قسط: 24
”آنکھوں میں آنسوں لیے ہچکیوں سے روتے اپنی کلائی پر چھری رکھے کاٹ نے ہی لگی تھی کہ آزر لمحے کی تاخیر کیے بنا آگے بڑھا۔
”یہ کیا کر رہی ہوں طوبیٰ۔۔۔!! اسکے ہاتھ سے چھری لی یہ خیال ہی جان لیوا تھا کہ اگر وہ آنے میں ایک پل کی بھی دیر کر دیتا تو۔
”آزر.! مجھے مرنا ہے، میں مرنا چاہتی ہوں، پلیز.! آج آپ مُجھے نہیں روکے گے، آپ نہیں جانتے میں بد کردار ہوں، اور میرے بچے بھی میری طرح اپاہج ہونگیں، میں نہیں چاہتی میری طرح وہ بھی ایسی زندگی گزاریں، اور آپ بھی دور رہے مجھ سے میری محبت‘ میری قربت‘ برباد کر دے گی آپ کو اور میں کبھی ایسا نہیں چاہوں گی، پلیز مر جانے دیں مجھے، میں ذندہ نہیں رہنا چاہتی۔ آزر کے ہاتھ سے چھری لینے کی تگ و دو کرتی ہذیانی انداز میں بولے جارہی تھی اسکی حالت دیکھ کر ہی دنگ رہ گیا تھا
”مجھے مر جانے دیں آزر میں مر جانا چاہتی ہوں.؟۔ جب چھری لینے میں کامیاب نہ ہوسکی تو گڑگڑا کر التجہ کرتے ہاتھ جوڑے ازر نے تڑپ کر اسکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا۔
”میں بدکردار ہوں ازر آپ مجھ سے دور رہیں، نہ مجھے اپنے باپ کی عزت کا پاس ہے ناں ہی میں آپ کے نام کی لاج رکھ سکتی ہوں پلیز دور رہیں۔ فوراً سے اپنے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی تو آزر نے اپنی گرفت سخت کر دی تھی۔
طوبیٰ.! میری بات سنوں ادھر دیکھوں میری طرف.؟ اسکی باتیں سن اسے غصّہ تو بہت آرہا تھا پر اسکی حالت کے پیشے نظر آزر نے خود کو نارمل رکھنے کی کوشش کی۔
نہیں آپ جائیں یہاں سے۔ وہ تو کچھ سننے کو تیار ہی نہیں تھی۔
”طوبیٰ۔!! ادھر دیکھو میری طرف.! اب کی بار وہ ذرا سختی سے گویا ہوا۔
“آپ سمجھ نہیں رہے آزر میری محبت‘ میری قربت نہ صرف آپکو بلکہ ہمارے آنے والے بچوں کو بھی برباد کر دے گی، میرا مرنا ہی بہتر آپ میرا گلا دبا دیں۔ اب کی بار روتے ہوئے ازر کے ہاتھ اپنی گردن پر کیے تھے اور دباؤ بڑھایا تھا
سٹوپ اٹ طوبیٰ۔۔۔!! دونوں کندھوں سے پکڑ زور سے جھنجھوڑا۔
“ادھر دیکھوں میری طرف.!! اسکا چہرا ٹھوڑی سے پکڑ کر اسکا چہرہ اوپر کیا تو نم پلکوں کی باڑ اٹھا کر آزر کی اور دیکھا جس کی بکھری حالت اپنی روداد سنا رہی تھی۔
”تمھیں میری حالت نظر نہیں آتی.! بس وہ جو کہہ کر چلی گئی وہ ہی نظر آرہا ہے، میری، میری محبت کی کوئی اہمیت نہیں تمھاری نظر میں، میں کچھ نہیں لگتا تمھارا بہت شوق ہے مرنے کا تو ٹھیک ہے پہلے میری نس کاٹو کیونکہ میں اپنی محبت کو اپنے سامنے مرتا نہیں دیکھ سکتا یہ لو کاٹو.! کرب سے کہتے اپنا ہاتھ آگے کیا تو وہ فوراً سے نظریں جھکا گئی پر ابھی بھی وہ بری طرح لرز رہی تھی۔
”اب کیوں نظریں جھکا لی۔؟ لو پہلے میری جان لو پھر اپنی لے لینا، پھر تُمہیں کوئی نہیں روکے گا،
اگر تم یہ نہیں کرسکتی تو تمھاری یہ مشکل بھی میں حل کیے دیتا ہوں، میں خود ہی لے لیتا ہوں اپنی جان، پھر تمھارا جو دل چاہے کرنا کوئی کچھ نہیں کہے گا۔ازر اپنی جگہ سے اٹھنے لگا تھا طوبیٰ نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روکتے نفی میں سر ہلایا اسکی آنکھوں میں تڑپ تھی۔
”نہیں آپ ایسا نہیں کریں گیں۔ آہستہ سے ٹوکا۔
”کیوں.! کیوں نہیں کرونگا ایسا، تمھیں ایسی حالت میں دیکھ کر بھی تو پل پل مر رہا ہوں.! اچھا ہے ایک ہی بار جان نکل جائے۔ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سرد سپاٹ انداز میں بولا تو ازر کے لہجے میں درد صاف محسوس کیا تھا طوبیٰ نے۔
”آزر……… تڑپ گئی تھی۔
”کیا آزر ہاں.! کیا آزر.! جب دل کرتا ہے مرنے کے لیے تیار ہو جاتی ہو.! کبھی سوچا ہے کیا گزرتی ہے مجھ پر جب تم ایسے کہتی ہو جان نکل جاتی ہے میری‘ دل بند ہونے لگتا ہے٬ ایسا لگتا ہے مجھے سانس نہیں آرہا لیکن تمہیں تو بس مرنا ہے۔۔۔
”آزر……!
اور کیا کہہ رہی تھی دور رہوں.! بیوی ہو تم میری پورا حق حاصل ہے مجھے نہ صرف قریب آنے کا بلکہ تمھاری سانسوں سے روح تک سرایت کرنے کا حق ہے، اور آزر خان اپنا حق وصول کرنا اچھے سے جانتا ہے۔ کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑتے پہلی بار وہ اپنا حق ملکیت جتایا اسکی انگلیاں اسے دھنستی ہوئی محسوس ہوئی۔
آزر۔۔۔!! مجھے درد ہو رہا ہے۔
تمھیں درد ہوتا اور جو تم مجھے تکلیف پہنچاتی ہو اسکا سوچا ہے کبھی، اگر میں اپنے دردوں کا حساب لینے پر آگیا ناں جان.! تو تم اپنے باقی سارے غم بھول جاؤگی.! سخت گیر لہجے میں اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے گھمبیر انداز میں وارن کرتے جھک کر آہستہ سے اسکے لبوں کو چھوا اسکے اس عمل پر اسکا دل اتنی زور سے دھڑکا کے وہ سچ مچ کچھ لمحوں کے لیے اپنے سارے غم بھول گئی بدن کا سارا خون سمٹ کر اسکے چہرے پر آگیا سبکی و خفت سے پلکوں کے آرزے جھکا گئی۔
”ویسے تمھارے منہ میں زبان نہیں تھی، میرے سامنے تو فر فر چل رہی اسی ٹائم ان کو جواب کیوں نہیں دیا۔ اسکی حالت سے محظوظ ہوتے بات بدلی۔
میں نے بولنے کی کوشش کی تھی پر مامی نے سختی سے ڈانٹ کر چپ کروا دیا، آپ بھی نہیں تھے اس لیے دوبار بولنے کی ہمت نہیں ہوئی،اگر میں بولتی وہ تو سب کے سامنے مجھ پر ہاتھ اٹھانے سے بھی گریز نہ کرتی۔ منمناتے ہوئے وہ اپنا ڈر زبان پر لائی جبکہ نظریں اٹھانے سے گریز برتا۔
”اور اگر ابھی میرا ہاتھ اٹھ جاتا تو.؟
”نہیں اٹھتا.! مدھم آواز میں یقین تھا۔
اتنا بھروسہ ہے مجھ پر.؟ جان کر اچھا لگا تھا۔
آزر سچ میں، میں تو صرف آپ کے لیۓ تیار ہوئی تھی مجھے تو پتہ بھی نہیں تھا وہ لوگ آرہے ہیں، میں تو آپ کو سرپرائز دینے کے لیۓ تیار ہوئی تھی، اور مامی سمجھی میں ارحم کو دیکھانے کے لیے تیار ہوئی ہو.! اپنی صفائی پیش کرتے ایک مرتبہ پھر آنکھوں میں آنسوں اُمنڈ آئیں تو فوراً ہی اسے خود میں بینچ لیا جس پر ایک بار پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
“شششششش.! اب بالکل نہیں رونا. بالوں میں انگلیاں چلاتے پُرسکون کرنے کی کوشش کی۔
”ازر میں سچ کہہ۔۔۔۔۔!!!
شششششششش.! چپ…!! بہت روچکی ہو آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ایک دفعہ پھر بولنے کے لیے لب وا کیے تھے کہ آزر نے چپ رہنے کو کہا۔
”وہ شزہ.! کہہ رہی تھی میرے بچے بھی میری طرح اپاہج۔۔۔!!
”بس میں کہہ رہا ہوں ناں.! اب اور اس بارے میں سوچ سوچ کر خود ہلکان کرنے کی ضرورت نہیں، آج جو وہ کر کے گئیں ہیں اسکا جواب۔۔۔۔!
”آزر آپ شزہ سے شادی کر لیں مجھے کوئی اعتراض نہیں.! وہ اسے نرمی سے سمجھا رہا تھا کہ طوبیٰ بول پڑی۔
شٹ اپ.! اینڈ سٹوپ نانسنس.! میں جتنا خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں تم پھر کوئی نہ کوئی بات نکال لیتی ہوں۔ آزر کو اسکی بات بالکل پسند نہیں آئی تھی۔
”مجھ پر کیوں غصّہ کر رہے ہیں، آئزہ کی شادی میں تو سب اسے آپ کی وائف سمجھ رہے تھیں اس ٹائم تو آپ نے ان سب کو کچھ نہیں کہا ہوگا۔ آزر کے غصّہ کرنے پر طوبیٰ نے معصوم شکل بنا کر وضاحت کی اندر سے وہ بھی ازر کے غصے سے ڈر گئی تھی۔
”یہ تُمہیں کس نے کہا.؟ سرسری انداز میں پوچھا تھا۔
”آپ کی وائف نے.! منہ بنا کر بتاتے ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی جسے وہ چھپا گئی مگر آزر کی نظریں سے چھپ نہ سکی تبھی ازر نے گھورا تھا لیکن طوبیٰ کے چہرے پر سمائل دیکھ کر اس نے بھی سمائل کی تھی۔
”پاگل ہو تم پوری پاگل اور ایک نہ ایک دن مجھے بھی پاگل کر دوگی۔خود میں بینچ لیا
میرے سر میں درد ہو رہا ہے مجھے میڈیسن دے دیں۔الگ ہوتے ہوئے کہا۔
”میرے ہوتے دوا کی کیا ضرورت میں دبا دیتا ہوں.! اسے لیٹا کر اسکے سرہانے بیٹھا۔
”نہیں آپ مجھے مڈیسن دے دیں پلیز بہت درد ہو رہا ہے۔ دونوں ہاتھوں سر پر رکھ کر اصرار کیا۔
“ششششش.! آنکھیں اور منہ بند اگر میں نے اپنے طریقہ سے کیا تو یقیناً تمھیں پسند نہیں آئیگا۔ نرمی سے کہتے آخر میں تنبیہ کرتے طوبیٰ کے ہاتھ نیچے کیے تو وہ بھی فوراً سے آنکھیں موند گئی تو آزر سر میں آہستہ آہستہ سے دبانے لگا۔
اور کچھ ہی دیر میں وہ سو گئی۔
قدسیہ بیگم اچھا نہیں کیا آپ نے اسکا جواب آپ کو ضرور ملے گا اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے پر سوچ انداز میں بولا۔
”ارحم کمرے میں آیا تو آئزہ غصّہ میں یہاں سے وہاں جلے پیر کی بلی بننی چکر لگا رہی تھی۔
“کافی دیر کر دی آنے میں.! آئزہ نے شاکی نظرو سے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
”تمھیں کس نے کہا میرا انتظار کرو.؟ سپاٹ جواب دیتے ہوئے بیڈ پر لیٹ گیا تھا۔
”بیوی ہوں شادی کر کے لیکر ائے ہیں، بھاگ کر نہیں آئی.! اور نہ ہی بیچا ہے مجھے جو آپ ایسے بیہوو کرتے میرے ساتھ.! وہ بھی دو بدو ہوئی
آپ میرے ساتھ جو کرتے رہے میں یہ سوچ کر برداشت کرتی رہی کہ شاید آپ ابھی اس شادی کے لیے تیار نہیں تھے آپ کسی اور کو پسند کرتے تھے، کچھ وقت لگے گا لیکن میں غلط تھی۔ اسی انداز میں کہتے اسنے انکشاف کیا جس پر ارحم فورا سے اٹھ بیٹھا۔
”لیکن آج جو آپ نے آپی کے ساتھ کیا مجھے اُمید نہیں تھی آپ سے، اور تو اور نا آپ نے مامی کو روکا نا ہی شیزہ کو.! اور خود بھی ان کی زبان بولنے لگ گئے، آپ تو کہتے تھے کے آپی آپ کی بیسٹ فرینڈ ہے، آپ تو کبھی مجھے مذاق میں بھی کچھ نہیں کہنے دیتے تھے، اور آج آپ ہی آپی کے دل میں آزر بھائی کے لیے غلط فہمی ڈل کر آئے ہیں۔ کسی قسم کا لحاظ کے بغیر وہ آج سارے حساب برابر کرنا چاہ رہی تھی۔
”ہاں تو جو بھی کہا سچ ہی کہا، اگر وہ آزر اتنا ہی سچا ہوتا تو پورے حق سے بارات لے کر آتا، سب کے سامنے لے کر جاتا۔ نظریں چراتے آئے بائے شائے کرنے لگا۔
وہ ان کا پرسنل میٹر ہے ارحم.! آپ نے آپی کی حالت دیکھی نہیں تھی ہاسپیٹل میں، وہ ایسی کنڈیشن میں تھی کہ آزر بھائی بارات لیکر آتے۔ آئزہ نے سنجیدگی سے استفسار جس پر وہ لاجواب ہوگیا۔
”تمہیں کس نے کہا میں کسی اور کو پسند کرتا ہوں.؟ آئزہ کی بات کا جواب دینے کے بجائے بات بدلی۔
”آپی نے.! صاف گوئی کا مظاہرہ کیا۔
” یہ نہیں بتایا کس کو پسند کرتا ہوں.؟ حیرت سے دیکھتے اگلا سوال آیا.
”نہیں.! لیکن یہ بتایا تھا کہ وہ آپ کو پسند نہیں کرتی اور نہ ہی آپ سے شادی کرنا چاہتی ہے، میں نے آپی سے کہا تھا اگر وہ بھی آپ کو پسند کرتی ہے تو میں اس کے اور آپ کے درمیان نہیں آؤنگی، لیکن آپی نے کہا وہ آپ کو پسند نہیں کرتی اور نہ ہی مامی اسے پسند کرتی۔ آئزہ نے ساری بات بتا دی۔
”یہ سب جانتے ہوئے بھی تم نے مجھ سے شادی کیوں کی.؟ ارحم نے شاکی نظرو سے دیکھتے ہوئے ایک اور سوال کیا۔
”میں نے سوچا آپ کو تو آپ کی محبت نہیں ملی میں آپ کو اپنی محبت سے اس لڑکی کو بھولنے میں آپکی مدد کرونگی آپ کو اتنی محبت دونگی کہ آپ سب بھول جائیں گے، جانتی ہوں یک طرفہ محبت بہت درد دیتی ہے اور میں آپ کو اسی تکلیف سے بچانا چاہتی ہوں۔ نظریں جھکائے ہوئے کرب سے وضاحت کی۔
“تم نے اپنی آپی سے پوچھا نہیں مجھ میں ایسی کیا کمی تھی جو اس لڑکی کو میں پسند نہیں آیا ماما کا کیا تھا میں ماما کو منا لیتا۔ ارحم کے لہجے میں درد تھا جو آئزہ نے واضح طور پر محسوس کیا۔
”آپ کیسے مناتے، ایک بار آپ کو آپی سے اس لڑکی کے بارے میں بات کرتے ہوہے سن لیا تھا، اور آپ کے جانے کے بعد مامی نے آپی کو اتنی باتیں سنائی یہاں تک کے آپی کو مارا، اگر میں بیج میں نہیں آتی تو مامی نے اسی دن آپی کی جان لے لینی تھی۔ آئزہ کے اگلے انکشاف پر وہ متعجب ہوا
”اتنا سب ہو گیا اور کسی نے مجھے کچھ بتانا ضروری نہیں سمجھا۔ سپاٹ انداز شکوا کن تھا۔
”کیسے بتاتے مامی نے دھمکی دی تھی اگر آپ کو کچھ بتایا تو وہ مجھے بدنام کر دینگی سارے خاندان میں.! اسی کے انداز میں کہتے وہ بات ختم کرتی واک آؤٹ کر گئی۔
اور پر سوچ انداز میں اسے دیکھ کر رہ گیا۔
“اس کا مطلب ہے تم بھی مجھے چاہتی ہو.! مگر ماما کے ڈر سے اور اپنی بہن کی بدنامی کے ڈر نے تمھیں مجھ سے دور روہنے پر مجبور کیا۔ اسنے آئزہ کی باتوں سے اپنی مطلب کا مفہوم نکالا۔
”لیکن تم فکر نہیں کرو میں تمہیں یہاں سے بہت دور لے جاؤ گا جہاں نہ ماما ہونگی اور نہ وہ آزر.! صرف تم میں اور ہماری محبت۔ آئزہ سے سب جانے کے بعد بھی وہ اپنی ہی محبت کی گردان آلاپ رہا تھا۔
ایک نئی صبح کا سورج طلوع ہوا تھا
”طوبیٰ تم کچھ کھا نہیں رہی.؟ ڈائنگ ٹیبل پر موجود آزر نے موبائل ایک طرف رکھا۔
”میرا دل نہیں کر رہا آپ کھائیں.! بے تاثر جواب ملا۔
”تم نہیں کھا رہی تو پھر میں کیسے کھا لوں.؟اسکی اور نوالہ بڑھایا۔
میں سچ کہہ رہی ہوں آپ کھا لیں.؟ آپ نے اوفس جانا ہے۔ بے دلی سے انکار کیا۔
”آج تو میں کہی نہیں جا رہا آج کا سارا دن میری جان.! کے نام، ویسے بھی کل لیٹ ہو گیا تھا اس بات کا بھی تو ازالہ کرنا ہے۔اسکے چہرے پر نظریں مرکوز کئے انداز معنی خیز تھا۔
”اگر کچھ اور کھانا ہے تو بنوا لو بوا کو بلواؤں.؟ اسنے کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا تو آزر جاننا چاہا۔
”نہیں آزر.! مجھے نہیں کھانا کچھ بھی.! انداز اٹل تھا۔
”کیا بات ہے ابھی تک تم انہی باتوں کے بارے میں سوچ رہی ہو.؟ اسے یوں دیکھ آزر کو فکر ہوئی۔
”نہیں ایسی کوئی بات نہیں.! اس نے نفی کی۔
ایسا کچھ نہیں ہے تو پھر یہ آنسوں کیسے ہیں؟۔ آنکھوں سے آنسوں اپنی انگلی کے پوروں سے چنتے ہوئے سوال کیا۔
”وہ آنکھ میں کچھ چلا گیا ہے شاید.؟ فوراً سے اپنی آنکھیں صاف کی۔
”ادھر دیکھوں میری طرف۔ ٹھوڑی سے پکڑ اسکے چہرہ اپنی طرف کیا۔
جی.!
اگر تم ایسے ہی ان کی باتوں کو سیریس لو گی تو پھر کل اپنے ریسیپشن پر فریش کیسے لگو گی.؟ ازر کی بات سن کر طوبیٰ کی آنکھیں حیرت و ناسمجھی سے پھیلی تھی۔
مطلب.؟؟
”کل میں اسی لیے لیٹ ہو گیا تھا کیونکہ کہ میں اپنے ریسیپشن کی تیاریاں کر رہا تھا، میں نے سوچا تمہیں سرپرائز دونگا.! لیکن جب گھر پہنچا تو تم نے مجھے ہی سرپرائز کر دیا۔سادہ انداز میں لیٹ ہونے کی وجہ بتائی۔
“میرا ارادہ صرف تمھیں سرپرائز دینا تھا، پر اب یہ اور بھی ضروری ہوگیا ہے، ان کے لیے جو لوگ کل تمہارے دماغ میں الٹی سیدھی باتیں ڈل کر گئے ہیں، انھیں اب یہ بتانا ضروری ہوگیا ہے کہ تم اب وہ طوبیٰ نہیں رہی جسے وہ جب جی چاہے کچھ بھی کہہ دیں۔ آزر کے انداز میں بہت کچھ تھا۔ جس پر طوبیٰ ناسمجھی سے اس کی اور دیکھا۔
انھیں سبق سکھانے کے اور بھی بہت سے طریقے کار ہے مگر جو تکلیف انہیں تمھیں خوش دیکھ کر ہوگی اسکا کوئی مقابلہ نہیں ہوگا، اور مجھے یقین ہے کہ تم اس میں میرا ساتھ دونگی۔ آزر اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے تصدیق چاہی۔
”ہمم.!! وہ محض اتنا ہی کہہ پائی تھی آج پھر وہ خالی خالی محسوس کر رہی تھی۔
”طوبیٰ.! یہ کیا ہمم.! جی.! ہاں.! کر رہی ہو.! مجھے اپنی کل والی طوبیٰ چاہئے ہستی مسکراتی نخرے دیکھاتی ۔ اسکی ناک کو کھینچی۔
آزر ہم یہ ریسیپشن کچھ ٹائم کے لیے پوسپون نہیں کر سکتے.؟
“اگر تم یہ بات مجھے اپنی وجہ سے کہتی تو میں ضرور کر دیتا, لیکن تم خوامخواہ میں دوسرو کی باتوں کو دل پر لیکر اپنا موڈ خراب کر رہی ہو جو میں تمھیں کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دونگا،اور اب جلدی سے ناشتہ کرو آج ہمیں بہت سے کام ہیں پہلے شاپنگ پھر ۔…..!!! شروع میں سنجیدگی سے کہتے آخر میں بات ادھوری چھوڑی تھی۔
”پھر کیا.؟؟
”پھر سرپرائز ہے.! آزر کی جان کے لیے.! ذرا سا جھک کر سرگوشی نما بولا نظریں طوبیٰ کے چہرے پر تھی۔ آزر کی جان کہنے پر اسکی جھکی پلکیں اٹھی تھی اور دل زور سے دھڑکا مگر بولی کچھ نہیں۔
”رات سے کچھ نہیں کھایا تم نے، اچھا چلو پھر آج میں تمہارے لیے کچھ بناتا ہو پھر تو کھاؤ گی ناں.؟ اپنی جگہ سے اٹھ کر طوبیٰ کو اپنی بانہوں میں اٹھا لیا۔
آپ نے مجھے کیوں اٹھا لیا مجھے تو نیچے اتارے.! وہ روہانسی ہوئی۔
”ریلکس جان.! ابھی ہم کچن میں جا رہے ہیں، بیڈ روم میں نہیں، کان میں سرگوشی کی وہ کہاں دیکھ سکتا تھا طوبیٰ کو یوں گم صم۔
“پلیز کوئی دیکھ لے گا آپ مجھے تو نیچے اتارے.؟ وہ رو دینے کو ہوئی تب آزر نے سلیپ پر بیٹھایا۔
یہ لو اتر دیا.! بیٹھاتے اسکی ناک سے اپنی رب کی۔
”اب بتاو کیا کھاو گی.؟ ایپرن پہنتے ہوئے جاننا چاہا۔ مگر وہ تو بس اسے دیکھ کر رہ گئی تھی۔
”تم تو کچھ بولو گی نہیں.؟ میں ہی دیکھتا ہوں کیا کرنا ہے۔کیبنٹ سے مطلوبہ باکسز نکال کر شیلف پر رکھیں ساتھ ہی فریج سے انڈے دودھ بھی نکالا وہ تو بس اسے کام کرتا ہوا دیکھ رہی تھی بلو جینز کے ساتھ وائٹ شرٹ میں وہ کافی ہینڈسم لگ رہا تھا۔
”اب کیا نظر لگانے کا ارادہ ہے جانم.! ایک باؤل میں میدہ میں چینی نمک اور انڈہ توڑ کر شامل کرتے اس کی جانب دیکھا جو فوراً سے نظریں پھیر گئی جیسے چوری پکڑی گئی ہو۔
”میں بھلا کیوں نظر لگاؤ گی۔ روکھائی سے بولی۔
”ہاں یہ بھی ہے.! آزر کی جان اپنے آزر کو کیوں نظر لگائے گی، وہ تو اپنے آزر سے محبت کرتی ہے، محبت کرنے والوں کی نظر نہیں لگا کرتی۔ اسکے چہرے پر نظریں جمائے کہتے ہوئے اسکے چہرے پر آئی لٹ کو کان کے پیچھے اڑیسا جبکہ اسکی بات پر وہ جھنپ گئی۔
”یہ کیا کہہ رہے ہیں، آپ ایسا کچھ نہیں ہے آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔ وہ صاف مکر گئی تو وہ اپنے کام میں لگا۔
”تو پھر کیسا ہے تم خود بتا دو.؟ دودھ کے ساتھ بیٹر بناتے ہوئے استفسار کیا نگاہیں بنوز اسی پر تھی۔ جس پر ہاتھ سے بیٹر چھوٹا اور بیٹر جسے اڑ کر کچھ آمیزہ طوبیٰ کے گال تک گیا۔
”دھیان.؟ مجھ سے ہٹا کر بیٹر بنانے پر دینگے تو ممکن ہے کہ آپ جو بنانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ بن جائے۔ طنزیہ انداز دھیان دلاتے پاس رکھے نیپکن سے اپنے چہرہ صاف کرنے لگی۔
ایک منٹ مجھے میٹھا چیک کر لینے دو.؟ اسکا ہاتھ پکڑ کر روکتے نظریں گال سے بہہ کر ہونٹوں تک آتے آمیزے پر مرکوز تھی اسکی نظروں کا ارتکاز بھانپتے فوراً سے پیشتر زبان سے اپنے ہونٹ صاف کرتی دانتوں تلے دبا کر آنکھیں میچ گئی اسکی اس حرکت پر آزر کو ٹوٹ کر پیار آیا اور جھک کر نرمی سے اسکے ہونٹوں کے کنارے کو ایسے چھوا جیسے وہ کوئی موم کی گڑیا ہے جو ذرا سی ٹھیس لگنے پڑ ٹوٹ کر بکھر جائیگی اس عمل پر اسکے گال دھک اٹھے۔
ویسے میٹھا تھوڑا زیادہ نہیں ہوگیا.؟ شرم و خفت سے سرخ پڑتی طوبیٰ کے چہرے کو دیکھتے معنیٰ خیزی سے سوال کیا تو اسنے سینے پر ہاتھ رکھ کر فاصلہ بنانے کی کوشش کی۔
ہم روم میں نہیں کچن میں ہیں آزر..؟ نظریں ملانے سے کتراتے اسنے یاد دلانے کی کوشش کی۔
”مطلب روم میں یہ سب کرنے کی اجازت ہے. آنکھوں میں شریر سی چمک لیے جاننا چاہا تو اسکی جھکی پلکیں یک دم اٹھی۔
”نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا۔ فوراً سے انکار کیا تو آزر مسکرا کر نفی میں سر ہلاتے واپس اپنے کام میں لگ گیا۔
”یہ کیا ہے.؟ ارحم کو ملازمہ نے ایمبلپ لا کر دیا جسے تھامتے الت پلٹ کر دیکھنے لگا۔
”یہ تو کسی کی شادی کا کارڈ لگ رہا ہے، مسٹر اینڈ مسسز آزر خان.! کارڈ کھول کر دیکھتے وہ نام دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔
”ایسا کیا ہے جو آپ اتنے غور سے دیکھ رہے ہیں.؟ آئزہ نے ارحم کے سامنے چائے رکھتے ہوئے پوچھا
“مسٹر اینڈ مسسز آزر خان کے ریسیپشن کا انویٹیشن.! کل ہم سب انواٹیڈ ہیں۔ ارحم بے تاثر انداز میں بتایا وہ جو سوچ رہا تھا سب اسکے الٹ ہونے جا رہا تھا۔
”دیکھائے مجھے.؟ آئزہ نے ارحم کے ہاتھ سے ایمبلپ لیا۔
دیکھا میں نے کہا تھا ناں.! آزر بھائی ایسے نہیں جیسا آپ سمجھ رہے تھے، وہ آپی سے سچی محبت کرتے ہیں کوئی ٹائم پاس نہیں کر رہے۔ انویٹیشن دیکھتے ہوئے خوشی سے نہال ہوئی۔
”کیا باتیں ہو رہی ہیں.؟ قدسیہ بیگم ڈائنگ ٹیبل پر آکر بیٹھی ساتھ ہی شیزہ بھی آگئی تھی۔
”انویٹیشن آیا ہے کل ریسیپشن ہے آپی کا اور ہم سب کو انوائیٹ کیا ہے۔ بتاتے ہوئے چہرے پر خوشی نمایاں تھی۔
آئزہ کی بات سن کر شیزہ سلگ گئی تھی
”اس اپاہج کا ریسیپشن.! مطلب فل ٹائم انٹرٹینمنٹ مزہ آئیگا۔ قدسیہ بیگم استہزاء انداز میں گویا ہوئی۔
”مامی.! پلیز کل کوئی تماشا کریئٹ مت کیجئے گا میں یہ ہرگز برداشت نہیں کرونگی یا تو پھر بہتر یہی ہوگا کہ آپ گھر ہی رہے آپ کا جانا ضروری نہیں۔ آئزہ نے تیز لہجے میں تنبیہ کی۔
آئزہ…….. تم کس طرح بات کر رہی ہوں ماما سے.! ارحم کو آئزہ کا یہ لہجہ ناگوار گزرا۔
”جیسا یہ ڈیزور کرتی ہیں..! اور شزہ تم بھی اپنی حد میں رہنا ابھی میں سمجھا رہی ہوں سمجھ جاؤ.!اگر آزر بھائی نے کچھ کیا پھر مجھے نہ کہنا کے بتایا نہیں.! بنا کسی لحاظ کے وہ اپنی بھڑاس نکال گئی جس پر قدسیہ بیگم اور شزہ دم بخود دیکھ کر رہ گئی تھی۔
آئزہ..! تم ہوش میں تو ہو کیسے بات کر رہی ہوں.؟ ارحم نے آئزہ کا بازو دبوچتے اسکا رخ اپنی جانب کیا۔