ادھورے خواب

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 28

“صبح آزر کی آنکھ کھلی تو طوبیٰ کو اپنی قریب نہ پا کر متلاشی نظروں سے اسے ارد گرد ڈھونڈنا چاہا تو ازر کی نظر طوبیٰ پر گئی جو نماز پڑھ رہی تھی سلام پھیر کر طوبیٰ نے ہاتھ دعا کے لیۓ اٹھائیں تھیں۔
”ازر کی نظریں طوبیٰ پر ٹھہر گئی تھی آزر اٹھ کر بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھتے نظروں کا محور طوبیٰ کا معصوم چہرہ تھی جسے دیکھ دلفریب سی مسکراہٹ آئی تھی ازر کے چہرے پر۔
”کیا مانگ رہی ہو جان.؟ ازر نے پیار لوٹاتی نظرو سے سوال کیا۔ہاتھ منہ پر پھیر کر ایک نظر ازر کو دیکھا جو یک ٹکی باندھے اسی کو دیکھنے میں مصروف طوبیٰ نے ہلکی سی سمائل پاس کی تھی۔
ازر اٹھ کر طوبیٰ کے پاس آیا تھا اور اسے اپنی بانہوں میں بھر کر بیڈ پر لایا تھا۔
مجھے اپنا بنا کر اب کیا مانگ رہی تھی۔ ازر نے طیبہ کے گال پر اپنا لمس چھوڑتے ہوئے سوال دہرایا۔
اللہ کا شکر ادا کر رہی تھی اللہ نے مجھے آپ کے جیسا ہمسفر دیا۔ طوبیٰ نے نظریں جھکا کر مدھم آواز میں جواب دیا۔
“پھر تو مجھے بھی اللّٰہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اللّٰہ پاک نے مجھے اتنی پیاری شریک حیات دی جسے پا کر میں مکمل ہو گیا۔ اسے کے چہرے پر نگاہیں جمائے انداز استفہامیہ تھا جس پر طوبیٰ نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ بھی اٹھ کر واشروم چلا گیا۔
کچھ ہی دیر میں فریش ہو کر آزر نے بھی نماز پڑھ کر اپنے رب کا شکر ادا کیا۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛
”آزر نماز پڑھ کر فارغ ہوا تو طوبیٰ کو کمرے میں نہ پا کر لان میں آگیا جہاں وہ جھولے پر بیٹھی ہولے ہولے سے جھولا جھول رہی تھی صبح کی تازہ ہوا کے جھونکے اسکے کھلے بالوں سے اٹھکیلیاں کر رہے تھے آزر پلر کے سات ٹیک لگائے دونوں بازوں سینے پر باندھے محوت دیکھ کر رہ گیا
ایسے کیا دیکھ رہے ہیں۔۔؟؟ وہ جو اپنے خیالوں میں کھوئی تھی آزر کو دیکھ آئی برو اچکا کر جاننا چاہا تو نفی میں سر ہلاتے متواتر رفتار سے چلتے اسکے پہلو میں آکر بیٹھا۔
تم باہر کیوں آگئی.؟ اسکے سوال کا جواب دینے کے بجائے الٹا سوال کیا۔
آج موسم کتنا اچھا ہے ناں.؟ ایسا لگ رہا ہے جیسے بہار آگئی ہو.! بازو کے گرد بازو لپیٹتے اسکے کندھے پر سر رکھا
میری زندگی میں تو بہار اسی دن آگئی تھی جس دن تم میری زندگی میں آئی۔ لاڈ سے کہتے آزر نے اسکی ناک کھینچی تو طوبیٰ فوری اسکی ہاتھ پر چت لگائی۔
او ہم۔۔!! کیا کرتے ہیں.؟ سر اٹھا کر خفگی سے اسے دیکھا۔
تمھیں ستانے میں مزہ آتا ہے۔ ایک مرتبہ پھر ناک کھینچی۔
”اچھا جی.! ذرا پھر مجھے بھی ٹرائی کرنے دیں۔ طوبیٰ نے آزر کی ناک زور سے کھینچنے کے ساتھ ہی گال کھنچتے اسکے بال بھی خراب کئیں۔
آہہہ۔۔!! میں نے صرف ناک کھنچی تھی تم نے گال کیوں کھینچے.؟ اغیر متوقع عمل پر تعجب سے دیکھتے آزر نے اپنی گال مسلتے دہائی دی جس پر طوبیٰ کھلکھلا کر ہنس دی اسے ہنستا ہوا دیکھ آزر کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی۔
اب آپ اور یہ گھر سب میرا ہے، میر جو جی چاہے۔۔۔۔!! استحقاق سے کہتے ایک بار پھر ناک کھنچنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا ہی تھا کہ کچھ یاد آنے پر ہاتھ اور الفاظ بیچ میں ہی رہ گئیں اور چہرے پر بکھرے رنگ مدہم پڑے۔
رک کیوں گئی اپنی بات مکمل کرو.؟ اسکا اٹھا ہوا ہاتھ تھام کر اپنے قریب کیا۔
”ازر آپ مجھے چھوڑیں گے تو نہیں.؟ مجھ پر یقین ہے ناں آپ کو.؟ رات سے ارحم کی متنبہ کرتی نظریں کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی پریشان کر رہی تبھی دل میں پنپتا خدشہ زبان پر آیا تھا۔
اس سوال گنجائش باقی ہے.؟ آزر اس غیر متوقع سوال پر متعجب ہوا
نہیں.! لیکن اگر ایک بار آپ کہہ دینگے تو شاید میرا دل مطمئن ہو جائے، جو ہر وقت آپ کھو دینے کے خوف سے لرز تا ہے۔ نظریں جھکائے مدھم آواز میں بولتے اسکی آواز میں اسکا دڑ واضع طور پر محسوس ہو رہا تھا۔
اگر میرے کہنے سے تمھیں سکون ملتا ہے تو پھر سنو جب تک آزر خان کی زندگی ہے وہ صرف اپنی طوبیٰ کا ہے اسے تم سے کوئی نہیں چھین سکتا، اور جہاں تک بات اعتبار کی ہے، میں تمھیں تم سے بہتر جانتا ہوں، ایسے ہی آزر خان نے کسی کو اپنی زندگی نہیں بنا لیا۔ اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیتے آزر متانت سے کہتے اسے اندر تک پر سکون کر گیا۔
”اگر اب بھی کوئی خدشہ باقی ہے تو تمھاری تسلی کے لیے میں لکھ کر بھی دے سکتا ہوں.! مگر تمھیں پریشان نہیں دیکھ سکتا۔ اسی طرح مزید گویا ہوا تو طوبیٰ کی جھکی ہوئی پلکیں اٹھی اور نظریں آزر کی نظروں سے ملی تھی۔
نہیں بس آپ نے کہہ دیا کافی ہے۔ طوبیٰ نے پھر آزر کی ناک کھنچتے خود کو نارمل ظاہر کیا تو آزر کو بھی تسلی ہوئی
”تمھاری باتوں میں ایک ضروری چیز تو بھول ہی گیا۔ کچھ یاد آیا۔
کیا۔۔؟؟
”اپنی جانم کو اس کی روح نمائی دینا۔ جیب میں ہاتھ ڈال کر سرخ مخملی ڈبی نکالی تو طوبیٰ متعجب نظروں سے دیکھا۔
کیا ہے.؟ اسے جاننے کا اشتیاق ہوا۔
تم خود دیکھ لو.؟ ڈبی طوبیٰ کے سامنے بڑھائی جسے ہاتھ آگے بڑھا کر لینا چاہا تو آزر نے اپنا ہاتھ پیچھے کیا۔
تم رکو میں دیکھاتا ہوں.؟ ازر نے ڈبی کھولی تو اس میں ایک خوبصورت سی نوز پن تھی جس میں لگا ڈائمنڈ پوری آب ؤ تاب سے جگما رہا تھا۔
یہ کیا نوز پن۔۔!! مجھے نہیں پسند یہ۔! طوبیٰ نوز پن دیکھ مایوسی ہوئی تھی۔
لیکن مجھے پسند ہے، تو کیا تم میرے لیے اتنا نہیں کر سکتی۔؟ آزر نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو بنا کچھ کہے طوبیٰ نے اپنا چہرہ آگے کیا جس پر آزر کا چہرہ کھل اٹھا اور فوراً نوز پن اسے پہنائی۔
”اب یہ تم کبھی نہیں اتارو گی.! محبت پاش انداز میں تاکید کرتے آزر جھک کر ناک پر چمکتے ڈائمنڈ کو لبوں سے چھوا طوبیٰ نے نظریں جھکا لی اثبات میں سر ہلاتے آزر کا لمس پا کر حیا کے رنگ بکھرے گئے تھے چہرے پر ۔
”جان.! اس طرح شرماتی ہوئی اس قدر حسین لگتی ہو کہ دل چاہتا ہے بس اب یہ زندگی تمھیں اپنی پناہوں میں لیے پیار کرتے گزر جائے۔گھمبیر معنی خیز انداز میں کہتے اسکے گال کو لمس سے مہکاتے کان کی لو تک سفر کیا اسکی بڑھتی جسارتو پر طوبیٰ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے.؟ کالر کو مٹھیوں میں جکڑے بمشکل دھیان دلایا جو جابجا اپنے لمس سے مہکانے لگا تھا تو آزر ذرا سا الگ ہوتے اسکی اور معنیٰ خیز انداز میں دیکھا جو اتنی سی قربت پر بےحال ہو گئی تھی۔
وہی تو کر رہا تھا، چلو کوئی نہیں ابھی کے لیے اس بریڈ سے ہی کام چلا لیتا ہوں.؟۔ کندھے اچکاتے بریڈ اٹھا کر مصنوعی فرمابرداری دیکھائی اسنے بھی جان خلاصی ملنے پر شکر ادا کیا اور آزر کو چائے سرو کرنے لگی
جان.! آج شام ہم آنکل آنٹی سے ملنے جا رہے ہیں۔ ازر نے چائے کا سپ لیتے اطلاع دی نظریں اسکے چہرے پر تھی
سچ۔۔!! وہ چہک اٹھی تھی۔
مُچ.! میں جانتا ہوں،میری جان اپنے پیرنٹس کو مس کر رہی ہے مگر کہتی نہیں۔ اسکے چہرے کی خوشی دیکھ آزر کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی۔
تھینک یو.! آزر کی گردن کے گرد بازوں حائل کر کرتے اسکے گال پر بھوسہ دیا اس غیر متوقع عمل پر تعجب سے اس کی اور دیکھا جس پر اسے بےپناہ پیار آیا تو بازو پھیلا کر ازر نے طوبیٰ کو خود میں بینچ لیا تھا
”اگر اس طرح تھینک یو کہوں گی تو پھر۔۔!! مشکل ہو جائے گا تمھارے لیے۔ ذو معنی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تھا جس پر طوبیٰ نے نظریں چرا لی جبکہ چہرے پر پھیلی دل کش مسکان اسے اپنا اسیر بنا رہی تھی جسے دیکھ ازر کے چہرے کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔
ازر کے موبائل پر آتی کال نے ازر کا دھیان اپنی طرف کیا تھا
کال سنتے ہی آزر کے چہرے مسکراہٹ مانند پڑی جسے دیکھ طوبیٰ کو تشویش ہوئی۔
کیا ہوا کوئی پریشانی ہے.؟
جان.! ایک ضروری میٹنگ آگئی ہے اوفس جانا پڑے گا۔ بےدلی سے بتایا۔
تو ۔۔۔؟؟
تو یہ کہ ابھی مُجھے اپنی وائف کے ساتھ ٹائم سیپنڈ کرنا ہے۔ منہ بسورتے اپنی پریشانی بتائی۔
”آپکی وائف یہی ہے آپ کے پاس کہی نہیں جا رہی، ساری زندگی پڑی ہے ٹائم سیپنڈ کرنے کے لیے چلے جائیں اوفس۔
لیکن میں جلدی آجاؤ گا، تم تیار رہنا پھر ہم چلیں گیں۔ بے دلی سے اٹھتے ازر اسکے ماتھے پر لب رکھے تھے۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛
”کیا شور ہو رہا ہے باہر۔۔؟؟ازر کے جانے کے بعد طوبیٰ جو لاؤنچ میں آگئی تھی باہر سے آتی ہوئی آواز سن کر آواز لگائی تھی۔
”باہر نتاشہ میڈم آئی ہیں اور زبردستی اندر دخل ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔ طوبیٰ کی آواز پر بوا نے آکر بتایا۔
تو اندر کیوں نہیں آنے دے رہے گارڈز.؟؟
آزر بیٹے کا حکم ہے کے نتاشہ میڈم کو گھر میں آنے نہ دیا جائے۔ بوا نے وجہ بتائی۔
بوا.! آپ جائے اور گارڈز کو کہیں آنے دیں.! میں نے کہا ہے۔ طوبیٰ نے حکمیہ انداز میں کہا تو بوا کچھ دیر متزلزل نظروں سے دیکھتی باہر چلی گئی
بہوں رانی.! کہہ رہی ہیں آنے دو.! نتاشا جو اندر آنے کے لیۓ گارڈز لڑ رہی تھی بوا کی بات سن کر فورا سے گارڈز کو دھکا دیتی اندر آئی تھی اور گارڈز کو آنکھیں ونک کی تھی۔
”شکر ہے تم نے مجھے اندر کی اجازت تو دی.؟۔ نتاشہ نے لاؤنچ میں داخل ہوتے ہی بےتکلفی سے طوبیٰ کے گلے لگی جس پر طوبیٰ نے بیچ میں ہاتھ رکھ کر دور کیا۔
دیکھ لو گھر میں آنے کے لیے بھی تمھیں میری اجازت کی ضرورت ہے، اور تم ہوکہ میرے شوہر کی زندگی میں آنے کی کوشش کر رہی ہو وہ بھی بنا میری اجازت کے۔ اسکے چہرے پر نگاہیں جمائے حتی الامکان اپنی لہجے کو نرم رکھنے کی کوشش کی تھی جس پر نتاشہ کے چہرے پر مبہم سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
تم غلط سمجھ رہی ہو.! میرے ایسا کوئی ارادہ نہیں۔ پراسرار انداز میں لاؤنچ میں لگی آزر اور طوبیٰ کی تصویر کو دیکھتے بولی۔
”میں غلط سمجھ رہی ہوں تو تم ہی اپنے آنے کی صحیح وجہ بتا دو.! کیوں آئی ہو.؟ مجھے میرے ہی شوہر کے خلاف بھڑکانے، اگر ایسا کوئی ارادہ لیکر آئی ہو تو میں تمھارا یہ مغالطہ پہلے ہی دور کیے دیتی ہوں مجھے اپنے شوہر پر خود سے زیادہ یقین ہے میں تمھاری کسی بات میں نہیں انے والی۔ خود سے نتیجے پر پہنچی تھی۔
”اوو بڈی.! تمھیں کس نے کہا میں تمھیں ازر کے خلاف کرنے آئی ہوں.؟ سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
”تو پھر تم یہاں کیوں آئی ہو.؟؟
تم سے فرینڈشپ کرنے، اب ہم نے ایک گھر میں ایک ساتھ رہنا ہے، تو ضروری نہیں، ہم سوتن کی طرح ہی بیہوو کریں، ہم اچھی فرینڈز کی طرح بھی تو رہ سکتی ہیں۔ نتاشہ نے اپنا ہینڈ بیگ ٹیبل پر رکھتے ہوۓ صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھی جبکہ انداز ایک دم پر سکون تھا جیسے وہ کوئی نارمل بات کر رہی ہو۔
“دیکھے مس نتاشہ۔۔!! اگر میں نے تمھیں گھر میں آنے کی اجازت دے دی ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم اسے اپنا گھر سمجھ لو.! مہمان ہو.! مہمان بن کر رہو مالکن بننے کی کوشش مت کرو یہ گھر اور آزر خان صرف میرا ہے اور میں اسے کسی کے ساتھ شئیر نہیں کرونگی،اور تمہاری اس فضول بکواس کا مجھ پر اسر ہونے والا نہیں کیوں کے میں ازر کو اچھے سے جانتی ہو وہ کبھی تمہیں میری سوتن نہیں بنائیں گے۔ وہ جو کسی سے اُونچی آواز میں بات کرنے سے گھبراتی تھی آج آزر پر اپنا حق ملکیت جتانے کے ساتھ سخت گیر نظروں سے دیکھتے تنبیہ کر رہی تھی۔
او بڈی.! تم تو غصّہ ہی کر گئی، بوا اپنی میڈم کے لیۓ جوس لے کر آئیں۔!!
اور تمہیں کس نے کہا کے آزر مجھے تمہاری سوتن بنائے گا، مجھے تو تم خود آزر کی ذندگی میں لے کر آؤ گی؟۔ بوا سے کہتے وہ طوبیٰ کی جانب متوجہ ہوئی۔
”اووو.!! اچھا۔۔۔۔!! مُجھے نہیں پتہ تھا۔ استہزاء انداز میں کہتی پل بھر کو رکی۔
”تم نے سوچا بھی کیسے کے میں تمہیں اپنے آزر کی ذندگی شامل ہونے کی اجازت بھی دونگی، وہ میرے ہے اور میرے جیتے جی تو میں کبھی ایسا ہونے نہیں دونگی، ہاں اگر میرے مرنے کا انتظار کر سکتی ہو تو کر لو اسکے بعد ہی شاید تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکو۔ سُلگتے ہوئے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ اٹل انداز میں مزید بولی تو نتاشہ کی آنکھوں میں مایوسی در آئی۔
ویسے اگر تم اتنی ہی شدید محبت کرتی تھی تو پھر چھوڑ کر کیوں گئی تھی؟۔ ذہن میں امڈنے والا سوال زبان پر لائی۔
”بڈی.! یہی تو مجھ سے غلطی ہو گئی مجھے نہیں کرنا چاہیے تھا کسی اور پر یقین، لیکن کیا کرتی آزر نے کبھی وہ محبت وہ توجہ دی نہیں جو ایک فیانسی کی اپنی فیانسی سے اکسپیکٹیشن ہوتی ہیں،اور جب وہی توجہ وہ محبت کہی اور سے ملی تو میں نے میں نے اپنی زندگی کا سب سے غلط فیصلہ کر لیا جس کا پچھتاوا مجھے آخری سانس تک رہیگا۔تاسف سے کہتے اسکی آنکھوں میں نمی در آئی جسے دیکھ طوبیٰ کے دل کو کچھ ہوا تھا۔
”جو بھی تھا مجھے نہیں جاننا، اب کون سا آزر تمہیں چاہنے لگے ہیں اور میں تم دونوں کے درمیان دیوار بن گئی ہوں جسے تم گرانا چاہتی ہو، اب بھی تم آزر کے پیچھے اپنا ٹائم ضائع کر رہی ہوں، وہ تمہارے کبھی نہیں ہونگے پہلے تو ان کی لائف میں کوئی تھا بھی نہیں، اب تو میرے ہوتے وہ تمہیں کبھی اپنی ذندگی میں شامل نہیں کریں گیں، اس لیے کہہ رہی ہو چھوڑ دو آزر کا پیچھا۔ اپنے دل پر جبر کرتے طوبیٰ نے سمجھانے کی کوشش کی۔
”پلیز بڈی.! ایسا مت کہو میں مر جاؤ گی، میں نہیں جی سکتی آزر کے بغیر، مجھے اس گھر کے کسی کون میں جگہ دیدو میں کبھی اپنا کوئی حق نہیں مانگوں گی، بس ازر کو کہو مجھے اپنا نام دیدے میں اس نام کے سہارے جی لونگی، نہیں تو بابا میری شادی اپنے دوست کے بیٹے سے کروا دینگے اور اگر ایسا ہوگیا تو میں جیتے جی مر جاؤنگی بڈی.! نتاشہ طوبیٰ کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھتے منتوں پر اتر آئی اسے اس طرح دیکھ طوبیٰ نے گھہرا سانس لیا۔
”میں کچھ نہیں کر سکتی.! نظریں پھیرتے طوبیٰ نے اسکی کسی قسم کی مدد کرنے سے انکار کیا۔
”بڈی تم بہت کچھ کر سکتی ہو.! پلیز ایک بار بات کرو آزر سے مجھے یقین ہے وہ تمھاری بات کبھی نہیں ٹالے گا، میں بہت امید لیکر تمھارے پاس آئی ہوں، مجھے اس طرح خالی ہاتھ نہ لوٹ آؤ.! آزر کے سوا اگر میری زندگی میں کوئی اور آیا تو میں مر جاؤنگی۔ ہاتھ جوڑ کر التجا کرتے آنسوں تواتر سے بہہ نکلے تھیں جنھیں دیکھ طوبیٰ کو تکلیف ہوئی تھی پر وہ جو مانگ رہی تھی وہ دینا اسکے بس میں نہیں تھا۔
دیکھو.؟ میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتی اگر کچھ کرنا چاہوں بھی تو نہیں، اب تم جا سکتی ہو.! خود پر ضبط کرتے بمشکل بولتے نظریں ملانے سے گریز برتا تھا۔
”بڈی میں جانتی ہوں یہ سب اتنا آسان نہیں، لیکن مجھے بھی کوئی جلدی نہیں تم سوچ سمجھ لو.! ابھی میں جا رہی ہوں لیکن ایک بار اس بارے میں سوچنا ضرور.! اپنے انسوں صاف کرتے اٹھی اور اپنے ہینڈ بیگ اٹھا کر نکل گئ تھی۔
پیچھے طوبیٰ گہری سوچ میں چلی گئی تھی۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛
شیشے کے سامنے اپنے بالوں میں برش کر رہی تھی اور ذہن میں نتاشہ کی کہیں ہوئی باتیں گردش کر رہی تھی۔
”میں کیوں سوچ رہی ہوں، جب کے میں جانتی ہوں آزر مجھے لیکر اور میں آزر کو لیکر کتنے پوزیسیو ہوں.! بالوں میں برش کرتے خود ہی نتیجہ تک پہنچی۔
”لیکن آزر کب تک میرے ساتھ اپنی ذندگی گزارے گے کبھی تو انہیں اپنے لیے ایک مکمل ہم سفر کی ضرورت محسوس ہو گی کبھی تو۔۔!! سوچتے ہوئے طوبیٰ کی آنکھوں میں آنسوں آگئیں گلے میں گولا سا ابھر کر معدم ہوا
دروازے کی آواز کانو میں آتے ہی طوبیٰ نے اپنی آنکھیں فوراً صاف کی دروازہ نوب گھما کر آزر کمرے میں داخل ہوا طوبیٰ پر نظر پڑتے ہی اسکے قدم ٹھہر گئیں۔
”آج تو کوئی قتل کرنے کا اردہ رکھتا ہے۔ پیار لوٹاتی نظرو سے دیکھتے معنی خیز لہجے میں کہتا آگے بڑھا تو طوبیٰ نے نظریں جھکا لی ازر نے آگے بڑھ کر طوبیٰ کے ماتھے پر لب رکھے تھیں۔
کافی دیر کر دی آپ نے آنے میں.؟ پلکوں کی جھالر گرائے استفسار کیا۔
”جان.! نے مس کیا.؟ جواب دینے کے بجائے ازر نے شرارت سے سوال کیا۔
“نہیں.! ایسی بات نہیں، وہ تو آپ نے کہا تھا گھر جانا ہے تو اس لیے پوچھا۔ نظرے چراتے بات بنائی۔
”جان.! اب تو ایک نظر دیکھ لیا کروں اپنے اس دیوانے کو جو بس تمھاری ایک نظر التفات کا منتظر ہے۔ آزر طوبیٰ کے کان کے پاس جھکتے ہوئے گھمبیر آواز میں سرگوشی نما بولا جبکہ طوبیٰ اپنے آنسوں چھپانے کی تگ و دو بنوز چہرا دوسری جانب کیے ہوئے تھی۔
میرے جانے کے بعد کوئی بات ہوئی۔۔؟؟ ٹھوڑی سے پکڑ اسکا چہرہ اپنی طرف کرتے اسکی آنکھوں میں نمی دیکھ کھٹکا۔
نن…نہیں تو.! نہ چاہتے ہوئے بھی زبان لڑکھڑائی
ادھر دیکھوں میری طرف پنجوں کے بل بیٹھتے آزر نے اسکی آنکھوں میں دیکھنا چاہا۔
”میں آپ کیلئے بوا کو چائے کا کہہ کر آتی ہوں، آپ چینج کر لیں پھر ہمیں جانا بھی ہے۔ اسکی اور دیکھے بغیر طوبیٰ نے راہے فرار تلاشنی چاہی۔
”طوبیٰ۔۔۔۔!!
”نتاشہ آئی تھی.؟ اسنے خود ہی اندازہ لگایا طوبیٰ کو ایسا لگا جیسے اسکی چوری پکڑی گئی ہو جس کا اسنے اثبات میں سر ہلاتے اعتراف کیا۔
اندر کس نے آنے دیا اسے.؟ غصے سے پوچھتے اٹھنے لگا تھا کہ طوبیٰ کی آواز پر رک گیا۔
میرے کہنے پر گارڈز نے آنے دیا۔
”جب میں نے منا کیا تھا تو کچھ سوچ کر ہی کیا ہوگا.؟ کیا تمھیں مجھ پر اعتبار نہیں تھا۔ نظریں اسکے چہرے پر گاڑھے جاننا چاہا۔
ایسی بات نہیں وہ باہر شور کر رہی تھی اسی لیے میں نے اسے اندر آنے کی اجازت دی اور ویسے بھی آزر اس نے کچھ نہیں کہا مجھے، وہ تو بس مجھ سے ملنے آئی تھی اسکی کوئی غلط ایٹنشن نہیں تھی۔ طوبیٰ نے فوراً سے وضاحت پیش کی۔
”ادھر دیکھو میری طرف.!
سچ میں کچھ نہیں کہا۔! اسکی اور دیکھتے ہوئے یقین دہانی کروائی ناجانے کیوں طوبیٰ وہ بات نہیں کہہ پائی جو وہ کہنا چاہتی تھی۔
”ویسے تو مجھے اس پر یقین نہیں، لیکن اگر تم کہہ رہی ہو تو مان لیتا ہوں۔ اسکے چہرے پر نظریں گاڑھے محبت پاش انداز میں بولا۔
طوبیٰ کے اندر جنگ چل رہی تھی وہ آزر کو کسی کے ساتھ شیئر نہیں کر سکتی تھی لیکن نتاشہ کی آنکھوں میں اسے ازر کیلئے سچی محبت نظر آئی تھی جسے وہ چاہ کر بھی انکار نہیں کر سکتی تھی۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial