سے پہلے آزر کو کسی نے اتنے غصے میں نہیں دیکھا تھا۔
”کیا ہوا ازر بیٹا.! اپنا دوپٹہ درست کرتے مہذب انداز میں دریافت کیا۔
”میرے آفس جانے کے بعد کیا ہوا تھا.! سنجیدگی سے استفسار کیا۔
“بیٹا.! آج تو صبح سے بہوں رانی.! بہت خوش تھی اور نہ صرف خوش تھی بلکہ کمرے سے باہر بھی نکلی گھر کے کاموں میں دلچسپی لی شام کھانا اپنی پسند سے بناوایاں تھا اور تو اور آپ کے لیے خود کیک بھی بیک کیا، پھر شام بہوں رانی کی بہن اور ان کی فیملی آئی تھی ان کے جانے بعد بہوں رانی نظر نہیں ائی۔بوا نے تفصیل بتائی۔
”آپ کو معلوم ہے وہاں کیا ہوا.؟۔ اگلا سوال کیا۔
”نہیں بیٹا.! ہمیں یہ تو نہیں پتہ لیکن جب ہم چاۓ دینے گئے تھے جب ہم نے بہو رانی کی آنکھو میں آنسو دیکھے تھے۔ بوا کے بتانے پر وہ ساری بات سمجھ گیا خود پر ضبط کرتے غصے سے مٹھیا بھنچتے
ٹھیک ہے لیکن اگر وہ دوبار یہاں آئیں تو آپ نے فوراً مجھے انفارم کرنا ہے، اب آپ جاسکتی ہیں۔ تاکید کرتے ہوئے بوا کو جانے کا اشارہ کیا تو مزید کچھ کہے بغیر چلی گئی۔
”قدسیہ بیگم.! آج سے پہلے میں یہ سوچ کر چپ رہا کہ شاید میں کچھ زیادہ سوچ رہا ہوں، آخر وہ آپ کی بھی کچھ لگتی پر نہیں میں غلط تھا، آئندہ اگر تمھاری وجہ سے میری بیوی کو کچھ ہوا تو میں آپ کو نہیں چھوڑو گا۔ دل میں سوچتے اسکے ماتھے پر بل پڑے اگلے ہی پل بوا کی بات یاد آنے پہ اتنی ٹینشن میں بھی اسکے چہرے پر مبہم سی مسکراہٹ نمودار ہوئی، انجانے احساس کہ تحت اسکے قدم کچن کی اور بڑھیں ارادہ طوبیٰ کے ہاتھوں سے بننے کیک کو دیکھنے کا تھا۔
کچن میں آکر فریج کھولا تو نظر سامنے رکھیں کیک پر گئی ہاتھ بڑھا کر کیک نکال جس پر لکھی لائن اسکی روح تک سرشار کر گئی ٹرانس کی کیفیت میں دوسرے ہاتھ سے ہارٹ شیپ میں رکھی سٹوبیری کو چھونے لگا ہی تھا کہ کچھ گرنے کی آواز پر چونکتے اسکے ہاتھ سے کیک چھوٹ کر زمین بوس ہوا اور وہ بجلی کی تیزی سے کمرے کی اور بڑھا
تیزی سے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے سامنے کا منظر دیکھ اسکے پیرو تلے زمین نکل گئی تھی۔