قسط: 32
”پہلی بات میری ماں آپ کی طرح بےحس نہیں تھی، نہ انہوں نے کبھی کسی کو کا دل توڑا اور نہ ہی میری تربیت ایسی کی، جیسی آپ نے اپنے بیٹے کی ہے اسلیے خود کو میری ماں سے کمپیئر نہ ہی کریں تو بہتر ہوگا۔
اور جہاں تک بات آپ کے بیٹے کی ہے، تو اسنے نے جو کیا میں اسے کبھی نہیں بھول سکتا، اور نہ ہی آپکے بیٹے کو بھولنے دونگا،اس نے آزر خان کی بیوی پر بری نظر ڈالی ہے اس کی سزا تو اسے ضرور ملے گی، وہ آزر خان کا مجرم ہے تو اسے سزا دینے کا حق بھی آزر خان کے پاس ناکہ کسی پولیس کے پاس۔ آگے ہوکر آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ جو انگلی اٹھا کر درشت لہجے بولا رہا آخری بات کسی بمب کی مانند لگی تھی۔
کک..کیا…!! مطلب ہے تمہارا.! اگر وہ پولیس سٹیشن نہیں تو پھر کہاں ہے۔ انھوں نے اپنی حیرت کو الفاظ دیے۔
ڈئیر آنٹی.! آپ کا بیٹا پولیس کسٹڈی میں نہیں بلکہ میری کسٹڈی میں ہے.! کیونکہ وہ میرا مجرم ناکہ کسی اور کا، اس لیے اسکی سزا کا تعین کرنے کا حق بھی صرف مجھے ہے اور آزر خان ایک بار خود پر ہوئی زیادتی تو برداشت کر سکتا ہے مگر کوئی میری بیوی کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھ تو یہ آزر خان کی غیرت کو ہرگز گوارا نہیں ہے، آپ کے بیٹے نے تو پھر بڑی ہمت کا مظاہرہ کیا جس کا جواب دینا آزر خان باخوبی جانتا ہے۔ صوفے سے ٹیک لگاتے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے ٹھنڈے ٹھار لہجے پنپتے خطرناک انداز پر قدسیہ بیگم منجمد ہو گئی تھی۔
”دیکھو بیٹا تم ایسا نہیں کر سکتے میرا ایک ہی آثرا ہے،
میری جینے کی وجہ ہے میرا بیٹا، تم ایک بار مجھے اسے ملنے دوں میں اسے سمجھاؤں گی وہ دوبارہ شکایت کا موقع نہیں دیگا پلیز۔! خدا کے لیے اسے ایک دفعہ معاف کر دو.! میں معافی مانگتی ہوں اس کی طرف سے۔ آزر کے حطرناک تیور دیکھ وہ منتوں پر اتر آئی تھی۔
آنٹی.! اسے پہلے بھی بہت بار آپ سب نے طوبیٰ کو تکلیف پہچانے کی جسے میں نے نظر انداز کیا مگر اس بار اتنی آسانی سے معافی نہیں ملے گی، ویسے معافی مجھ سے نہیں طوبیٰ سے مانگے جس کا دل آپ نے ہمیشہ دکھایا ہے اگر یہ آپ کو معاف کر دیتی ہے تو پھر میں کچھ سوچ سکتا ہوں۔ صوفے پر ہاتھ پھیلا کر طوبیٰ کی اور دیکھا جو ڈرے سہمے بچے کی مانند آزر کے ساتھ لگی ہوئی تھی قدسیہ بیگم ایک کٹیل نظر طوبیٰ پر ڈالی تھی۔
”معافی..! اور اس سے، اس کی وجہ سے تو۔! مٹھائیاں بھنچے قدسیہ بیگم نے طنزیہ انداز میں اسکی اور دیکھا۔
”بولنے سے قبل اچھی طرح سوچ لیا کریں’ آپ کے الفاظ پر آپ کے بیٹے کی ذندگی منحصر ہے اگر آپ معافی مانگتی ہیں، اور طوبیٰ بھی معاف کرتی ہے تو میں آپ کے بیٹے چھوڑ دونگا ورنہ کون جانتا ہے کہ وہ کہاں ہے ، ذندہ بھی ہے یا پھر۔۔۔.! ارحم کی رہائی مشروط کرتے اسکے انداز میں دھمکی واضح تھی جس پر قدسیہ بیگم کی جان لبوں پر آئی تھی۔
نن… نہیں۔! آزر بیٹا میں کچھ نہیں کہتی تمہاری بیوی کو تم بس مجھے میرا بیٹا دیدو میں وعدہ کرتی ہوں وہ تمھیں دوبارہ تنگ نہیں کرے گا۔ آزر کی دھمکی نے انھیں ہلا کر رکھ دیا تھا مگر پھر بھی طوبیٰ سے معافی یہ ان کی آنا کو ہرگز قبول نہیں تھا۔
آپ کو شاید میری بات سمجھ میں نہیں آئی، میں نے کہا معافی مانگے طوبیٰ سے.!! غصے سے لال ہوتا ٹیبل پر ہاتھ مارتے دھاڑا تو ایک پل کے لیۓ طوبیٰ کو اپنا سانس روکتا ہوا محسوس ہوا جس پر آزر نے فوراً سے اس کے گرد بازوں حائل کرتے اپنے ساتھ لگایا۔
”مجھے نہیں چاہئے ان کی معافی.! آزر ان سے کہیں یہاں سے چلی جائے۔ سینے سے لگے طوبیٰ نے قدسیہ بیگم کی اور دیکھنے کی کوشش تک نہیں کی تھی۔
نہیں جان.! آج تو انہیں اپنے کیے کی معافی مانگنی ہو گی تاکہ دوبارہ یہ تمہارا تو کیا کسی کا بھی دل دکھانے سے پہلے سو بار سوچیں۔ آزر نے اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے نرمی سے کہتے وارن کرتی نظریں قدسیہ بیگم پر تھی۔
طوبیٰ.! مجھے معاف کر دو.! آئیندہ میں یا میرا بیٹا تمہارے سامنے نہیں آئیں گیں۔ چار ناچار اپنی آنا کا گلا گھونٹتے مٹھیاں بھینچ کر قدسیہ بیگم نے لٹھ مار انداز میں طوبیٰ کو مخاطب کیا تو طوبیٰ آزر کی شرٹ مٹھیوں میں بھینچ اپنی آنکھیں زور سے میچ گئی۔
ازر انہیں کہیں کہ یہ یہاں سے چلی جائے مجھے نہیں چاہئے ان کی معافی۔ وہ بنوز آزر کے سینے سے لگی ہوئی تھی۔
چلیں آنٹی.! میری وائف نے تو آپ کو معاف نہیں کیا اور شاید آپ کو معافی مانگنی بھی نہیں آتی تو پھر آپ اپنا اور ہمارا ٹائم ضائع ناں کریں’ اور جائے یہاں سے، میری وائف کے آرام کا ٹائم ہو رہا ہے۔ اپنی بات کہتے وہ اٹھنے لگا تھا۔
نہیں بیٹا ایسے نہیں کہوں.! بس ایک دفعہ مجھے میرے بیٹے سے ملوا دوں، میرا ایک ہی آثرا ہے، اور کچھ نہیں تو میری عمر کا ہی کچھ لحاظ کر لو۔ آزر کو اٹھتا دیکھ وہ پھے منتوں پر اتر آئی تھی۔
”اچھا.! اچھا.! یہ ڈرامے کرنے کی ضرورت نہیں، یہ میری کچھ شرائط ہیں اگر آپ کو منظور ہیں، تو ان پیپرز پر سائن کر دیں آپ کا بیٹا آپ کے گھر پہنچ جاۓ گا، وہ کیا ہیں ناں آج میں بہت خوش ہوں تو اس لیۓ آپ کو یہ اوفر دے رہا ہوں ورنہ میں کیا کرتا آپ کے بیٹے کے ساتھ یہ تو میں خود بھی نہیں جانتا۔ آزر نے پاس کھڑے ملازم کو اشارہ کیا تو وہ پیپر لے کر حاضر ہوا تھا۔
اس میں کیا ہے .؟ قدسیہ بیگم نے پیپر اٹھا کر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
میری ایک شرط ہے، آپ کے بیٹے کو چھوڑنے کے لیے،اگر آپ کا بیٹا میری بیوی یا پھر میرے گھر کے آس پاس بھی نظر آیا تو آپ مجھے اجازت دے رہی ہے کے میں اسے دیکھتے ہی گولی مار سکتا ہوں اور آپ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ آزر نے اپنی شرط قدسیہ بیگم کو بتائی تھی جسے سن کر قدسیہ بیگم کے چہرے کا رنگ فق پڑ گیا تھا۔
لیکن آزر بیٹا.؟
ٹائم ضائع نہیں کریں جلدی بتائے اگر آپ کو یہ شرط منظور ہیں تو۔۔؟
اچھا ٹھیک ہیں مجھے تمہاری ہر شرط منظور ہے قدسیہ بیگم نے مجبور ہو کر اور پیپرز پر سائن کر دیے۔
قدسیہ بیگم گھر آ تو گئی تھی لیکن انہیں آزر کی شرط مانے پر خود پر بہت غصّہ تھا اور ازر نے جو طوبیٰ سے معافی مانگے پر مجبور کیا تھا اس بات پر بھی وہ اندر سے سلگ رہی تھی۔
دروازے کی آواز نے قدسیہ بیگم کو سوچوں کے بھنور سے نکالا تو وہ گھہرا سانس لیتی باہر آئی اور دروازے کھولا سامنے ارحم کو دیکھ کر قدسیہ بیگم کے منہ سے بے ساخت چیخ نکلی تھی۔
ارحم۔۔۔۔!!!
ارحم میرے بچے کیا حالت کر دی ہیں اس موئے آزر نے تمہاری اللہ پوچھے گا اسے، شزہ۔۔۔۔!! شزہ…!!!! اسکی ابتر حالت کو دیکھتے ہی آزر کوسہ ساتھ ہی شزہ کو آواز لگائی۔
شزہ فورا سے اپنے کمرے سے باہر نکلی تھی سامنے کا منظر دیکھ ٹھٹھکی۔
یہ کب آیا۔۔.؟
پہلے اسے اندر لے کر چلو پھر بتاتی ہوں.! اپنے بیٹے کی حالت دیکھ قدسیہ بیگم تند لہجے میں بولی شزہ نے آگے بڑھ کر ارحم کو سہارا دیا۔
”کہاں تھے تم اتنے دنوں سے.؟ ارحم کو صوفے پر بیٹھاتے اسنے پوچھا۔
”تمہیں نظر نہیں آرہا ابھی وہ کچھ بتانے کی حالت میں نہیں ہیں، جاؤ جا کر ڈاکٹر کو کال کرو.! قدسیہ بیگم نے غصے سے اگلا حکم سنایا اسکے منہ کے زاویے بدلے۔
میں تو بس پوچھ رہی تھی.؟ شیزہ نے کندھے اچکاتے منہ بنا کر لاپروائی سے کہا اور ڈاکٹر کو کال کرنے چلی گئی۔
ارحم نیم بیہوشی کی حالت میں میں صوفے پر گرا ہوا تھا۔
میرا بچہ کیا حالت کر دی اس آزر نے، اللہ غارت کرے تجھے تو کہی کا نہ رہے، منہوس ماری اپنے دوپٹے کے کونے سے ارحم کے زخم صاف کرتے طوبیٰ کے بدعائیں دے رہی تھی۔
خالا میں نے ڈاکٹر کو کال کر دی ہیں وہ آتے ہی ہونگے چلیں ارحم کو اس کے کمرے میں لے جاتے ہیں۔ شزہ نے آکر اطلاع دیتے تجویز دی تو وہ اٹھ گئی۔
”آپی۔!!
آپی۔۔۔۔!! مانوس آواز طوبیٰ کے کانوں میں آئی تھی۔
آئزہ تم..؟
”آپی.! میں یہاں بہت اکیلی ہوں آپ میرے ساتھ چلیں میں آپکو لینے آئی ہوں۔
نہیں آئزہ میں ازر کو چھوڑ کر نہیں جاں سکتی وہ میرے بغیر نہیں رہ سکتے۔
آپی میں بھی تو ارحم کے بغیر نہیں رہ سکتی تھی ناں مگر رہ رہی ہوں، آپی میں یہاں بہت اکیلی ہوں مجھے بہت ڈر لگتا ہیں پلیز آپی آپ میرے ساتھ چلیں آزر بھائی کے پاس تو اپنا بچہ بھی ہے میرے ساتھ تو کوئی بھی نہیں ہے، آپ چلیں میرے ساتھ۔ سنجیدگی سے کہتے ہوئے آئزہ نے طوبیٰ کو لیجانے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا تھا
نہیں.! میں نہیں جاسکتی.! خوف و دہشت سے گھبرا کر پھٹ سے طوبیٰ کی آنکھیں کھلی تھی پھر سے وہی خواب جس نے طوبیٰ کی نیندیں اڑا کر رکھی ہوئی تھی۔
ایک گہرا سانس لیتے آزر کے چہرے پر ہاتھ رکھا میں آپ کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی میں جینا چاہتی ہوں آپ کے ساتھ ازر.! پھر کیوں یہ خواب بار بار آتے ہیں کیوں یہ خواب میرا پیچھا نہیں چھوڑتے.؟ ازر کے چہرے پر ہاتھ سوچ کر رہ گئی۔
آزر.! میں جینا چاہتی ہو آپ کے ساتھ، جب مرنا چاہتی تھی تو آپ نے بچا لیا اور اب جینا چاہتی ہو تو روز یہ خواب مجھے احساس دلاتا ہے کہ میرا یہ خواب ادھورا بھی رہ جاۓ گا باقی سارے خوابوں کی طرح۔ اسکے چہرے پر نظریں مرکوز کئے سوچتے ہوئے ایک آنسو ٹوٹ کر بہہ نکلا تھا جسے طوبیٰ نے فورا سے صاف کیا۔
آہستہ سے ازر کے حصار سے نکل کر طوبیٰ نے وضو کیا جائے نماز بچھا کر رب کے حضور اپنی مشکلیں لیے حاضر ہوئی تھی ۔
اب طوبیٰ نے ازر کو اپنے خواب کے بارے میں بتانا چھوڑ دیا تھا کیونکہ جب بھی وہ ازر کو بتاتی طوبیٰ سے ذیادہ آزر کی آنکھو میں طوبیٰ کو کھونے کا خوف دیکھ کر ازر کو بتانا چھوڑ دیا۔
اللّٰہ جی.! میں تو اس قابل بھی نہ تھی جتنا آپ نے مجھے نواز دیا، میں تو مایوسی کے اندھیروں میں گھیری ہوئی تھی آپ نے آزر کو میری زندگی میں روشنی کی کرن بنا کر بھیجا، اللّٰہ جی.! میں اپنے لیۓ کچھ نہیں مانگتی بس آزر کو کبھی ٹوٹنے مت دینا وہ بہت محبت کرتے ہیں مجھ سے اگر مجھے کچھ ہو گیا تو آپ آزر کو سنبھال لیجیۓ گا۔ ہاتھ اٹھائیں وہ اپنے رب سے دعا گو تھی۔
بڈی اگر تم آزر سے بات کرو گی تو وہ ضرور تمہاری بات مانے گا۔ طوبیٰ کے کانوں میں نتاشہ کے کہے الفاظ گونجے تھے۔