قسط: 26
”ازر کے بجتے فون نے اسکا دھیان اپنی طرف کیا تھا موبائل کی سکرین پر چمکتا ہوا نام دیکھ کر آزر کے ماتھے پر بل پڑیں فورا سے کال کٹ کی تھی۔
”کیا بات ہے آپ پریشان لگ رہے ہیں.؟ وہ جو ڈوبتے سورج میں کھوئی تھی آزر کو پریشان دیکھ اسے بھی فکر ہوئی۔
”ہاں جان ایک بات مجھے پریشان کر رہی ہے.! طوبیٰ کو اپنے لیے فکرمند ہوتا دیکھ ازر نے معصوم شکل بنا کر کہا جبکہ آنکھوں میں شرارت رقصاں تھی۔
”کیا ہوا.؟ ازر کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا
جان اگر تمہیں بتا دیا تو پھر تم پریشان ہو جاؤ گی اور میں یہ نہیں چاہتا۔ اپنی ہنسی چھپاتے لب دانتوں تلے دبائے۔
بولیں ناں.! کیا میں اس قابل بھی نہیں کے آپ اپنی پریشانی شئر کر سکیں.؟ خود ترسی کا شکار ہوئی۔
”جان ایسی بات نہیں، بلکہ تمہی مجھے اس پریشانی سے نکال سکتی ہو۔ازر نے طوبیٰ کے ہاتھ پر دباؤ بڑھاتے یقین دہانی کروائی
”جان.! وہ اصل میں بات یہ ہے کہ ایک حسینہ پر دل آگیا ہے مگر۔۔!!
”مگر کیا.؟؟ آزر کی بات سن اسکی دل کی دھڑکن تھم سی گئی تھی۔
مگر اسے میری محبت نظر ہی نہیں آتی میں جتنا اسکے قریب جانے کی کوشش کرتا وہ اتنا ہی مجھ دور جانے کی کوشش کرتی مگر اب یہ دوری ناگزیر ہوگئی ہے جاناں.! سنجیدگی سے کہتے ہوئے آخر شریر سے مسکراہٹ لیے اسے پکارا تو اسکی رکی ہوئی دھڑکن بحال ہوئی تھی۔
آپ بہت برے ہیں.؟ نروٹھے لہجے میں کہا۔
ازر کا بے ساختہ قہقہہ گونجا تھا
طوبیٰ نے ازر کو یوں کھل کر ہنستے پہلی مرتبہ دیکھا کتنا ہینڈسم لگا رہا تھا ماتھے پر بکھرے بال کالی گہری آنکھیں چہرے پر ہلکی سی بریڈ وہ کسی بھی لڑکی کے کو اپنا دیوانہ بنا سکتا۔
“جان.! اگر ایسے ہی مجھے دیکھتی رہو گی تو تمہیں بھی محبت ہو جائیگی۔ شوخی سے بولا تو طوبیٰ فوراً سے نظروں کا زاویہ بدل گئی جیسے چوری پکڑی گئی ہو چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی جسے وہ فورا چھپائی گئی دل تو جیسے اسکی ہتھیلیوں میں دھڑکنے لگا تھا
“جان ایک منٹ میں ابھی آیا.؟ وہ اٹھ کر کہی گیا تھا
Happy birthday My Love.
May you always be happy.
All your sorrows are mine.
All my happiness is yours.
Thank you for coming into my life.
”پیچھے سے ٹیبل پر کیک رکھتے کان کے پاس سرگوشی نما بولا طوبیٰ جو پہلے کیک دیکھ کر چونکی تھی اسکے الفاظ پر ساکت رہ گئی دل جیسے دھڑکنا بھول گیا تھا۔
”کیا.؟ آج میری برتھڈے.؟ لیکن آپ کو کیسے پتہ چلا بے۔؟ بے یقینی سے ایک ساتھ کئی سوال کرتے کیک کو دیکھتے پھر اسے دیکھا آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
“بالکل ویسے ہی جیسے یہ پتہ چلا کہ تمھیں سمندر کے کنارے بیٹھ کر سن سیٹ دیکھنے کا شوق ہے،اور یہ کیا تمھیں اپنا برتھڈے یاد نہیں، تو پھر میرا کیسے یاد رکھوں گی.؟ اسکے آنکھوں میں آئی نمی کو اپنے پوروں سے چنتے سنسنی پھیلتے آخر میں اداسی سے سوال کیا۔
”نہیں ایسی بات نہیں، مجھے تو ہمیشہ سے لائبہ آئزہ کی برتھڈے یاد رہی ہے، پر میری۔۔۔؟؟؟
اب پلیز رونا مت تم جانتی ہو میں تمھاری آنکھوں میں آنسوں نہیں دیکھ سکتا آج سے پہلے جو ہونا تھا ہو گیا اب نو مور ٹیئرز بیکوس آئی ہیٹ ٹیئرز پشپاں۔ اسکی بات مکمل ہونے سے قبل آزر نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیے انگوٹھوں سے اسکے آنسوں صاف کرتے شوخی سے کہتے اسکے ناک سے اپنی ناک رب کرتے محبت سے ماتھے پر لب رکھیں۔
“اب کیک کٹ کریں.؟ الگ ہوتے دھیان دلایا۔
”ہمم.! اثبات میں سر ہلایا اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ کسی کہ لیے اتنی اہم بن گئی تھی۔
آزر نے طوبیٰ کو دیکھتے ہوۓ کینڈل جلائی اور پھر اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے کیک کٹ کیا۔ایک پیس اٹھا کر وش کرتے ہوئے کھلایا تھا اور تھوڑا سا اس کے چہرے پر لگایا تو وہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔
”جان.! مجھے بھی کھلا دو.؟ آزر منہ کھول کر کیک کی جانب اشارہ کیا۔
تو آپ کے سامنے رکھا ہے کھا لیں.! سرسری انداز میں کہتے اپنی ہنسی چھپائی تو ازر نے خفگی آنکھیں گھمائی طوبیٰ نے ایک چھوٹا پیس اٹھا کر ازر کے منہ کے سامنے کیا تھا۔
یہ نہیں، یہاں سے.! اسکے چہرے پر لگے کریم کی طرف توجہ دلائی تو شرم سے سرخ پلکوں کی جھالر گرا دی۔
”اگر اجازت ہو تو میں کھا لوں.؟ ٹھوڑی سے پکڑ اسکا چہرہ اوپر کرتے اجازت چاہی چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی حیا کے رنگ بکھرے آزر جھک کر دھیرے لبوں سے اسکے گال کو اپنے لمس سے مہکایا۔
”گھر چلیں.؟ اسکے لمس پر مشتعل ہوتی دھڑکن کے نظریں چرائی۔
”گھر.! ابھی تو آئیں ہیں، اتنی بھی کیا جلدی ہے۔ گھمبیر انداز میں گویا ہوا لہروں کا شور اس پر آزر کی لو دیتی نظریں طوبیٰ کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کہی چھپ جائے۔
ایسے ہی ہلکی پھلکی باتیں کرتے دونوں نے کھانا کھایا تھا۔
رات کا اندھیرا چھا گیا تھا پورے چاند کی روشنی لہرو کا شور اور ہولے ہولے سے چھو کر گزرتی ٹھنڈی ہوا ماحول کو خوشگوار بنا رہا تھا
اپنی جگہ سے اٹھ طوبیٰ کے سامنے آکر ہاتھ بڑھایا تو طوبیٰ نے کچھ سانیہ ناسمجھی سے دیکھتے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ میں دیا جسے کھینچ کر آزر نے اسے اپنے سامنے کھڑا کیا اس غیر متوقع عمل پر وہ چونکی،قدم لڑکھڑائیں تو آزر نے کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنی گرفت مضبوط کی ابھی وہ پہلے عمل پر تعجب زدہ تھی کہ آزر نے اسکے بالوں کو جوڑے سے آزاد کی تو وہ آبشار کی مانند اسکی کمر پر پھیلا گئیں۔
”ی.. یہ کیا کر رہے ہیں.؟ وہ گھبراتے ہوئے نظریں جھکائی
ابھی تو میں نے کچھ نہیں کیا جان.! لیکن آگے بہت کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اگر تم اجازت دو.؟ بال کان کے پیچھے اڑیستے ہوئے معنیٰ خیز انداز میں اپنے ارادے ظاہر کئے تو اسکی بات کا مفہوم سمجھتے طوبیٰ کو لگا جیسے دل اسکی مٹھیوں میں دھڑکنے لگا ہے فوراً سے اسکے سینے پر سر رکھ دیا۔
مجھے ڈر لگ رہا ہے.! پوری طرح لرزتے ہوئے بمشکل بول پائی
”بس ایک مرتبہ بھروسہ کر کے دیکھو جان.! وعدہ ہے میرا تمھارے سارے ڈر سارے خدشات دور کر کے تمھیں اپنی پناہوں چھپا لونگا۔ اسی انداز میں یقین دہانی کروائی تو طوبیٰ نے سر اٹھا کر اسکی اور دیکھا جہاں اسے صرف سچائی نظر آئی ہلکے سے سر کو جنبش دیتے اثبات میں سر ہلایا تو اسکے اقرار پر آزر کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ نمودار ہوئی ساتھ ہی پھولوں کی بارش شروع ہوئی جس پر طوبیٰ کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔
یہ سب کیا ہے۔؟ دونوں ہتھیلیاں پھیلا کر گلاب کی پتیوں کو اپنے ہاتھوں پر گرتا ہوا دیکھ اسکے چہرے پر قوس و قزح کے رنگ بکھر گئیں تھیں۔
“تم سے کہا تھا نا میں اپنی شب زفاف کو بہت خاص بناؤ گا بس چھوٹی سی کوشش ہے۔ ذر سا جھک کر گھمبیر انداز کہتے ایک ہاتھ سے اسے تھامے دوسرے ہاتھ سے ایک جانب اشارہ کیا جہاں دیے روشن ہوتے راستہ بناتے لکڑی کے کاٹج تک گیئں۔ آزر کی بات سن اسکے گال شرم و حیا سے دھک اٹھے تھیں۔
تو پھر چلیں.؟ کان کے پاس سرگوشی نما پوچھتے آزر نے طوبیٰ کو گود میں اٹھایا تو وہ بھی پورے استحقاق سے اسکی گردن کے گرد بازوں حائل کر گئی۔ گلاب کے پھولوں سے سجے راستے پر چلتے ہوئے دیوں کے درمیان لکڑی کے بننے کاٹج میں لایا جو پورا بہت خوبصورتی سے سجا ہوا تھا۔ پھولو کی مہک پورے کاٹج کو مہکا رہی تھی کینڈل کی مدھم سی روشنی پورے کاٹج میں پھلی ہوئی تھی ازر نے کاٹج میں آتے اپنے پاؤں سے دروازا بند کیا تھا۔
“بالکونی میں جلے پیر کی بلی بننی یہاں سے وہاں چکر لگاتی جب سے آئی تھی آزر کے گھر پر نظر رکھے اسکی واپسی کی راہ دیکھ رہی تھی۔
”کہاں ہو آزر.! کب تک مجھ سے دور بھاگو گے کب تک میری کالز اگنور کرو گے، اب میں واپس آگئی ہوں صرف تمھارے لیے، اب تمہیں میرا ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا اب تو میں نے اپنے بابا کو بھی منا لیا ہے۔ دل زیرے لب بڑبڑاتے نظریں آزر کے گھر پر تھی۔
تُمہیں میں اپنی محبت سے اپنا بنا لو گی.؟تمہیں میرا ہونا ہوگا. وہ خود سے سوچتی کمرے میں آئی۔
“تمہیں اپنے بابا کی آخری خواہش پوری کرنے کی خاطر ہی سہی پر میری محبت کو اپنانا ہی ہوگا، میری غلطی کی اتنی بڑی سزا نہیں مل سکتی مجھے۔ وہ اپنی آنکھوں میں ازر کی تصویر لئے کہہ رہی تھی۔
”آج خان مینشن میں بہت گہما گہمی تھی۔
وہ صبح ہی گھر لوٹے حسبِ معمول اسے گود میں اٹھائے گھر داخل ہوا مگر اپنے کمرے لیجانے کے بجائے گیسٹ روم میں لایا تھا۔
”یہ آپ مجھے یہاں کیوں لے آئیں.؟ اپنے کمرے کے بجائے دوسرے کمرے میں داخل ہوتے دیکھ متعجب ہوئی۔
”تاکہ میں اپنی دلہن کیلے سیج سجا سکوں.! جو کمی پہلے دن رہ گئی تھی اسے پورا کر سکوں.! موقع کی مناسبت سے تو آج ہماری گولڈن نائٹ ہوگی۔ صوفے پر بیٹھاتے شرارت سے آنکھ دبائی۔
لیکن وہ تو۔۔۔!! وہ جو اسنے کچھ کہنے کے کو لب کھولے ہی تھے کہ رات اسکی گستاخیاں یاد آنے پر زبان دانتوں تلے دباتی آنکھیں میچ گئی الفاظ بیچ میں ہی رہ گئیں۔
”وہ تو کیا جانم.؟ اسکے پہلو میں بیٹھتے جان کر انجان بنا جبکہ آنکھوں میں شرارت رقصاں تھی۔
”آپ بہت برے ہیں، مجھے آپ سے بات نہیں کرنی.! نروٹھے پن سے کہتے اسکے کندھے پر مکا مارا تو وہ بھی ہنس دیا۔
”سوچ لو جان.! اگر تم بات نہیں کرو گی تو پھر میرے پاس کرنے کو بہت کچھ ہوگا، جو تمھارے لیے برداشت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اسکا ہاتھ پکڑ جھٹکے سے اپنے قریب کرتے اسکے چہرے پر آئی لٹ کو کان کے پیچھے اڑیستے گھمبیر انداز معنی خیز تھا اسے قبل کے وہ پیش قدمی کرتا اسکا موبائل گنگنایا تو آزر کے منہ کے زاویے بدلے جبکہ طوبیٰ کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ ابھری۔
ایک تو اسکی بے وقت کال کرنے کی عادت جائیگی نہیں.! موبائل پر وہاج کالنگ دیکھ نفی میں سر ہلاتے کال کٹ کرتے دوبارہ طوبیٰ کی جانب متوجہ ہوا۔
”ہاں تو ہم کہاں تھیں جانم.؟ اسکی گردن کے گرد بازوں پھیلا کر کہنی کو فولڈ کرتے اسے اپنے قریب کیا۔
آزر.! کیا کر رہے ہیں کوئی آجائیں گا۔؟ اسے پٹری سے اترتا دیکھ سینے پر ہاتھ رکھ کر فاصلہ بنانے کی کوشش کی۔
کیا تم نہیں جانتی میں کیا کر رہا ہوں۔ اسکے چہرے پر انگلی پھیرتے۔ پر تپش نظروں سے دیکھتے جھکا اسے قبل کے دونوں کی سانسوں کی ڈور اُلجھتی دروازے پر دستک ہوئی جس پر وہ سخت بد مزہ ہوا دوسری جانب وہ طوبیٰ کی کھلکھلاتی ہوئی ہنسی گونجی تو آزر کی نظریں ٹھہر گئی تھی۔
آجائیں.! اسکو یوں دیکھ طوبیٰ اسکے گال پر لب رکھتے فوراً سے دور ہوتی اجازت دی آزر تو اسکی اس حرکت پر ششدر رہ گیا تھا۔
“بیٹا.! وہاج صاحب.! اور ان کی وائف آئی ہیں.! اجازت ملتے ہی بوا نے آکر اطلاع دی آزر کی نظریں تو اب تک طوبیٰ پر تھی جو اسے نظریں ملانے سے گریزاں تھی۔
”بوا.! کتنی بار کہا ہے میں بھی آزر کی طرح آپ کا بیٹا ہوں.!بوا کے پیچھے ہی وہاج بھی کمرے داخل ہوا تھا۔
”جی بیٹا.! بوا پیار سے وہاج کے کندھے پر ہاتھ رکھتی باہر نکلی تھی۔
آزر نے فورا سے اٹھ کر آگے بڑھا
”کسی کمرے میں داخل ہونے پہلے اجازت لینی چاہیے،ذرا مینرز نہیں ہیں اب شادی ہو گئی ہے میری.! آزر نے وہاج سے بغلگیر ہوتے کندھے پر مکا مارا
”اچھا.! مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کب کی شادی اور مجھے بتایا تک نہیں.! وہاج بھی کہا پیچھے رہنے والا تھا
اگر آپ لوگوں کا ملاپ ہو گیا ہے تو پھر میں اپنی آپی سے مل سکتی ہوں۔ لائبہ ان دونو کے بیچ آئی
اسلام علیکم ازر بھائی.! آزر کو سلام کیا اور پھر طوبیٰ کی طرف بڑھی تھی
اسلام علیکم آپی کیسی ہیں آپ.؟ طوبیٰ کو گلے لگا خیریت دریافت کی
میں ٹھیک، تم سناؤں.؟
میں آپ کے سامنے ہوں دیکھ لیں،
”میری بہن کیسی ہے آزر تنگ تو نہیں کرتا.؟ وہاج نے آگے بڑھ کر طوبیٰ کے سر پر ہاتھ رکھا۔ تو طوبیٰ نے آزر کی طرف دیکھا اور پھر مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلا دیا۔
اگر یہ وہاج تُمہیں تنگ کرے، تو مجھے بتانا۔ اسی انداز میں آزر نے لائبہ سے کہتے ہوئے وہاج کو دیکھ کر آئی برو اچکائی۔
آپ لوگ کھڑے کیوں ہیں بیٹھیں۔ میں بوا سے کہتی ہو آپ سب کے لیۓ چائے ناشتہ لیکر آئیں.! طوبیٰ نے سب کو بیٹھنے کا کہا۔
جی نہیں جان جی.! آج آپ صرف اپنا خیال رکھیں یہ وہاج یہاں پہلی بار نہیں آیا جو اسکی خاطر داری کی جائے اور لائبہ کے بھائی کا گھر ہے اسے جو چاہئے ہوگا وہ خود لے لے گی، لائبہ تم آج اپنی آپی کی طرف سے نہیں میری طرف سے آئی ہو اس لیے یہ تمھاری ذمےداری ہے کہ تم طوبیٰ کو اپنی نگرانی میں تیار کرواؤ گی۔ طوبیٰ کو فوری ٹوکتے لائبہ تاکید کرتے ہوئے ہدایت دی۔طوبیٰ آزر کو گھور کر رہ گئی تھی۔
“اچھا جان.! میں باہر کی تیاریاں دیکھ لوں اس وہاج پر مجھے بالکل بھروسہ نہیں.! اسکی گھوری کو سرے سے نظر انداز کرتے ازر نے آگے بڑھ کر اسکے ماتھے پر لب رکھیں اسکی اس بے باکی پر وہ جھنپ گئی تھی۔
مہندی والی آگئی ہے۔ بوا نے آکر اطلاع دی۔
مجھے مہندی نہیں لگانی.! طوبیٰ نے معصوم شکل بنائی۔
”لائبہ میں اپنی جان تمھارے حوالے کر رہا ہوں.! مجھے امید ہے تم اپنے بھائی کو مایوس نہیں کرونگی، آج تم نے اپنی آپی کی کوئی بات نہیں سننی۔ آزر نے لائبہ کو تاکید اور کمرے سے نکل گیا پیچھے طوبیٰ منہ بنا کر رہ گئی تھی۔
”وہ جو رات گئے تک آزر کی واپسی راہ دیکھتی کافی دیر سے سوئی تھی صبح آنکھ کھلتے ہی آزر کو دیکھنے بالکونی پر آئی اور سامنے کا منظر دیکھ ششدر رہ گئی آزر کسی لڑکی کو بانہوں میں اٹھائے گھر کے اندر داخل ہوا یہ منظر دیکھ دو آنسوں ٹوٹ کر اسکے گال پر پھسل گئیں تھیں۔
کتنی دیر تک یونہی کھڑے رہنے کے بعد ہاتھ کی پشت سے رگڑ کر آنسوں صاف کرتی، وہ واپس کمرے میں آئی ہار ماننے والی وہ بھی نہیں تھی، کئی سوال تھیں جو ذہن میں آرہے تھے جن کے جواب آزر سے لینے کا سوچ وہ کبرڈ سے اپنے کپڑے نکال واشروم میں بند ہوئی ارادہ آزر سے روبرو بات کرنے کا تھا.
کچھ ہی دیر میں وہ تیار ہوکر گھر سے نکلی تھی کہ آزر وہاج کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ زن سے اسکے سامنے سے گزر گیا اور وہ دیکھ کر رہ گئی۔