ادھورے خواب

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 29

”چودھری ہاؤس کی رونق لوٹ آئی تھی یا یو کہنا زیادہ بہتر ہے ہوگا کہ اس گھر کی زندگی لوٹ آئی تھی کیونکہ انکی بیٹیاں اُن سے ملنے آئی تھی لوگ تو کہتے ہیں بیٹیاں بوجھ ہوتی ہیں پرائی ہوتی ہیں انکا کوئی گھر نہیں ہوتا پر یہ بھی سچ ہے کہ ان کے بنا کوئی گھر گھر نہیں ہوتا۔
”سب لاؤنچ میں بیٹھے باتیں کر رہے تھیں اور سائرہ تو طوبیٰ کو خوش و خرم دیکھ کر اس کی بلائے لیتی نہیں تھک رہی تھی۔
آریان آپ دیکھ رہے ہیں میری بیٹی کتنی بدل گئی ہے پہلے تو ہر وقت اداس زندگی سے منہ موڑے بس خود کو کمرے میں بند رکھتی تھی نہ کسی بات کرتی نہ ہی کبھی ہم نے اسے یو ہنستے ہوئے دیکھا۔ آریان صاحب کو مخاطب کرتے وہ تاسف سے بولی تو انھوں نے انکی ہاں میں ہاں ملائی۔
بالکل صحیح کہہ رہی ہو سائرہ.!
ازر بیٹا.! تمہارا بہت بہت شکریہ کہ تم ہماری بیٹی کو ذندگی کی طرف لیکر آئیں، ہم تو طوبیٰ کی جانب سے بالکل ناامید ہوگئے تھے۔ سائرہ نم لہجے میں شکر گزار ہوئی۔
”آنٹی.! آپ ایسے کیوں کہہ رہی ہیں، اس میں شکریہ کی کوئی بات نہیں یہ تو میرا فرض ہے کہ میں اپنی بیوی کا خیال رکھوں۔
”نہیں بیٹا تمھاری آنٹی صحیح کہہ رہی ہیں، تمھارا یہ ہم پر بہت بڑا احسان ہیں۔ آریان صاحب تشکر آمیز لہجے میں گویا ہوئے
”آنکل.! اب آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہیں.! متانت سے ٹوکا
سارا پیار آزر اور طوبیٰ کیلئے ہی، ہمیں تو آپ مانگ کر لائے ہیں۔ لائبہ نے منہ بنا کر کہا جو کب سے خاموشی سے سب سن رہی تھی۔
صحیح کہہ رہی ہو چلو ہم چلتے ہیں ہماری تو یہاں کوئی ویلیو ہی نہیں ہے۔ وہاج نے لائبہ کی ہاں میں ہاں ملائی
بس کر بس.! ذیادہ جیلس ہونے کی ضرورت نہیں اب ہم ذرا سپیشل ہیں. ازر نے اپنے کالر اکڑاتے ہوئے شانے بے نیازی کہا
تو سب کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر گئی ایک شخص تھا جس کی آنکھوں میں یہ منظر چبھ رہا تھا۔
تم کیوں اتنے خاموش ہو تم بھی تو کچھ کہوں.؟ وہاج نے ارحم کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا جو کن انکھیوں سے طوبیٰ کو دیکھ رہا تھا.ساتھ ہی آئزہ کو مخاطب کیا۔
”آئزہ.! تم بتاؤ ذیادہ تنگ تو نہیں کرتا، اگر کرے تو تم مجھے کہہ سکتی ہو.!
نہیں بھائی.! آئزہ نے پھیکی سی سمائل کے ساتھ کچھ اس طرح کہا جیسے ٹال رہی ہو۔
”آجاوں سب ڈنر تیار ہیں.؟ سائرہ نے اطلاع دی۔
سب ڈائنگ ٹیبل پر موجود تھے آریان صاحب سربراہی کرسی پر بیٹھے ہوئے تھیں جس کے دائے جانب سائرہ کے ساتھ طوبیٰ آزر کے ہمراہ اور بائے جانب لائبہ وہاج کے ساتھ آئزہ و ارحم بیٹھے ارحم طوبیٰ کے سامنے بیٹھا تھا جس کے باعث طوبیٰ کو ارحم کی نظروں سے کوفت ہو رہی تھی۔
”تم کیا لو گی جان.؟ بریانی کی ٹرے اٹھا کر اپنی پلیٹ میں نکالتے آزر نے جاننا چاہا۔
میں لے لو گی آپ کھائیں.؟ طوبیٰ نے نظریں جھکا کر کہا تھا سب کی نظروں سے وہ خجل ہوئی تھی۔
“بھائی آپ کھائیں آپی کو میں سرو کرتی ہو.! آئزہ نے اٹھتے ہوئے کہا۔
نہیں آئزہ میں لئے لو گی، تم کھاؤ.! طوبیٰ نے فوراً سے ٹوکا اور اپنے لیے تھوڑے سے چاول نکالے وہ بھی کھانا مشکل لگ رہا تھا کہ آزر نے کباب بھی اسکی پلیٹ میں رکھا جس پر بے ساختہ نظریں آزر کی جانب اٹھی۔
کیا بات ہے جان.! تم کھانا کیوں نہیں کھا رہی۔ ایسے چمچ چلانے سے کھانا منہ نہیں جائیگا۔ ازر نے طوبیٰ کے منہ کے سامنے چمچ کرتے محبت پاش انداز میں بولا
منہ کھولو.! شاباش.! ازر نے پیار سے کہا طوبیٰ نے نظریں گھوما کر دیکھا تو سب انھیں ہی دیکھ رہے تھے جس پر جھنپ گئی تھی۔
سب دیکھ رہے ہیں کیا کرتے ہیں آپ۔؟ طوبیٰ نے مدھم آواز میں سب کو دیکھتے ہوئے دھیان دلایا۔
”ہاں.! تو اپنی بیوی کو کھلا رہا ہوں.! کسی کو کوئی اعتراض ہیں.؟ ازر نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے دریافت کیا تو سب جزیرہ ہوکر ادھر ادھر دیکھنے لگ گئیں۔
“اب کھا بھی لو کتنے نخرے دیکھاو گی۔ لائبہ نے کہا
تو طوبیٰ نے آہستہ سے کھا لیا
میں کھا لو گی آپ کھائے.! طوبیٰ نے نظریں چراتے ہوئے کہا
”کیوں گھر میں تو کہتی ہو اپنے ہاتھ سے کھلاؤ.؟ اور یہاں شرما رہی ہو۔ ازر نے طوبیٰ کے کان میں سرگوشی نما کہتے تنگ کیا۔
میں نے کب کہا۔؟ اسکی اور دیکھتے طوبیٰ خفگی سے گھورا تو آزر کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
ازر اور طوبیٰ کی نوک جوک سامنے بیٹھے ارحم کو سلگھا گئی تھی۔
اسی طرح ہلکی پھلکی باتوں میں سب نے ڈنر کیا جس کے بعد چائے کا دور چل پڑا سب لان میں بیٹھے چائے پیتے ہوئے ہلکی پھلکی باتیں کر رہے تھیں۔
اچھا آنکل اب ہمیں اجازت دیں.؟ آزر نے اجازت چاہی تھی۔
ارے بیٹا.! آج آپ لوگ روک جاتے کتنی رونق لگی ہوئی ہے۔ آریان صاحب لاغر سی کوشش کی۔
“نہیں آنکل آج نہیں، نیکسٹ ٹائم ضرور رکیں گے۔ ازر نے اصرار کیا۔
اچھا تھوڑی دیر تو روک جاؤ پھر چلے جانا۔ آریان صاحب ابھی کچھ اور وقت گزارنا چاہتے تھے۔
اچھا ٹھیک ہے۔
آزر وہاج اور آریان صاحب سے کاروباری معاملات پر باتیں کرنے لگ گئیں تھیں طوبیٰ اپنے کمرے میں کچھ لینے آگئی تھی لائبہ اور آئزہ سائرہ سے باتیں کر رہی تھی۔
💛💛💛💛💛💛💛💛
“اپنے کمرے داخل ہوتے ہی گزرے ہوئے دنوں کی کچھ یادیں تازہ ہوئی جن میں کچھ اچھی بھی تھی کچھ تلخ بھی مگر وہ یہاں کچھ یاد کرنے نہیں آئی تھی بلکہ وہ تو کچھ لینے آئی تھی اسی لیے سوچوں کو جھٹکتے وہ اپنے ڈریسنگ ٹیبل کی جانب آئی۔
طوبیٰ نے اپنے ڈریسنگ کے ڈرار کھولا تو اسے اپنی مطلوبہ چیز سامنے ہی نظر آگئی جسے دیکھتے اسکے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ نمودار ہوئی آزر کی طرف سے ملنے والا پہلا گفٹ جو اسنے اپنی نادانی میں اسی دن اتار کر رکھ دیا تھا۔
”تم سانس لے سکتی ہو.! پنڈیٹ کو دیکھتے اسے بے ساختہ آزر کی کہیں بات یاد آئی جس کے ساتھ ہی چہرے پر حیا کی لالی بکھر گئی بریسلٹ ایک طرف رکھتے طوبیٰ نے پورے استحقاق سے پنڈیٹ کو اپنی گلے میں سجایا اب اسکا ارادہ بریسلٹ پہنے کا تھا کے دروازا کھلنے کی آواز آئی جس وہ فوراً پلٹی
” آزر یہ دیکھیں….؟؟ وہ خوشی سے کچھ بتانے ہی لگی تھی کے باقی الفاظ طوبیٰ کے منہ میں ہی رہ گئیں اور بریسلٹ ہاتھ سے چھوٹ کر زمین بوس ہوا۔
”تم یہاں کیا کر رہے ہو..؟ سامنے موجود شخص کو دیکھ دنگ رہ گئی۔
“کیوں میں نہیں آسکتا پہلے تو کبھی نہیں منا کیا، پھر اب ایسا کیا ہوگیا۔ارحم دروازہ لوک کرتے اسکی اور بڑھا اسکی آنکھوں سے اسکے ارادہ عیاں تھیں۔
تم۔! یہ….! کیا کر ۔۔!! رہے ہو.؟ غصے اور خوف کے ملے جلے تاثرات گویا ہوئی۔
”دروازہ لوک کر رہا ہوں تاکہ کوئی ہمیں ڈسٹرب نہ کرسکے۔ارحم نے کمرے میں موجود کرسی کو کھینچ کر طوبیٰ کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا گھبراہٹ کے باعث طوبیٰ کے ماتھے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں نظر آرہی تھی۔
ارحم یہاں سے فورا نکل جاؤ ورنہ میں شور مچا دو گی۔ ہمت جما کرتے لاغر سی دھمکی دی۔
”اچھا تم شور کرو گی.؟ ہمممم تو ٹھیک ہے پھر کرو.! اور جب سب یہاں آجائیں گیں تو پھر کیا کہوں گی.؟ شروع میں سوچنے کے انداز میں کہتے آخر میں آگے جھک کر سنجیدگی سے پوچھا۔
”دد. دور….!! رہ کر بات کرو…!! ارحم کی اس حرکت پر ناچاہتے ہوئے بھی زبان لڑکھڑائی تھی۔
”آزر۔! کو تو نہیں کہتی دور رہو.! اس کے ہاتھ سے تو کھانا بھی کھائتی ہو.! ارحم کے انداز میں تلخی آئی اور آنکھوں میں جلن و حسد
آزر..!! وہ چیخ چیخ کر سب کو بلانا چاہتی تھی مگر آواز حلق میں اٹک گئی تھی۔
”تھوڑا زور سے آواز دو.؟ اگر تم کہو تو میں میں آواز لگا دوں۔ تمخسرا اڑایا طوبیٰ کے گلے گولا سا بن گیا اور آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی
”ویسے کچھ سوچا ہے تم نے کہ کہوں گی کیا.؟ پر سوچ انداز میں سوال اٹھایا تو یہ سوچ آتے ہی آنکھوں سے آنسوں چھلک پڑے۔
نہ نہ ابھی نہیں رونا۔! جب سارے گھر والے آجائیں اور میں اِن کو بتاؤ کہ تم نے مجھے یہاں بلایا ہے کیونکہ تم مجھ سے اکیلے میں ملنا چاہتی تھی کچھ وقت میرے ساتھ تنہائی میں گزارنے کے لیۓ۔ بال کان کے پیچھے اڑیستے معنیٰ خیز کمینگی گویا ہوا تو طوبیٰ نے کراہت سے اسکا ہاتھ جھٹکا
گھٹیا انسان.! مجھ سے دور رہ کر بات کرو ورنہ میں۔انگلی اٹھا کر وارن کر ہی رہی تھی کہ اسکی بات بیچ سے اچک لی۔
ورنہ تم شور کرو گی تو میں نے کون سا منا کیا ہے، مچاؤ شور میں بھی تو یہی چاہتا ہوں،
اچھا ہے ناں مجھے تمہارے ساتھ کمرے میں اکیلے دیکھ کر ازر تمھیں طلاق دیدے گا اور آئزہ مجھے، پھر میں تمہیں اپنے ساتھ رکھو گا لیکن اب تم سے شادی نہیں کرو گا، کیونکہ تم نے مجھے دھوکا دیا مجھے چھوڑ کر آزر سے محبت کی پینگیں لڑائی،
جیسے میں تڑپا ہوں، تمھیں آزر کے ساتھ دیکھ کر ویسے ہی تُمھیں اپنے ساتھ رکھ کر بغیر نکاح کے تمھیں تڑپاؤ گا ہر رات تمہیں مجھے برداشت کرنا ہوگا، میرا جنون میری وحشت سہنی ہوگی۔ ایک پل میں اسنے مستقبل کا نقشہ کھینچا جسے سوچ کر وہ لرز کر رہ گئی تھی۔
طوبیٰ کا ہاتھ اٹھا اور ارحم کے منہ پر اپنی چھاپ چھوڑ گیا
کہا ہے ناں.! دور رہ کر بات کرو.! خبردار جو تم میرے پاس آئے، میں نے تمہیں ہمیشہ ایک دوست ایک ہمدرد سمجھا اور تم اس طرح کی گھٹیا سوچ رکھتے ہو.! غصے دکھ کے ساتھ دھاڑی تھی۔
بہت تیکھی ہوگئی ہو اب تو تمہیں چکھنا ہی پڑے گا جس قدر خوبصورت ہو اس سے کہیں ذیادہ تیکھی بھی.! اپنے گال پر ہاتھ رکھ کر غصے سے اسکی اور پلٹا اور جھٹکے سے اسکے بال پکڑ کر اس کا چہرہ اپنی طرف کیا۔
چھوڑو مجھے گھٹیا انسان تم کچھ بھی کر لو لیکن مجھے کبھی حاصل نہیں کر پاؤ گے اگر ازر کو پتا چل گیا تو وہ تمہاری جان لے لیں گیں۔ اپنا آپ چھڑاتے حقارت سے ارحم کو دیکھ کر کہا تو ارحم کے چہرے پر مکروہ ہنسی آئی۔
واہ.! کیا محبت ہے، تو یہ سب دیکھنے کے بعد بھی تمھارے آزر کی محبت باقی رہے گی،
یہ دیکھو.! یہ دیکھو.!
ارحم نے اپنے موبائل سے کچھ نازیبا تصویر طوبیٰ کو دکھاتے طنزیہ انداز میں پوچھا جنھیں دیکھ وہ اپنی نظریں نفرت سے پھیر گئی
آخر تم چاہتے کیا ہو۔۔؟؟
صرف کچھ حسین لمحے گزانا چاہتا ہوں تمھارے ساتھ جس میں نہ ہی تمہارا آزر ہو اور نہ ہی آئزہ صرف تم اور میں ارحم طوبیٰ کے سامنے جھکتے ہوئے ایک آنکھ دبا کر کہتے اسکے اندر کی خباثت اسکے چہرے سے عیاں تھی جس پر
طوبیٰ کے چہرے پر زخمی مسکراہٹ ابھری۔
جانتے ہو مجھے تمہاری باتیں سن کر حیرانی نہیں ہو رہی بلکہ خود پر غصّہ آرہا ہے کہ ایک عرصے تک میں نے تمہیں اپنا دوست سمجھا، تمہیں ایک اچھا انسان سمجھا، لیکن میں نہیں جانتی تھی کہ تم دوست کے روپ میں آستین کا سانپ ہو، مگر اس میں غلطی تمھاری نہیں ہے، میں بھول گئی تھی کے تمھارے اندر قدسیہ بیگم کا خون ہے اور تمہاری تربیت بھی انھوں نے کی ہے پھر میں نے تم سے اچھے کی امید کی ہی کیوں؟ مجھے تو آئزہ کیلئے دکھ ہو رہا ہے کہ وہ کیسے تم جیسے شیطان کے ساتھ زندگی گزارے گی۔ نفرت و دکھ کے ساتھ تاسف سے بولی۔
تمھارا لیکچر سننے کے موڈ میں نہیں ہوں.! مجھے تمھارا جواب چاہیے، یا پھر یہ تصویرے دیکھاو تمھارے اس دیوانے کو پھر دیکھتا ہوں کیسے وہ تمہیں یہاں سے لے کر جاتا ہے، آج ہی طلاق دیکر نہ گیا تو کہنا اور پھر میں تمھیں جب میرا دل کرے گا۔۔۔۔!!
ڈرانے کی کوشش کرتے آخر کمینگی بولا۔
”تم اپنا یہ شوق بھی پورا کر لو.! لیکن یہ سب دیکھنے کے بعد وہ تمہارا کیا حال کریں گیں اس کی گرینٹی میں نہیں دے سکتی، اس لیا کہہ رہی ہوں.! عزت اس میں ہے یہاں سے چلے جاؤ نہ تم نے کچھ کہا نہ میں نے کچھ سنا یہ بھی میں صرف آئزہ کے خاطر کہہ رہی ہوں.! طوبیٰ نے سلگتے ہوئے وارن کرتے ایک آخری موقع دیا۔
”آئزہ.! کو کیوں بیچ میں لا رہی ہو سیدھا سیدھا کہو مجھ سے محبت کرتی ہو اور مجھے مشکل میں نہیں دیکھ سکتی۔ ارحم نے اپنی مرضی کا مطلب نکالنا چاہا۔
محبت اور تم جیسے گھٹیا انسان سے مر کر بھی ناں کرو.؟ حقارت سے کہتے منہ پھیرا لیا
”بسسس۔۔!! بہت ہو گیا جب میں اتنا ہی گھٹیا ہوں تو اب تمھیں گھٹیا بن کر دیکھاؤ گا۔ ارحم نے طوبیٰ کے بال گدی سے پکڑ زرو سے کھینچنا کر چہرا اپنی طرف کیا اور جھکنے لگا تھا کے کمرے کا دروازہ زور سے دھڑام کی آواز سے کھلا اور آزر کسی شکاری کی طرح ارحم کی اور جھپٹا۔
”کمینے.! گھٹیا..! انسان تیری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی پر گندی نظر ڈالنے کی۔ ازر نے ارحم کو موقع دیے بغیر پہے در پہے وار کیے تھے
آپی آپ ٹھیک تو ہیں.؟ لائبہ نے طوبیٰ کی اور لپکی جو بے یقینی کے عالم میں سب دیکھ رہی تھی
میں نے ک..چھ….. نہیں… کیا اس نے ہی مجھے یہاں بلایا تھا۔ ارحم نے خود کو سنبھالتے ہوئے طوبیٰ پر الزام لگایا جس پر بہتی آنکھوں کے نفی میں گردن ہلی
بکواس بند کر ذلیل انسان.! تیری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی پر الزام لگانے کی تیری ساری بکواس سن چکے ہیں ہم سب، اگر نہ بھی سنتے تو بھی اپنی بیوی کے کردار کی گواہی کیلئے مجھے تجھ جیسے انسان کی ضرورت نہیں سمجھے۔ ایک مان سے کہتے آزر کا ہاتھ ایک بار پھر اٹھا تھا۔
”ازر بھائی.! آئزہ کی آواز پر آزر کا ہاتھ رکا
ازر بھائی یہ آپ سب سے زیادہ میرے گناہگار ہیں تو انھیں سزا دینے کا حق بھی صرف مجھے ہونا چاہیے۔ کرب سے کہتے وہ اسکی اور آئی۔
میں ہمیشہ سے سوچتی تھی کے میری محبت آپ کو بدل دے گی اور آپ مجھے دل سے قبول کر لیں گیں لیکن میں غلط تھی، میں نے آپ کی خاطر آپی کی بات نہیں مانی وہ مجھے کہتی رہی کے میں آپ کو بھول جاؤ، لیکن میں نے ہمیشہ آپی کو یہی کہا کہ آپ کو اپنی محبت سے اپنا بنا لو گی، آپ بے شک کسی اور کو پسند کرتے ہیں،اگر وہ آپ کی نہیں تو کیا ہوا میں آپ کو اتنی محبت دونگی کے آپ اسے بھول جائیں گیں، لیکن آپ نے شادی کی پہلی رات ہی مجھے غلط ثابت کر دیا اور پھر اہستہ آہستہ آپ نے مجھے اپنا غلام سمجھ لیا، جب دل کیا استعمال کیا، جب دل کیا مجھے ذلیل کر دیا اور میں خاموشی سے سب برداشت کرتی رہی کے کبھی تو آپ کو میری محبت نظر آئے گی، کبھی تو آپ مجھے اپنا سمجھیں گیں، لیکن آپ تو میری ہی آپی کی خوشیوں پر نقب لگائے بیٹھیں ہیں، میری ہی آپی کی عزت چھییی۔۔!! .مجھے تو کہتے ہوے بھی شرم آرہی ہے۔ تاسف سے وہ بولتی چلی گئی۔
میرا دل کر رہا ہے آپکی جان لے لو.! لیکن کیا کرو یہ کمبخت دل ہی نہیں مانتا، اسے تو بس آپ سے محبت کرنی ہے، کیا صحیح کیا غلط اسے اسے کچھ مطلب نہیں، لیکن میں اپنی جان تو لے سکتی ہوں ناں۔! آئزہ نے اپنے ہاتھ میں چھپی ہوئی چھری جانے اسنے کہاں سے اٹھائی تھی نکلا کر اپنے سینے میں گھونپ لی سب کے دیکھتے دیکھتے سب کے سامنے اپنے ہاتھ سے اپنی جان لےلی تھی۔
یہ سب اتنی جلدی ہوا کے کسی کو سمجھنے کا موقع نہ مل سکا
آئزہ.۔۔!!
ارحم نے آگے بڑھ کر آئزہ کو تھامنا چاہا لیکن آئزہ نے ہاتھ کے اشارے سے ارحم کو روک دیا آنکھوں سے نمکین سیال بہتے اپنے درد کی روداد سنا رہا تھا اسے پہلے وہ زمین بوس ہوتی سائرہ اور آریان صاحب نے تیزی سے آگے بڑھ کر تھام لیا تھا ارحم بے یقینی کے عالم میں سب دیکھ کر رہ گیا تھا۔
“آئزہ..!! آئزہ..!! یہ کیا کیا تم نے ایک بے حس انسان کے لیۓ اپنے ساتھ یہ کیوں کیا.؟ اسکا گال تھپتھپاتے سائرہ نے روتے ہوئے وہ تڑپ کر رہ گئی تھی آریان صاحب کے پاس تو جیسے الفاظ ختم ہو گئیں تھے طوبیٰ اور لائبہ تو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ یہاں ہوا کیا ہے۔
وہاج گاڑی نکالو.! وہاج کو کہتے ازر نے آئزہ کے پاس بیٹھ کر آئزہ کی نبض چیک کی جو روک گئی تھی اسکا ہاتھ ڈھلک کر گرا جس پر آزر کی آنکھوں سے دو آنسوں نکل کر بے مول ہوئے اس نے سچے دل سے آئزہ اور لائبہ کو اپنی بہن سمجھا تھا۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛
دو دن گزر گئے تھے آئزہ کو اس دنیا سے رخصت ہوئے لیکن سب گھر والے ابھی تک سکتے میں تھے کے ان کی بیٹی کے ساتھ اتنا کچھ ہو گیا اور انھیں پتا ہی نہیں چل سکا۔
سائرہ اور آریان صاحب کا رو رو کر بورا حال تھا۔
آئزہ کی موت نے ایک مرتبہ پھر طوبیٰ کو مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دیا تھا، ابھی تک ہوش نہیں آرہا تھا ہوش میں آتے ہی چیختی چلاتی اور خود کو آئزہ کی موت کا زمیدار سمجھ کر پھر بہوش ہو جاتی لائبہ بھی خود کو مظبوط ثابت کرنے کی کوشش کرتی لیکن پھر آئزہ کی موت اور گھر کی حالت دیکھ کر رو پڑتی وہاج اور آزر نے سارے مہمانوں کو سنبھلا ہوا تھا ازر نے بظاھر ارحم کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا
قدسیہ بیگم کو کسی نے آئزہ کی آخری رسومات میں شامل ہونے نہیں دیا تھا۔
💛💛💛💛💛💛💛
”آپی پلیز تھوڑا سا کچھ کھا لیں اگر آپ ایسے کرے گی تو پھر امی جی ابو جی کو کون سنبھالے گا پیلز آپی اب آئزہ بھی نہیں ہیں جو آپ کو ضد کر کے منا لے۔ وہ جو گم سم بیٹھی تھی لائبہ نے نم لہجے میں سمجھانے کی کوشش کی۔
یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے ناں.! میں ہوں اپنی بہن کی خوشیوں کی قاتل۔ اسنے خود کو موردے الزام ٹھہرایا
”آپی.! ایسا نہیں ہے آپ خوامخواہ خود کو قصوروار ٹھہرا رہی ہیں، آپ نے سنا نہیں تھا آئزہ نے مرنے سے پہلے کیا کہا تھا، ارحم نے شادی کی پہلی رات ہی آئزہ کو دھتکار دیا تھا، آپی اس میں آپ کی کوئی غلطی نہیں، آپ نے تو آئزہ کو ارحم سے شادی کرنے سے بھی روکا تھا لیکن اس کے سر پر ارحم کی محبت کا بھوت سوار تھا اب بس آپ دعا کریں اللہ پاک اس کی مغفرت فرما دے۔ لائبہ حقیقت کا آئینہ دیکھایا جس پر اسکے گلے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial